راحتِ قبر

راحتِ قبر

ترتیب۔ خلیل احمد رانا

بسم اﷲ الرحمن الرحیم 

صلی اﷲ علی حبیبہٖ سیّدنا محمد و آلہٖ وسلم

ﷲ تعالیٰ عزوجل نے قرآن حکیم میں فرمایا کل نفسِِ ذائقۃُ الموت یعنی ہر جان دار نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، موت کے بعد ہر انسان نے قبر میں اکیلے جانا ہے ، ذرا اندھیری قبر کا تصور کریں کہ ایک دن بے کسی کی حالت میں وہاں لیٹے ہوں گے، وحشت و پریشانی چاروں طرف سے گھیر لے گی، نہ گھر والے پاس ہوں گے نہ دوست احباب، بڑی غربت کا عالم ہوگا۔ 

حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: 

قبر ہر روز کلام کرتی ہے کہ میں غربت کا گھر ہوں، تنہائی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں، اسی حدیث کے آخر میں فرمایا قبر تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کا گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ 

چنانچہ ہر مومن مرد وعورت کے دل میں کبھی نہ کبھی تو یہ خیال ضرور آتا ہوگا کہ وحشتِ اور عذابِ قبر سے کسی طرح بچ جائے اور اس کی قبر جنت کا باغ بن جائے۔ 

احقر راقم الحروف نے اس سلسلہ میں بہت آسان اوراد و وظائف و اعمال مختلف کتابوں سے اکٹھے کئے ہیں، اب انہیں افادئہ عام کا خاطر شائع کیا جارہا ہے تاکہ مجھ ناچیز روسیاہ کے لئے مغفرت کا ذریعہ بن جائے، اے اﷲ عزوجل میری اس سعی کو جانِ جہاں صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی صدقہ میں قبول فرما اور اس کا اجر جمیع امت مسلمہ اور خصوصاً میرے والدین مرحومین کو عطا فرما ۔ 

آمین بجاہ رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم 

اَللّٰھُمَ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنِۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔[ امام محمد بن محمد بن محمد بن الجزری، حصن حصین(اُردو)، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ کراچی، ص۱۴۸]

مونسِ قبر

حافظ الحدیث امام علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی کتاب’’الدررالکامنہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن سورہ الکہف پڑھنے والا عذابِ قبر اور دجال کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔ [حضرت ابودرداء رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرلیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ (مشکوٰۃ، ص ۱۸۵، مسلم شریف، جلد۱، ص۲۷۱) ، حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جس شخص نے سورۂ کہف اس کی نازل شدہ ترتیب اور تجوید کے ساتھ پڑھی ، اس کے لئے قیامت کے دن اس کے مقام سے مکہ کی مسافت کے بقدر نور ہوگا اور جس شخص نے سورۂ کہف کی آخری دس آیتیں پڑھیں پھر دجال کا خروج ہوا تو اس شخص پر دجال کا بس نہ چلے گا۔(الترغیب والترہیب، جلد۲، ص۶۳۴)] 

پھر تحریر فرماتے ہیں کہ جب علامہ منفلوطی رحمۃ اﷲ علیہ کا مصر میں انتقال ہوا تو اس وقت کے جلیل القدر مفسّر ومحدّث اور ولی کامل حضرت علامہ ابن دقیق العید مالکی رحمۃ اﷲ علیہ [علامہ ابن دقیق العید المالکی کا نام محمد بن علی بن وہب بن مطیع قشیری منفلوطی ہے، کنیت ابوالفتح اور لقب تقی الدین ہے، آپ کی ولادت ۲۵؍ شعبان ۶۲۵ھ کو ینبع بندرگاہ(حجاز) کے ساحل کے قریب ہوئی جب کہ آپ کے والد ماجد حج کو جارہے تھے، آپ کے والد ماجد نے آپ کو گود میں لے کر طواف کیا اور یہ دعا کی کہ اے اﷲ اس بچہ کو عالم باعمل بنا، چنانچہ یہ دُعا قبول ہوئی اور آپ بہت بڑے عالم ، صوفی اور محدث ہوئے، ۱۱؍ ماہ صفر ۷۰۲ھ کو وصال فرمایا۔(تفصیل کے لئے دیکھئے فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ، مطبوعہ کراچی، ص۲۲۹ اور بستان المحدثین ازشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، ص۳۳۴) ] نے ارشاد فرمایا :

’’میں نے آج رات منفلوطی کو خواب میں دیکھا اور ان سے حال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب تم مجھے دفن کر کے چلے گئے تو ایک بڑا کتّا بھیڑئیے کی طرح مجھے ڈرانے لگا، اتنے میں ایک حسین وجمیل شخص قبر میں نمودار ہوااور اس کتے کو مار بھگایا اور مجھے تسلی دینے لگا، میں نے ان سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں سورۂ کہف کا ثواب ہوں جو تو ہر جمعہ پڑھا کرتا تھا۔ [امام ابن حجر عسقلانی ، الدرر کانہ، مطبوعہ مصر، جلد۴، ص۹۵ ] 

