وَ مَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ ؕ وَلَـلدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 32

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ مَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ ؕ وَلَـلدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور دنیا کی زندگی تو صرف کھیل تماشا ہے اور بیشک آخرت کا گھر متقین کے لیے بہت اچھا ہے ‘ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لو گے،۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور دنیا کی زندگی تو صرف کھیل تماشا ہے اور بیشک آخرت کا گھر متقین کے لیے بہت اچھا ہے ‘ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لو گے۔ (الانعام : ٣٢) 

آیات سابقہ سے مناسبت اور وجہ ارتباط :

جو لوگ قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کے منکر تھے ‘ ان کے نزدیک دنیا اور اس کی رنگینیاں ‘ دلفریبیاں اور دنیا کی راحتیں اور لذتیں بہت بڑی چیز تھیں۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دنیا کا خسیس اور گھٹیا ہونا اور اس کار کیک اور بےوقعت اور بےمایہ ہونا بیان فرمایا اور چونکہ یہ دنیا آخرت کی سعادتوں اور کامیابیوں کا وسیلہ اور زینہ ہے ‘ اس لیے اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مطلقا دنیا کی زندگی مذموم نہیں ہے ‘ بلکہ کافر کی زندگی مذموم ہے اور مومن چونکہ نیک اعمال کے ساتھ زندگی گزارتا ہے ‘ اس لیے اس کی زندگی لہو ولعب نہیں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے اور دنیا کی زندگی مطلقا لہو ولعب ہے اور دنیا سے مراد دلذتیں اور راحتیں ہیں اور جس طرح انسان کھیل تماشے میں مشغولیت سے جب فارغ ہوتا ہے تو وہ اس پر افسوس کرتا ہے کہ اگر اس وقت کو کسی نیکی کے کام میں گزارا ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا ‘ اسی طرح دنیا کی لذتوں سے جب انسان فارغ ہوتا ہے تو وہ اس پر افسوس کرتا ہے کہ اگر یہ وقت کسی عبادت میں صرف کیا ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔ 

دنیا کی زندگی کو لہو ولعب قرار دینے کی وجوہات : 

دنیا کی زندگی کو لہو ولعب قرار دینے کی حسب ذلیل وجوہات ہیں : 

(١) لہو ولعب کی مدت کم ہوتی ہے اور بہت جلد ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح دنیا کی زندگی بھی کم ہوتی ہے اور جلد ختم ہوجاتی ہے۔ 

(٢) لہو ولعب عموما کسی فریب پر مبنی ہوتا ہے ‘ اسی طرح انسان دنیا کی زندگی کو بھی کسی فریب کے سہارے گزارتا ہے۔ 

(٣) عموما بچے اور نادان اور غافل لوگ لہو ولعب میں اشتغال کرتے ہیں اور سنجیدہ اور فہمیدہ لوگ لہو ولعب میں زیادہ مشغول نہیں ہوتے۔ اسی طرح دنیا کی لذتوں اور دلفریبیوں میں بھی جاہل اور غافل لوگ مشغول رہتے ہیں اور جو عقل مند اور زیرک لوگ ہوتے ہیں ‘ وہ جانتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کی لذتیں فانی ہیں۔ لہذا وہ فانی کی بہ نسبت باقی رہنے والی نعمتوں کے حصول کی جدوجہد میں مشغول رہتے ہیں۔ 

دنیا کے بےوقعت ہونے کے متعلق احادیث : 

حافظ ابوبکر عبداللہ بن محمد بن عبید بن سفیان بن ابی الدنیا متوف ٢٨٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت مستورد بن شداد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سواروں کی ایک جماعت میں جارہا تھا ‘ اچانک آپ ایک جگہ سے گزرے جہاں بکری کا (مردہ) بچہ پڑا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ جب اس کے مالکوں نے اس کو پھینکا ہوگا تو یہ ان کے نزدیک بےوقعت ہوگا۔ صحابہ نے کہا اس کے بےوقعت ہونے کی وجہ سے ہی انہوں نے اس کو پھینک دیا ہے۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے۔ جس قدر یہ بکری کا مردہ بچہ اپنے مالکوں کے نزدیک بےوقعت ہے ‘ اللہ عزوجل کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بےوقعت ہے۔ (موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا ‘ ج ٢‘ ذم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٢٨‘ سنن دارمی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٣٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١١١‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٠٣٥‘ دارالفکر ‘ طبع جدید ‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٣٨٨‘ ج ٤‘ ص ٢٢٩‘ ٢٣٠‘ ٢٢٦‘ دارالفکر ‘ طبع قدیم) 

حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ (ذم الدنیا ‘ رقم الحدیث :‘ ٤‘ صحیح مسلم ‘ الزھد ١ (٢٩٥٦) ٧٢٨٣‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٣١‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٧‘ سنن ابن ماجہ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١١٣‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ١٩٧‘ ٣٢٣‘ ٣٨٩‘ ٤٨٥‘ طبع قدیم ‘ کتاب الزھد لاحمد ‘ ص ٣٧) 

محمد بن منکدر اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا ملعونہ ہے ‘ اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے ماسوا اس کے جو اللہ کے لیے ہو۔ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ کی روایت میں ہے ‘ ماسوا اللہ کے ذکر کے اور ذکر کرنے والوں کے اور ماسوا عالم یا متعلم کے۔ (ذم الدنیا ‘ رقم الحدیث :‘ ٧‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٢٩‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١١٢‘ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ٣‘ ص ١٥٧) 

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرے گا وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچائے گا اور جو شخص اپنی آخرت سے محبت کرے گا ‘ وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچائے گا۔ سو تم باقی رہنے والی چیز کو فانی ہونے والی چیز پر ترجیح دو ۔ (ذم الدنیا ‘ رقم الحدیث :‘ ٨‘ مسند احمد ج ٤‘ ص ٤١٢‘ طبع قدیم ‘ المستدرک ‘ ج ٤‘ ص ٣٠٨) 

حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کی محبت ہر گناہ کی اصل ہے۔ (ذم الدنیا ‘ ٩ کتاب الزھد لاحمد) 

مالک بن دینار بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے کہا اے ابو الحسن ! ہمارے لیے دنیا کی حقیقت بیان کریں۔ آپ نے فرمایا دنیا کی جو چیزیں حلال ہوں گی ان کا حساب لیا جائے گا اور جو چیزیں حرام ہوں گی ان پر دوزخ کا عذاب ہوگا۔ (ذم الدنیا ‘ ١٧‘ مطبوعہ موسسۃ الکتب الثقافیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) 

حضرت عمرو بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بخدا مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں ہے ‘ لیکن مجھے تم پر یہ خوف ہے کہ تم پر دنیا اس طرح کشادہ کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کردی گئی تھی ‘ سو تم دنیا میں اس طرح رغبت کرو گے جس طرح انہوں نے رغبت کی اور تم اسی طرح ہلاک ہوجاؤ گے جس طرح وہ ہلاک ہوگئے تھے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣١٥٨‘ صحیح مسلم ‘ الزھد ‘ ٦ (٢٩٦١) ٧٢٩١‘ سنن ترمذی ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٧٠‘ سنن ابن ماجہ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٩٧‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ١٣٧) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ‘ جس کے نشان آپ کی جلد پر نقش ہوگئے تھے۔ میں نے عرض کیا ‘ یارسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ‘ اگر آپ ہم کو اجازت دیں تو ہم چٹائی کے اوپر کوئی چیز بچھا دیں جس سے آپ کی جلد محفوظ رہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے دنیا سے کیا مطلب ہے ؟ میری اور دنیا کی مثال یہ ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سائے میں بیٹھے ‘ پھر سائے کو ترک کرکے سفر شروع کر دے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٠٩‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧٠٩) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ سے اس طرح حیا کرو جس طرح حیا کرنے کا حق ہے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! الحمد للہ ہم حیا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ بات نہیں ہے لیکن اللہ سے حیاء کرنے کا حق یہ ہے کہ تم سر اور اس کے نچلے حصہ کی حفاظت کرو اور پیٹ اور اس کے نچلے حصہ کی حفاظت کرو اور موت اور جسم کے بوسیدہ ہونے کو یاد رکھو اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے ‘ وہ دنیا کی زینت کو ترک کردیتا ہے اور جس نے ایسا کیا اس نے اللہ سے اس طرح حیاء کی جو حیاء کرنے کا حق ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٦٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٥٩) 

