مجدد اعظم احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ

نام ونسب :۔ نام ، محمد ۔ عرفی نام ،احمد رضاخاں ۔بچپن کے نام امن میاں ۔احمد میاں ۔

تاریخی نام ،المختار۔۱۲۷۲ ھ۔والد کا نام ،نقی علی خاں ۔القاب ،اعلی حضرت،شیخ الاسلام والمسلمین ،مجدداعظم ،فاضل بریلوی ،وغیرھا کثیر ہیں ۔

سلسلہ نسب یوں ہے ،امام احمد رضا بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضاعلی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن سعادت یار خاں بن سعید اللہ خاں ولی عہد ریاست قندھار افغانستان وشجاعت جنگ بہادر علیھم الرحمۃ والرضوان ۔

ولادت ،۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ /۱۴؍جون ۱۸۵۶ ء/۱۱؍جیٹھ ۱۹۱۳سدی بروز شنبہ بوقت ظہر بمقام محلہ جسولی بریلی (انڈیا) میں ہوئی ۔

آپکے اجداد میں سعید اللہ خاں شجاعت جنگ بہادر پہلے شخص ہیں جو قندھار سے ترک وطن کرکے سلطان نادر شاہ کے ہمراہ ہندوستان آئے اور لاہور کے شیش محل میں قیام فرمایا ۔

علامہ حسنین رضاخاں علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ۔

یہ روایت اس خاندان میں سلف سے چلی آرہی ہے کہ اس خاندان کے مورث اعلی والیان قندھار کے خاندان سے تھے ۔شہزادہ سعید اللہ خاں صاحب ولی عہد حکومت قندھار کی والد ہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ سوتیلی ماں کا دوردورہ ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کیلئے ولی عہدی کی جگہ حاصل کر نے کے سلسلے میں ان باپ بیٹوں میں اتنا نفاق کرادیا کہ شہزادہ سعید اللہ خاں صاحب ترک وطن پر مجبور ہوگئے ۔ان کے چند دوستوں نے بھی اس ترک وطن میں ان کا ساتھ دیا ۔ یہ ساری جماعت قندھار سے لاہور آگئی ۔لاہور کے گورنر نے دربار دہلی کو اطلاع دی کہ قندھار کے ایک شہزادے صاحب کسی کشید گی کی وجہ سے ترک وطن کرکے لاہور آگئے ہیں اس کے جواب میں انکی مہمان نوازی کا حکم ہوا اور لاہور کا شیش محل ان کو رہائش کے لئے عطا ہوا جوآج بھی موجود ہے ۔ان کی شاہی مہمان نوازی ہونے لگی ۔انہیں اپنے مستقبل کے لئے کچھ کرنا ضروری تھا وہ جلدی ہی دہلی آگئے یہاں انکی بڑی عزت ووقعت ہوئی ۔چند ہی دنوں میں وہ فوج کے کسی بڑے عہدے پر ممتاز ہوگئے اور انکے ساتھیوں کو بھی فوج میں مناسب جگہیں مل گئیں ۔یہ منصب انکی فطرت کے بہت مناسب تھا۔ جب روہیل کھنڈ میں کچھ بغاوت کے آثار نمودار ہوئے تو باغیوں کی سرکوبی ان کے سپرد ہوئی ۔ اس بغاوت کے فرو ہونے کے بعد ان کو روہیل کھنڈ کے صدر مقام بریلی میں قیام کرنے اور امن قائم رکھنے کا حکم ہوگیا ۔یہاں انہیں صوبہ دار بنادیا گیا جو گورنر کے مترادف ہے ۔اس ضلع میں انکو ایک جاگیر عطا ہوئی جو غدر

۱۸۵۷ ء میں ضبط ہوکر تحصیل ملک ضلع رامپور میں شا مل کردی گئی ہے ۔اس جاگیر کا مشہور اور بڑا موضع وہنیلی تھا جواب موجود ہے ۔بریلی کی سکونت اس لئے مستقل ہوگئی کہ اسی دور میں کوہستان روہ کے کچھ پٹھان خاندان یہاں آکر آباد ہوگئے تھے ۔ان کے لئے ان کا جوار بڑا خوشگوار تھا ۔ اس واسطے کہ ان سے بوئے وطن آتی تھی ۔( سیرت اعلی حضرت۔ مصنفہ علامہ حسنین رضا خانصاحب بریلوی علیہ الرحمہ)