حضرت امام ابی محمد عبداﷲ یافعی یمنی رحمۃ اﷲ علیہ [حضرت شیخ ابو محمد عبدفاﷲ بن اسعد یافعی رحمۃ اﷲ علیہ عدن میں پیدا ہوئے، وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی، دوران تعلیم حج سے مشرف ہوئے واپس آکر خلوت نشیں ہوئے، معروف صوفی حضرت شیخ علی طواشی رحمۃ اﷲ علیہ سے فقر وسلوک کی تعلیم حاصل کی، ظاہری تعلیم کے لئے دوبارہ مکہ معظمہ چلے گئے وہاں نامور اساتذہ سے علم کی تکمیل کی، دس برس بعد شام، بیت المقدس اور مصر کا سفر کیا، مصر میں حضرت ذالنون مصری قدس سرہٗ کی خانقاہ میں کچھ عرصہ گمنامی اور خلوت میں دن گزارے، پھر مدینہ منورہ آگئے یہاں سے مستقل طور پر مکہ معظمہ منتقل ہوگئے اور مدینہ منورہ حاضر ہوتے رہے، آپ قائم اللیل اور صائم الدہر تھے، روض الریاحین اور خلاصۃ المفاخر فی مناقب شیخ عبدالقادر آپ کی مشہور تصانیف ہیں، مکہ معظمہ میں ۷۶۸ھ میں وصال فرمایا، جنت المعلٰی میں حضرت شیخ فضیل بن عیاض رحمۃ اﷲ علیہ کے پہلو میں دفن ہوئے، رضی اﷲ عنہ وارضاہ۔( سید الفاروق القادری، مقدمہ خلاصۃ المفاخر، مطبوعہ لاہور ۱۹۸۳ء، ص۴۹، بحوالہ طبقات الخواص اہل الصدق والاخلاص، از شیخ شہاب الدین ابی العباس احمد بن احمد الشرجی الزبیدی، ص۶۷،۶۸) ] فرماتے ہیں کہ ملک یمن کے شہروں میں مَیں نے بعض صالحین سے سنا ہے کہ وہ ایک جنازہ کے ہمراہ گئے، جب میت کو دفن کر کے لوگ واپس ہونے لگے تو قبر میں ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی اور قبر میں سے ایک کالے رنگ کا کتا باہر نکل کر بھاگا ، ایک بڑے صالح آدمی وہیں موجود تھے، انہوں نے اس کتے سے کہا تجھے خرابی ہو تو کیا چیز ہے، وہ بولا میں اس میت کا برا عمل ہوں، انہوں نے پوچھا کہ قبر میں سے جو آواز آئی تھی یہ چوٹ تجھے لگی تھی یا اس میت کو؟ اس نے کہا یہ مار مجھے پڑی تھی اور یہ اس وجہ سے کہ اس میت کے پاس سورۃ یٰس اور دوسری سورتیں تھیں، جن کا یہ ورد رکھتا تھا وہ آگئیں اور میرے اور اس میت کے درمیان حائل ہو گئیں اور مجھے مار بھگا یا۔ [امام عبداﷲ یافعی، روض الریاحین(اُردو)، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،۱۴۰۲ھ، ص۱۸۲ ایضاً ۔ امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اُردو)، مطبوعہ مدنہ پبلشنگ کمپنی کراچی، ۱۹۸۱ء، ص ۱۷۲ 

حضرت خالد بن معدان رضی اﷲ عنہ[حضرت ابو عبداﷲ خالد بن معدان رضی اﷲ عنہ تابعی ہیں، شہر حمص(شام) کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے، حدیث کے بہت بڑے حافظ تھے، ستّر صحابہ سے ملاقات کا شرف حاصل تھا، فقہ میں پورا ادراک تھا، شہرت سے گھبراتے تھے، جب حلقہ درس بڑھا تو شہرت کے خوف سے درس وتدریس کی مسند اُٹھا دی، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ میں خالد بن معدان پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا، امام اوزاعی رحمۃ اﷲ علیہ ان کی بڑی عزت فرماتے تھے، ابن حبان رحمۃ اﷲ علیہ نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ یہ اﷲ کے بہترین بندوں میں سے تھے، دن میں ستّرہزار تسبیحیں پڑھتے تھے، یزید بن عبدالملک کے دور میں ۱۰۳ھ میں وفات پائی، وفات کے دن روزہ رکھے ہوئے تھے۔ (تہذیب التہذیب، جلد۳، طبقات ابن سعد، جلد ۷، تذکرۃ الحفاظ، جلد اوّل) ] سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سورہ سجدہ(الم تنزیل ، پ۲۱) اپنی تلاوت ونگہداشت اور اس کے مطابق عمل کرنے والے کی طرف سے قبر میں پڑھنے والے کا دفاع کرے گی، وہ کہے گی کہ اے اﷲ! میں تیری کتاب کا حصہ ہوں تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما اور اگر میں تیری کتاب کا حصہ نہیں تو مجھے اس سے مٹا دے، یہ سورہ پرندہ کی صورت میں ہوگی، یہ سورہ سجدہ پڑھنے والے پر اپنے پَر پھیلادے گی اور اس کی سفارش کرکے اس کو عذابِ قبر سے بچائے گی۔[امام جلال الدین سیوطی، تفسیر دُر منثور، مطبوعہ ایران، جلد۵، ص۱۷۱ ایضاً۔ شرح الصدور(اُردو) مطبوعہ کراچی ۱۹۸۱ء، ص۱۷۲

حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سورۂ سجدہ اور سورۂ مُلک پڑھے بغیر رات کو آرام نہیں فرماتے تھے۔ [ ترمذی شریف، جلد۲، ص۱۱۳ ] 

حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا کہ ایک صحابی نے ایک قبر پرخیمہ نصب کیا، لیکن انہیں اس بات کا علم نہ تھا کہ یہاں قبر ہے، اسی اثناء میں اس قبر سے ایک انسان کے سورۂ مُلک (پ ۲۹) پڑھنے کی آواز آنے لگی، وہ صحابی جب حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سارا واقعہ سنایا، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلمنے فرمایا یہ سورۃ (عذاب سے) بچانے والی اور نجات دہندہ ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب الٰہی سے نجات دے گی۔ [ مشکٰوۃ شریف، ص۱۸۷، ۱۸۸۔ ترمذی شریف، جلد۲، ص۱۱۲] 

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : کتاب اﷲ کی ایک ایسی سورت ہے جس میں صرف تیس آیتیں ہیں، اس نے ایک شخص کی ایسی شفاعت کی کہ اس کی بخشش ہوگئی، یہ ہے تبارک الذی بیدہ الملک۔ [ امام جلال الدین سیوطی، تفسیر دُر منثور، جلد۶، ص۲۴۶ ایضاً۔ ابن قیم جوزی، کتاب الروح،(اُردو)، مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی، ۱۹۶۵ء، ص۱۰۵ایضاً۔ حافظ علی متقی، کنزالعمال، جلد ۱، ص۱۴۷ 