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کا مقصود دنیا ہو ‘ اللہ اس کے حالات دگرگوں کردیتا ہے اور اس کی آنکھوں کے سامنے فقر کردیتا ہے اور دنیا سے اس کو وہی چیز ملتی ہے جو اس کے لیے مقدر ہوتی ہے اور جس شخص کی نیت آخرت ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کے حالات مجتمع کردیتا ہے اور اس کا دل مستغنی کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٠٥‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے روای ثقہ ہیں) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ تمہارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے تمام تفکرات کو صرف آخرت کا حصہ بنادیا ‘ اللہ اس کو دنیا کے افکار سے کافی ہوگا اور جس شخص کے تمام افکار دنیا کے حالات کے متعلق ہوں ‘ اللہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٠٦) 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا میں اس طرح رہو جیسے مسافر ہو یا راستہ پار کرنے والے ہو اور اپنے آپ کو اہل قبور میں سے شمار کرو۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٤٠‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٤١٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٤١١٤‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٩٨‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٣‘ ص ٣٦٩) 

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی وقعت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٢٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١١٠‘ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ٣‘ س ٣٠٤‘ ج ٨‘ ص ٢٩٠) 

حضرت سہل بن سعد الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس کو میں کروں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم دنیا میں بےرغبتی کرو ‘ اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں ‘ ان سے بےرغبتی کرو ‘ تو لوگ تم سے محبت کریں گے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٤١٠٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

حضرت علی (رض) نے فرمایا دنیا جانے والی ہے اور آخرت آنے والی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے فرزند ہیں۔ سو تم آخرت کے فرزند بنو ‘ دنیا کے فرزند نہ بنو۔ آج عمل ہے اور حساب نہیں ہے اور کل حساب ہوگا اور عمل نہیں ہوگا۔ (صحیح البخاری ‘ کتاب الرقاق ‘ باب فی الامل وطولہ) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی ‘ پھر آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور قیامت تک واقع ہونے والی کسی چیز کو نہیں چھوڑا ‘ مگر اس کی ہم کو خبر دی ‘ اس کو یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور اس کو بھلا دیا جس نے بھلا دیا اور آپ کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے اور اللہ تم کو دنیا میں خلیفہ بنانے والا ہے ‘ پھر وہ دیکھنے والا ہے کہ تم کیا کرتے ہو ! سنو تم دنیا سے پرہیز کرو اور عورتوں سے پیز کرو (مسلم کی روایت میں ہے) کیونکہ بنو اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں میں برپا ہوا تھا ‘ اور آپ کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ جس شخص کو حق کو علم ہوجائے تو لوگوں کا دباؤ اس کو حق بیان کرنے سے باز نہ رکھے۔ حضرت ابو سعید رونے لگے اور کہا ہم نے کئی چیزوں کو دیکھا اور ہم دباؤ میں آگئے۔ (الحدیث) (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٩٨‘ صحیح مسلم ‘ الذکر والدعاء ٩٩‘ (٢٧٤٢) ٦٨١٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٢١‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٦٩) 

حضرت قتادہ بن النعمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو اس کو دنیا سے بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص استسقاء کے مریض کو پانی سے بچاتا ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٤٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٥٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٤٢) 

دنیا کے مال کو انسان اگر عیش و عشرت اور ناجائز خواہشات کو پورا کرنے میں صرف کرے تو پھر دنیا اور دنیا کا مال مذموم ہے اور ان احادیث کا یہی محمل ہے اور اگر دنیا کے مال و دولت کو دین کی سربلندی ‘ تبلیغ دین ‘ اسلام کی نشرواشاعت اور ضرورت مندوں کی مدد پر صرف کرے اور حج اور عمرہ کرے ‘ قربانی ‘ زکوۃ اور صدقات ادا کرے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرے اور نیکی اور خیر کے راستوں میں مال کو خرچ کرے ‘ تو پھر دنیا کا مال و دولت بہت مبارک اور مستحسن ہے۔ 

