أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكَ وَقَوۡمَكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم نے اپنے (عرفی) باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو ؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا دیکھتا ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (یاد کیجئے) جب ابراہیم نے اپنے (عرفی) باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو ؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا دیکھتا ہوں۔ (الانعام : ٧٤) 

آیات سابقہ سے مناسبت : 

اس سے پہلے آیت ٧١‘ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ کہئے کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کریں جو ہم کو نہ نفع دے سکتے ہیں ‘ نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں تو اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر کیا۔ ان کی قوم بھی بت پرستی کرتی تھی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انکو بت پرستی سے منع کرتے تھے۔ سو اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفار مکہ کو بت پرستی سے منع کرنا ‘ ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے جد محترم سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم کو بت پرستی سے منع کرتے تھے ‘ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اپنے نیک آباء و اجداد کی پیروی کرنی چاہیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آزر اور اپنی قوم کے ساتھ بت پرستی کے ابطال اور توحید کے احقاق پر جو مناظرہ کیا ‘ اس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ‘ تاکہ اس سے مشرکین عرب کے خلاف استدلال کیا جائے ‘ کیونکہ تمام مذاہب اور ادیان کے ماننے والے ان کی فضیلت اور بزرگی کا اعتراف کرتے تھے ‘ اور سب ان کی ملت کی طرف انتساب کے دعوی دار تھے۔ یہود و نصاری ان کی ملت کی اتباع کے مدعی تھے ‘ اور مشرکین عرب اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کہتے تھے۔ اس لیے ان کی شخصیت اور سیرت سب پر حجت تھی۔ 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام ‘ نسب اور تاریخ پیدائش : 

امام ابوالقاسم علی بن الحسن ابن العساکر متوفی ٥٧١ ھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نسب اس طرح لکھا ہے : 

ابراہیم بن آزر اور وہ تارخ ہیں بن ناحور بن شاروغ بن ارغوبن فالع بن عابرشالخ بن ارفخشذبن سام بن نوبن لمک بن متوشلح بن خنوخ اور وہ ادریس ہیں ‘ بن یاردبن مھلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم۔ 

حضرت ابراہیم خلیل الرحمن ہیں ‘ اور آپ کی کنیت ابو الضیفان ہے۔ صحیح یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عراق کے شہر بابل کے موضع کو ثی میں پیدا ہوئے۔ مجاہد نے کہا ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نہیں تھے ‘ صحیح وہ ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ قرآن مجید میں ہے وہ ابراہیم بن آزر ہیں اور تورات میں ہے وہ ابراہیم بن تارخ ہیں۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٣ ص ‘ ٣٤٤ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

اس میں اختلاف ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آزر تھے یا تارخ ؟ ہماری تحقیق یہ ہے کہ آپ کے والد تارخ تھے جیسا کہ انشاء اللہ ہم عنقریب بیان کریں گے۔ 

محمد بن عمر واقدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان دس صدیاں ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس صدیاں ہیں۔ پس حضرت ابراہیم خلیل الرحمن حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے دو ہزار سال بعد پیدا ہوئے ‘ ایوب بن عتبہ قاضی یمامہ بیان کرتے ہیں : 

حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس آباء تھے اور یہ ایک ہزار سال کا عرصہ ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان دس آباء تھے اور یہ بھی ایک ہزار سال کا عرصہ ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان سات آباء ہیں اور ان کے سال معلوم نہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار پانچ سو سال ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان چھ سو سال کا عرصہ ہے اور یہ زمانہ فترت ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٣ ص ‘ ٣٤٩۔ ٣٤٨ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے تین ہزار تین سو سینتیس (٣٣٣٧) سال بعد پیدا ہوئے ‘ اس وقت طوفان نوح کو بارہ سوتریسٹھ (١٢٦٣) سال گزر چکے تھے۔ زیادہ صحیح یہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دو سو سال کی عمر گزار کر فوت ہوئے۔ کلبی نے کہا ایک سو پچھتر (١٧٥) سال کی عمر تھی اور مقاتل نے کہا ایک سو نوے (١٩٠) سال کی عمر تھی۔ آپ حبرون میں مقام غارہ پر مدفون ہیں۔ وہ جگہ اب مدینہ الخلیل کے نام سے مشہور ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٥ ص ‘ ٢٤٠ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی کے اہم واقعات : 

حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے متعدد بار توحید کو ثابت کیا اور مشرکین کے قول کو دلائل سے باطل کیا۔ انہوں نے اپنے عرفی باپ سے مناظرہ کیا ‘ اپنی قوم سے ‘ بادشاہ وقت سے اور کافروں سے مناظرہ کیا اور راہ حق میں سرخرو ہوئے۔ عرفی باپ سے مناظرہ کی یہ مثال ہے :۔ 

(آیت) ” اذ قال لابیہ یابت لم تعبد مالا یسمع ولا یبصرولا یغنی عنک شیئا “۔ (مریم : ٤٢) 

ترجمہ : جب ابراہیم نے اپنے (عرفی) باپ سے کہا اے میرے باپ تم کیوں ایسے کی پرستش کرتے ہو جو نہ سنتا ہے ‘ نہ دیکھتا ہے اور میں تمہارے کسی کام آسکتا ہے۔ 

اور اپنی قوم سے مناظرہ کی یہ مثال ہے : 

(آیت) ” فلما را الشمس بازغۃ قال ھذا ربی ھذا اکبر فلما افلت قال یقوم انی بری مما تشرکون “۔ (الانعام : ٧٨) 

ترجمہ : پھر جب انہوں نے روشن آفتاب دیکھا تو کہا ‘ یہ میرا رب ہے ؟ یہ (ان سب سے) بڑا ہے ‘ پھر جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا اے میری قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو۔ 

اور بادشاہ وقت سے مناظرہ کی یہ مثال ہے : 

(آیت) ” اذ قال ابراھیم ربی الذی یحی ویمیت قال انا احی وامیت قال ابراھیم فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب فبھت الذی کفر “۔ (البقرہ : ٢٥٨) 

ترجمہ : جب ابراہیم نے کہا میرا رب زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اس (بادشاہ) نے کہا میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں ‘ ابراہیم نے کہا بیشک اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اس کو مغرب سے نکال تو اس پر وہ کافر ہکا بکا رہ گیا۔ 

اور کافروں سے مناظرہ کی یہ مثال ہے : 