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کی ایک سورۃ نے اپنے پڑھنے والے کی طرف سے ایسی جنگ کی کہ اِسے جنت میں داخل کردیا، یہ سورۃ تبارک الذی بیدہ الملک۔[ امام جلال الدین سیوطی، تفسیر درمنثور، جلد۶، ص۲۴۶ ] 

حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ تبارک الذی عذاب قبر سے بچانے والی ہے۔ [ امام جلال الدین سیوطی، تفسیر درمنثور، جلد۶، ص۲۴۶ ] 

حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میری خواہش ہے کہ’’تبارک الذی بیدہ الملک ‘‘ ہر مومن کے دل میں رہے۔ [حافظ علی متقی، کنزالعمال، جلداول، ص۱۴۵ ] 

حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث کا تحفہ نہ دوں جس سے تم خوش ہوجائو، اس نے کہا ہاں کیوں نہیں ، حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے فرمایا سورۃ تبارک الذی بیدہ الملک تم خود بھی پڑھو اور اپنے اہل وعیال کو اور اپنے گھر کے تمام بچوں اور پڑوسیوں کو اس کی تعلیم دو، کیونکہ یہ سورت نجات دینے والی ہے اور قیامت کے دن اپنے رب کے پاس اپنے پڑھنے والے کے لئے مجادلہ(جھگڑا) کرے گی اور آتش جہنم سے بچانے کا مطالبہ کرے گی اور اس کے ذریعے اس کا پڑھنے والا عذاب قبر سے نجات پائے گا، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا! میری خواہش ہے کہ یہ سورت میری امت کے ہر مومن کے دل میں رہے۔ [ابن القیّم الجوزیہ، کتاب الروح(اُردو)، مطبوعہ کراچی، ص۱۰۵ ] 

حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ قبر میں آدمی کے پاس عذاب کے فرشتے پہنچیں گے ، اس کے پائوں کی طرف سے آئیں گے تو اس کے پائوں کہیں گے کہ ہماری طرف سے تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں، یہ شخص ہم پر سورۂ ملک پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا تھا، پھر وہ اس کے سینے کی طرف سے آئیں گے تو سینہ کہے گا میری طرف سے بھی کوئی راستہ نہیں، کیوں کہ اس نے اپنے اندر مجھے محفوظ کررکھا تھا، پھر وہ اس کے سر کی طرف سے آئیں گے تو سر بھی کہے گا کہ میری جانب سے بھی کوئی راستہ نہیں کیونکہ وہ مجھے پڑھتا تھا، اس طرح یہ سورۂ ’’مانعہ‘‘ (بچانے والی) ہے عذاب ِ قبر سے۔ [ امام جلال الدین سیوطی، تفسیر درمنثور، مطبوعہ ایران، جلد۶، ص۲۴۷ ] 

حضرت عمر بن مُرّہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں یہ کہا جاتا تھا کہ قرآن کی ایک سورۃ ہے جو قبر میں اپنی تلاوت واہتمام کرنے والے کی طرف سے جنگ کرے گی، اس میں تیس آیتیں ہیں، لوگوں نے دیکھا تو سورۃ’’تبارک الذی‘‘ کو اس کے مطابق پایا۔ [ امام جلال الدین سیوطی، تفسیر درمنثور، مطبوعہ ایران، جلد۶، ص۲۴۷ ]

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک عجیب واقعہ دیکھا، ایک شخص کو دیکھا اس کا انتقال ہوا ، وہ بڑا گنہگار تھا، اپنی جان پر بڑی زیادتی کرنے والا تھا، قبر میں جب بھی عذاب اس کے پائوں کی طرف سے آتا یا اس کے سر کی طرف سے آتا تو وہ سورۃ جس میں لفظ’’طیر‘‘ ہے(سورۃ ملک کی جس آیت میں لفظ’’طیر‘‘ ہے وہ یہ ہے اولم یرو الی الطیر فوقھم صفٰت ویقبضن ما یمسکھن الا الرحمن،آیت ۱۹) متوجہ ہوئی اور اس کے دفاع میں لڑی کہ وہ میری نگہداشت وپابندی کرتا تھا، میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو ہمیشہ میری نگہداشت کرے گا، اس کو وہ عذاب نہ دے گا، اس کے باعث عذاب اس کے پاس سے جلد ہی چلا جائے گا، (اسی اہمیت کے پیش نظر) مہاجرین وانصار اسے سیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ گھاٹے میں ہے وہ جو اسے نہ سیکھے، یہ سورہ ملک ہے۔[ امام جلال الدین سیوطی، تفسیر درمنثور، مطبوعہ ایران، جلد۶، ص۲۴۷ ]

(اگر کوئی بھائی سورہ ملک کی ایک آیت روزانہ یا د کرے تو تیس دن یعنی ایک مہینہ میں پوری سورت یاد ہو جائے گی،اور اگر ایک مہینہ روزانہ مکمل سورت پڑھے تو علیحدہ یاد کرنے کی بھی ضرورت نہیں ، خود بخودپوری سورت یادہوجائے گی)

خواص سورۃ القدر سے یہ ہے کہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم سے وارد ہے، فرمایا جو شخص کسی میت کے دفن کے وقت اُس قبر کی مٹی اپنے ہاتھ میں لے کر سات مرتبہ سورۃ’’انا انزلنا‘‘ پڑھے اور اس کو میت کے ساتھ اُس کے کفن میں یا قبر میں رکھ دے تو میت عذاب قبر سے امان پائے گی، شیخ شرابلسی نے اس اس کے متعلق فرمایا کہ اگرقبر کسی دوسری قبر سے ملحقہ کھودی گئی ہو تو وہ مٹی جس پر سورہ قدر پڑھی جائے وہ غیر قبر سے ہونا بہتر ہے یعنی پھر ایسی جگہ سے مٹی لی جائے جہاں کوئی قبر نہ ہو تاکہ دونوں قبروں کی مٹی مِل جانے سے شُبہ نہ رہے۔ [خواجہ احمد دیربی مصری، مجربات دیربی(اُردو)، مطبوعہ کراچی، ص۱۴۸ ] 

