أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

‌قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُكَ‌ ؕ قَالَ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡهُ‌ ۚ خَلَقۡتَنِىۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

فرمایا تجھ کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا، اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” فرمایا تجھ کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا، اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے ” 

سجدہ کا لغوی اور شرعی معنی : علامہ ابن اثیر جزری متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : سجدہ کا لغت میں معنی ہیں سر نیچے کرنا، جھکنا، عاجزی اور خاکساری کرنا اور اس کا فقہی معنی ہے زمین پر پیشانی رکھنا اور اس سے بڑھ کر عاجزی اور تذلل متصور نہیں ہے۔ (النہایہ، ج 2، ص 302 ۔ 309، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ مجمع بحار الانوار ج 3 ص 37، مطبوعہ مکتبہ دار الایمان مدینہ منورہ 1415 ھ) 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : سجدہ کا شرعی معنی ہے : اللہ کے لیے تذلل اور عاجزی کرنا اور اس کی عبادت کرنا اور یہ انسان، حیوانات اور جمادات سب کو شامل ہے اور اس سجدہ کی دو قسمیں ہیں۔ سجدہ بالاختیار اور سجدہ باتسخیر۔ سجدہ بالاختیار پر انسان ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے : ” فاسجدوا للہ وعبدوا : سو اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو ” (النجم :63) ۔ اور سجدہ باتسخیر اور سجدہ باالاختیار دونوں کی مثال یہ آیت ہے : ” وللہ یسجد ما فی السموات وما فی الارض من دابۃ والملائکۃ وھم لا یستکبرو : اور آسمانوں اور زمینوں میں جو چیزیں ہیں وہ سب اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہیں، (ہر قسم کے) جاندار اور سب فرشتے اور وہ تکبر نہیں کرتے ” (النحل :149) ۔ اور صرف سجدہ با تسخیر کی مثال یہ آیتیں ہیں : ” والنجم والشجر یسجدان : اور زمین پر پھیلنے والے پودے اور اپنے تنے پر کھڑے درخت سجدہ کرتے ہیں ” (الرحمن :6) ۔ ” وللہ یسجد من فی السموات والارض طوعا و کرہا وظلالہم بالغدو والاصال : آسمانوں اور زمینوں میں جو بھی ہیں، وہ (سب) خوشی یا مجبوری سے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سائے (بھی) صبح اور شام کو ” (الرعد :15) ۔ قرآن مجید میں سجدہ کا اطلاق سجدہ عبودیت کی بجائے سجدہ تعطیم پر بھی کیا گیا ہے : ” اسجدوا لادم : آدم کو سجدہ کرو ” (البقرہ :34) ۔ ” وخروا لہ سجدا : اور (ماں، باپ اور بھائی سب) یوسف کے لیے سجدہ میں گرگئے ” (یوسف :100) ۔ 

سجدہ کا اطلاق نماز پر بھی کیا گیا ہے : ” ومن اللیل فسبحہ وادبار السجود : رات کے کچھ وقت میں اس کی تسبیح کیجیے اور نمازوں کے بعد (بھی) ” (ق :40) ۔ 

ابلیس جن تھا یا فرشتہ : جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ ابلیس ملائکہ میں سے تھا۔ ان کی دلیل سورة بقرہ کی یہ آیت ہے : اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ ادم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا (البقرہ :34) ۔ ابلیس کو سجدہ کا حکم اس وقت ہوگا جب وہ فرشتہ ہو، کیونکہ اس آیت میں سجدہ کا حکم فرشتوں کو دیا گیا ہے اور جو علماء یہ کہتے ہیں کہ ابلیس فرشتہ نہیں تھا، ویہ کہہ سکتے ہیں کہ ابلیس جنی تھا لیکن وہ فرشتوں کے درمیان چھپا رہتا تھا۔ اس لیے بہ طور مخاطب وہ بھی فرشتوں میں داخل تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جنات کو سجدہ کرنے کا حکم تھا لیکن فرشتوں کے ذکر کے بعد ان کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ جب اکابر کو کسی کی تعظیم کرنے کا حکم دیا جائے تو اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اصاغر کو اس کی تعظیم کا بہ طریق اولی حکم ہے۔ ابلیس کے جن ہونے کی واضح دلیل یہ آیت ہے ” کان من الجن ففسق عن امر ربہ : وہ (ابلیس) جنات میں سے تھا سو اس نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی ” (الکہف :50) ۔ 