(آیت) ” فجعلھم جذاذا الا کبیرا لھم لعلھم الیہ یرجعون “۔ (الانبیاء : ٥٨) 

ترجمہ : پس (ابراہیم نے) بڑے بت کے سوا سب بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے تاکہ وہ ان کی طرف رجوع کریں۔ 

اور جب کافر ان کو دلائل سے جواب دینے سے عاجز آگئے تو انہوں نے کہا ان کو جلا ڈالو اور اپنے بتوں کی مدد کرو ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا گیا اور اللہ نے اس آگ کو سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا کردیا۔ اس واقعہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کردیا گیا انہوں نے اپنا دل عرفان الہی کے لیے ‘ زبان توحید پر برھان کے لیے اور اپنے بدن کو اللہ کی راہ میں آگ میں جھونکنے کے لیے اور اپنے بیٹے کو قربانی کے لیے اور اپنے مال کو مہمانوں کے لیے وقف کردیا تھا۔ 

آزر کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال : 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ نے آزر کے متعلق چار قول لکھے ہیں : 

(١) حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن ‘ سدی اور ابن اسحاق نے کہا کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے۔ 

(٢) مجاہد نے کہا آزر بت کا نام ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ ہے۔ 

(٣) زجاج نے کہا کہ آزر نام نہیں ہے ‘ بلکہ مذمت کا کلمہ ‘ گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اے خطا کار ! تو بتوں کو معبود قرار دے رہا ہے۔ 

(٤) مقاتل بن حیان نے کہا کہ آزر حضرت ابراہیم کے باپ کا نام نہیں ہے ‘ یہ ان کا لقب ہے : (زادالمیسر ج ٣‘ ص ٧٦۔ ٧٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزر ہے یا تارخ ہے۔ دراصل یہ اختلاف ایک اور اختلاف پر مبنی ہے اور وہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے والدین کا کافر ہونا جائز ہے یا نہیں۔ امام ابن جریر ‘ امام رازی ‘ علامہ قرطبی ‘ اور علامہ ابو الحیان وغیرہم کی رائے ہے کہ ان کے والدین کا کافر ہونا جائز ہے ‘ اور متاخرین میں سے علامہ نیشاپوری ‘ علامہ سیوطی اور علامہ آلوسی ‘ کی تحقیق یہ ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے آباء کرام مومن تھے اور ہمارے نبی کریم سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سلسلہ نسب میں تمام آباء اور امہات مومن تھے۔ اب ہم وہ روایات ذکر کریں گے جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ تھا اور آزر آپ کا چچا تھا ‘ اور عرب محاورات میں چچا پر باپ کا اطلاق ہوتا رہتا ہے۔ 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ تارخ تھا نہ کہ آزر ! 

امام ابو اسحاق زجاج متوفی ٣١١ ھ لکھتے ہیں : 

نسب بیان کرنے والوں کے درمیان اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ تھا ‘ اور قرآن اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا نام آزر تھا۔ (معانی القرآن واعرابہ للزجاج ‘ ج ٢‘ ص ٢٦٥) 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ مجاہد نے کہا کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام نہیں ہے ‘ وہ بت کا نام ہے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣١٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام ابو عبدالرحمن بن ادریس رازی بن حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ضحاک حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام آزر نہیں تھا ‘ ان کے باپ کا نام تارخ تھا۔ 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا۔ 

ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آزر سے کہا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں سے مدد مانگتے ہو ایسا نہ کرو اور حضرت ابن عباس فرماتے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزر نہیں تھا ‘ ان کے باپ کا نام تارخ تھا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣٢٥‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

خاتم الحفاظ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن ابی حاتم اور امام ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ آزر بت ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہیں ہے ‘ وہ ابراہیم بن تارخ بن ناحور بن شاروغ بن عابر بن فالع ہیں۔ 

قرآن مجید میں آزر کے اوپر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اب (باپ) کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اس کی یہ توجیہ کی گئی ہے کہ عرب میں ” اب “ کا اطلاق عم پر بہ کثرت کیا جاتا ہے ‘ اگرچہ یہ مجاز ہے۔ قرآن مجید میں ہے ؛ 

(آیت) ” ام کنتم شھدآء اذ حضر یعقوب الموت اذ قال لبینہ ماتعبدون من بعدی قالوا نعبد الھک والہ ابائک ابرھیم واسمعیل واسحق “۔ (البقرہ : ١٣٣) 

ترجمہ : کیا تم (اس وقت) حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ‘ انہوں نے کہا ہم آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم ‘ اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے۔ 

اس آیت میں حضرت اسماعیل پر باپ کا اطلاق کیا گیا ہے ‘ حالانکہ وہ حضرت یعقوب کے باپ نہیں ‘ بلکہ چچا ہیں اور امام ابو العالیہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ اس آیت میں چچا پر باپ کا اطلاق کیا گیا ہے اور انہوں نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا ہے کہ ماموں والد ہے اور چچا والد ہے اور اس آیت کی تلاوت کی۔ (الحاوی للفتاوی ‘ ج ٢‘ ص ٢١٤‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ لائل پور ‘ پاکستان) 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے مومن ہونے پر دلیل : 

امام ابن المنذر نے اپنی تفسیر میں سند صحیح کے ساتھ حضرت سلیمان بن صرد سے روایت کیا ہے کہ جب کفار نے حضرت ابرہیم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگ میں ڈالنے کا ارادہ کیا وہ لکڑیاں جمع کرنے لگے ‘ حتی کہ ایک بوڑھی عورت بھی لکڑیاں جمع کرنے لگی۔ 

جب وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ نے کہا (آیت) ”۔ حسبی اللہ ونعم الوکیل “۔ اور جب انہوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 

(آیت) ” ینار کونی برداوسلاما علی ابراھیم “۔ (الانبیاء : ٦٩) 

ترجمہ : اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا نے کہا میری وجہ سے ان سے عذاب دور کیا گیا ہے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے آگ کی ایک چنگاری بھیجی جو اس کے پیر پر لگی اور اس کو جلا دیا۔ 

اس اثر میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چچا تھا اور اس اثر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آزر اس وقت میں ہلاک کیا گیا تھا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور اللہ سبحانہ نے قرآن مجید میں یہ خبر دی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوگیا کہ آزر اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس کے لیے استغفار کرنا ترک کر گیا ‘ اور احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ حالت شرک میں مرگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دشمن خدا ہونا معلوم ہوگیا اور انہوں نے پھر اس کے لیے استغفار نہیں کیا۔ 