سعید اللہ خاں ۔حضرت سعید اللہ خاں صاحب کوشش ہزاری عہدہ بھی ملاتھا اور شجاعت جنگ آپ کو خطاب دیا گیا تھا ۔آپ نے آخر عمر میں ملازمت سے سبکدوشی اختیار کرلی تھی ۔بقیہ زمانہ یاد الہی میں گذارا اور جس میدان میں آپ کا قیام تھا وہیں دفن ہوئے ۔بعد کو لوگوں نے اس میدان کو قبرستان میں تبدیل کردیا جو آج بھی محلہ معماران بریلی میں موجود ہے اور اسی مناسبت سے اسکو شہزادے کا تکیہ کہاجاتا ہے ۔

سعادت یار خاں ۔ آپکے بعد آپکے صاحبزادے سعادت یار خاں نے کافی شہرت پائی بلکہ والد ماجد کی حیات ہی میں اپنی امانت داری اور دیانت شعاری کی وجہ سے حکومت دہلی کے وزیر مالیات ہوگئے تھے ۔شاہی حکومت کی طرف سے آپکو بدایوں کے متعدد مواضعات بھی جاگیر میں ملے تھے ۔

مولانا حسنین رضاخاں تحریر فرماتے ہیں:۔

انہوں نے دہلی میں اپنی وزارت کی دونشانیاں چھوڑیں ۔بازار سعادت گنج اور سعادت خاں نہر ۔نہ معلوم حوادث روزگار کے دست ستم سے ان میں سے کوئی نشانی بچی ہے یانہیں ۔ انکی مہر وزارت بھی اس خاندان میں میری جوانی تک موجودرہی ۔(سیرت اعلی حضرت۔ مصنفہ علامہ حسنین رضا خانصاحب بریلوی علیہ الرحمہ)

آپکے تین صاحبزادے تھے ۔محمد اعظم خاں ،محمد معظم خاں ،محمد مکرم خاں ۔

محمد اعظم خاں ۔آپکے بڑے صاحبزادے تھے ۔سلطنت مغلیہ کی وزارت اعلی کے عہدے پر فائز ہوئے ۔کچھ دن اس عہدہ پر فائز رہنے کے بعد سلطنت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے تھے ۔آپ نے ترک دنیا فرماکر عبادت وریاضت میں ہمہ وقت مشغولی اختیار فرمائی ۔ آپ بھی بریلی محلہ معماران میں اقامت گزیں رہے ۔

آپکے صاحبزادے حضرت حافظ کاظم علی خاں ہرجمعرات کو سلام کیلئے حاضر ہوتے اور گرانقدر رقم پیش کرتے ۔ایک مرتبہ جاڑے کے موسم میں جب حاضر ہوئے تودیکھا کہ آپ ایک الائو (دہرے) کے پاس تشریف فرماہیں ۔اس موسم سرما میں کوئی سردی کا لباس جسم پر نہ دیکھ کر اپنا بیش بہا دوشالہ اتار کر والد ماجد کو اڑھادیا ۔حضرت موصوف نے نہایت استغناء سے اسے اتار کر آگ کے الائو میں ڈالدیا ۔ صاحبزادے نے جب یہ دیکھا تو خیال پیدا ہوا کہ کاش اسے کسی اور کو دیدیتا تو اسکے کام آتا ۔

آپکے دل میں یہ وسوسہ آنا تھا کہ حضرت نے اس آگ کے دھر ے سے دوشالہ کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا : فقیر کے یہاں دھکر پھکر کا معاملہ نہیں ،لے اپنا دوشالہ ۔دیکھا تو اس دوشالہ پر آگ کا کچھ اثر نہیں تھا ۔(حیات اعلی حضرت۔ مصنفہ ملک العلماء علامہ ظفر الدین صاحب بہاری علیہ الرحمہ)