امر کا وجوب کے لیے ہونا : اس آیت میں فرمایا ہے : تجھ کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا علماء اصول نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ امر کا تقاضا وجوب ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی اس پر مذمت کی ہے کہ ابلیس نے اللہ کے حکم کے بعد اس پر عمل نہیں کیا اور بعض علماء نے اس سے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ امر کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر فوراً عمل کیا جائے، کیونکہ ابلیس نے جب اس پر علی الفور عمل نہیں کیا تو اس پر گرفت کی گئی۔ 

حضرت آدم سے افضل ہونے پر ابلیس کا ایہ استدلال کہ آگ مٹی سے افضل ہے : اس آیت میں فرمایا ہے کہ ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرنے کی یہ وجہ بیان کی : اس نے کہا : میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ ابلیس کے جواب کی وضاحت یہ ہے کہ آگ مٹی سے بہتر ہے۔ کیونکہ آگ گرم خشک ہے اور مٹی سرد خشک ہے۔ اور حرارت برودت سے افضل ہے۔ کیونکہ گرمی حیات کے اور جوانی کے مناسب ہے اور ٹھنڈک موت اور بڑھاپے کے مناسب ہے اور حیات اور جوانی، موت اور بڑھاپے سے افضل ہے۔ نیز آگ تاثیر اور فعل کرتی ہے اور مٹی اثر قبول کرتی ہے اور انفعال کرتی ہے اور فعل، انفصال سے افضل ہے اور آگ کا خاصہ بلندی کی طرف جانا اور مٹی کا خاصا پستی کی طرف آنا ہے اور بلندی پستی سے افضل ہے۔ سو ان تین وجوہ سے آگ مٹی سے افضل ہے اور ابلیس آگ سے اور حضرت آدم سے افض (رح) ہوا اور افض (رح) کا مفضول کو سجدہ کرنا حکمت کے خلاف ہے۔ 

آگ سے مٹی کے افضل ہونے کی دس وجوہات : ابلیس کی یہ دلیل متعدد وجوہ سے باطل ہے کسی مرکب کی چار علتیں ہوتی ہیں۔ علت مادی، علت صوری، علت فاعلی اور علت غائی، ابلیس نے اپنے اور حضرت آدم کے درمیان صرف علت مادی سے تقابل کیا اور باقی تین علتوں سے صرف نظر کرلی۔ ثانیاً علت مادی کے اعتبار سے حضرت آدم، ابلیس سے افضل ہیں کیونکہ مٹی آگے سے حسب ذیل وجوہ سے افضل ہے : 

1 ۔ آگ کی طبیعت کا تقاضا چیزوں کو علی الفور جلانا اور ان کو تلف کرنا ہے جبکہ مٹی کسی چیز کو تلف یا ضائع نہیں کرتی۔ 2 ۔ مٹی میں انسانوں اور حیوانوں کا رزق پیدا ہوتا ہے اور کپاس پیدا ہوتی ہے جس سے انسانوں کا لباس حاصل ہوتا ہے جبکہ آگ میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی۔ 3 ۔ مٹی میں اگر ایک دانہ ڈالا جائے تو اس کی برکت سے وہ کم وبیش سات سو گنا زیادہ پیدا ہوتا ہے جبکہ آگ کسی چیز کو بڑھانا تو کجا اصلاً نیست و نابود کردیتی ہے۔ 4 ۔ آگ کو اپنے وجود میں مٹی کی احتیاج ہے۔ کیونکہ آگ زمین کے بغیر نہیں متحقق ہوگی۔ جبکہ زمین کو اپنے وجود میں آگ کی احتیاج نہیں ہے۔ 5 ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کے بہ کثرت منافع اور فوائد کا قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے : ” الم نجعل الارض مہادا : کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا ” (النباء :6) ۔ ” الم نجعل الارض کفاتا۔ احیاء وامواتا۔ وجعلنا فیہا رواسی : کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہ بنایا۔ زندوں اور مردوں کے لیے۔ اور ہم نے اس میں بلند مضبوط پہاڑ پیدا کردیے ” (المرسلات :25 ۔ 27) ۔ ” ھوالذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا : وہی ہے جس نے تمہارے نفع کے لیے زمین کی سب چیزوں کو پیدا کیا ” (البقرہ :29) ۔ اس کے بر خلاف قرآن مجید کی اکثر اور بیشتر آیتوں میں آگ کو عذاب قرار دیا گیا ہے اور اس سے ڈرایا گیا ہے۔