امام ابن ابی حاتم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے (عرفی) باپ کے لیے مسلسل استغفار کرتے رہے اور جب وہ مرگیا تو ان کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر انہوں نے اسکے لیے استغفار نہیں کیا اور انہوں نے محمد بن کعب ‘ قتادہ ‘ مجاہد اور حسن وغیرہم سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کی حیات میں اس کے ایمان کی امید رکھتے تھے اور جب وہ شرک پر مرگیا تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ پھر آگ میں ڈالے جانے کے واقعہ کے بعدحضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شام کی طرف ہجرت کی ‘ جیسا کہ قرآن مجید نے اس کی تصریح کی ہے ‘ پھر ہجرت کے کافی عرصہ بعد وہ مصر میں داخل ہوئے اور وہاں حضرت سارہ کے سبب سے ظالم بادشاہ کے ساتھ ان کا واقعہ پیش آیا اور انجام کار حضرت ہاجرہ آپ کی باندی بنادی گئیں اس کے بعد پھر شام کی طرف لوٹ گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ حضرت ہاجرہ اور اس کے بیٹے حضرت اسماعیل کو مکہ میں منتقل کردیں اور وہاں آپ نے یہ دعا کی : 

(آیت) ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربنا لیقیموا الصلوۃ فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم وارزقھم من الثمرات لعلھم یشکرون، ربنا انک تعلم مانخفی وما نعلن وما یخفی علی اللہ من شیء فی الارض ولا فی السماء، الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحق ان ربی لسمیع الدعآء، رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء، ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب، (ابراہیم : ٤١۔ ٣٧) 

ترجمہ : اے ہمارے رب ‘ بیشک میں نے اپنی بعض اولاد کو بےآب وگیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس ٹھہرایا ہے ‘ اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم کریں ‘ سو تم کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انکو بعض پھل عطا فرماتا کہ وہ شکر ادا کریں ‘ اے ہمارے رب ! بیشک تو جانتا ہے جس کو ہم چھپاتے ہیں اور جس کو ہم ظاہر کرتے ہیں اور آسمان اور زمین میں سے کوئی چیز اللہ پر مخفی نہیں ہے سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے ‘ بیشک میرا رب ضرور میری دعا سننے والا ہے ‘ اے میرے رب ! مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور میری اولاد (سے) بھی ‘ اے ہمارے رب ! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور سب ایمان والوں کو جس دن حساب قائم ہوگا۔ 

اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے چچا آزر کے فوت ہونے کے طویل عرصہ بعد اپنے والدین کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ اس سے یہ واضح ہوگیا کہ قرآن مجید میں جس شخص کے کفر اور اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیزار ہونے کا ذکر ہے وہ ان کے چچا تھے نہ کہ ان کے حقیقی والد۔ 

امام محمد بن سعد نے الطبقات میں کلبی سے روایت کیا ہے کہ جس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بابل سے شام کی طرف ہجرت کی تو ان کی عمر سینتیس (٣٧) سال تھی ‘ پھر انہوں نے کچھ عرصہ حران میں قیام کیا ‘ پھر کچھ عرصہ اردن میں قیام کیا پھر وہاں سے مصر چلے گئے اور کچھ عرصہ وہاں قیام کیا ‘ پھر وہاں سے شام کی طرف لوٹ گئے اور ایلیا اور فلسطین کے درمیان قیام کیا۔ پھر وہاں کے لوگوں نے آپ کو ستایا تو آپ رملہ اور ایلیا کے درمیان چلے گئے اور امام ابن سعد نے واقدی سے روایت کیا ہے کہ نوے سال کی عمر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور ان دونوں اثروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگ میں ڈالے جانے والے واقعہ کے بعد جب آپ نے بابل سے ہجرت کی تھی اور مکہ مکرمہ میں جو آپ نے دعا کی تھی انکے درمیان پچاس اور کچھ سال کا عرصہ ہے۔ (الحاوی للفتاوی ‘ ج ١‘ ص ٢١٥۔ ٢١٤‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد) 

خلاصہ یہ ہے کہ آزر کے مرنے کے پچاس سے زیادہ سال کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کی مغفرت کے لیے دعا کی ہے اور جب کہ آزر سے وہ بیزار ہوچکے تھے اور اس کے لیے دعا کو ترک کرچکے تھے تو اس سے یہ ظاہر ہوا کہ آزر اور شخص تھا اور ان کے والد اور شخص تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے ان کے چچا آزر کو اب (عرفی باپ) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور ان کے حقیقی باپ کو والد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ‘ تاکہ تغییر عنوان تغییر معنون پر دلالت کرے۔ ہم نے علامہ سیوطی کے جس استدلال کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ علامہ آلوسی نے بھی اس کا خلاصہ ذکر کیا ہے۔ (روح المعانی ‘ جز ٧‘ ص ١٩٥‘ طبع بیروت) 

قیامت کے دن آزر کو باپ کہنے کی توجیہ : 

اس سلسلہ میں اس حدیث سے بھی اعتراض کیا جاتا ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے (عرفی) باپ آزر سے قیامت کے دن ملاقات ہوگی اور آزر کے چہرے پر دھواں اور گرد و غبار ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس سے فرمائیں گے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میری نافرمانی نہ کرنا ؟ انکے (عرفی) باپ کہیں گے ‘ آج میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے ‘ اے میرے رب تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو قیامت کے دن مجھ کو شرمندہ نہیں کرے گا اور اس سے بڑی اور کیا شرمندگی ہوگی کہ میرا (عرفی) باپ رحمت سے دور ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے ‘ پھر کہا جائے گا اے ابراہیم ! تمہارے پیروں کے نیچے کیا ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیکھیں گے تو وہ گندگی میں لتھڑا ہوا ایک بجو ہوگا۔ اور اس کو ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٥٠‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١٣٧٥‘ المستدرک ‘ ج ٢‘ ص ٣٣٨‘ کنزالعمال ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٢٩٢‘ مشکوۃ المصابیح ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٣٨) 

حافظ عماد الدین ابن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام آزر ہے اور جمہور اہل نسب ‘ بہ شمول حضرت ابن عباس (رض) سب اس پر متفق ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام تارخ ہے اور اہل کتاب تارح کہتے ہیں (البدایہ والنہایہ ‘ ج ١‘ ص ١٤٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٩٧٤ ء) 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

