جمعہ کی ساتویں شرط :- اذن عام

مسئلہ: اذن عام یعنی عام اجازت ہو کہ جو بھی مسلمان چاہے جمعہ پڑھنے آئے کسی کی روک ٹوک نہ ہو ۔ اگر مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لئے لوگ جمع ہوگئے اور مسجد کا دروازہ بند کردیا اور دروازہ بند کرکے نماز پڑھی تو جمعہ کی نماز نہ ہوئی ۔( عالمگیری)

مسئلہ: بادشاہ نے اپنے مکان میں جمعہ قائم کیا اور مکان کادروازہ کھول دیا اور لوگوں کو آنے کی اجازت ہے تو جمعہ ہوگیا پھر چاہے لوگ آئیں یا نہ آئیں ۔ اور اگر دروازہ بند کرکے جمعہ پڑھا یا یا دروازہ تو کھلارکھا لیکن دروازہ پر دربانوںکو بٹھا دیا کہ لوگوں کو آنے نہ دیں تو جمعہ نہ ہوا ۔( عالمگیری، بہار شریعت ، جلد ۴ ، ص ۹۹)

مسئلہ: جس جیل میں مسلمان قیدی اورملازمین ہوں اور اس جیل میں مسلمان قیدیوں کوروزہ رکھنے کی اور باجماعت نماز کی بھی اجازت ہو پھربھی وہاں جمعہ کی نماز قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ جمعہ کی نماز کی شرطوں میں سے ایک شرط اذن عام ہے اور جیل میں باہر کا آدمی نماز پڑھنے نہیں جاسکتا لہٰذا جیل میں جمعہ قائم نہیں ہوسکتا بلکہ جمعہ کے دن قیدیوں کو جیل میں ظہر کی نماز بھی جماعت سے پڑھنا جائز نہیں، ہر شخص تنہا ظہر پڑھے اور اگرجیل شہر کی حد سے باہر ہے تو قیدی ظہر کی نماز جماعت سے پڑھ سکتے ہیں۔(تنویرالابصار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳،ص ۷۲۴)

مسئلہ: عورتوں کو مسجد میں آنے سے روکنے میں اذن عام کی شرط کے خلاف نہ ہوگا بلکہ عورت کو مسجد میں آنے سے روکا جائے کیونکہ عورتوں کے آنے میں خوف فتنہ ہے ۔ (رد المحتار ، بہار شریعت ،جلد ۴ ، ص ۹۹)

مسئلہ: مرتد ، منافق ، گمراہ اور بدعقیدہ فرقہ کے لوگ جو بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم میں گستاخیاں اور بے ادبیاں کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں پھنسا کر ان کا ایمان تباہ کرتے ہیں،ایسے منافقوں کو بھی مسجد میںآنے سے روکنے میں اذن عام کی شرط کے خلاف نہ ہوگا ۔ بلکہ ان کو دفع ضرر کے لئے روکنا ضروری ہے ۔

مسئلہ: صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں’’اِیَّاکُمْ وَ اِیَّاہُمْ لاَیُضِلُّوْنَکُمْ وَلَایُفْتِنُوْنَکُمْ ’’ یعنی ان سے الگ رہو ، انہیں اپنے سے درو رکھو ، کہیں وہ تم کو بہکانہ دیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔‘‘ ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ کی روایت میں اضافہ کیا کہ ’’ لَا تُصَلُّوْ ا عَلَیْہَمْ وَلَا تُصَلُّوْا مَعَہُمْ ‘‘ یعنی ’’ ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو ، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ۔‘‘ (بحوالہ النہی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید ۔ ازاعلٰحضرت)

مسئلہ: درمختار میں ہے ’’یُمْنَعُ مِنْہُ کُلُّ مُؤذٍ وَلَوْ بِلِسَانِہِ یعنی ’’ مسجد سے ہر موذی کو روکا جائے اگرچہ وہ اپنی زبان سے ہی ایذا پہنچاتا ہو۔‘‘

مسئلہ: ہر موذی کو مسجد سے نکالنا بشرط استطاعت واجب ہے اگرچہ صرف زبان سے ایذا دیتاہو ۔ خصوصاً وہ جس کی ایذا مسلمانو ںمیں بدمذہبی پھیلانا اور اضلال و اغوا ہو ۔

مسئلہ: مرتد کا صف میں کھڑا ہونا بھی جائز نہیں کہ ان کی نماز نماز ہی نہیں ۔ تو عین نماز میں بالکل خارج از نماز ہیں تو ان کے کھڑے ہونے سے صف قطع ہوگی کہ غیرنمازی درمیان میں حائل ہوا اور صف قطع کرنا حرام ہے ۔ لہٰذا جو مسلمانوں میں سربرآوردہ ہوں کہ جو ان منافقوں کو منع کرنے پر قدرت رکھتے ہوں ان پر فرض ہے کہ ان کو یعنی مرتدوں اور منافقوں کو مسجد میں آنے سے روکیں اور مسلمانوں کی نمازیں خراب ہونے سے بچائیں ۔

مسئلہ: جو شخص مسجد میں آکر اپنی زبان سے لوگوں کو ایذا دیتا ہو اس کو مسجد سے نکالنے کا حکم ہے۔ کیونکہ جس شخص کی وجہ سے ناحق فتنہ اٹھتا ہو اسے مسجد سے روکناضروری ہے۔

مسئلہ: دور حاضر کے منافقین و مرتدین میںوہابی، دیوبندی، غیر مقلدین، نجدی ، مرزائی وغیرہ باطل فرقوں کا شمار ہوتا ہے ۔حسام الحرمین کتاب میں اس کا تفصیلی بیان مذکورہے۔ (بحوالہ ۔ فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۱۰۳،۱۰۶،۱۰۹،۴۳۳،۴۴۷)