6 ۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین کو برکت قرار دیا ہے : ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین و تجعلون لہ اندادا۔ ذلک رب العالمین۔ وجعل فیہا رواسی من فوقہا وبارک فیہا وقدر فیہا اقواتھا فی اربعۃ ایام۔ سواء للسائلین : آپ کہئے تم بیشک اس کے ساتھ ضرور کفر کتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور تم اس کے لیے شریک بناتے ہو، یہ پروردگار ہے سارے جہانوں کا۔ اور جس نے زمین کے اوپر بھاری پہاڑوں کو گاڑ دیا اور اس میں برکت دی، اور اس میں اس کے باشندوں کے لیے چار دنوں میں غذائیں رکھ دیں، جو طلب کرنے والوں کے لیے برابر ہیں ” (حم السجدہ : 9 ۔ 10) ۔ ” و نجیناہ و لوطا الی الارض التی بارکنا فیہا للعالمین : اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو اس زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لیے برکت فرمائی ہے ” (الانبیاء :71) ۔ ” و لسیمان الریح عاصفۃ تجری بامرہ الی الارض التی بارکنا فیہا : اور سلیمان کے لیے تیز ہوا مسخر کردی جو ان کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی ” (الانبیاء :81) ۔ اس کے برخلاف آگ کی یہی صفت ہے کہ وہ چیزوں کو جلا کر خاکستر کردیتی ہے۔ 

7 ۔ مٹی کے شرف کے لیے یہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اپنا گھر (البیت الحرام) بنایا ہے جس میں ہر وقت طواف کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو سجدے کیے جاتے ہیں، اس کی عبادت کی جاتی ہے اور تسبیح، تہلیل اور تمجید کی جاتی ہے۔ علی ھذا القیاس۔ مسجد نبوی ہے، مسجد اقصی ہے اور بیشمار مساجد ہیں جن میں دن رات اس کی حمد اور عبادت کی جاتی ہے اس کے برخلاف آگ میں ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ 

8 ۔ زمین میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نفع کے لیے، معدنیات، دریا، سمندر، چشمے، پھلوں کے باغات، غلہ سے لدے ہوئے کھیت، سواریوں کے لیے اصناف و اقسام کے جانور اور طرح طرح کے لباس پیدا کیے ہیں اور اس کے مقابلہ میں آگ کے اندر ایسا کوئی نفع نہیں ہے۔ 

9 ۔ آگ کی زیادہ سے زیادہ فضیلت یہ ہے کہ اس کی حیثیت زمین کے خادم کی ہے۔ اول تو آگ کا وجود زمین کے وسیلہ سے ہے۔ آگ یا لکڑیوں کو جلا کر حاصل ہوتی ہے یا گوبر کو جلا کر۔ یا قدرتی گیس سے اور تیل سے حاصل ہوتی ہے اور ان تمام چیزوں کا حصول زمین سے ہوتا ہے۔ ثانیاً آگ سے کھانا پکایا جاتا ہے یا حرارت حاصل کی جاتی ہے اور کھانے کے اجزاء ترکیبی بھی زمین سے حاصل ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ مٹی اصل اور مخدوم ہے اور آگ فرع اور خادم ہے اور اس کو مٹی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ 

