أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسًا يُّوَارِىۡ سَوۡاٰتِكُمۡ وَرِيۡشًا‌ ؕ وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ۙ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ‌ ؕ ذٰ لِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے اولادِ آدم ! بیشک ہم نے تم پر ایسا لباس نازل کیا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور وہ تمہاری زینت (بھی) ہے اور تقوی کا لباس، وہی سب سے بہتر لباس ہے، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اے اولادِ آدم ! بیشک ہم نے تم پر ایسا لباس نازل کیا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور وہ تمہاری زینت (بھی) ہے اور تقوی کا لباس، وہی سب سے بہتر لباس ہے، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں “

مشکل اور اہم الفاظ کے معانی : 

لباس : یہ لبس سے بنا ہے۔ لبس کا اصل معنی ہے کسی شئے کو چھپا لینا۔ ہر وہ چیز جو انسان کی قبیح چیز کو چھپالے، اس کو لباس کہتے ہیں۔ شوہر اپنی بیوی اور بیوی اپنے شوہر کو قبیح چیزوں سے چھپا لیتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی عفت کی حفاظت کرتے ہیں اور خلاف عفت چیزوں سے ایک دوسرے کے لیے مانع ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں ایک دوسرے کا لباس فرمایا ہے۔ ” ھن لباس لکم وانتم لباس لھن : وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو ” (البقرہ :187) ۔ لباس سے انسان کی زینت ہوتی ہے۔ اسی اعتبار سے فرمایا ہے لباس التقوی۔ تقوی کا معنی ہے برے عقائد اور برے اعمال کو ترک کرنا اور پاکیزہ سیرت کو اپنانا۔ جس طرح کپڑوں کا لباس انسان کو سردی، گرمی اور برسات کے موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے، اسی طرح تقوی کا لباس انسان کو اخروی عذاب سے محفوظ رکھتا ہے۔ (المفردات، ج 2، ص 576، مع توضیح، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

ریش : ریش پرندہ کے پر کو کہتے ہیں اور چونکہ پر، پرندے کے لیے ایسے ہیں جیسے انسان کے لیے لباس، اس لیے انسان کے لباس کو بھی ریش کہتے ہیں اور ریش سے زینت اور خوبصورتی کا معنی بھی مراد ہوتا ہے۔ (المفردات، ج 1، ص 271، مطبوعہ مکہ مکرمہ) 

لایفتننکم : کہیں تم کو فتنہ میں نہ ڈال دے۔ فتنہ کا معنی ہے ابتلا اور امتحان۔ جس طرح ابلیس نے حضرت آدم اور حوا کو شجر ممنوع کی طرف مائل کرکے اس کو کھانے یا نہ کھانے کی آزمائش میں ڈال دیا تھا، اسی طرح وہ تم کو بھی ممنوع کاموں کی طرف راغب کرکے آزمائش میں نہ ڈال دے۔

آیات سابقہ سے مناسب : حضرت آدم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ جب ان کی شرم گاہ کھل گئی تو وہ اس کو درخت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہاں پر یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لباس اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ اس سے لوگ اپنی شرم گاہوں کو چھپائیں اور اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اور انعام ہے کہ اس نے لباس کے ذریعہ لوگوں کو اپنی ستر پوشی پر قادر فرمایا۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے لباس کو نازل فرمایا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ لباس کے مادی اجزاء مثلاً کپاس وغیرہ کو پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا۔ 

دوسری وجہ مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں حضرت آدم اور حضرت حوا کو زمین پر اترنے کا حکم دیا اور زمین کو ان کے لیے جائے قرار بنایا۔ اب یہ بتایا ہے کہ زمین پر رہنے کے لیے انسان کو جن چیزوں کی ضرورت ہوسکتی ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پیدا فرمائی ہیں اور ان چیزوں میں سے دین اور دنیا کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لباس ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرے۔ 

لباس کی نعمت پر شکر ادا کرنا : مجاہد اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : قریش بیت اللہ کا برہنہ طواف کرتے تھے اور کوئی شخص طواف کے وقت کپرے نہیں پہنتا تھا۔ ( جامع البیان، جز :8، ص :، 193 مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہلاء عرب کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ شرم گاہ کھلی رکھنا بہت بےشرمی کی بات ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی جب شرم گاہ کھل گئی تو وہ اپنی شرم گاہ کو پتوں سے ڈھانپنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا کہ لباس ناز فرمایا سو اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت علی (رض) نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا آپ نے اس کو پہننے کے بعد کہا : اللہ کے لیے حمد ہے جس نے مجھے ایسا لباس عطا کیا جس سے میں لوگوں میں جمال حاصل کروں اور اس سے اپنی شرم گاہ کو چھپاتا ہوں، پھر کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ (مسند احمد، ص 157، تفسیر ابن ابی حاتم، ج 5، ص 1457، مکتبہ نزار مصطفی، درمنثور، ج 3، ص 435)