نیکی کی راہ میں صرف کرنے کی نیت سے مال دنیا کا استحسان : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صرف دو شخصوں پر حسد (رشک) کرنا مستحسن ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن دیا ہو اور وہ دن رات قرآن کے ساتھ قیام کرتا ہو اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ دن رات اس مال کو (نیکی میں) خرچ کرتاہو۔ (صحیح مسلم ‘ مسافرین ‘ ٢٦٦‘ (٨١٥) ١٨٦٣‘ صحیح البخاری ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٧٥٢٩‘ سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٤٣‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٨٠٧٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٠٩‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٤١٢‘ دارالفکر ‘ طبع جدید ‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٣٨٥‘ دارالفکر ‘ طبع قدیم) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ صرف دو شخصوں پر حسد (رشک) کرنا مستحسن ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اس کو حق کے راستوں پر خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے حکمت (علم دین) عطا کی ہو ‘ اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہو، اور تعلیم دیتا ہو۔ (صحیح مسلم ‘ مسافرین ‘ ٢٦٨‘ (٨١٧) ١٨٦٦‘ صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٥٨٤٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٠٨‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٤٣٢‘ ج ٢‘ ص ١٣٣‘ ٨٨‘ ٣٦‘ ٩‘ ج ٤‘ ص ١٠٥‘ طبع قدیم) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ فقراء مہاجرین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اصحاب ثروت اور دولت مند لوگ بلند درجات اور دائمی نعمتوں کو لے گئے۔ آپ نے فرمایا وہ کس وجہ سے ؟ انہوں نے کہا وہ نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں ‘ اور روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں ‘ اور وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے۔ اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم غلام آزاد ہیں کرسکتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی چیز کی تعلیم نہ دوں جس کی وجہ سے تم ان کے درجات کو پالو ‘ جنہوں نے تم پر سبقت کی ہے اور اس کی وجہ سے تم اپنے بعد والوں پر بھی سبقت کرو گے اور تم سے کوئی شخص افضل نہیں ہوگا ‘ ماسوا اس کے جو تمہاری طرح اس کام کو کرے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا تم ہر چیز نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ‘ اللہ اکبر اور الحمد للہ “ پڑھو۔ فقراء مہاجرین پھر دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ‘ ہمارے مال دار بھائیوں کو بھی ان تسبیحات کا پتا چل گیا ؟ اور وہ بھی ہماری طرح یہ تسبیحات پڑھنے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرمائے۔ (صحیح مسلم ‘ مسافرین ‘ ١٤٢‘ (٥٩٥) ١٣٢٢) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال و دولت کو اللہ کا فضل قرار دیا اور اس کی تائید اس آیت کریمہ میں بھی ہے : 

(آیت) ” فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ “۔ (الجمعہ : ١٠) 

ترجمہ : پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ (رض) مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے۔ اور ان کا سب سے زیادہ پسندیدہ مال مسجد کے بالمقابل بیرحا تھا (یہ مسجد کے سامنے بنو جدیلہ کا محلہ تھا) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں خوش ذائقہ پانی پیتے تھے۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تم پر گز نیکی حاصل نہیں کرسکتے ‘ جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ نہ کرو۔ (آل عمران : ٩٢) تو حضرت ابو طلحہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہرگز نیکی حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو ‘ اور میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ پسندیدہ مال بیرحا ہے اور یہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔ میں اللہ کے پاس اس کی نیکی اور ذخیرہ کی امید رکھتا ہوں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس کو جہاں چاہیں صرف کریں۔ آپ نے فرمایا چھوڑو یہ مال نفع آور ہے ‘ یہ مال نفع آور ہے۔ تم نے اس کے متعلق جو کہا وہ میں نے سن لیا ‘ اور میری رائے یہ ہے کہ تم یہ مال اپنے رشتہ داروں کو دے دو ۔ پھر حضرت ابو طلحہ نے بیرحا کو اپنے رشتہ داروں اور عم زاد میں تقسیم کردیا۔ (صحیح مسلم ‘ زکوۃ ٤٢‘ (٩٩٨) ٢٢٧٨‘ صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٦١‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١٠٦٦) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم نے عرض کیا ‘ یارسول اللہ ! ان آپ کا خادم ہے۔ آپ اس کے حق میں اللہ سے دعا کیجئے ‘ آپ نے دعا کی۔ اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو جو کچھ عطا فرمائے ‘ اس میں برکت دے۔ (صحیح مسلم ‘ فضائل صحابہ ‘ ١٤١‘ (٢٤٨٠) ٦٢٥٥‘ صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٣٣٨‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٥٣) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے عطا فرما رہے تھے ‘ میں نے عرض کیا مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو دیجئے۔ آپ نے فرمایا اس کو لے لو ‘ جب تمہارے پاس مال آئے درآنحالیکہ تم اس پر حریص ہو ‘ نہ اس کا سوال کر رہے ہو تو اس مال کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ہو اس کے درپے نہ ہو۔ (صحیح مسلم ‘ زکوۃ ‘ ١١٠‘ (١٠٤٥) ٢٣٦٧‘ صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٧٣‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٠٨) 

حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔ آپ نے مجھے عطا فرمایا میں نے پھر سوال کیا ‘ آپ نے مجھے عطا فرمایا ‘ میں نے پھر سوال کیا آپ نے مجھے پھر عطا فرمایا پھر آپ نے فرمایا یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ جو شخص اس مال کو استغناء نفس سے لے گا ‘ اس کو اس مال میں برکت دی جائے گی اور جو شخص حریص ہو کر اس مال کو لے گا ‘ اس کو برکت نہیں دی جائے گی اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نچلے سے بہتر ہے۔ (صحیح مسلم ‘ الزکوۃ ‘ ٩٦‘ (١٠٣٥) ٢٣٤٩‘ صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٧٢‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٧١‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٣١‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣١٠‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٥١٢٧‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٢٠‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٨٠‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٠٤١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٤‘ ص ١٩٦) 

دنیا کی محبت مطلقا مذموم نہیں ہے : 

ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ مطلقا مال دنیا مذموم نہیں ہے۔ البتہ اگر مال دنیا کو ناجائز خواہشات کے پورا کرنے میں خرچ کیا جائے تو یہ لائق ملامت اور مستوجب عذاب ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے محبت کرنا اور اس نے دل لگانا بھی مطلقا ممنوع نہیں ہے۔ 

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کی چیزوں سے عورتوں اور خوشبو کی محبت میرے دل میں ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ (سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٣٩٤٩‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٨٥‘ ١٩٩‘ ١٢٨‘ طبع قدیم) 

بلکہ ممنوع اور مذموم یہ ہے کہ انسان دنیا کے حصول کو ہی مقصد حیات سمجھ لے ‘ جبکہ مقصود آخرت ہے اور دنیا اس کے حصول کا وسیلہ اور اس تک پہنچنے کا زینہ ہے یا بندہ دنیا کی رنگینیوں اور دل فریبیوں میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی عبادت سے غافل ہوجائے۔ انسان اپنے لیے ‘ اپنے ماں باپ اور اپنے اہل و عیال کے لیے رزق حلال کی جستجو کرتا ہے اور اپنے رشتہ داروں اور دیگر انسانوں کے ساتھ جو الفت اور محبت کے ساتھ پیش آتا ہے اور ملک وقوم کی فلاح کے لیے اور انسانیت کی خدمت کے لیے جو دنیا میں تگ ودو کرتا ہے ‘ اور کارنامے انجام دیتا ہے ان تمام کاموں میں حسن نیت کی بناء پر اسے اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارتوں کے مطابق اجر وثواب ملے گا اور یہ تمام کام اطاعات اور عبادات میں شامل ہیں اور جس وجہ سے دنیا کی مذمت کی گئی ہے ‘ یہ کام اس میں داخل نہیں ہیں۔ 

لہو ولعب کے معنی کی تحقیق : 

اس آیت میں فرمایا ہے اور دنیا کی زندگی تو صرف لہو ولعب ہے۔ اس لیے ہم لہو ولعب کی تشریح کرنا چاہتے ہیں۔ 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

جس چیز میں مشغولت کی وجہ سے انسان اپنے مقصود سے غافل ہوجائے ‘ اس کو لہو کہتے ہیں۔ دنیا کی زیب وزینت مثلا عورتوں اور بچوں کو بھی لہو ولعب کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں مشغولیت کی وجہ سے انسان اپنے مقصود سے غافل ہوجاتا ہے۔ 

قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” الھکم التکاثر، حتی زرتم المقابر “۔ (التکاثر : ٢۔ ١) 

ترجمہ : مال جمع کرنے کی حرص نے تمہیں اس قدر غافل کردیا کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنو لاتلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ “۔ (المنافقون : ٩) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! تمہارے مال اور اولاد کی مشغولیت تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے۔ 

(آیت) ” رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ واقام الصلوۃ وایتآء الزکوۃ یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار “۔ (النور : ٣٧) 

ترجمہ : وہ مرد جنہیں تجارت اور خریدو فروخت کی مشغولیت ‘ اللہ کی یاد ‘ نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے سے غافل نہیں کرتی ‘ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ جائیں گے۔ 

اس آیات میں اولاد ‘ مال و دولت اور تجارت میں مشغول ہونے سے مطلقا منع نہیں فرمایا ‘ بلکہ اس حد تک اشتغال سے منع فرمایا ہے ‘ کہ انسان نماز اور دیگر عبادات سے غافل ہوجائے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دیگر آیات میں تجارت اور مال جمع کرنے کی اجازت دی ہے۔ 

(آیت) ” لیشھدوا منافع لھم “۔ (الحج : ٢٨ )

ترجمہ : (وہ حج کے لیے آئیں گے) تاکہ اپنے فائدے کے مقامات پر حاضر ہوں۔ 

(آیت) ” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم “۔ (البقرہ : ١٩٨) 

ترجمہ : (حج کے دوران) اپنے رب کا فضل (روزی) تلاش کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ (المفردات ‘ ص ٤٥٥‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

لعب کا معنی بیان کرتے ہوئے علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

لعب اصل میں لعاب ہے ‘ یہ لفظ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب منہ سے لعاب بہنے لگے اور جب کسی شخص کا فعل بغیر قصد کے واقع ہو تو اس کو لعب کہتے ہیں۔ (المفردات ‘ ص ٤٥٠‘ مطبوعہ ایران) 

علامہ ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : 

لعب کا معنی ہے مذاق میں کوئی کام کرنا۔ حدیث میں ہے تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا سامان بطور مذاق سنجیدگی سے نہ لے ‘ یعنی وہ اس کا سامان اس کو تنگ کرنے کے لیے لیتا ہے اور چوری کا ارادہ کرتا ‘ لیکن اس کو اذیت پہنچانے کا سنجیدگی سے ارادہ کرتا ہے۔ سو ایسا نہ کرے او جو شخص لغو اور بےفائدہ کام کرے ‘ اس کو بھی لعب کہتے ہیں۔ حدیث میں ہے ہم سمندر میں سفر کر رہے تھے ‘ جب موجیں جوش سے اٹھ رہی تھیں اور ایک ماہ تک موجیں ہمارے ساتھ لعب کرتی رہیں ‘ یعنی موجوں نے ان کو اس طرف نہیں جانے دیا جس طرف وہ جانا چاہتے تھے۔ (النہایہ ‘ ج ٤‘ ص ٢٥٣۔ ٢٥٢‘ مطبوعہ ایران ‘ ١٣٦٧ ھ) 

اردو میں لہو ولعب کا ترجمہ کھیل تماشے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہم نے لہو کا جو معنی بیان کیا ہے ‘ اس کا خلاصہ ہے غافل کرنا اور لعب کا خلاصہ ہے بےمقصد اور بےفائدہ کام ‘ اور کھیل اور تماشہ عموما لغو اور بےفائدہ ہوتا ہے اور اس میں مشغول ہونے کی وجہ سے انسان عبادات اور کئی اہم کاموں سے غافل ہوجاتا ہے ‘ اس لیے کھیل اور تماشے کو لہو ولعب کہتے ہیں۔ 

کھیل اور ورزش کے متعلق اسلام کے احکام : 