ابن مندہ نے ابو کاہل سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوکاہل! خوب جان لو کہ جو لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے باز رہا تو اﷲ تعالیٰ اس کو لازمی قبر کی تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔ [امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اُردو)، مطبوعہ کراچی، ص۱۴۸ ] 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے عرض کی کہ مریض کی عیادت کرنے والے کو کیا اجر ملے گا؟ تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے لئے قبر میں دو فرشتے مقرر کئے جائیں گے جو قبر میں ہر روز اس کی عیادت کریں گے حتیٰ کہ قیامت آجائے۔ [امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اُردو)، مطبوعہ کراچی، ص۱۴۸ ] 

دیلمی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب عالم دین مرجاتا ہے تو اس کا علم قیامت تک قبر میں اس کو مانوس کرنے کے لئے متشکل ہوکر رہتا ہے اور زمین کے کیڑوں کو دفع کرتا ہے۔ [امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اُردو)، مطبوعہ کراچی، ص۱۴۶ ] 

دیلمی [حافظ ابو شجاع شیرویہ بن شہر دار بن شیرویہ دیلمی شافعی ہمدانی (متوفی۵۰۹ھ) ] اور خطیب [حافظ ابوبکر خطیب احمد بن علی بن ثابت بن مہدی بغدادی(متوفی۴۶۳ھ) ] نے الروایۃ میں مالک سے، ابونعیم [حافظ ابو نعیم احمد بن عبداﷲ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن مہران الاصبہانی(متوفی۴۳۰ھ)  ] و ابن عبداﷲ نے تمہید میں حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ! جس نے ہر دن میں سو مرتبہ لا الہ الا اﷲ المَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِیْن پڑھا تو وہ فقروفاقہ سے محفوظ رہے گا، قبر میں وحشت نہ ہوگی اور جنت کے دروازے اس پر کھل جائیں گے۔[ امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اُردو)، ص۱۴۶ ایضاً ۔سید علاء الدینعلی بن سعد حسینی دہلوی، الدرالمنظوم فی الملفوظ المخدوم(ملفوظات جلال الدین جہانیاں جہاں گشت) مطبوعہ ملتان ۱۳۷۷ھ، جلد اوّل، ص۲۰۳ ایضاً۔ شیخ ابوالعباس احمد بن علی بونی، شمس المعارف، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی، ص۱۹۹ نوٹ۔ مدینہ منورہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے مزار اقدس کے مواجہہ شریف کی جالی مبارک انہی کلمات’’لا الہ الا اﷲ الملک الحق المبین محمد رسول اﷲ صادق الوعد الامین‘‘ سے بنائی گئی ہے، اندازہ کیجئے ان کلمات شریفہ کو حضور نبی کریم ﷺ کا کتنا قرب حاصل ہے، ان کلمات کو جالی مبارک کے فوٹو میں آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے۔ 

امام فقیہ ابن عجیل رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جس میت کے کفن پر یہ دُعا لکھی جائے گی، اﷲ تعالیٰ قیامت تک اُس سے عذاب اُٹھالے گا، دُعا یہ ہے : 

اَللَّھُمَ اِنِّی اَسْأَ لُکَ یَا عَالِمَ السِّرِّ یَا عَظِیْمَ الْحَظَرِ یَا خَا لِقَ الْبَشَرِ یَا مُوْقِعَ الظَّفَرِ یَا مَعْرُوْفَ الْا ثَرِ ذَا الطَّوْلِ وَالْمَنِّ یَا کَاشِفَ الضُّرِّ وَالْمِحَنِ یَا اِلٰہَ الْاَ وَّ لِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ فَرّجْ عَنِّیْ ھَمُوْمِیْ وَاکْشِفْ عَنِّیْ غُمُوْمِیْ وَصَلِّ اَللّٰھُمَّ عََلٰی سَیِّدِ نَا مُحَمَّدِِ وَّ سَلِّمْ ۔

ترجمہ۔ اے اﷲ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اے غیب کے جاننے والے، عظیم الشان والے، انسان کو پیدا کرنے والے، کامیابی عطا فرمانے والے، معروف نشان والے، اے تکلیف اور مشقّت دور فرمانے والے، اے اولین وآخرین کے معبود، میری پریشانیاں دور فرمادے، میرے غم دور کردے اور اے اﷲ ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم پر رحمت وسلامتی نازل فرما۔ [ امام احمد رضا بریلوی، الحرف الحسن فی الکتابۃ الکفن، فتاویٰ رضویہ، جلد چہارم، مطبوعہ مبارک پور (بھارت)، ص۱۲۸ ] 

حضرت خواجہ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اوشی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کی خدنت میں حاضر تھا اور بہت سے مشائخ کبار بھی موجود تھے کہ خوف قبر پر گفتگو چھڑ گئی، مولانا شہاب الدین رحمۃ اﷲ علیہ نے کہا کہ جو شخص یہ اوراد اپنی کتاب میں لکھ لے اور ان کا ورد رکھے، وہ قبر کے عذاب سے مامون رہے گا، سورۂ واقعہ، سورۂ مزمل، سورۂ والشمس، سورۂ واللیل، سورۂ الم نشرح۔ [خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی، راحت القلوب(اُردو)، مطبوعہ لاہور ۱۴۰۵ھ، ص۱۳۹ ]

فشار قبر

(قبر کے دبانے سے محفوظ رہنے کے اعمال)

جب میت قبر میں دفن کی جاتی ہے تو سب سے پہلے جو بات اُسے پیش آتی ہے وہ قبر کا دبانا ہے، قبر کے دبانے سے نہ مومن بچتا ہے نہ کافر، نہ نیک نہ بد، نہ بچہ نہ جوان، فرق صرف یہ ہے کہ کافر سخت دبائو میں پکڑا جاتا ہے اور مومن کے لئے دبائو ایسا ہوتا ہے جس طرح ماں اپنے بچے کو پیار سے دباتی ہے۔ 