مرد اور عورت کی شرم گاہوں کے مصادیق میں مذہب فقہاء : انسان کی شرم گاہ، جس کا چھپانا فرض ہے، اس کے مصداق میں بھی فقہاء کا اختلاف ہے۔ ابن ابی ذئب، داود ظاہری، (غیر مقلدین کے امام) ابن ابی عبلہ اور ابن جریر طبری کا موقف یہ ہے کہ مرد اور عورت کے صرف بول و براز (پیشاب، پاخانہ) کی جگہ شرم گاہ ہے اور اس کا چھپانا واجب ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے لباسا یواری سواتکم۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ خیبر میں گئے۔ ہم نے وہاں منہ اندھیرے صبح کی نماز پڑھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے اور میں بھی حضرت ابوطلحہ (رض) غزوہ خیبر میں گئے۔ ہم نے وہاں منہ اندھیرے صبح کی نماز پڑھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے اور میں بھی حضرت ابوطلحہ (رض) کے پیچھے ایک سواری پر سوار ہوا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کی گلیوں میں گھوڑے کو دوڑایا۔ اس وقت میرا گھٹنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران سے مس کر رہا تھا، پھر آپ نے اپنی ران سے چادر ہٹائی حتی کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران کی سفیدی کی طرف دیکھتا رہا۔ (الحدیث) (صحیح بخاری، ج 1، رقم الحدیث :371، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1412 ھ)

اس حدیث سے ان علماء نے یہ ثابت کیا ہے کہ ران شرم گاہ نہیں ہے۔ امام مالک نے کہا ہے کہ ناف شرم گاہ نہیں ہے اور کوئی شخص اپنی بیوی کے سامنے اپنی ران کو عریاں کرے تو میں اس کو مکروہ قرار دیتا ہوں۔ امام شافعی نے کہا صحیح یہ ہے کہ ناف اور گھٹنے شرم گاہ نہیں ہیں۔ 

ناف کے شرم گاہ نہ ہونے پر دلیل یہ حدیث ہے : امام احمد بن حنبل متوفی 241 ح روایت کرتے ہیں : عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی (رض) کے ساتھ تھا۔ ہماری حضرت ابوہریرہ (رض) سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے حضرت حسن سے کہا : مجھے اپنی قمیص اٹھا کر دکھاؤ، میں تمہیں اس جگہ بوسہ دوں گا جہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ نے حضرت حسن (رض) کی ناف پر بوسہ دیا۔ (مسند احمد، ج 4، ص 255، 493، دار الفکر، طبع قدیم، شیخ احمد شاکر، متوفی 1376 ھ نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، مسند احمد، ج 7، رقم الحدیث :7455، دار الحدیث قاہرہ، امام طبرانی کی روایت میں ہے حضرت حسن نے پیٹ کھولا اور ناف پر ہاتھ رکھا۔ حافظ الیہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، مجمع الزوائد، ج 9، ص 177، المستدرک، ج 3، ص 168)

اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اگر ناف شرم گاہ ہوتی اور اس کا چھپانا واجب ہوتا تو حضرت حسن (رض) ، حضرت ابوہریرہ کو اپنی ناف دکھاتے نہ حضرت ابوہریرہ ان کی ناف کو بوسہ ان کی ناف کو بوسہ دیتے۔ 

امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک مرد کی ناف سے لے کر گھٹنے تک پورا جسم شرم گاہ ہے اور واجب الستر ہے۔ ناف شرم گاہ نہیں ہے اور گھٹنا شرم گاہ ہے۔ امام ابوحنفیہ کی دلیل حسب ذیل احادیث ہیں :

امام دار قطنی متوفی 385 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوایوب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گھٹنوں کے اوپر کا حصہ شرم گاہ ہے اور ناف کا نچلا حصہ شرم گاہ ہے۔ (سنن دار قطنی، ج 1، رقم الحدیث : 879، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1417 ھ، سنن کبری للبیہقی، ج 2، ص 292)

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھٹنا شرم گاہ ہے (سنن دار قطنی، ج 1، رقم الحدیث : 878، بیروت، 1417 ھ)

اس سے پہلے صحیح بخاری کے حوالہ سے گزر چکا ہے کہ غزوہ خیبر میں گھوڑا دوڑاتے ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ران پر سے کپڑا ہٹایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ غیر ارادی طور پر آپ کا ہاتھ لگ گیا ہو اور حضرت انس نے اس سے یہ سمجھا کہ آپ نے دانستہ ران سے کپڑا ہٹایا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ امام بخاری فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس، جرھد اور محمد بن جحش (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ ران شرم گاہ ہے اور حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ران سے کپڑا ہٹایا۔ حضرت انس کی حدیث سند کے لحاظ سے راجح ہے اور حضرت جرھد کی حدیث احتیاط کے لحاظ سے راجح ہے۔ اور حضرت جرھد کی حدیث احتیاط کے لحاظ سے راجح ہے۔ (صحیح بخاری، ج 1، باب 12، مایذکر فی الفخذ)

اور عورت کا پورا جسم شرم گاہ ہے اور واجب الستر ہے ماسوا اس کے چہرے اور ہاتھوں کے۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت (مکمل) واجب الستر ہے۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانک کر دیکھتا ہے۔ (سنن ترمذی، ج 2، رقم الحدیث : 1178 ۔ مجمع الزوائد، ج 2، ص 35، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1414 ھ)

زید بن قنفذ کی والدہ نے حضرت ام الموممنین ام سلمہ (رض) سے پوچھا عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے ؟ آپ نے فرمایا : دوپٹہ میں اور اتنی لمبی قمیص میں جو اس کے پیروں کی پشت کو چھپالے۔ (سنن ابو داود، ج 1، رقم الحدیث : 639، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1414 ھ)

امام ابو داود نے قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب لڑکی بالغہ ہوجائے تو اس کے چہرے اور پہنچوں تک ہاتھوں کے سوا کسی عضو کو دیکھنا جائز نہیں ہے۔ (نصب الرایہ، ج 1 ص 299، حیدر آباد دکن، فتح القدیر، ج 1، ص 266، در الفکر، بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 26