أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ‌ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ خَالِقُ كُلِّ شَىۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ‌ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ وَّكِيۡلٌ ۞

ترجمہ:

یہی ہے اللہ جو تمہارا رب ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے سو تم اسی کی عبادت کرو، اور وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہی ہے اللہ جو تمہارا رب ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے سو تم اسی کی عبادت کرو، اور وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ (الانعام : ١٠٢) 

اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر دلائل : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کا ذکر فرمایا ہے کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر حسب ذیل دلائل ہیں : 

(١) ہم کہتے ہیں کہ تمام کائنات کی تخلیق کے لیے ایک صانع ‘ عالم ‘ قادر اور مدبرکافی ہے۔ اگر ایک سے زیادہ صانع کی ضرورت ہے تو ہم پوچھتے ہیں ‘ کتنے صانعین کی ضرورت ہے ؟ اگر تم کسی عدد کی تخصیص کرو ‘ مثلا تین یا چار کی تو یہ ترجیح بلا مرجح ہے ‘ کیونکہ تمام اعداد مساوی ہیں اور اگر تم کسی عدد میں صانع کا حصر نہ کروتو غیر متناہی صانعین کا ہونا لازم آئے گا اور یہ براھین ابطال تسلسل سے باطل ہے۔ 

(٢) ہم کہتے ہیں کہ تمام کائنات کو پیدا کرنے کے لیے ایک صانع کافی ہے ‘ جو تمام معلومات کا عالم ہو اور تمام ممکنات پر قادر اور مدبر ہو۔ اب اگر دوسرا صانع فرض کیا جائے تو یا تو ان دونوں میں سے ہر ایک اس جہان کے حوادث میں سے کسی چیز کو وجود میں لانے کا مستقل فاعل ہوگا اور دوسرے کو اس میں مداخلت کرنے سے مانع ہوگا۔ ایسی میں کسی چیز کو موجود کرنے کے لیے ان دونوں میں سے صرف ایک کافی ہوگا اور دوسرا عاجز اور معطل ہوگا اور اگر کسی چیز کو موجود کرنے کے لیے وہ دونوں باہم اشتراک اور تعاون کے محتاج ہوں تو یہ باطل ہے ‘ کیونکہ جو محتاج ہو وہ الوہیت اور خدائی کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ 

(٣) اگر دو خدا فرض کیے جائیں تو ضروری ہے کہ وہ دونوں صفات کمال کے جامع ہوں اور اس صورت میں تمام صفات کمال ان دونوں میں مشترک ہوں گی ‘ پھر ان دونوں میں امتیاز کے لیے ایک امر ممیز ماننا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ تعدد اور اثنینیت بلا امتیاز باطل ہے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ وہ امر ممیز صفت کمال ہے یا صفت نقص۔ اگر وہ صفت کمال ہے ‘ تو پھر دونوں تمام صفات کمال کے جامع نہ رہے ‘ کیونکہ یہ ایک اور صفت کمال ہے اور اگر وہ انہی صفات کمال میں سے ہے ‘ تو یہ مابہ الاشتراک ہے مابہ الامتیاز نہیں ہے اور اگر یہ ممیز صفت نقص ہے تو نقص کا حامل الوہیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ 

(٤) اگر دو خدا فرض کیے جائیں تو وجوب وجود اور قدم ان میں مشترک ہوگا اور کیونکہ اثنینیت بلا امتیاز باطل ہے ‘ اس لیے ان میں ایک اور ممیز ہوگا اور ہر خدا دو چیزوں سے مرکب ہوگا امر مشترک اور امیر ممیز اور جو مرکب ہو ‘ وہ اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور جو محتاج ہو وہ الوہیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ 