10 ۔ ابلیس لعین کا مادہ خلقت (مارج من نار) بھڑکنے والی آگ ہے اور بھڑکنے والی آگ اور شعلے فی نفسہ ضعیف ہیں۔ ہوا ان کو ادھر سے ادھر لے جاتی ہے اور ان کا بھڑکنا ہوا کے تابع ہے۔ اور مٹی فی نفسہ قوی ہے۔ ہوا اس کو اپنے زور سے ادھر ادھر نہیں لے جاسکتی بلکہ مٹی کی دیواریں اور پہاڑ ہوا کے لیے سد راہ بن جاتے ہیں قوی، ضعیف سے افضل ہوتا ہے اس لیے مٹی آگ سے افضل ہے۔ ثانیاً ابلیس لعین کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی اور پانی کو گوندھ کر دونوں سے بنایا گیا تھا اور پانی بھی آگ سے افضل ہے کیونکہ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ نیز پانی کے افضل ہونے کے لیے یہ آیت کافی ہے : ” وجعلنا من الماء کل شیء حی : اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا ” (الانبیاء :30) ۔۔ الغرض حضرت آدم (علیہ السلام) کا مادہ خلقت مٹی اور پانی ہے اور یہ دونوں آگ سے افضل ہیں۔ اس لیے ابلیس لعین کا یہ کہنا غلط تھا کہ ” میں آدم سے بہتر ہوں “۔

حضرت آدم کا چاروں علتوں کی وجہ سے ابلیس سے افضل ہونا : علت مادی کے بعد دوسری فضیلت کی وجہ علت صوری ہے اور علت صوری کے اعتبار سے بھی حضرت آدم (علیہ السلام) افضل ہیں : ” لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم : بیشک ہم نے انسان کو سب سے حسین تقویم (ساخت) میں بنایا ” (التین :4)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ الحدیث۔ (صحیح البخاری، ج 7، رقم الحدیث :6237 ۔ صحیح مسلم بر 115 (2612) 6532 ۔ مسند احمد، ج 2، ص 244، 251، 315، طبع قدیم) 

علت صوری کے بعد تیسری فضیلت کی وجہ علت فاعلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کو حرف کن سے پیدا فرمایا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو خاص اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا : ” قال یا ابلیس ما منعک ان تسجد لما خلقت بیدی : فرمایا : اے ابلیس ! تجھے اس کے لیے سجدہ کرنے سے کس نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ؟ ” (ص :38) ۔ ” اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشرا من طین۔ فاذا سویتہ و نفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین : جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا بیشک میں مٹی سے بشر بنانے والا ہوں۔ تو جب میں اسے درست کرلوں اور اس میں اپنی طرف کی (خاص) روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گرجانا ” (ص :71 ۔ 72)

فضیلت کی چوتھی وجہ علت غائی ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی غایت تخلیق اللہ تعالیٰ کی نیابت اور زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت ہے۔ فرمایا : ” واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ : اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا بیشک میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں ” (البقرہ :30) ۔

اور اس سے بڑھ کر کسی مخلوق کی اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ کا نائب اور اس کا خلیفہ ہو۔ اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) علت مادی، صوری، فاعلی اور غائی ہر اعتبار سے ابلیس لعین سے افضل ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا تو ابلیس پر لازم اور واجب تھا کہ وہ آپ کو سجدہ کرے لیکن اس نے اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے مقابلہ میں فاسد قیاس کیا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اور افضل کا مفعول کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ بعض علماء ظاہر نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ مطلقاً قیاس اور اجتہاد کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے ہم یہاں پر قیاس اور اجتہاد کی تحقیق کررہے ہیں۔ 

ابلیس کے باطل قیاس کی بنا پر منکرین قیاس کے دلائل اور ان کا تجزیہ : امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 311 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : ابن سیرین نے کہا سب سے پہلے ابلیس نے قیاس کیا تھا اور سورج اور چاند کی پرستش صرف قیاس کی وجہ سے کی گئی ہے۔ حسن بصری نے کہا سب سے پہلے جس نے قیاس کیا تھا، وہ ابلیس ہے۔ (جامع البیان، جز 8، ص 173، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ۔ سنن دارمی ج 1، رقم الحدیث 191، طبع بیروت، 1407 ھ) ۔ 

حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصبہانی متوفی 430 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : ” عمرو بن جمیع بیان کرتے ہیں کہ میں، ابن ابی لیلی اور (امام ابوحنیفہ، حضرت جعفر بن محمد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبداللہ بن شبرمہ نے کہا میں اور (امام) ابو حنیفہ، حضرت جعفر بن محمد کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت جعفر بن محمد نے ابن ابی لیلی سے پوچھا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا یہ وہ شخص ہے جس کو امور دین میں بہت مہارت اور بصیرت حاصل ہے۔ حضرت جعفر نے کہا : شاید یہ دین کے معاملات میں اپنی رائے سے قیاس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا نعمان ! (الی قولہ) حضرت جعفر نے امام ابوحنیفہ سے کہا۔ اے نعمان ! مجھے میرے والد نے میرے دادا سے یہ حدیث روایت کی ہے رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے سب سے پہلے دین کے معاملہ میں اپنی رائے سے قیاس کیا، وہ ابلیس تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : (حضرت) آدم کو سجدہ کرو اس نے کہا : میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے، سو جس نے دین میں اپنی رائے سے قیاس کیا، اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ابلیس کے ساتھ اکٹھا کرے گا۔ ابن شبرمہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے، پھر حضرت جعفر نے ان سے پوچھا : قتل نفس اور زنا میں کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے ؟ امام ابوحنیفہ نے کہا : قتل نفس۔ حضرت جعفر نے کہا : اللہ تعالیٰ نے قتل نفس کے لیے صرف دو گواہ کافی قرار دیے۔ پھر زنا کے ثبوت کے لیے چار مردوں کی گواہی کیوں ضروری ہے ؟ پھر پوچھا : نماز اور روزے میں کون سا فرض زیادہ اہم ہے ؟ امام ابوحنیفہ نے کہا نماز ! حضرت جعفر نے کہا : پھر کیا وجہ ہے کہ حائض عورت صرف روزے کی قضا کرتی ہے اور نماز کی قضا کا حکم نہیں ہے ؟ پھر کہا : تمہارے قیاس کرنے پر افسوس ہے ! اللہ سے ڈرو اور دین میں اپنی رائے سے قیاس نہ کرو ” (حلیۃ الاولیاء، ج 3، ص 196 ۔ 197، دار الکتاب العربی، بیروت، 1407 ھ، ایضاً ج 3، رقم الحدیث : 3797، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1418 ھ)

حضرت جعفر بن محمد نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو حدیث روایت کی ہے، اس کے متعلق قاضی محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی 1250 ھ اور نواب صدیق حسن خان بھوپالی متوفی 1307 ھ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند میں غور کرنا چاہیے۔ میرا گمان یہ ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نہیں ہے اور یہ حدیث کلام نبوت کے مشابہ نہیں ہے ” (فتح القدیر، ج 2، ص 193، مطبوعہ عالم الکتب، بیروت۔ فتح البیان، ج 3، ص 262، مطبوعہ المطبعہ الکبری بولاق، مصر، 1301 ھ)

اس حدیث کی سند میں ایک راوی ہے۔ سعید بن عنبسہ۔ اس کے متعلق حافظ شمس الدین محمد بن احمد ذہبی متوفی 748 ھ لکھتے ہیں : یحییٰ نے کہا : یہ کذاب ہے اور ابوحاتم نے کہا : یہ صادق نہیں۔ اس نام کا ایک دوسرا شخص ہے وہ مجہول ہے۔ اس نام کا ایک تیسرا شخص ہے۔ امام ابن جوزی نے اس پر کوئی طعن نہیں کیا لیکن یہ متعین نہیں ہے کہ اس سند میں کون سا شخص مراد ہے۔ (میزان الاعتدال، ج 3، ص 223، مکتبہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ج 3 ص 1416 ھ) 

