أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَذَرُوۡا ظَاهِرَ الۡاِثۡمِ وَبَاطِنَهٗ‌ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ یَکْسِبُوۡنَ الۡاِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُوۡا يَقۡتَرِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور کھلا گناہ اور پوشیدہ گناہ چھوڑ دو ، بیشک جو لوگ گناہ کرتے ہیں ان کو عنقریب ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کھلا گناہ اور پوشیدہ گناہ چھوڑ دو ، بیشک جو لوگ گناہ کرتے ہیں ان کو عنقریب ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔ (الانعام : ١٢٠) 

ظاہر اور پوشید گناہوں کی ممانعت :

قرآن مجید کی ایک اور آیت میں ظاہر اور خفی گناہوں سے منع فرمایا ہے : 

(آیت) ” ولا تقربوا الفواحش ماظہر منھا ومابطن “۔ (الانعام : ١٥١ )

ترجمہ : اور بےحیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘ جو ان میں سے ظاہر ہوں اور جو پوشیدہ۔ 

ضحاک نے بیان کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جو لوگ چھپ کر زنا کرتے تھے ‘ اس کو وہ حلال کہتے تھے اور عدی نے بیان کیا ہے کہ جو لوگ بدکار عورتوں کی دکانوں پر جاکر زنا کرتے تھے اس کو برا جانتے تھے اور سعید بن جبیر نے کہا ظاہری گناہ ماؤں بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح کرنا تھا اور باطنی گناہ زنا کرنا تھا ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے گناہوں کی ممانعت کردی۔ (جامع البیان ‘ جز ٨‘ ص ٢٠ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

اثم کا معنی :

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے کہ اثم ان افعال کو کہتے ہیں جو ثواب کو ساقط کرنے موجب ہوتے ہیں۔ نیز انہوں نے لکھا ہے ! ثم عدوان سے عام ہے۔ (المفردات ‘ ص ١٠‘ مطبوعہ ایران ‘ ١٣٦٤ ھ) 

علامہ فیزوز آبادی متوفی ٨١٧ ھ نے لکھا ہے اثم کا معنی ہے ذنب (گناہ) خمر اور قمار اور ہر ناجائز کام کرنے کو اثم کہتے ہیں ‘ اور اثیم کا معنی ہے کذاب۔ (القاموس المحیط ‘ ج ٤‘ ص ٩٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

اثم کی تعریف اور مصادیق کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت نواس بن سمعان انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بر (نیکی) اور اثم (گناہ) کے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا براچھے اخلاق ہیں اور اثم وہ کام ہیں جو تمہارے دل میں اضطراب پیدا کریں اور جس کام پر تم لوگوں کے مطلع ہونے کو ناپسند کرو۔ 

(صحیح مسلم البر ‘ ١٤‘ (٢٥٥٣) ٦٣٩٦‘ سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٩٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٧‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٢‘ ٢٩٥‘ مسنداحمد ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٦٥‘ طبع دارالفکر) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون سا اثم سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے یہ کہ تم اللہ کے لیے شریک قرار دو ‘ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کیا ‘ یارسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ (شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے) 

(مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤١١‘ طبع درالحدیث قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٤٦٢‘ طبع قدیم ‘ بیروت) 

اس حدیث کو امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے ‘ مگر اس میں اثم کی جگہ ذنب کا لفظ ہے۔ 

(دیکھئے صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٦١‘ ٦٠٠١‘ ٦٨١١‘ ٦٨٦١‘ ٧٥٢٠‘ ٧٥٣٢‘ نیز دیکھئے صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ١٤١‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣١٠‘ سنن الترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣١٩٣‘ السنن الکبری للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٩٨٧‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٣٨٠‘ طبع قدیم ‘ ان تمام احادیث میں اثم کی جگہ ذنب کا لفظ ہے) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

خیثمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ اتنے میں ان کا قہرمان (کارمختار ‘ آمدنی اور مصارف کا ذمہ دار) آیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے اس سے پوچھا کیا تم نے غلاموں کو کھانا کھلا دیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے کہا جاؤ ان کو کھانا کھلاؤ۔ پھر کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص کے اثم (گناہ) کے لیے یہ کافی ہے یہ وہ ان لوگوں کا کھانا روک لے جن کو کھلانے کا وہ ذمہ دار ہے۔ 

صحیح مسلم ‘ زکوۃ ‘ ٤٠ (٩٩٦) ٢٢٧٥‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ١٦٩٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے اثم (گناہ) کے لیے یہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہو۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔ حافظ ابن حجر نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٠١‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ١١٠٣٢) 

دل کے افعال پر مواخذہ کے دلائل : 

ظاہر گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو علانیہ اور کھلم کھلا کیے جائیں اور پوشیدہ گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو چھپ کر کیے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ظاہری گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو گناہ ہیں جو ظاہری اعضاء سے کیے جائیں اور پوشیدہ گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو دل سے کیے جائیں۔ مثلا تکبر ‘ حسد ‘ خود پسندی ‘ مسلمانوں کا برا چاہنا ‘ حرام کاموں کا ارادہ کرنا ‘ بدگمانی کرنا ‘ بےحیائی کے کاموں سے محبت کرنا۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ صرف اعضاء کی معصیت پر مواخذہ ہوتا ہے اور دل کے برے کاموں پر مواخذہ نہیں ہوتا ‘ یہ قول صحیح نہیں ہے اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے مردود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ “۔ (النور : ١٩) 

ترجمہ : بیشک جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ 

اس آیت میں مسلمانوں کے اندر بےحیائی کی بات پھیلنے کے پسند کرنے پر عذاب کی وعید فرمائی ہے اور یہ پسند کرنا دل کا فعل ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں کہ میں اس شخص (حضرت علی (رض) کی مدد کرنے کے لیے جانے لگا ‘ تو میری ملاقات حضرت ابوبکرہرضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے پوچھا تم کہاں جا رہے ہو ؟ میں نے کہا میں اس شخص کی مدد کروں گا ‘ انہوں نے کہا لوٹ جاؤ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب دو مسلمانوں تلواروں سے لڑتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوز کی ہیں ‘ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ تو قاتل ہے ‘ مقتول کا کیا قصور ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے پر حریص تھا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣١‘ ج ٧“ رقم الحدیث :‘ ٦٨٧٥‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٧٠٨٣‘ صحیح مسلم ‘ فتن ‘ ١٤ ‘(٢٨٨٨) ٧١١٩‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٦٨‘ ٤٢٦٩‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٢٠‘ ٤١١٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٦٥‘ سنن کبری ‘ ج ٨‘ ص ١٩٠‘ حلیہ الاولیاء ‘ ج ٣‘ ص ٣٠٣‘ ج ٦‘ ص ٢٦٤‘ الکامل لابن عدی ‘ ج ٧‘ ص ٢٦٥٠‘ مشکوۃ رقم الحدیث : ٣٥٣٨) 

اس حدیث میں کسی مسلمان کو قتل کرنے کی حرص پر عذاب کی وعید ہے اور یہ حرص دل کا فعل ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی تکبر ہو ‘ وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک شخص نے کہا ایک آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں ‘ اس کی جوتی اچھی ہو ‘ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ تکبر حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ ایمان ١٤٧‘ (٩١) ٢٥٩‘ سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٠٦‘ صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٦٥٧‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٩١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٩‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١١٦‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٦٨٠‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩١٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ١٠‘ ص ١٩٤) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو ‘ دشمنی نہ رکھو ‘ بغض نہ رکھو ‘ حسد نہ کرو ‘ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لیے تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ امام ابو عیسیٰ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٤٢‘ صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٠٧٦‘ صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٠٧٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٥٩‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩١٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٦٦٠‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٢٢٢‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٠٧٤‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨٣‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٩١‘ سنن کبری للبیقہی ‘ ج ٧ ص ٣٠٣) 

اس حدیث میں ایک دوسرے سے دشمنی رکھنے ‘ بغض رکھنے اور حسد کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ اور یہ سب دل کے افعال ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 120