(٥) اگر دو خدا فرض کیے جائیں تو اگر ایک معین وقت میں مثلا ایک خدا زید کو متحرک کرنے ارادہ کرے اور دوسرا اس کو ساکن کرنے کا ارادہ پورا ہونا محال ہے ‘ کیونکہ یہ اجتماع ضدین ہے۔ اس صورت میں صرف ایک کا ارادہ پورا ہوگا اور وہی غالب ہوگا اور دوسرا مغلوب ہوگا ‘ اور مغلوب الوہیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وہ دونوں اتفاق کرلیتے ہیں اور اختلاف نہیں کرتے تو ہم کہتے ہیں کہ ان میں اختلاف کرنا ممکن ہے یا نہیں ‘ اگر اختلاف کرنا ممکن نہیں تو وہ عاجز ہوں گے اور عاجز الوہیت کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اگر اختلاف کرسکتے ہیں تو پھر وہی پہلی تقریر جاری ہوگی۔ نیز ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ اتفاق کرتے ہیں تو ضرور ایک دوسرے کی موافقت کرے گا اور جو موافقت کرے گا ‘ وہ تابع ہوگا تابع الوہیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس دلیل کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اشارہ فرمایا : 

(آیت) ” ما اتخذ اللہ من ولد وما کان معہ من الہ اذالذھب کل الہ بما خلق ولعلابعضھم علی بعض سبحان اللہ عما یصفون “۔ (المؤمنون : ٩١)

ترجمہ : اللہ نے کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے ‘ ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو الگ لے جاتا اور ہر ایک معبود دوسرے پر غلبہ پاتا ‘ اللہ ان چیزوں سے پاک اور بالاتر ہے جو وہ اس کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ 

(آیت) ” لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا “۔ (الانبیاء : ٢٢) 

ترجمہ : اگر آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو ضرور وہ دونوں (آسمان اور زمین) تباہ ہوجاتے۔ 

(٦) اگر دو خدا ہوں تو یا تو وہ صفات ذاتیہ میں ایک دوسرے کے بالکل مساوی ہوں گے یا ایک اعلی اور دوسرا ادنی ہوگا۔ پہلی صورت اس لیے با طل ہے کہ اثنینیت بلا امتیاز محال ہے اور دوسری صورت اس لیے باطل ہے کہ جو ادنی ہو وہ الوہیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ 

(٧) اگر دو خدا ہوں تو یا تو ان میں سے ہر ایک اپنی مصنوع پر خصوصی دلیل قائم کرنے پر قادر ہوگا ‘ یا کوئی قادر نہیں ہوگا ‘ یا صرف ایک قادر ہوگا ؟ موخر الذکر دونوں صورتیں اس لیے باطل ہیں کہ قادر نہ ہونا عجز ہے اور عاجز الوہیت کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اول الذکر صورت اس لیے باطل ہے کہ جب فی الواقع کسی مصنوع کے دو صانع ہوں تو عقل کے نزدیک یہ محال ہے کہ اس کی دلالت کسی ایک صانع پر ہو ‘ نہ کہ دوسرے پر۔ مثلا ایک درخت ہل رہا ہے اب اس کا ہلنا اس پر دلیل ہے کہ اس کا کوئی ہلانے والا ہے ‘ لیکن عقل کے نزدیک اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس کا ہلانے والا فلاں ہے اور فلاں نہیں ہے۔ 

(٨) اگر دو خدا ہوں تو ہم پوچھتے ہیں کہ ایک خدا اپنی مخلوق کو دوسرے خدا سے چھپانے پر قادر ہے یا نہیں ؟ اگر وہ قادر نہ ہو تو اس کا عجز لازم آئے گا اور اگر وہ اپنی مخلوق کو دوسرے خدا سے چھپانے پر قادر ہو تو دوسرے خدا کا جہل لازم آئے گا اور نہ عاجز خدا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ جاہل۔ 

(٩) اگر دو خدا ہوں تو ہم پوچھتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک بغیر دوسرے کے تعاون کے مستقلا تمام جہان کو پیدا کرنے پر قادر ہے یا نہیں ؟ اگر وہ اس پر قادر نہیں ہے تو عاجز ہوگا ‘ اور عاجز الوہیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر ان میں سے ہر ایک بغیر دوسرے کے تعاون کے مستقلا تمام جہان کو پیدا کرنے پر قادر ہے تو دوسرے کا معطل ہونا لازم آئے گا اور اس کو خدا ماننا عبث ہوگا۔ 