بعض علماء رحمہم اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء کرام شرک اور کفر کی آلودگی سے پاک اور منزہ ہیں۔ ان کے نزدیک آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا ہیں ‘ ان کو مجازا باپ کہا گیا ہے اور ان کے باپ کا نام تارخ ہے اسی وجہ سے مطلقا نہیں فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے باپ سے ملاقات ہوگی ‘ تاکہ انکے حقیقی والد کی طرف ذہن متوجہ نہ ہو ‘ اور ان کے والد کے ساتھ آزر کا ذکر کیا ‘ تاکہ معلوم ہو کہ یہاں مجازی باپ مراد ہے۔ (اشعۃ اللمعات ‘ ج ٤‘ ص ٣٦٨‘ مطبوعہ مطبع تیج کمار ‘ لکھنؤ) 

شیخ محمد ادریس کا ندھلوی متوفی ١٣٩٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

تحقیق یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چچا تھا ‘ اس کو مجاز متعارف کے طور پر باپ کہا گیا ہے اور آپ کے باپ کا نام تارخ ہے۔ بعض محققین علماء جنہوں نے آدم (علیہ السلام) سے لے کر ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء سے کفر کی نفی کی ہے ان کی یہی تحقیق ہے۔ اس بناء پر اس حدیث میں آزر کا ذکر اس لیے ہے کہ اگر یوں کہا جاتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے باپ سے ملاقات ہوگی ‘ تو اس سے ان کے حقیقی والد کی طرف ذہن چلا جاتا ‘ اور جب آزر کی قید لگائی تو ان کے حقیقی والد کی طرف ذہن نہیں جائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس چچا پر باپ کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اختلاط اور ان کی الفت اپنے اس چچا کے ساتھ بہت زیادہ تھی اور مشرکین کا رئیس تھا اور اسی کے ساتھ ان کا مناظرہ ہوا تھا۔ (التعلیق الصبیح ‘ ج ٦‘ ص ٣٠١‘ مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ ‘ لاہور) 

اس حدیث پر دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) زندگی میں آزر کے دشمن خدا ہونے کی وجہ سے اس سے بیزار ہوگئے تھے ‘ تو پھر قیامت کے دن اس کی سفارش کیوں کی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آزر کے لیے نجات کی دعا کرنے سے بیزار ہوگئے تھے اور قیامت کے دن انہوں نے اس کی نجات کے لیے سفارش نہیں کی ‘ بلکہ اس کے عذاب میں تخفیف کے لیے سفارش کی تھی اور بعض خصوصیات کی بنا پر کفار کے عذاب میں تخفیف کردی جاتی ہے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء کرام کے مومن ہونے پر دلیل : 

ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سلسلہ نسب میں تمام آباء کرام مومن تھے اس پر دلیل یہ ہے کہ احادیث صحیحہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عبداللہ تک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء کرام اپنے اپنے زمانوں میں سب سے خیر (بہتر) اور سب سے افضل تھے ‘ اور قرآن مجید میں یہ تصریح ہے : 

(آیت) ” ولعبد مومن خیرمن مشرک ولو اعجبکم “۔ (البقرہ : ٢٢١) 

ترجمہ : اور بیشک مومن غلام ‘ مشرک (آزاد) سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں اچھا لگے۔ 

اور جب مومن مشرک سے بہتر اور افضل ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء کرام اپنے اپنے زمانہ میں سب سے بہتر اور افضل تھے تو ضروری ہوا ک کہ وہ مومن ہوں۔ نیز احادیث اور آثار اس پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) یا حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک ‘ بلکہ قیامت تک روئے زمین پر کچھ ایسے لوگ رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم رہے اور اس کی عبادت کرتے رہے اور ان ہی کی وجہ سے زمین محفوظ رہی ‘ ورنہ زمین اور زمین والے ہلاک ہوجاتے ‘ اور ان مقدمات سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء میں کوئی مشرک نہیں تھا۔ کیونکہ زمین کبھی مومنین اور مشرکین سے خالی نہیں رہی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء اپنے اپنے دور میں سب سے بہتر اور افضل تھے اور مومن مشرک سے بہتر اور افضل ہوتا ہے۔ لہذاثابت ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء کرام مومن تھے ‘ پہلے ہم اس امر پر دلائل پیش کریں گے کہ زمین کبھی مومنین اور موحدین سے خالی نہیں رہی اور پھر اس امر پر دلائل پیش کریں گے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عبداللہ تک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء کرام اپنے اپنے زمانوں میں سب لوگوں سے بہتر اور افضل تھے۔ 

موحدین اور عابدین سے زمین کبھی خالی نہیں رہی : 

خاتم الحفاظ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں از معمر ‘ از ابن جریج ‘ از ابن المسیب روایت کیا ہے ‘ روئے زمین پر ہمیشہ قیامت تک کم از کم سات مسلمان رہے ہیں اور اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اور زمین والے ہلاک ہوجاتے۔ 

امام بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے اور ہرچند کہ یہ حضرت علی (رض) کا قول ہے ‘ لیکن اس قسم کی بات رائے سے نہیں کہی جاسکتی پس یہ حدیث حکما مرفوع ہے۔ امام ابن المنذر نے اس حدیث کو امام عبدالرزاق کی سند سے اپنی تفسیر میں درج کیا ہے۔ امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں شہر بن حوشب سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے زمین میں ہمیشہ چودہ ایسے نفوس رہے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ زمین والوں سے عذاب دور کرتا تھا اور ان کی برکت زمین میں پہنچاتا تھا ‘ ماسوا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے ‘ کیونکہ وہ اپنے زمانہ میں صرف ایک تھے۔ 

امام ابن المنذر نے قتادہ سے اپنی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ ہمیشہ زمین میں اللہ کے اولیاء رہے ہیں ‘ جب سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا ہے ‘ کبھی زمین ابلیس کے لیے خالی نہیں رہی ‘ اس میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء رہے ہیں ‘ جو اس کی اطاعت کرتے رہے ہیں۔ 

حافظ ابو عمرو ابن عبدالبر از قاسم ‘ از امام مالک روایت کرتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جب تک زمین میں شیطان کا ولی ہے ‘ تو زمین میں اللہ کا ولی بھی ہے۔ 