ہر کھیل تماشا مطلقا ممنوع اور حرام نہیں ہے ‘ بلکہ جو کھیل تماشا کسی غیر شرعی امر پر مشتمل ہو ‘ مثلا غیر محرم مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو یا اجنبی مرد عورتوں کے سامنے یا اجنبی عورتیں مردوں کے سامنے مثلا کرکٹ کھیلیں یا ٹینس کھیلیں یا رقص کریں یا کسی کھیل میں کھیلنے والوں کا ستر کھلا رہے تو ایسے کھیل ممنوع ہیں یا جس کھیل میں جانبین سے شرط لگائی جائے کہ جو فریق بھی کھیل میں کھیلنے والوں کا ستر کھلا رہے تو ایسے کھیل ممنوع ہیں یا جس کھیل میں جانبین سے شرط لگائی جائے کہ جو فریق بھی کھیل میں ہار گیا ‘ وہ جیتنے والے کو اتنی رقم دے گا ‘ یا فلاں چیز دے گا یافلاں چیز کھلائے گا۔ 

یا کسی کھیل میں اس قدر اشتغال کیا جائے جس سے فرائض اور واجبات ترک ہوجائیں تو وہ کھیل جائز نہیں ہیں۔ 

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لہو صرف تین چیزوں میں ہے۔ کسی شخص کا اپنے گھوڑے کو سدھانا ‘ کسی شخص کا اپنی بیوی سے دل لگی کرنا اور کسی شخص کا تیر اندازی کرنا۔ (سنن النسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٨٠‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥١٣‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ١٤٦) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت حبشی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں کھیل رہے تھے ‘ حضرت عمر داخل ہوئے اور انہوں نے ایک کنکری اٹھا کر انہیں ماری۔ آپ نے فرمایا اے عمر ! ان کو چھوڑ دو ۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢٩٠١) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے حجرہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور حبشی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے۔ آپ مجھے اپنی چادر میں چھپا رہے تھے ‘ لیکن میں ان کے کھیل کی طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر آپ میری وجہ سے کھڑے رہے ‘ حتی کہ میں خود واپس مڑی۔ سو تم اندازہ کرو کہ ایک کم عمر کھیل کی شوقین لڑکی نے کتنی دیر کھیل دیکھا ہوگا۔ (صحیح مسلم ‘ عیدین ‘ ١٨‘ ١٧‘ (٨٩٢) ٢٠٣٠‘ ٢٠٢٩‘ صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٩٥٠‘ السنن الکبری ‘ للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٩٦) 

حدیث میں ہے کہ عید کے دن حبشی مسجد میں آکر رقص کر رہے تھے۔ علامہ نووی نے لکھا ہے کہ علماء نے اس حدیث کو اس پر محمول کیا ہے کہ حبشی اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اچھل کود رہے تھے ‘ اور اپنے جنگی آلات کے ساتھ کھیل رہے تھے ‘ اور ان کا یہ کھیل رقص کے مشابہ تھا ‘ کیونکہ اکثر روایات میں ہتھیاروں کے ساتھ کھیلنے کا ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کی ایسی تاویل کی جائے گی جو باقی احادیث کے موافق ہو۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ‘ حضرت جعفر اور حضرت زید (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے حضرت زید سے فرمایا تم میرے مولی (آزاد کردہ غلام) ہو تو وہ ایک ٹانگ پر رقص کرنے لگے اور حضرت جعفر سے فرمایا تم میری صورت اور سیرت کے مشابہ ہو تو وہ حضرت زید کے پیچھے ایک ٹانگ پر رقص کرنے لگے۔ پھر مجھ سے فرمایا تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں تو میں حضرت جعفر کے پیچھے ایک ٹانگ پر رقص کرنے لگا۔ (مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ١٠٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٨٥٧‘ طبع دارالحدیث ‘ قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ) 

علامہ احمد شاکر نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٥٣٧‘ طبع قاہرہ) 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