(١٠) ہم دیکھتے ہیں کہ تمام جہان کا نظام ایک نمط اور طرز واحد پر چل رہا ہے اور کبھی اس میں تغیر نہیں ہوتا۔ مثلا سورج ‘ چاند اور ستارے ہمیشہ ایک مخصوص جہت سے طلوع ہوتے ہیں اور اس کے مقابل جانب غروب ہوتے ہیں۔ بارش آسمان کی جانب سے ہوتی ہے اور غلہ زمین سے پیدا ہوتا ہے ‘ کبھی اس کے برعکس نہیں ہوتا۔ انسان کے ہاں ہمیشہ انسان پیدا ہوتا ہے ‘ بندر یا لنگور پیدا نہیں ہوتا ‘ اور شیر کے ہاں شیر پیدا ہوتا ہے کبھی لومڑی پیدا نہیں ہوتی۔ سیب کے درخت میں کبھی تربوز نہیں لگتا اور گندم کی بالیوں میں کبھی جوار نہیں لگتا۔ یہ ساری کائنات نظام واحد پر چل رہی ہے ‘ اور اس کا نظام واحد پر جاری ہونا زبان حال سے بتاتا ہے کہ اس کا ناظم بھی واحد ہے۔ اگر اس کائنات کے خالق متعدد ہوتے تو اس میں متعدد نظام ہوتے اور ان میں یکسانیت اور وحدت نہ ہوتی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود کے سامنے اسی دلیل کی طرف اشارہ فرمایا تھاـ: 

(آیت) ” قال ابراھیم فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب “۔ (البقرہ : ٢٥٨) 

ترجمہ : ابراہیم نے کہا کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اس کو مغرب سے نکال : 

(١١) ہم دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر کثرت کسی وحدت کے تابع ہوتی ہے اور جو کثرت کسی وحدت کے تابع نہ ہو تو اس کا نظام فاسد ہوجاتا ہے۔ مثلا کلاس میں طلباء کسی ایک استاد کے تابع ہوتے ہیں ‘ اور جب اسکول میں متعدد استاد ہوں تو وہ کسی ہیڈ ماسٹر کے تابع ہوتے ہیں۔ صوبہ میں جب کئی وزیر ہوں تو ان کے اوپر وزیر اعلی واحد ہوتا ہے اور متعدد مرکزی وزراء پر وزیر اعظم واحد ہوتا ہے۔ کسی ملک میں دو بادشاہ نہیں ہوتے ‘ نہ دو صدر ہوتے ہیں ‘ نہ دو وزیر اعظم ہوتے ہیں ‘ نہ کسی فوج کے دو کمانڈر انچیف ہوتے ہیں ‘ نہ کسی ادارہ میں دو منیجنگ ڈائریکٹر ہوتے ہیں۔ ہر شعبہ میں مرکزی اقتدار صرف ایک کے پاس ہوتا ہے اور ہر کثرت کسی وحدت کے تابع ہوتی ہے۔ سو اسی طرح اس کائنات کا کار ساز مطلق اور مقتدر اعلی بھی واحد ہے۔ اگر اس کائنات کے صانع اور مدبر بھی دو یا دو سے زائد ہوتے تو اس کا نظام بھی فاسد ہوجاتا۔ اور جس طرح کسی مملکت کے دو صدر نہیں ہوسکتے ‘ اسی طرح اس کائنات کے بھی دو خدا نہیں ہوسکتے۔ 

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر جو میں نے دلائل پیش کیے ہیں ان میں سے کچھ دلائل علماء متقدمین سے مستفاد ہیں جن کی میں نے اپنے انداز سے تقریر کی ہے ‘ اور ان میں سے کچھ دلائل اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں القاء فرمائے ہیں۔ وللہ الحمد علی ذالک حمدا کثیرا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 102