امام احمد بن حنبل نے کتاب الزھد میں بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین کبھی ایسے نفوس سے خالی نہیں رہی جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ زمین والوں سے عذاب دور کرتا ہے۔ یہ حدیث بھی حکما مرفوع ہے۔ 

امام ازرقی نے تاریخ مکہ میں زہیر بن محمد سے روایت کیا ہے کہ ہمیشہ زمین پر کم از کم سات ایسے رہے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اور زمین والے ہلاک ہوجاتے۔ 

امام ابن المنذر نے اپنی تفسیر میں سند صحیح کے ساتھ ابن جریج سے روایت کیا ہے ‘ انہوں نے کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے کچھ لوگ ہمیشہ فطرت پر رہے ‘ اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ 

امام بزار نے اپنی مسند میں اور امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر اور امام ابن ابی حاتم نے اپنی اپنی تفاسیر میں اور امام حاکم نے المستدرک میں تصحیح سند کے ساتھ اس آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ “ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے درمیان دس قرن ہیں اور ان میں سے ہر ایک شریعت حق پر ہے۔ پھر ان کے بعد لوگوں میں اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجا اور زمین والوں پر اللہ تعالیٰ نے جو سب سے پہلا رسول بھیجا ‘ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ اور امام محمد بن سعد نے طبقات میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت آدم (علیہ السلام) تک دس آباء ہیں اور وہ سب اسلام پر تھے۔ (الحاوی للفتاوی ‘ ج ٢‘ ص ٢١٣۔ ٢١٢‘ مطبوعہ فیصل آباد) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ زمین اللہ اللہ نہ کہا جائے۔ حضرت انس (رض) دوسری روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک ایک شخص بھی اللہ اللہ کہتا رہے گا اس پر قیامت قائم نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم ‘ ایمان ٢٣٤‘ (١٤٨) ٣٦٩‘ ٣٦٨‘ سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢١٤‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٤٩‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٨٣٤‘ طبع جدید ‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٦٨‘ ٢٠١‘ ١٠٧‘ طبع قدیم ‘ مسند ابو یعلی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٢٦‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٨٤٧‘ مسند ابو عوانہ ‘ ج ١‘ ص ١٠١‘ المستدرک ‘ ج ٤‘ ص ٤٩٤‘ شرح السنہ ‘ ج ٧‘ ص ٤١٧٨‘ کنز العمال ‘ ج ١٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٥٨٥‘ مسند البزار ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤١٨‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٧‘ ص ٣٣١‘ ج ٨‘ ص ١٢‘ مشکوۃ المصابیح ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥١٦) 

اس صحیح حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ ہر دور میں اللہ اللہ کہنے والے مسلمان بندے روئے زمین پر رہے ہیں اور کسی دور میں بھی اللہ اللہ کہنے والوں سے زمین خالی نہیں رہی ‘ ورنہ قیامت آچکی ہوتی۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء کرام کا اپنے اپنے زمانہ میں سب سے افضل اور بہتر ہونا : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے بنو آدم کے ہر قرن اور ہر طبقہ میں سب سے بہتر قرن اور طبقہ سے مطعوث کیا جاتا رہا حتی کہ جس قرن میں میں ہوں۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٥٧‘ مسند احمد ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٩٣٦٠‘ ٨٨٤٣‘ طبع دارالحدیث قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٤١٧‘ طبع قدیم ‘ مشکوۃ المصابیح ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٥٧٣٩‘ کنزالعمال ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٠٠٥‘ دلائل النبوۃ للبیقہی ‘ ج ١‘ ص ١٧٥) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ہوں۔ جب بھی لوگوں کے دو گروہ ہوئے اللہ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے بہتر گروہ میں رکھا ‘ میں (جائز) ماں باپ سے پیدا کیا گیا ہوں ‘ مجھے زمانہ جاہلیت کی بدکاری سے کوئی چیز نہیں پہنچی۔ میں نکاح سے پیدا کیا گیا ہوں ‘ بدکاری سے پیدا نہیں کیا گیا ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر پاکیزگی کا یہ سلسلہ میرے باپ اور میری ماں تک پہنچا ہے ‘ میں بطور شخصیت کے تم سب سے بہتر ہوں اور بہ طور باپ کے تم سب سے بہتر ہوں۔ (دلائل النبوۃ ‘ ج ١‘ ص ١٧٥‘ ١٧٤) 

امام ابو نعیم اصبہانی متوفی ٤٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے ماں باپ کبھی بھی بدکاری پر جمع نہیں ہوئے۔ اللہ عزوجل ہمیشہ مجھے پاک پشتوں سے پاک رحموں کی طرف منتقل فرماتا رہا ‘ جو صاف اور مہذب تھیں۔ جب بھی دو شاخیں پھوٹیں ‘ میں ان میں سے بہتر شاخ میں تھا۔ (دلائل النبوۃ ج ١‘ رقم الحدیث : ١٥) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس بن عبدالمطلب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش آپس میں بیٹھے ہوئے اپنے حسب ونسب کا ذکر رہے تھے۔ انہوں نے آپ کی مثال اس طرح دی جیسے زمین کے گھورے (گندگی ڈالنے کی جگہ) میں کھجور کا درخت پیدا ہوگیا ہو۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور مجھے ان میں سب سے بہتر لوگوں میں اور سب سے بہتر گروہوں میں اور سب سے بہتر فرقوں میں رکھا ‘ پھر قبیلوں کا انتخاب کیا اور مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا ‘ پھر گھروں کا انتخاب کیا اور مجھے سب سے بہتر گھر میں رکھا۔ پس میں بطور شخص سب سے بہتر ہوں اور بہ طور گھر سب سے بہتر ہوں۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔ 

(سنن الترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٢٧‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ١٦٩‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٦) 

مطلب بن ابی وداعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے کوئی ناگوار بات سنی تھی۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا میں کون ہوں ؟ صحابہ نے کہا آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ علیک السلام ‘ آپ نے فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ‘ بیشک اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا اور مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا۔ پھر اللہ نے ان کے دو گروہ کیے ‘ تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں رکھا۔ پھر اللہ نے ان کو قبائل میں منقسم کیا تو مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا ‘ پھر اللہ نے انکو گھروں میں منقسم کیا تو مجھے سب سے بہتر گھر میں رکھا اور سب سے بہتر شخص میں رکھا۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