حافظ کاظم علی خاں :۔ حافظ کاظم علی خاں شہر بدایوں کے تحصیلدار تھے اور یہ عہدہ آج کے زمانہ کی کلکٹری کے برابر تھا ۔دوسو سواروں کی بٹالین آپکی خدمت میں رہا کرتی تھی ۔آپ کو سلطنت مغلیہ کی طرف سے آٹھ گائوں جاگیر میں پیش کئے گئے تھے ۔

سیرت اعلی حضرت میں ہے: ۔

حافظ کاظم علی خاں صاحب مرحوم کے دور میں مغلیہ حکومت کازوال شروع ہوگیا تھا ہرطرف بغاوتوں کا شوراور ہرصوبے میں آزادی وخودمختاری کا زور ہورہاتھا۔ اس وقت جب کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی توحافظ کاظم علی خاں صاحب دہلی سے لکھنؤ آگئے ۔ادھر انگریزوں کا زور بڑھ رہا تھا اور حکومت میں تعطل پیدا ہوگیا تھا ۔اودھ کی سلطنت میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے ان کو بھی یہاں دوباراودھ سے ایک جاگیر عطاہوئی جو ہم لوگوں تک باقی رہی اور ۱۹۵۴ء میں جب کانگریس نے دیہی جائداد یں ضبط کیں تو ہماری معافی بھی ضبطی میں آگئی ۔(سیرت اعلیٰ حضرت)

ملک العلماء حضرت مولانا ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :۔

آپ اس جدوجہد میں تھے کہ سلطنت مغلیہ اور انگریزوں میں جو کچھ مناقشات تھے ان کا تصفیہ ہوجائے ۔چنانچہ اسی تصفیہ کیلئے آپ کلکتہ تشریف لے گئے تھے۔(حیات اعلیٰ حضرت)

قطب وقت مولانا رضاعلی خاں ۔ آپکے بڑے صاحبزادے ہیں اور سید نا اعلی حضرت قدس سرہ کے حقیقی دادا۔

آپکی ولادت ۱۲۲۴ھ میں ہوئی ۔شہر ٹونک میں مولوی خلیل الرحمن صاحب علیہ الرحمہ سے علوم درسیہ حاصل کئے ۔۲۲؍ سال کی عمر میں ۱۲۴۷ھ سند فراغ حاصل کی ۔اپنے زمانہ میں فقہ وتصوف میں شہرت خاص تھی ۔تقریر نہایت پرتاثیر ہوتی ،آپکے اوصاف شمار سے باہر ہیں ، نسبت کلام ،سبقت سلام ،زہد وقناعت ،حلم وتواضع اور تجرید وتفرد آپکی خصوصیات سے ہیں ۔

مولانا حسنین رضا خاں صاحب لکھتے ہیں: ۔

یہ پہلے شخص ہیں جو اس خاندان میں دولت علم دین لائے اور علم دین کی تکمیل کے بعد انہوں نے سب سے پہلے مسند افتاء کو رونق بخشی ، تو اس خاندان کے ہاتھ سے تلوار چھوٹی اور تلوار کی جگہ قلم نے لے لی ۔اب اس خاندان کا رخ ملک کی حفاظت سے دین کی حمایت کی طرف ہوگیا ۔وہ اپنے دور میں مرجع فتاوی رہے۔ انہوں نے خطب جمعہ وعیدین لکھے جو آج کل خطب علمی کے نام سے ملک بھر میں رائج ہیں ۔یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس خاندان کے مورث اعلی مولانارضاعلی خاں صاحب کے خطبے جو خطب علمی کہلاتے ہیں وہ مولانا رضاعلی خاں صاحب کے ہی تصنیف کر دہ ہیں اور کم وبیش ایک صدی سے سارے ہندوستان کے طول وعرض میں جمعہ وعیدین کو پڑھے جاتے ہیں ۔اور ہر مخالف وموافق انہیں پڑھتا ہے ۔ان کو شہرت سے انتہائی نفرت تھی اس لئے انہوں نے خطبے اپنے شاگرد مولانا علمی کودے دیئے مولانا علمی نے خود بھی اس طرف اشارہ کیا ہے البتہ خطب علمی میں اشعار مولانا علمی کے ہیں اور مولانا رضا علی خاں صاحب مرجع فتاوی بھی رہے ۔