ایک شخص نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس ضغطیٰ(یعنی قبر کی تنگی) کے واسطے بھی کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں! جو (ہر) شب جمعہ میں دو رکعت نماز پڑھے گا اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد اذا زلزلت الارض(پ۳۰) پندرہ بار پڑھے گا وہ اس مصیبت سے محفوظ رہے گا۔ [ امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اُردو)، مطبوعہ کراچی۱۹۸۱ء، ص۱۱۳ ] 

ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں عبداﷲ بن شخیر رضی اﷲ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے مرض الموت میں’’قل ھواﷲ احد‘‘ پڑھ لی وہ قبر کے دبانے سے محفوظ ہوا اور ملائکہ اُسے اپنے پروں پر اُٹھا کر پُل صراط سے پار کرادیں گے۔ [خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی، راحت القلوب(اردو)، مطبوعہ لاہور، ص۱۳۹ ایضاً۔ امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اُردو)، مطبوعہ کراچی، ص۱۷۲ 

فتنۂ قبر

قبر میں جملہ معاملات جو میت کے ساتھ پیش آتے ہیں اسے فتنۂ قبر کہتے ہیں، انہی میں سے ایک مرحلہ سوالاتِ منکر نکیر کا بھی ہے، جب میت قبر میں دفن کردی جاتی ہے اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے تو دو فرشتے اس کا امتحان لینے آتے ہیں جنہیں منکر نکیر کہتے ہیں، ان فرشتوں کی صورت نہایت ڈرائونی ہوتی ہے، رنگ سیاہ، بال اس قدر لمبے کہ پیروں تک گھسٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، نیلی آنکھیں بجلی کی طرح چمکتی ہوئی اور تانبے کی طرح سُرخ، سانس آگ کے شعلوں کی طرح، بادل کی گرج کی مانند آواز، دانت منہ سے باہر نکلے ہوئے جیسے بیل کے سینگ اور اس قدر لمبے کہ زمین کو انہی دانتوں سے کھود کھود کر یہ فرشتے میت تک پہنچتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں لوہے کے گُرز ہوتے ہیں، ایک ایک گرز اتنا وزنی ہوتا ہے کہ منٰی کے میدان میں جس قدر لوگ جمع ہوتے ہیں، وہ سب مل کر اُسے اُٹھانے کی کوشش کریں تو نہ اُٹھا سکیں، باوجود اس کے ان کے ہاتھوں میں ایسے ہوتے ہیں جیسے انسان کے ہاتھ میں پَر، اس مہیب صورت میں منکر نکیر نمودار ہوتے ہیں ۔ 

فتنۂ قبر سے محفوظ رہنے کے اعمال 

حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے سورۂ ملک ہر رات تلاوت کی وہ فتنۂ قبر سے محفوظ رہے گا اور جو پابندی سے(سورۂ یٰٓسں کی آیت) انی اٰمنت بربکم فاسمعون پڑھتا رہا تو اس پر منکر نکیر کا سوال آسان ہوجائے گا، حضرت کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت ہے، (ایک دوسری روایت سے) مروی ہے کہ جو شخص ہر رات سورۃ تبارک الذی پڑھے گا، اس سے منکر نکیر سوال نہ کریں گے۔ [ امام جلا الدین سیوطی، شرح الصدور(اردو) مطبوعہ کراچی ۱۹۸۱ء، ص۱۳۹ ] 

آیت الکرسی میّت کے کفن پر سر کے قریب، درمیان اور پائوں کے پاس لکھیں تو وہ میّت عذاب سے محفوظ رہتی ہے اور منکر نکیر نرمی سے پیش آتے ہیں۔[شیخ ابوالعباس احمد بن علی بونی، شمس المعارف(اُردو)، مطبوعہ کراچی، ص۲۷۸ ] 

حضرت خواجہ فریدالدین مسعود گنج شکر رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے ایک شخص نے کہا کہ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں اگر اسے کروگے تو منکر نکیر سے خوف نہ کھائو گے، شب جمعہ میں دو رکعت نماز ادا کیا کرو، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک بار اور سورہ اخلاص پچاس بار پڑھو۔ [خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی، راحت القلوب،(اردو)، مطبوعہ لاہور۱۴۰۵ھ، ص۱۳۹ ] 

امام ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے فتاویٰ (حدیثیہ) میں ایک تسبیح کی نسبت فرماتے ہیں کہ اس کی بڑی فضیلت اور برکت ہے، جو کوئی اسے لکھ کر میّت کے سینہ پر کفن کے اندر رکھ دے تو اُسے عذابِ قبر نہ ہوگا اور منکر نکیر اس تک نہ پہنچیں گے، تسبیح یہ ہے : 

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

سُبْحٰنَ مَنْ ھُوَ بِالْجَلَالِ مُوَحَّدٌ وَبِالتَّوْحِیْدِ مَعْرُوﷺفٌ وَبِالْمَعَارِفِ مَوْصُوْفٌ وَبِالصِّفَۃِ عَلٰی لِسَانِ کُلِّ قَائِلِِ رَبٌّ وَلرَّبُوْبِیَّۃِ لِلْعَالَمِ قَاھِرٌ وَبِالْقَھْرِ لِلْعَالَمِ جَبَّارٌ وَبِالْجَبَرُوْتِ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ وَبِالْحِلْمِ وَالْعِلْمِ رَؤ فٌ رَّحِیْمٌ سُبْحٰنَہٗ کَمَا یَقُوْلُوْنَ وَسُبْحٰنَہٗ کَمَا ھُمْ یَقُوْلُوْنَ تَسْبِیْحََا تَخْشَعُ لَہُ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ وَلمَنْ عَلَیْھَا وَ یَحْمَدُنِیْ مَنْ حَوْلَ عَرْشِیْ اِسْمِیَ اﷲ وَاَنَا اَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ۔ 