اس حدیث کا ایک اور راوی ہے عمرو بن جمیع، اس کے متعلق حافظ ذہبی لکھتے ہیں : ابن معین نے اس کو کذاب قرار دیا۔ امام دار قطنی اور ایک جماعت نے کہا : یہ متروک ہے۔ ابن عدی نے کہا : اس پر حدیث گھرنے کی تہمت ہے۔ امام بخاری نے کہا : یہ منکر الحدیث ہے (میزان الاعتدال، ج 5، ص 304، مطبوعہ دار الکتب العلمہی، بیروت، 1416 ھ)

نظام معتزلی اور بعض اہل الظاہر قیاس کے منکر ہیں اور صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے جمہور علماء قیاس کے قائل ہیں اور قیاس سے جو احکام مستنبط ہوں، ان پر عمل کرنا شرعاً جائز ہے اور عقلاً واقع ہے۔ بعض شوافع اور ابوالحسین بصری کے نزدیک اس پر عمل کرنا عقلاً واجب ہے (الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 155، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

مجوزین قیاس کا احادیث سے استدلال : امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ نے اپنی صحیح میں یہ عنوان قائم کیا ہے : جس شخص نے کسی پیش آمدہ مسئلہ کو ایسی متعارف اصل پر قیاس کیا ہو جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہو تاکہ سوال کرنے والا اس مسئلہ کو سجھ سکے، اور اس عنوان پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور سوال کیا کہ میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی۔ پھر وہ حج کرنے سے پہلے فوت ہوگئی۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : اس کی طرف سے حج کرلو۔ یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم اس کو ادا کرتیں ؟ اس نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : پھر اللہ کا قرض ادا کرو۔ وہ ادا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے (صحیح البخاری، ج 8، رقم الحدیث : 7315، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1412 ھ)

نیز امام بخاری نے ایک باب کا یہ عنوان قائم کیا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق قاضیوں کا اجتہاد کرنا اور یہ کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صاحب حکمت کی تعریف کی ہے جبکہ وہ حکمت سے فیصلے کرے اور حکمت کی تعلیم دے اور ازخود کوئی حکم نہ دے اور خلفاء سے مشورے کرے اور اہل علم سے تبادلہ خیال کرے، اور اس پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صرف دو (قسم کے) آدمیوں پر حسد (رشک) کرنا جائز ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور اس مال کو راہ حق میں خرچ کرنے پر اس کو مسطل کردیا ہو اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت دی ہو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو تعلیم دیتا ہو (صحیح البخاری، ج 8، رقم الحدیث :7316، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1412 ھ)

نیز امام بخاری نے ایک باب کا یہ عنوان قائم کیا : جن احکام کی معرفت دلائل سے ہو پھر دلائل کی یہ تفسیر کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑوں کے احکام بیان فرمائے اور جب آپ سے گدھوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے ان کا حکم اس آیت سے مستنطب کیا فمن یعمل مثقال ذرۃ خیر یرہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گوہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام کرتا ہوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دسترخوان پر گوہ کھائی گئی ہے۔ اس سے حضرت ابن عباس (رض) نے یہ استدلال کیا ہے کہ گوہ حرام نہیں ہے اور اس عنوان کے تحت یہ حدیث سند کے ساتھ بیان کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھوڑے تین قسم کے ہیں۔ گھوڑا کسی کے لیے باعث اجر ہوتا ہے اور کسی کی پردہ پوشی کا سبب ہوتا ہے اور کسی کے حق میں گناہوں کا بوجھ ہوتا ہے۔ وہ شخص جس کے لیے اس کا گھوڑا باعث اجر ہے، یہ وہ شخص ہے جس نے گھوڑے کو اللہ کے راستہ میں باندھ دیا۔ وہ چراگاہ یا باغ میں اس کی رسی دراز کردیتا ہے۔ وہ اس چراگاہ یا باغ سے جو کچھ کھاتا ہے، وہ اس کی نیکیاں ہیں اور اگر وہ اس کی رسی کاٹ دے اور وہ کسی ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر جائے تو اس کے چلنے اور اس کی لید کے بدلہ میں اس کی نیکیاں ہیں اور اگر وہ کسی دریا سے پانی پئے خواہ اس کا قصد پانی پلانے کا نہ ہو پھر بھی اس کی نیکیاں ہیں اور اس گھوڑے میں اس شخص کے لیے اجر ہے۔ اور ایک شخص نے گھوڑے کو اس لیے رکھا کہ وہ اپنی ضروریات میں دوسروں سے مستغنی رہے اور ان سے سوال کرنے سے بچا رہے اور اس پر کسی کو سوار کرنے میں یا اس پر کس کا بوجھ لادنے میں اللہ کے حق کو فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کا سبب ہے۔ اور ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے گھوڑے کو فخر کرنے اور ریاکاری کے لیے رکھا تو یہ اس کے اوپر گناہ ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گدھوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : مجھ پر ان کے متعلق کوئی خصوصی حکم نازل نہیں ہوا مگر یہ آیت جو تمام احکام کو جامع ہے : فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ : جس نے ایک ذرہ کے برابر نیکی کی وہ اس کی جزا پائے گا اور جس نے ایک ذرہ کے برابر برائی کی وہ اس کی سزا پائے گا (الزلزال :7 ۔ 8) (صحیح البخاری، ج 8، رقم الحدیث : 3756 ۔ صحیح مسلم، الزکوۃ :24 (987) 2254 ۔ سنن النسائی، ج 6، رقم الحدیث : 3563) ۔ اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مخصوص اور جزی حکم پر ایک عام اور کلی حکم سے استدلال کیا ہے اور اس حدیث میں پیش آمدہ مسائل اور جزئیات پر شرعی کلیات سے استدلال کرنے کی دلیل ہے۔