خطب علمی کو رب العزۃ نے وہ شان قبولیت عطافرمائی کہ آج تک کوئی خطبہ اس کی جگہ نہ لے سکا ۔اس دور میں بہت سے خطبے لکھے گئے عمدہ کرکے چھاپے گئے کوشش سے رائج کئے گئے مگر وہ قبول عام کسی کو آج تک نصیب نہ ہوا اورنہ آئندہ کسی کو امید ہے کہ وہ خطب علمی کی جگہ لے سکے گا ۔جب انکے بیٹے مولانا نقی علی خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے سند تکمیل حاصل کرلی تو افتاء اور زمینداری یہ دونوں کام مولانا نقی علی خاں کے سپرد ہو گئے ۔(سیرت اعلیٰ حضرت)

۱۲۸۲ھ میں وصال ہوااور سٹی قبرستان میں مدفون ہوئے ۔

کشف وکرامات ۔ حضرت کا گذر ایک روز کوچہ سیتارام کی طرف سے ہوا ہنود کے تہوارہولی کا زمانہ تھا ایک ہندنی بازاری طوائف نے اپنے بالا خانہ سے حضرت پر رنگ چھوڑدیا یہ کیفیت شارع عام پر ایک جوشیلے مسلمان نے دیکھتے ہی بالا خانہ پر جاکر تشدد کرنا چاہا مگر حضور نے اسے روکا اور فرمایا : بھائی کیوں اس پر تشدد کرتے ہو اس نے مجھ پررنگ ڈالا ہے۔خدا اسے رنگ دے گا۔ یہ فرمانا تھا کہ وہ طوائف بیتابانہ قدموں پر گر پڑی اور معافی مانگی اور اسی وقت مشرف باسلام ہوئی حضرت نے وہیں اس نوجوان سے اس کا عقد کردیا ۔

۱۸۵۷ء کے بعد جب انگریزوں کا تسلط ہوا اور انہوں نے شدید مظالم کئے تو لوگ ڈر کے مارے پریشان پھرتے تھے ۔بڑے لوگ اپنے اپنے مکانات چھوڑ کر گائوں وغیرہ چلے گئے لیکن حضرت مولانا رضاعلی خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ محلہ ذخیرہ اپنے مکان میں برابر تشریف رکھتے رہے اور پنج وقتہ نمازیں مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ادھر سے گوروں کا گزرہوا خیال ہوا کہ شاید مسجد میں کوئی شخص ہوتو اس کو پکڑ کر پیٹیں، مسجد میں گھسے ادھر ادھر گھوم آئے بولے مسجد میں کوئی نہیں ہے حالانکہ حضرت مسجد میں تشریف فرماتھے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اندھا کردیا کہ حضرت کو دیکھنے سے معذوررہے ۔

رئیس الاتقیاء مولانا نقی علی خاں

ولادت ،یکم رجب ۱۲۴۶ھ کو بریلی میں ہوئی ۔اپنے والد ماجد قطب زماں حضرت مولانا رضاعلی خاں صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سے اکتساب علم کیا ۔آپ بلند پایہ عالم اور بہت بڑےفقیہ تھے ۔

مولانا عبدالحی رائے بریلوی لکھتے ہیں :۔

الشیخ الفقیہ نقی علی خاں بن رضاعلی خاں بن کاظم علی خاں بن اعظم خاں بن سعادت یار الافغانی البریلوی احد الفقہا ء الحنفیۃ اسند الحدیث عن شیخ احمد بن زین دحلان الشافعی ۔(فقیہ اسلام۔ مقالہ ڈاکٹریٹ مولانا حسن رضا خاں، پٹنہ)

امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں: ۔

جو دقت انظار وحدت افکار وفہم صائب ورائے ثاقب حضرت حق جل وعلا نے انہیں عطا فرمائی ان دیار وامصار میں اس کی نظیر نظر نہ آئی۔ فراست صادقہ کی یہ حالت تھی کہ جس معاملہ میں جو کچھ فرمایا وہی ظہور میں آیا ۔عقل معاش ومعاد دونوں کا بروجہ کمال اجتماع بہت کم سنا یہاں آنکھوں دیکھا ۔علاوہ بریں سخاوت وشجاعت، علو ہمت وکرم ومروت ،صدقات خفیہ ومبرات جلیہ،بلندی اقبال ودبدبۂ وجلال ،موالات فقرا ء اور امر دینی میں عدم مبالات باغنیاء، حکام سے عزلت و رزق موروث پر قناعت ،وغیرہ ذلک فضائل جلیلہ وخصائل جمیلہ کا حال وہی

کچھ جانتا ہے جس نے اس جناب کی برکت صحبت سے شرف پایا ہے: ۔

ع ایں نہ بحریست کہ در کوزئہ تحریر آید

مگر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس ذات گرامی صفات کو خالق عزوجل نے حضرت سلطان رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ کی غلامی وخدمت اور حضور اقدس کے اعداء پر غلظت وشدت کے لئے بنایا تھا۔ بحمد اللہ ان کے بازوئے ہمت و طنطنۂ صولت نے اس شہر کو فتنۂ مخالفین سے یکسر پاک کردیا ۔کوئی اتنا نہ رہا کہ سر اٹھا ئے یا آنکھ ملائے یہاں تک کہ ۲۶؍ شعبان ۱۲۹۳ھ کو مناظرئہ دینی کا عام اعلان بنام تاریخی’’ اصلاح ذات بین‘‘ طبع کرایا اور سوا مہر سکوت یا عار فرار وغوغائے جہال وعجز واضطرار کے کچھ جواب نہ پایا ،فتنۂ شش مثل کا شعلہ کہ مدت سے سر بفلک کشیدہ تھا اور تمام اقطار ہند میں اہل علم اس کے اطفا پر عرق ریز وگردیدہ ،اس جناب کی ادنی توجہ میں بحمد اللہ سارے ہندوستان سے ایسا فرو ہوا کہ جب سے کان ٹھنڈے ہیں۔ اہل فتنہ کا بازار سرد ہے ،خود اس کے نام سے جلتے ہیں، مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ خدمت روز ازل سے اس جناب کے لئے ودیعت تھی جس کی قدرے تفصیل رسالہ’’ تنبیہ الجہال بالہام الباسط المتعال ‘‘میں مطبوع ہوئی :۔وذلک فضل اللہ یؤ تیہ من یشاء ۔

آپکی تمام خوبیوں کے درمیان سب سے بڑی خوبی اور علمی شاہکار اعلی حضرت قدس سرہ کی تعلیم وتربیت ہے جو صدیوں ان کا نام نامی زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے ۔

امام احمد رضا:۔ امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنی سنہ ولادت کا استخراج اس آیت کریمہ سے فرمایا: ۔

اولٰئک کتب فی قلوبہم الایمان واید ھم بروح منہ۔

اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اللہ ورسول کے دشمنوں کو کبھی اپنا دوست نہیں بناتے اور اپنا رشتۂ ایمانی اسی وقت مضبوط ومستحکم جانتے ہیں جب اعدائے دین سے کھلم کھلا عداوت ومخالفت کا اعلان کریں اگرچہ وہ دشمنان دین انکے باپ داداہوں خواہ اولاد اور دیگر عزیز واقارب ہوں ۔جب کسی مومن کا ایمان ایسا قوی ہوجاتا ہے تو اسکے لئے وہ بشارت ہے جو آیت کریمہ میں بیان فرمائی ۔

سیدنا اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی پوری حیات مقدسہ اسکا آئینہ تھی ۔آئندہ اوراق میں اسکے شواہد ملاحظہ فرمائیں ۔

حسن اتفاق کہ اعلی حضرت جس ساعت میں پیدا ہوئے اس وقت آفتاب منزل غفر میں تھا جواہل نجوم کے یہاں مبارک ساعت ہے ۔

اعلیٰ حضرت نے خود بھی اس کی طرف یوں اشارہ فرمایاہے :۔

دنیا مزار حشر جہاں ہیں غفو ر میں

ہرمنزل اپنے ماہ کی منزل غفر کی ہے