ترجمہ پاک ہے وہ جسے جلال میں واحد مانا گیا ہے، جو توحید میں معروف ہے جو تمام علوم سے موصوف ہے، ہر قائل کی زبان پر اس کی صفتِ ربّ ہے، جو ربوبیت کے ساتھ تمام جہان پر غالب ہے، جس نے جبراً تمام جہان کو مغلوب کیا، وہ صفت جبروقہر کے ساتھ علم اور حلم والا ہے، اور حلم وعلم کی صفت کے ساتھ رئوف ورحیم ہے، وہ پاک ہے جیسے کہ اس کے بندے کہتے ہیں، اور وہ پاک ہے جیسے کہ وہ بندے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، تمام آسمان اور زمین اور ان پر رہنے والے اس کے تابع فرمان ہیں (وہ فرماتا ہے) میرے عرش کے گرد طواف کرنے والے فرشتے میری تعریف کرتے ہیں، میرا نام اﷲ ہے اور میں بہت جلد حساب لینے والا ہوں۔ [امام احمد رضا بریلوی، الحرف احسن، فتاویٰ رضویہ، جلد چہارم، مطبوعہ بھارت، ص۱۲۸ ] 

امام حکیم ترمذی سیدی محمد بن علی رحمۃ اﷲ علیہ معاصر امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نے نوادر الاصول میں روایت کی کہ خود حضور پُر نور سید عالم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جو یہ دُعا کسی پرچہ پر لکھ کر میّت کے سینہ پر کفن کے نیچے رکھ دے تو اُسے عذاب قبر نہ ہو اور نہ منکر نکیر نظر آئیں، وہ دُعا یہ ہے: 

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ وَاﷲ اَکْبَرْ لَآ اِلَّااﷲ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَآ ا ِلَہَ اِلَّااﷲ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ لَٓا ا ِلَہَ اِلَّا اﷲ وَلَا حَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِا ﷲ الْعَلِیُ ا لْعَظِیْم۔ [امام احمد رضا بریلوی، الحرف احسن، فتاویٰ رضویہ، جلد چہارم، مطبوعہ بھارت، ص۱۲۸ ]

امام فقیہ ابن عجیل رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ دُعائے عہد نامہ لکھ کر میّت کے ساتھ قبر میں رکھ دیں تو اﷲ تعالیٰ اُسے منکر نکیر کے سوالات اور عذابِ قبر سے امان دے گا۔ 

امام صفار رحمۃ اﷲ علیہ[امام صفار ابوالقاسم احمد بن عصمہ بلخی رحمۃ اﷲ علیہ ، آپ اپنے وقت کے امام کبیر فقیہہ جید تھے، ۳۳۶ھ میں وصال فرمایا ۔(مفید المفتی، از مولانا عبدالاول جونپوری) ] نے ذکر فرمایا کہ اگر میّت کی پیشانی یا عمامہ یا کفن پر عہد نامہ لکھ دیا جائے تو اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ اُسے بخش دے اور عذاب قبر سے مامون فرمائے۔ 

دُر مختار میں ہے کہ میّت کی پیشانی یا عمامہ یا کفن پر عہد نامہ لکھنے سے اُس کی بخشش کی اُمید ہے، کسی صاحب نے وصیت کی تھی کہ ان کی پیشانی اور سینہ پر بسم اﷲ الرحمن الرحیم لکھ دیں، وصال کے بعد لکھ دی گئی پھر خواب میں نظر آئے تو حال پوچھنے پر فرمایا جب میں قبر میں رکھا گیا تو عذاب کے فرشتے آئے، جب میری پیشانی پر بسم اﷲ الرحمن الرحیم لکھی دیکھی تو کہا کہ تجھے عذاب الٰہی سے امان ہے۔ [امام احمد رضا بریلوی، الحرف احسن، فتاویٰ رضویہ، جلد چہارم، مطبوعہ بھارت، ص۱۲۸ ] 

امام طائوس رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ[حضرت ابوعبدالرحمن طائوس بن کیسان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تابعی ہیں، امام نووی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ حضرت طائوس صاحب علم وفضل اور کبار تابعین میں تھے، ابن حماد حنبلی لکھتے ہیں کہ وہ امام اور علم وعمل کے اعتبار سے علماء اعلام میں تھے، حدیث کے بڑے حافظ تھے، پچاس صحابہ کرام کے دیدار کا شرف حاصل تھا، بہت بڑے فقیہہ تھے، تلامذہ کا دائرہ بھی وسیع تھا، ابن عیینہ کا بیان ہے کہ میں عبداﷲ بن یزید سے پوچھا کہ تم کن لوگوں کے ساتھ حضرت ابن عباس کے پاس جاتے تھے، انہوں نے جواب دیا کہ حضرت عطاء رحمۃ اﷲ علیہ اور ان کی جماعت کے ساتھ، میں نے کہا اور حضرت طائوس ؟ انہوں نے کہا کہ وہ خواص کے ساتھ جاتے تھے، عمر بن دینار تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو حضرت طائوس کے برابر نہیں دیکھا، ابن حبان کا بیان ہے کہ وہ یمن کے عبادت گزاروں میں سے تھے، بستر مرگ پر بھی کھڑے ہوکر نماز ادا فرماتے تھے، چالیس حج کئے، طواف میں خاموش رہتے تھے کسی بات کا جواب نہ دیتے تھے، اور فرمایا کرتے تھے کہ طواف نماز کی طرح ہے، کبھی دنیاوی نعمتوں کی خواہش نہ کی، عید کے دن بہت خوش ہوتے تھے، اس دن تمام لونڈیوں کے ہاتھ پیروں میں مہندی لگواتے تھے اور فرماتے کہ یہ عید کا دن ہے، ۱۰۶ھ میں حج کے موسم میں مکہ معظمہ میں وصال فرمایا۔ (تابعین، از معین الدین ندوی، مطبوعہ اعظم گڑھ ۱۹۳۷ء، ص۱۰۱،۱۰۲) ] نے ان کلمات(عہد نامہ) کو اپنے کفن پر لکھنے کی وصیت فرمائی، وصیت کے مطابق (یہ کلمات) اُن کے کفن پر لکھے گئے۔ [ امام جلال الدین سیوطی، تفسیر درمنثور، مطبوعہ ایران، جلد۴، ص۲۸۶علامہ اسماعیل حقی بروسوی، تفسیر روح البیان، جلد۵، ص۳۵۶، ۳۵۷  ] 