مجوزین قیاس کا آثار صحابہ اور اقوال علماء سے استدلال : علامہ ابوجعفر محمد بن جریر طبری نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے مسائل کا استنباط کرنا اور اجتہاد کرنا، اور امت کا اجماع برحق اور واجب ہے، اور اہل علم کے لیے لازماً فرض ہے۔ اس کے ثبوت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث اور صحابہ اور تابعین کی روایات موجود ہیں۔ ابو تمام مالکی نے کہا : کہ قیاس کے جواز پر امت کا اجماع ہے، یہی وجہ ہے کہ ائمہ اربعہ نے رباالفضل میں چھ چیزوں (سونا، چاندی، گندم، جو، نمک اور کھجور) پر دوسری چیزوں کو قیاس کیا ہے اور ان میں بھی زیادتی کے ساتھ بیع کو حرام قرار دیا ہے اور جب حضرت ابوبکر (رض) نے بیعت لینے سے انکار کیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے دین میں آپ پر راضی ہوگئے تو ہم اپنی دنیا میں آپ پر کیوں راضی نہیں ہوں گے۔ حضرت علی (رض) نے امام کو نماز پر قیاس کیا، اور حضرت ابوبکر (رض) نے زکوۃ کو نماز پر قیاس کیا اور کہا : بہ خدا اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوۃ کو جمع کیا ہے میں ان میں تفریق نہیں کروں گا، اور حضرت علی (رض) نے صحابہ کرام کے سامنے شراب کی حد کو حد قذف پر قیاس کیا اور فرمایا : انسان شراب کے نشہ میں ہذیان بکتا ہے اور ہذیان میں لوگوں پر تہمت لگاتا ہے لہذا اس کی حد بھی اسی کوڑے ہوگی، اور پھر اس حد پر تمام صحابہ کا اجماع ہوگیا اور حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسی اشعری سے فرمایا : کہ جن نئے مسائل میں تم کو تشوش ہو اور کتاب اور سنت میں ان کی تصریح نہ ہو تو ان کے متعلق تم قیاس سے کام لو اور جو چیز حق کے مشابہ ہو اس پر عمل کرو۔ اس حدیث کو امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ (سنن دارقطنی، ج 4، رقم الحدیث : 4452، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1417 ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) شام کے علاقہ میں گئے۔ حتی کہ جب وہ مقام سرغ میں پہنچے تو ان سے لشکر کے امراء نے ملاقات کی، جن میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور ان کے اصحاب بھی تھے۔ انہوں نے یہ خبر دی کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے۔ اب ان کا اس میں اختلاف ہوا کہ وہ شام میں داخل ہوں یا نہ ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا : ہم ایک کام کے لیے آئے ہیں اور اس کام کو کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے اور بعض نے یہ کہا : کہ آپ کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ آپ ان کو وبا میں جھونک دیں۔ حضرت عمر نے ان لوگوں کو مجلس سے اٹھا دیا اور انصار کو بلایا انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح مشورہ دیا اور ان میں بھی اسی طرح اختلاف ہوا۔ پھر آپ نے ان کو بھی اٹھا دیا اور قریش کے عمر رسیدہ لوگوں کو بلایا۔ انہوں نے بالاتفاق یہ کہا کہ لوگوں کو اس بلا میں نہ ڈالیں اور واپس چلیں۔ پھر حضرت عمر نے اعلان کردیا کہ ہم صبح یہاں سے روانہ ہوجائیں گے۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے کہا : کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں ! حضرت عمر نے فرمایا : اے ابوعبیدہ ! کاش تمہارے علاوہ کوئی اور شخص یہ بات کہتا ! ہم اللہ کی ایک تقدیر سے اللہ کی دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ بتاؤ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں او تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں، ایک سرسبز ہو اور ایک بنجر ہو۔ اگر تم سرسبز کنارے کی طرف جاؤ پھر بھی اللہ کی تقدیر کی طرف جاؤ گے اور اگر بنجر کنارے کی طرف جاؤ پھر بھی اللہ کی تقدیر کی طرف جاؤ گے۔ اس وقت حضرت عبدالرحمن بن عوف آگئے جو کسی کام سے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا : اس کے متعلق میرے پاس ایک حدیث ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرایا : جب تمہیں کسی علاقہ میں بلا کا علم ہو تو وہاں نہ جاؤ۔ اور جب تم کسی علاقہ میں ہو اور وہاں وبا آجائے تو وہاں سے نہ نکلو۔ پھر حضرت عمر نے اللہ کی حمد کی اور وہاں سے واپس لوٹ گئے۔ (صحیح البخاری، ج 7 رقم الحدیث 5729، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1412 ھ) 

