امام مسلم

امام مسلم

نام نسب :۔ نام ،مسلم ۔کنیت ،ابوالحسین ۔لقب عساکر الملۃ والدین ۔اور والد کا نام الحجاج بن مسلم ہے ۔سلسلہ نسب یوں ہے ،مسلم بن الحجاج بن مسلم بن درد بن کرشاد القشیری ۔آپ کا سلسلہ نسب عرب کے مشہور قبیلہ بنو قشیر سے ملتاہے اسی لئے آپ کو قشیری کہاجاتاہے ۔

ولادت وتعلیم ۔ خراسان کے مشہور اور عظیم شہر نیشاپور میں آپکی ولادت ہوئی ، سنہ ولادت ۲۰۲ھ یا ۲۰۶ھ ہے ۔نیشا پور اس زمانہ کا بقول علامہ حموی معدن الفضلاء ومنبع العلماء تھا ۔وہاں سے اتنے علماء وائمہ نکلے جنکا شمار نہیں۔

امام سبکی نے فرمایا:یہ شہر س قدر بڑے اورعظیم شہروں میں تھا کہ بغداد کے بعد اسکی نظیر نہ تھی ۔مؤرخین نے اسکو ام البلاد کہاہے ۔

ابتدائی تعلیم نیشاپور میں حاصل کی ،اس وقت وہاں امام ذہلی اور اسحاق بن راہویہ جیسے امام فن موجود تھے ۔ آپ نے احادیث کی سماعت چودہ سال کی عمر شریف سے شروع کردی تھی ۔ علم حدیث حاصل کرنے کے لئے آپ نے دور دراز کا سفر کیا اور مختلف مقامات کی خاک چھانی ۔ عراق ،حجاز ،شام اور مصر وغیرہ مقامات کا متعدد مرتبہ دورہ کیا ۔بغداد معلی کئی بارگئے یہاں تک کہ آپ نے ایک زمانہ میں درس بھی دیا تھا ۔

شمائل وخصائل :۔ آپ سرخ وسفید رنگ ،بلند قامت اور وجیہ شخصیت کے مالک تھے ، سر پرعمامہ باندھتے تھے ۔ علم دین کو کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا ، کپڑوں کی تجارت کرکے ضروریات پور ی فرماتے ۔آپ کے خصائل میں سے ہے کہ عمر بھر نہ کسی کی غیبت کی ، نہ کسی کو مارا اور نہ کسی کے ساتھ درشت کلامی کی ۔

اساتذہ ۔آپکے اساتذہ کا شمار مشکل ہے چند حضرات یہ ہیں ۔محمد بن یحیی ذہلی ، اسحاق بن راہویہ ، محمد بن مہران ،ابو غسان ،امام احمد بن حنبل ،عبداللہ بن مسلمہ قعنبی ، احمد بن یونس یربوعی ،سعید بن منصور ،ابو مصعب ،حرملہ بن یحیی ،ھیثم بن خارجہ ،شیبان بن فروخ ، امام بخاری ۔

تلامذہ :۔آپکے تلامذہ کا حصرواستیعاب بھی نہیں کیا جاسکتا ۔چند مشاہیر کے اسماء اس طرح ہیں امام ترمذی ،امام ابوحاتم رازی ،ابن خزیمہ ،ابوعوانہ ،ابو عمر ومستملی ،عبداللہ بن الشرقی۔ علی بن اسماعیل الصفار،علم وفضل۔ آپ فن حدیث میں عظیم صلاحیتوں کے مالک تھے ،حدیث صحیح وسقیم کی پہچان میں وہ اپنے زمانہ کے اکثر محدثین پر فوقیت رکھتے تھے حتی کہ بعض امورمیں ان کو امام بخاری پر بھی فضیلت حاصل تھی ،کیونکہ امام بخاری نے اہل شام کی اکثر روایات بطریق مناولہ حاصل کی ہیں جسکے سبب کبھی غلطی واقع ہوجاتی ہے اورنام وکنیت کے تعدد سے آپ ایک راوی کودو سمجھ لیتے ہیں ۔ امام مسلم نے براہ راست سماع کیا ہے جسکی وجہ سے آپ مغالطہ نہیں کھاتے ۔