دُعائے عہد نامہ

اَلّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰواتِ وَ الْاَرْضِ عَا لِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ اِنِّیْ اَعْھَدُ اِلَیْکَ فیْ ھٰذِہٖ الْحَیٰوۃِ الدُّنْْیَا اَنِّیْ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ اعَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ فَاِنَّکَ اِنْ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ تُقَرِّبْنِیْ مِنَ الشَّرِّ وَ تُبَا عِدْنِیْ مِنَ الْخَیْرِ وَاِنِّیْ اِنْ اَثِقُ اِلَّا بِرَحْمَتِکَ فَاجْعَلْ لِّیْ عِنْدَکَ عَھْدًا تُوْ فِیْقِیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔[حصن حصین (اُردو) ، مطبوعہ تاج کمپنی کراچی، ص۲۷۸ ] 

ترجمہ۔’’ اے اﷲ! آسمانوں اور زمینوں کے پروردگار، پوشیدہ اور علانیہ جاننے والے بے شک میں تجھ سے اس دنیا کی زندگی میں عہد کرتا ہوں کہ میں(صدق دل سے) اس پر گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو(اپنی ذات اور صفات میں) اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ کہ محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) تیرے بندے اور رسول ہیں،(یہ عہد) اس لئے(کرتا ہوں) کہ بے شک تو نے اگر مجھ کو میرے نفس(ا مّارہ) کے حوالے کردیا تو(گویا) تونے مجھے شر سے قریب کردیا اور خیر سے دور کردیا، (لہذا تو ایسا نہ کیجیئو) اس لئے کہ میں تو تیری رحمت کے سوا اور کسی پر بھروسہ نہیں کرتا اس لئے تو مجھ سے ایسا عہد کرلے جسے قیامت کے دن پورا کرے(کہ تو مجھے جنت میں داخل کردیجیئو) بے شک تو اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا‘‘۔ 

حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص اﷲ سے مذکورہ بالا عہدومعاہدہ کرلے گا(اور اس پر قائم رہے گا) تو اﷲ پاک قیامت کے دن اپنے(مقرب) فرشتوں سے فرمائیں گے کہ میرے اس بندے نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے تم اس کو پورا کرو، چنانچہ اﷲ تعالیٰ اس کو(محض اپنے فضل وکرم سے) جنت میں داخل فرمادینگے۔ 

(اس حدیث کے راوی ) حضرت سہیل رحمۃ اﷲ علیہ کہتے ہیں میں نے قاسم بن عبدالرحمن (بن ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہما) کو بتلایا کہ حضرت عوف(رضی اﷲ عنہ) نے مجھے ایسی ایسی(یعنی مذکورہ بالا) حدیث سنائی ہے تو اس پر حضرت قاسم (رضی اﷲ عنہ) نے فرمایا(اس میں تعجب کی کیا بات ہے) ہمارے گھر کی تو ہر پردہ نشین(یعنی بالغ لڑکی) اپنے پردے(گھر میں) اس دُعا کو پڑھا کرتی ہے۔ [حصن حصین (اُردو) ، مطبوعہ تاج کمپنی کراچی، ص۲۷۸ ] 

چند سعادت مند ایسے بھی ہیں جو قبر کے سوال وجواب سے محفوظ رہتے ہیں جن کا ذکر علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا ہے۔ 

شہید، ملکی سرحدوں کا محافظ، طاعون کی بیماری سے فوت ہونے والا، طاعون کے زمانہ میں فوت ہونے والا جب کہ وہ ثابت قدم رہا ہو، مسلمان کی فوت ہونے والی نابالغ اولاد، وب جمعہ یا جمعہ کے دن فوت ہونے والا، ہر رات سورۃ مُلک اور سورۃ الم السجدہ کی تلاوت کرنے والا، مرض الموت میں سورۃ اخلاص پڑھنے والا۔ [علامہ ابن عابدین شامی، فتاویٰ شامی، جلد ۱، ص۶۲۹  ] 

چراغِ قبر 

جو شخص کثرت کے ساتھ ہمیشہ دُرود شریف پڑھتا ہے تو اس کی قبر اﷲ تعالیٰ نور سے بھر دے گا۔ [علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی، افضل الصلوات علی سید السادات(عربی)، مطبوعہ بیروت(لبنان)، ص۴۸ ] 

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے اﷲ کی مسجد روشنی کی تو اﷲ تعالیٰ اس کی قبر کو روشن فرمائے گا اور جس نے مسجد میں خوشبو رکھی اﷲ تعالیٰ جنت کی خوشبو سے اس کی قبر کو معطّر فرمائے گا۔[ امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اردو)، مطبوعہ کراچی، ص۱۴۶] 

ابن ابی الدنیا رحمۃ اﷲ علیہ [حضرت ابوبکر عبداﷲ بن محمد بن عبید بن سفیان بن قیس امعروف بابن ابی الدنیا (متوفی ۲۸۱ھ) ] نے کتاب التہجد میں سری بن مخلد سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ جب تم کہیں سفر پر جاتے ہو تو کتنی تیاری کرتے ہو، تو قیامت کے سفر کی تیاری کا کیا عالم ہوگا، اے ابوذر میں تمہیں ایسی چیز بتاتا ہوں جو تم کو نفع دے، حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں بتائیے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ سخت کے موسم میں حشر کے لئے روزہ رکھو اور رات کی تاریکی میں دو رکعتیں پڑھو تاکہ قبر میں روشنی ہو۔[امام جلال الدین سیوطی، شرح الصدور(اردو)، مطبوعہ کراچی، ص۱۴۸] 

شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ (متوفی ۶۶۱ھ) خلیفہ مجاز حضرت عارف باﷲ شیخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ روشنی قبر کے لئے ہر روز نماز مغرب کے بعد دو رکعت ادا کرے، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ و اخلاص چھ بار اور معوذتین( سورہ فلق اور سورہ الناس) تین بار پڑھے، سلام پھیرنے کے بعد کہے: 

اے اﷲ! اس نماز کو میرے لئے قبر میں میرا مونس اور روشنی کا سبب بنا دے اور تمام مسلمانوں کے لئے، اے ارحم الراحمین۔ [شیخ الاسلام بہاء الدین زکریا ملتانی، الاوراد(اُردو ترجمہ) مطبوعہ اسلامک بک فائونڈیشن لاہور ۱۴۰۶ھ، ص۹۷ ] 

حضرت سید السادات سید ناصر الدین محمود [ مخدوم سید ناصر الدین محمود، حضرت مخدوم جلال الدین جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ کے فرزند اکبر اور خلیفہ مجاز تھے، وصال ۸۰۰ھ میں ہوا] بن مخدوم سید جلال الدین جہانیاں جہاں گشت قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ جو ہر پیر کی رات یعنی اتوار اور سوموار کی درمیانی رات کو دو رکعت نماز نفل پڑھے اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیت شَھِدَ اﷲ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ (سورہ آل عمران، آیت۸۱) آخر تک آٹھ مرتبہ پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد سو بار یہ کلمات پڑھے یَا وَاھِبُ الْعَطَایَا ، یَا غَافِرَالْخَطَایَا بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحْمَ الرَّاحِمِیْن تو اﷲ تعالیٰ اس کو عذاب قبر سے نجات دے گا اور اس کی قبر کو روشن فرمادے گا۔ [سید باقر بن سید عثمان البخاری الاوچی، جواہر الاولیاء(فارسی)، مطبوعہ مرکز تحقیقات فارسی ایران وپاکستان، اسلام آباد ۱۹۷۶ء، ص۵۲۴ ] 

راحتِ قبر

اَللَّھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیّدِنَا مُحَمَّدِِ النَّبِیِّ الْاُ مِّیِ الْحَبِیْبِ الْعَالِیِ الْقَدْرِ الْعِظْیْمِ الْجَاہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ ۔

ترجمہ۔ اے اﷲ دُرود سلامتی اور برکت عطا فرما اُمی نبی سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر جو تیرا حبیب عالی قدر عظیم مرتبے والا ہے اور آپ کی آل اور صحابہ پر سلامتی عطا فرما۔ 

یہ صلوٰۃ العالی القدر ہے، حضرت شیخ احمد صاوی المالکی المصری رحمۃ اﷲ علیہ نے’’صلوٰۃ الدردیریہ‘‘ کی شرح میں اور علامہ محمد الامیر الصغیر رحمۃ اﷲ علیہ نے امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اﷲ علیہ سے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کہ جو شخص ہر جمعہ کی رات کو اس دُرود شریف کو خواہ ایک ہی بار پڑھنا اپنے اوپر لازم قرار دے گا اُسے حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم ہی لحد میں رکھیں گے اور سیدی شیخ احمد دحلان مکہ شافعی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے مجموعہ صلوٰۃ میں بڑی تفصیل اس کے فوائد بیان کئے ہیں وہ فرماتے ہیں: 

’’بہت سے دوسرے عارفین نے لکھا ہے کہ جو شخص ہر جمعہ کی رات کو اس کے پڑھنے پر مداومت(ہمیشگی) کرے گا خواہ ایک ہی مرتبہ پڑھے تو موت کے وقت اس کی روح کے سامنے نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح متمثل ہوگی اور قبر میں داخل ہوتے وقت بھی یہاں تک کہ وہ دیکھے گا کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم ہی اُسے لحد میں اُتار رہے ہیں‘‘۔ [شیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی، افضل الصلوٰت(عربی) مطبوعہ بیروت، ص۱۵۱، ۱۵۲] 

نجاتِ قبر 

حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیںکہ جو کوئی عصر کی نماز کے بعد سورۂ والنازعات(پ۳۰) پڑھتا ہے اﷲ تعالیٰ اُسے قبر میں نہیں رہنے دیتے مگر ایک نماز کے وقت تک، اس بات کے بعد آپ نے آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ جو شخص قبر میں نہیں رہتا تو وہ کہاں جاتا ہے؟ فرمایا ہوتا یہ ہے کہ جب روح کمال کو پہنچتی ہے تو قلب کو جذب کرلیتی ہے اور جب قلب کمال کو پہنچتا ہے تو قالب کو جذب کرلیتا ہے۔[امیر خورد سید محمد مبارک علوی کرمانی، سیر الاولیاء، (اُردو)، مطبوعی اُردو سائنس بورڈ لاہور ۱۹۸۶ء، ص۵۸۶ ] 

مولانا محمد ابراہیم مجددی چشتی دہلوی اپنی کتاب’’طب روحانی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جو کوئی ہر جمعہ کے دن ایک سو مرتبہ اﷲ تعالیٰ کے نام پاک’’یاباریُٔ‘‘ کی تلاوت کرے گا تو حق تعالیٰ اس کو قبر میں دفن ہونے کے بعد ریاض القدس کی طرف اُٹھا لے گا، قبر میں نہ چھوڑے گا۔محمد ابراہیم دہلوی، طب روحانی، مطبوعہ لاہور، ص۱۷ ] 

علامہ شیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی فلسطینی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی اسم پاک’’الباریُٔ‘‘روزانہ سو مرتبہ پڑھے گا وہ قبر میں مٹی کے اثرات سے بھی محفوظ رہے گا۔ [شیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی، سعادۃ الدارین(اُردوترجمہ)، مطبوعہ مکتبہ حامدیہ لاہور، ۱۹۹۶ء، ص۶۹۸] 

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.