اس مضمون کی احادیث آثار اور اقوال ائمہ بہ کثرت ہیں اور ان میں یہ دلیل ہے کہ قیاس دین کی ایک اصل اصی ہے۔ مجتہدین اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور علماء اس سے استدلال کرتے ہیں اور احکام کا استنباط کرتے ہیں۔ اس پر ہر دور کے علماء کا اجماع رہا ہے اور چند شاذ لوگوں کی مخالفت سے اس اجماع پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 

جو قیاس ممنوع اور مذموم ہے یہ وہ قیاس ہے جس کی اصل کتاب اور سنت میں موجود نہ ہو اور جو نصوص صریحہ سے متصادم ہو جیسے ابلیس کا قیاس تھا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے مقابلہ میں قیاس کیا۔ حالانکہ قیاس اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی مسئلہ میں صریح حکم نہ ہو۔ قرآن میں نہ حدیث میں۔ مخالفین قیاس نے اپنے موقف کی تائید میں جو روایات ضعیفہ اور اقوال رکیکہ پیش کیے ہیں برتقدیر ثبوت انکا محمل اس قسم کا قیاس ممنوع اور مذموم ہے جس کی اصل کتاب، سنت اور اجماع امت میں موجود نہ ہو (الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 155 ۔ 156، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : قیاس کرنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” فاعتبروا یا اولی الابصار : اے آنکھیں رکھنے والو ! عبرت حاصل کرو ” (الحشر :2) ۔ اس آیت میں قیاس کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والے تھے اور قیاس کی شرائط پر سب سے زیادہ مطلع تھے اور اس آیت میں آپ کو بھی قیاس کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آپ بھی قیاس کرتے تھے (المحصول، ج 4، ص 1364 ۔ 1356، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی، ریاض، 1417 ھ)

اور ہم اس سے پہلے اس بحث میں صحیح بخاری کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیاس کرنے کے ثبوت میں حدیث پیش کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 12