قاصد سے کہہ رہے تھے سُنا ماجرا سُنا
قاصد سے کہہ رہے تھے سُنا ماجرا سُنا
کلام” استاذ زمن شہنشاہ سخن علامہ حسن رضا بریلوی
❤️
قاصد سے کہہ رہے تھے سُنا ماجرا سُنا
ہم سے توکہیے حضرتِ دل تم نے کیا سنا
❤️
کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سنا
سنتا ہوں آج تم نے مرا ماجرا سنا
❤️
تم کیا سنو گے اور کہے تم سے کوئی کیا
اس دل سے پوچھو جس نے مرا ماجرا سنا
❤️
مرنے کا میرے رنج نہیں ان کو ضد یہ ہے
روئے مجھے نہ بخشے جو میرا کہا سنا
❤️
ایسے سے دل کا حال کہیں بھی تو کیا کہیں
جو بے کہے کہے کہ چلو بس سنا سنا
❤️
وصل عدو کا حال سنانے سے فائدہ
للہ رحم کیجیے بس بس سنا سنا
❤️
قاصد ترے سکوت سے دل بے قرار ہے
کیا اُس جفا شعار نے تجھ سے کہا سنا
❤️
آخر یہ آج کیا ہے کہ صبح شبِ وصال
قتم ہم سے بخشواتے ہو اپنا کہا سنا
❤️
تم نے ہمیں عتاب میں جو کچھ کہا کہا
ہم نے ہجومِ شوق میں جو کچھ سنا سنا
❤️
کانوں میں باتیں غیرسے پھر مجھ سے یوں سوال
کیوں جی تمہیں ہماری قسم تم نے کیا سنا
❤️
آخر حسنؔ وہ روٹھ گئے اُٹھ کے چل دیے
کم بخت اور حالِ دلِ مبتلا سنا
❤️❤️❤️