یہ حدیث حضرت علی (رض) کی روایت سے مسند احمد میں ہے۔ اسی طرح الباقر کی مرسل روایت میں ہے کہ حضرت جعفر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد چکر لگانے لگے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا میں نے حبشیوں کو دیکھا ہے ‘ وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے اس طرح کرتے ہیں اور حضرت ابن عباس (رض) کی حدیث میں ہے کہ نجاشی جب اپنے اصحاب میں سے کسی سے خوش ہوتا تو اس کے گرد کھڑے ہو کر ایک ٹانگ پر رقص کرنے لگتا۔ حدیث میں حجل کا لفظ ہے۔ اس کا معنی ہے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ہئیت مخصوصہ کے ساتھ رقص کرنا اور حضرت علی (رض) کی حدیث میں مذکور ہے کہ تینوں نے اس طرح رقص کیا۔ (فتح الباری ج ٦‘ ص ٥١٦٢ مطبوعہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کو ایک انصار کے مرد سے زفاف (شادی) کے لیے تیار کیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عائشہ ! کیا تمہارے پاس کوئی لہو (کھیل) ہے ؟ کیونکہ انصار کو لہو اچھا لگتا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ٥١٦٢‘ مطبوعہ بیروت) 

امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت قریظہ بن کعب اور حضرت ابو مسعود انصاری (رض) کے ساتھ ایک شادی میں گیا۔ وہاں بچیاں گا رہی تھیں۔ میں نے کہا آپ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بدری صحابی ہیں اور آپ کے سامنے یہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا اگر تم چاہو تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر گانا سنو اور چاہو تو چلے جاؤ‘ ہمیں شادی کے موقع پر لہو کی اجازت دی گئی ہے۔ (سنن النسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ٣٣٨٣‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو لہب کی بیٹی کے خاوند بیان کرتے ہیں کہ جب ابو لہب کی بیٹی کی شادی ہوئی تو ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا کیا کوئی لہو (کھیل) ہے ؟ (مسند احمد ج ٤‘ ص ٦٧‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٦٥٧٩‘ طبع قاہرہ ‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٢٤‘ رقم الحدیث : ٦٥٩‘ ص ٢٥٨‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٤‘ ص ٢٨٩) 

علامہ احمد شاکر نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور علامہ ابن حجر نے التعجیل میں اس کی تصویب کی ہے۔ (مسند احمد ‘ ج ١٣‘ ص ٩٦‘ مطبوعہ قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑے سواری کا مقابلہ کرایا ‘ پیدل دوڑ کا مقابلہ کرایا ‘ آپ نے خود بہ نفس نفیس دوڑ کے مقابلہ میں حصہ لیا ‘ اسی طرح آپ نے رکانہ سے کشتی بھی کی۔ ان تمام حدیثوں کو ہم نے صحاح اور سنن کے حوالہ سے (شرح صحیح مسلم ‘ ج ٦‘ ص ٦٤١۔ ٦٣٩ میں) بیان کیا ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ لہو ولعب مطلقا ممنوع نہیں ہے اور جب کوئی کھیل کسی غیر شرعی امر پر مبنی نہ ہو ‘ نہ اس میں شرط لگائی جائے ‘ نہ اس سے کوئی عبادت ضائع ہو تو غرض صحیح سے مناسب حد تک اس کا کھیلنا جائز ہے اور جب کسی کھیل میں زیادہ دلچپسی لینے کی وجہ سے انسان عبادات سے غافل ہوجائے تو وہ ممنوع اور مذموم ہے۔ 

انسان کی صحت اور جسم کو چاق وچوبند رکھنے کے لیے مناسب حد تک کھیل اور ورزش مستحسن ہیں۔ بعض لوگ کرسی پر بیٹھ کر دن رات پڑھنے لکھنے کا کام کرتے ہیں ‘ ان کو اپنے کام کی وجہ سے زیادہ چلنے پھرنے اور جسمانی مشقت کا موقع نہیں ملتا ‘ جس سے ان کی توند نکل آتی ہے اور خون میں کلسڑول کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے اور یہ لوگ ذیابیطس ‘ ہائی بلڈ پریشر ‘ دل کی بیماریوں مثلا انجائنا ‘ معدہ کا ضعف ‘ گیس اور السر وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان بیماریوں سے محفوظ رہنے یا بیماری لاحق ہونے کے بعد ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف قسم کے جائز کھیلوں اور وزشوں میں مشغول رہنا حفظان صحت کے لیے نہایت ضروری ہے ‘ ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے مسلمانوں کی کرکٹ ٹیم کی کامیابی کے لیے وظیفہ بتایا تھا۔ دیکھئے شمع شبستان رضا ‘ حصہ سوم ‘ ص ٥٠۔ ٤٨ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 32

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.