(سنن الترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٢٨‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٢٧٠‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٢٠‘ رقم الحدیث : ٦٧٦۔ ٦٧٥‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ١٦٦۔ ١٦٥) 

امام ابو نعیم اصبہانی متوفی ٤٣٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) ” وتقلبک فی الساجدین “ کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیشہ انبیاء (علیہم السلام) کی پشتوں میں منقلب ہوتے رہے ‘ حتی کہ آپ اپنی والدہ سے پیدا ہوئے۔ ‘ (دلائل النبوۃ ج ١‘ رقم الحدیث : ١٧) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اور ان میں سے اوپر والے آسمانوں کو پسند کیا اور ان میں سکونت رکھی ‘ اور باقی آسمانوں میں اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہا ‘ سکونت دی۔ پھر اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا اور مخلوق میں سے بنو آدم کو پسند کیا اور بنو آدم میں سے عربوں کو پسند کیا اور عربوں میں سے مضر کو پسند کیا اور مضر میں سے قریش کو پسند کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو پسند کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے پسند کیا ‘ سو میں پسندیدہ لوگوں میں سے پسند کیا گیا ہوں۔ لہذا جس نے عربوں سے محبت رکھی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے عربوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔ ( ‘ دلائل النبوۃ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٨‘ المعجم الکبیر ج ١٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٦٥٠‘ المستدرک ‘ ج ٤‘ ص ٨٧۔ ٨٦‘ کامل ابن عدی ‘ ج ٢‘ ص ٣٠١‘ ٧٤‘ علل ابن ابی حاتم ‘ ج ٢‘ ص ٣٢٨‘ ٣٦٧‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٨‘ ص ٢١٥) 

اس حدیث کی سند میں حماد بن واقد کے سوا سب کی توثیق کی گئی ہے اور وہ بھی متعبر روای ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے کنانہ کو پسند کرلیا اور کنانہ سے قریش کو پسند کرلیا اور قریش میں سے بنوہاشم کو پسند کرلیا اور بنوہاشم میں سے مجھے پسند کرلیا۔ 

(صحیح مسلم ‘ فضائل ١ ‘(٢٢٧٦) ٥٨٢٨‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٢٥‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٤‘ رقم الحدیث :‘ ٦٢٤٢‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩٨٤‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٢٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٦١) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا میں نے زمین کے تمام مشارق ومغارب کو الٹ پلٹ کر دیکھ لیا تو (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل کسی شخص کو نہیں پایا اور نہ بنو ہاشم سے افضل کسی خاندان کو پایا۔ 

اس حدیث کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی ایک ضعیف راوی ہے۔ 

(المعجم الاوسط ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٢٨١‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٨‘ ص ٤٠٠‘ طبع جدید دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

ان تمام احادیث صحیحہ اور روایات معتبرہ سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت عبداللہ تک نبی (علیہ السلام) کے نسب میں تمام آباء کرام اپنے اپنے زمانہ کے تمام لوگوں سے خیر اور افضل تھے ‘ اور قرآن مجید میں تصریح ہے اور اس پر مسلمانوں کا اجماع بھی ہے کہ مومن مشرک سے خیر اور افضل ہے ‘ لہذا ثابت ہوا کہ آپ کے تمام آباء کرام مومن تھے۔ 

ان احادیث میں سے ہمارا استدلال ان احادیث سے ہے جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نسب کے لیے خیر اور افضل کا لفظ ہے اور جن احادیث میں ہے کہ میں پاکیزہ پشتوں سے پاکیزہ رحموں کی طرف منتقل کیا گیا ہوں ‘ ان سے ہمارا استدلال نہیں ہے۔ ان احادیث کو ہم نے صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شرافت نسب کے لیے بیان کیا ہے۔ 

ابوین کریمین کے ایمان کے مسئلہ میں تفسیر کبیر پر بحث ونظر : 

امام رازی نے تفسیر کبیر میں اس مسئلہ سے اختلاف کیا ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام آزر تھا اور اس پر یہ دلیل قائم کی ہے کہ یہود و نصاری نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب پر بہت حریص تھے۔ اگر فی الواقع حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزر نہ ہوتا اور قرآن کہتا کہ ان کے باپ آزر نے یوں کہا تو عادۃ یہود و نصاری کا خاموش رہنا ممکن نہ تھا اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے اور کہتے کہ آزر ان کے باپ نہیں ہیں اور جب انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب نہیں کی تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید کا بیان کیا ہوا نسب صحیح ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ آزر ہی ہیں۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٤‘ ص ٧٠‘ دارالفکر ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اہل کتاب کے نزدیک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارح ہے۔ بائبل میں لکھا ہے نحور انتیس برس کا تھا جب اس سے تارح پیدا ہوا ‘ اور تارح کی پیدائش کے بعد نحور ایک سو انیس برس اور جیتا رہا اور اس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں اور تارح ستر برس کا تھا جب اس سے ابرام اور نحور اور حاران پیدا ہوئے۔ (پرانا عہد نامہ ‘ احبار باب : ١١ آیت ٢٦۔ ٢٤‘ مطبوعہ بائبل سوسائٹی ‘ لاہور) 

باقی رہا یہ کہ پھر اہل کتاب نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ اعتراض کیوں نہیں کیا کہ قرآن نے آزر کو باپ کہا ہے جبکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چچا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اہل کتاب محاوات عرب سے واقف تھے کہ محاورات عرب میں چچا پر باپ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ نیز قرآن مجید میں حضرت اسماعیل کو اولاد یعقوب (علیہ السلام) کا باپ فرمایا ہے ‘ حالانکہ وہ ان کے بالاتفاق چچا تھے ‘ اور اس پر بھی اہل کتاب نے اسی وجہ سے اعتراض نہیں کیا تھا۔ ورنہ امام رازی کی تقریر کے مطابق یہودیوں کو اس کی تکذیب کرنی چاہیے تھی۔ 