امام مسلم کی خدمات ،انکے کمالات اور قوت حافظہ کی وجہ سے لوگ اس قدر گرویدہ تھے کہ اسحاق بن راہویہ جیسے امام فن کہتے ہیں ۔

خداجانتا ہے کہ یہ شخص کتنا عظیم انسان ہوگا ۔

امام ابوزرعہ اور امام ابو حاتم رازی اپنے ہمعصر مشائخ پر آپکو فضیلت دیتے تھے ۔

ابن اخرم نے کہا :۔

نیشاپور نے تین محدث پید اکئے ۔محمد بن یحیی ،ابراہیم بن ابی طالب ،امام مسلم ۔

ابوبکر جارودی کہتے تھے :امام مسلم علم کے محافظ تھے ۔مسلمہ بن قاسم نے کہا وہ جلیل

القدر امام تھے ۔

بندار نے کہا : دنیا میں صرف چار حفاظ ہیں ۔ابوزرعہ ،محمد بن اسمعیل بخاری ،دارمی اورمسلم بن حجاج ۔

آپکے ایک استاذ محمد بن عبدالوہاب فراد کہتے تھے ۔

مسلم علم کا خزانہ ہیں میں نے ان میں خیر کے سوا کچھ نہیں پایا ۔

وصال ۔آ پ کے وصال کا واقعہ بھی نہایت عجیب بیان کیاجاتاہے کہ کسی مجلس میں آپ سے ایک حدیث کے بارے میں سوال ہوا ،اتفاق سے وہ حدیث یاد نہ آئی ،گھر آکر اس حدیث کو کتابوں میں تلاش کرنا شروع کیا ،قریب ہی کھجور وں کا ایک ٹوکرابھی رکھا تھا ،حدیث کی تلاش کے دوران ایک ایک کھجور اٹھا کرکھاتے رہے اور اس انہماک میں مقدار کی طرف توجہ نہ ہوسکی اور پورا ٹوکرا خالی ہوگیا ،جب حدیث مل گئی تو مڑ کردیکھا تو کھجوریں زیادہ کھا لینے کا احساس ہوا ، اس کی وجہ سے آپ بیمار ہوگئے اور ۲۴؍رجب ۲۶۱ھ بروز اتوار وصال ہوگیا ۔

صحیح مسلم

آپکی تصانیف کی تعداد بیس سے متجاوز ہے لیکن صحیح مسلم کو عظیم شہرت اور قبولیت عامہ کا شرف حاصل ہے ۔حتی کہ متقدمین میں بعض مغاربہ اور محققین نے صحیح مسلم کو صحیح بخاری پر بھی فوقیت دی ہے ۔

امام بخاری کا مقصد احادیث صحیحہ مرفوعہ کی تخریج اور فقہ وسیرت نیز تفسیر وغیرہ کا استنباط تھا اس لئے انہوںنے موقوف معلق ،صحابہ وتابعین کے فتاوی بھی نقل کئے جسکے نتیجہ میں احادیث کے متون وطرق کے ٹکرے کتاب میںبکھر گئے ۔ اور امام مسلم کا مقصد صرف احادیث صحیحہ کو منتخب کرنا ہے ،وہ استنباط وغیرہ سے تعرض نہیں کرتے بلکہ ہر حدیث کے مختلف طرق کو حسن ترتیب سے یکجا بیان کرتے ہیں جس سے متون کے اختلاف اور مختلف اسانید سے واقفیت حاصل ہوتی ہے اس لئے احادیث منقطعہ وغیرہ کی تعداد نادر ہے ۔

آپ نے اپنے شیوخ سے براہ راست سماعت کی ہوئی تین لاکھ احادیث سے صحیح مسلم کا انتخاب کیا ہے ، اور مختلف حیثیات سے احادیث کی تعداد چار ہزار ،آٹھ ہزار اور بارہ ہزار شمار کی گئی ہے ۔ کتاب کی ترتیب میں ابواب کا لحاظ تو آپ نے رکھا تھا لیکن تراجم ابواب قائم نہیں فرمائے ،آپکے بعد دیگر محدثین نے یہ کام انجام دیا ۔(البدایۃ والنہایہ۔ تذکرۃ المحدثین)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.