نیز امام رازی نے لکھا ہے کہ شیعہ کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء و اجداد میں سے کوئی شخص کافر نہیں تھا اور اس پر ان کی کئی دلیلیں ہیں۔ ایک دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے۔ (آیت) ” الذی یراک حین تقوم وتقلبک فی الساجدین “ (الشعراء : ٢١٩) جو آپ کو حالت قیام میں دیکھتا ہے اور سجدہ کرنے والوں میں آپ کے پلٹنے کو دیکھتا ہے پھر امام رازی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اس آیت کے دیگر محامل بیان کیے ہیں۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٤‘ ص ٧١) لیکن ہمارا بنیادی استدلال اس دلیل سے نہیں ہے ‘ یہ دلیل تائید کے درجہ میں ہے۔ ہمارا بنیادی استدلال اس سے ہے کہ آزر کے مرنے کے تقریبا پچاس بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کی مغفرت کی دعا کی۔ (ابراہیم : ٤١) جب کہ اس کی موت علی الشرک کی وجہ سے وہ اس سے بیزار ہوچکے تھے۔ لہذا اپنے والدین کی مغفرت کی دعا کرنا ان کے ایمان کی دلیل ہے۔ امام رازی نے اس دلیل سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ شیعہ کی طرف سے دوسری دلیل انہوں نے یہ پیش کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ہمیشہ پاکیزہ پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوتا رہا اور مشرک نجس ہیں ‘ اس سے ثابت ہوا کہ آپ کے آباء مومن تھے۔ اس پر امام رازی نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کے آباء مشرک نہ ہوں ‘ کیونکہ پاکیزہ پشتوں کا معنی ہے آپ نکاح سے پیدا ہوئے ہیں زنا سے نہیں۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اس حدیث سے استدلال نہیں کیا ‘ ہمارا استدلال صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہے۔ مجھے بنو آدم کے ہر قرن اور ہر طبقہ میں سے سب سے بہتر قرن اور طبقہ سے مبعوث کیا جاتا رہا ‘ حتی کہ جس قرن میں میں ہوں۔ اس سے لازم آیا کہ آپ کے تمام آباء خیر تھے اور مومن مشرک سے خیر اور بہتر ہے۔ لہذا آپ کے تمام آباء کا مومن ہونا ثابت ہوا ‘ اس دلیل سے بھی امام رازی نے تعرض نہیں کیا۔ امام رازی نے شیعہ کی طرف سے تیسری دلیل یہ پیش کی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بہت شدت اور سختی کے ساتھ آزر کا رد کیا ہے ‘ اگر وہ ان کے باپ ہوتے تو ان کے ساتھ نرمی سے کلام کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ان کے چچا تھے ‘ پھر اس دلیل کا رد کیا ہے کہ ان کی یہ سختی اس کے شرک پر اصرار کی وجہ سے تھی۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٤‘ ص ٧١‘ ملخصا) ہرچند کہ ہم نے اس دلیل سے استدلال نہیں کیا ‘ لیکن اس پر امام رازی کا اعتراض قوی نہیں ہے۔ کیونکہ کفر اور شرک کے باوجود ماں باپ کے ساتھ نرمی سے کلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دیکھئے فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا ‘ اس نے صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی تھی اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے نرم گفتاری کا حکم دیا : 

(آیت) ” اذھبا الی فرعون انہ طغی، فقولا لہ قولا لینا لعللہ یتذکر اویخشی “۔ (طہ : ٤٤) 

ترجمہ : (اے موسیٰ اور ہارون) آپ دونوں فرعون کے پاس جائیے بیشک اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے ‘ آپ دونوں اس سے نرمی سے بات کریں ‘ تاکہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈرے۔ 

اگر آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ ہوتا تو آپ اس سے اس قدر سختی اور شدت کے ساتھ بات نہ کرتے ‘ لہذا ثابت ہوا کہ وہ آپ کا باپ نہیں ‘ چچا تھا۔ اس آیت میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آزر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو ؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا دیکھتا ہوں۔ (الانعام : ٧٤) اگر ازر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ ہوتا تو وہ اس سے اس قدر اہانت آمیز کلام نہ فرماتے۔ 

اس بحث کے بعد امام رازی نے لکھا ہے کہ رہے ہمارے اصحاب تو ان کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والد کافر تھے ‘ اور انہوں نے ذکر کیا ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت میں تصریح ہے کہ آزر کافر تھا اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا والد تھا۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٧١ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ہم اس قول کی شناعت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ امام رازی صحیح العقیدہ تھے ‘ دین اسلام کے لیے ان کی بڑی خدمات ہیں اور اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قول سے رجوع کی توفیق دی۔ جن دلائل کو انہوں نے تفسیر کبیر میں رد کردیا ہے ‘ اسرار النتزیل میں ان ہی دلائل سے انہوں نے رسول اللہ کے والدین کریمین اور آپ کے تمام آباء کرام کا ایمان ثابت کیا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اس کا خلاصہ نقل کیا ہے ‘ ہم اس کا اقتباس یہاں پیش کررہے ہیں۔ 

ابوین کریمین کے ایمان کے متعلق امام رازی کا صحیح موقف : 

مسلک ثانی : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین سے شرک ثابت نہیں ہے ‘ بلکہ وہ اپنے جد اکرم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین حنیف پر تھے ‘ جیسا کہ عرب کی ایک جماعت اس دین پر تھی۔ مثلا زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل وغیرھما ‘ اور یہ علماء کی ایک جماعت کا مسلک ہے۔ انہی میں سے امام فخر الدین رازی ہیں ‘ انہوں نے اپنی کتاب اسرار التنزیل لکھا ہے ‘ جس کی عبارت یہ ہے ایک قول یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا والد نہیں تھا اور اس پر کئی وجوہ سے استدلال کیا گیا ہے۔ ایک دلیل یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے آباء کافر نہیں تھے اور اس پر کئی دلائل ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” الذی یراک حین تقوم وتقلبک فی الساجدین “ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ کا نور ایک ساجد سے دوسرے ساجد کی طرف منتقل ہوتا رہا اور اس تقدیر پر یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء مسلمان تھے اور اب قطعی طور پر یہ کہنا واجب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کافروں میں سے نہیں تھے اور آزر آپ کا چچا تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ (آیت) ” وتقلبک فی الساجدین “ کے اور بھی کئی محامل ہیں اور جب کہ ہر محمل کے متعلق ایک روایت وارد ہے اور ان میں باہم کوئی منافات بھی نہیں ہے تو اس آیت کو ان تمام محامل پر محمول کرنا واجب ہے ‘ اور جب یہ صحیح ہے تو ثابت ہوگیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد بت پرستوں میں سے نہیں تھے ‘۔ پھر امام رازی نے فرمایا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام آباء کے مشرک نہ ہونے پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ہمیشہ پاکیزہ پشتوں سے پاکیزہ رحموں کی طرف منتقل ہوتا رہا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انما المشرکون نجس “ مشرک محض ناپاک ہیں پس واجب ہوا کہ آپ کے اجداد کرام سے کوئی شخص مشرک نہ ہو۔ امام رازی کا کلام ختم ہوا۔ 

تم امام رازی کی امامت اور جلالت پر غور کرو ‘ وہ اپنے زمانہ میں اہل سنت کے امام ہیں اور بدعتی فرقوں کا رد کرنے والے ہیں ‘ اور وہ اپنے زمانہ میں مذہب اشاعرہ کے ناصر اور موید ہیں اور وہی چھٹی صدی ہجری میں ایسے عالم ہیں جو اس امت کے لیے بہ طور مجدد بھیجے گئے ہیں اور میرے نزدیک امام فخرالدین رازی کے مذہب کی تائید میں اور بھی دلائل ہیں۔ (الحاوی للفتاوی ‘ ج ٢‘ ص ٢١٠‘ مطبوعہ فیصل آباد) 

امام رازی نے یہ بحث اسرار التنزیل وانوا التاویل ص ٧٣۔ ٢٦٩‘ مطبوعہ بغداد ‘ ١٩٩٠ ء میں کی ہے۔ یہ کتاب مجھے بعد میں ملی انشاء اللہ الشعرا : ٢١٩ میں ‘ میں اس کتاب سے امام رازی کی اصل عبارات پیش کروں گا۔ 

ابوین کریمین کے ایمان کی بحث میں حرف آخر : 

یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کریمین کے ایمان کا مسئلہ متقدمین علماء پر مخفی رہا۔ یہ مسئلہ اللہ تعالیٰ نے متاخرین پر منکشف کیا ہے۔ 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

لیکن متاخرین علماء نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کریمین ‘ بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) تک آپ کے تمام آباء وامہات کا ایمان ثابت کیا ہے ‘ اس اثبات کے لیے انہوں نے تین طریقے اختیار کیے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب حضرات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر تھے۔ دوسرا یہ کہ ان حضرات کو دعوت اسلام نہ پہنچی ‘ بلکہ یہ حضرات زمانہ فترت میں ہی انتقال کرچکے تھے ‘ ان کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا زمانہ نہ ملا۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ کے والدین کریمین کو اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا سے آپ کے دست اقدس پر دوبارہ زندگی عطا فرمائی اور وہ آپ پر ایمان لائے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین کے زندہ کرنے کی حدیث اگرچہ اپنی حد ذات میں ضعیف ہے ‘ لیکن متعدد طریق سے اس کی تصحیح اور تحسین کردی گئی ہے اور یہ بات گویا متقدمین سے پوشیدہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت متاخرین علماء پر کھول دی۔ (آیت) ” واللہ یختص برحمتہ من یشاء “ اس بارے میں رسائل تصنیف کیے اور دلائل سے اس مسئلہ کا اثبات فرمایا ‘ مخالفین کے شبہات کے جوابات دیئے۔ ان دلائل اور جوابات کو اگر یہاں نقل کیا جائے تو بات لمبی ہوجائے گی۔ ان کے رسائل میں دیکھ لیا جائے۔ واللہ اعلم۔ (اشعۃ اللمعات ‘ ج ١‘ ص ٧١٨‘ مطبوعہ مطبع تیج کمار ‘ لکھنؤ) 

میں نے ابوبین کری میں کے مسئلہ پر بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ خصوصا اس لیے کہ تفسیر کبیر میں امام رازی نے جو گفتگو کی ہے ‘ اس سے بہت سے ؟ صحیح العقیدہ علماء بھی متشوش تھے ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ امام رازی کی تفسیر کبیر کی بحث کا جواب لکھوں اور یہ واضح کروں کہ امام رازی نے اس نظریہ سے رجوع فرما لیا ہے اور یہی سلف صالحین اور علماء ربانیین کی نشانی ہے۔ آخر میں میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس کاوش کو قبول فرمائے اور مجھے اپنی رضا اور اپنے حبیب اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشنودی عطا فرمائے ‘ اس بحث کی مزیدتفصیل کے لیے البقرہ : ١١٩) کا بھی مطالعہ فرمائیں : 

بتوں کی پرستش کا کھلی ہوئی گمراہی ہونا : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے (عرفی) باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو ؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا دیکھتا ہوں۔ (الانعام : ٧٤) 

یعنی تمہاری عبادت کا طریقہ ہر صاحب عقل سلیم کے نزدیک کھلی ہوئی گمراہی اور جہالت ہے اور اس سے زیادہ واضح جہالت اور گمراہی کیا ہوگی کہ تم اپنے ہاتھوں سے بت بنا کر ان کی پرستش کرتے ہو۔ قرآن مجید میں ہے : rnّ (آیت) ” قال اتعبدون ما تنحتون، واللہ خلقکم وما تعملون “۔ (الصفت : ٩٦۔ ٩٥) 

ترجمہ : ابراہیم نے کہا کیا تم ان بتوں کی پرستش کرتے ہو جن کو تم خود تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہیں اور تمہارے سب کاموں کو اللہ نے ہی پیدا فرمایا ہے۔ 

اور یہ بت بالکل بہرے ہیں ‘ تمہارے فریاد کو نہیں سنتے ‘ نہ تمہیں کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ تمہیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں : 

(آیت) ” قال افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم، اف لکم ولما تعبدون من دون اللہ افلا تعقلون “۔ (الانبیاء : ٦٧۔ ٦٦) 

ترجمہ : ابراہیم نے کہا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں کچھ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان ‘ تف ہے تم پر (اور تمہارے بتوں پر) جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو پس کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔ 

اور ایک مقام پر اللہ تعالیٰ بتوں کی پرستش کا بطلان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : 

(آیت) ” ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذباباولو اجتمعوا لہ وان یسلبھم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب المطلوب “۔ (الحج : ٧٣) 

ترجمہ ؛ بیشک تم اللہ کو چھوڑ کر (جن (بتوں) کی عبادت کرتے ہو ‘ وہ سب مل کر بھی ہرگز ایک مکھی نہیں بنا سکتے ‘ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے ‘ طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں۔ 

پھر ایسے کمزور ‘ لاچار ‘ بےحس اور بےجان تراشیدہ پتھروں کو اپنا خدا ماننا اور ان کی پرستش کرنا کھلی ہوئی گمراہی کے سوا اور کیا ہے ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 74