کسی شب بغل میں وہ دل بر نہ ہو گا
sulemansubhani نے Saturday، 11 January 2020 کو شائع کیا.
کسی شب بغل میں وہ دل بر نہ ہو گا
کلام : استاد زمن علامہ حسن رضا بریلوی
❤️
کسی شب بغل میں وہ دل بر نہ ہو گا
کوئی دن خوشی کا میسر نہ ہو گا
❤️
تیرے در پہ جب تک مرا سر نہ ہو گا
مجھے تاجِ عزت میسر نہ ہو گا
❤️
اگر بات کھونی ہو تو غم سناؤں
مجھے ہے یقیں اُن کو باور نہ ہو گا
❤️
بنیں اپنے منہ آپ وعدہ کے سچے
ہوا ہے یہ اے بندہ پرور نہ ہو گا
❤️
ستایا ہے عالم کو محشر میں ظالم
ترا نام کس کس کے لب پر نہ ہو گا
❤️
وہ اِقرار اپنا نہ پورا کریں گے
مرا وعدہ جب تک برابر نہ ہو گا
❤️
ترے نازِ بے جا پھر اٹھیں گے کس سے
مرے حق میں مرنا بھی بہتر نہ ہو گا
❤️
یہ اُمید بھی ٹوٹ جائے گی اے دل
اگر تیرے نالوں سے محشر نہ ہو گا
❤️
مزے سے وہ لیں چٹکیاں دل کے اندر
مرا دل کبھی اُن سے باہر نہ ہو گا
❤️
رگِ دل میں جس کی خلش ہو رہی ہے
کسی کی نظر ہو گی نشتر نہ گا
❤️
گڑیں گے ترے در پہ ہم مرنے والے
کسی تکیے میں اپنا بستر نہ ہو گا
❤️
مسیحا ہو بیمارِ غم ہی کے دم تک
نہ اچھا کرو گے تو بہتر نہ ہو گا
❤️
وہاں وعدۂ دید محشر پہ ٹھہرا
تو اب میرے نالوں سے محشر نہ ہو گا
❤️
غضب ہے یہ کہتے ہیں وہ دل دُکھا کر
اگر کچھ بھی اُف کی تو بہتر نہ ہو گا
❤️
خودی سے جدا ہو کہ وصلِ خدا ہو
نہ ہو کر جو ہو گا وہ ہو کر نہ ہو گا
❤️
نہیں کھیل کچھ سخت جانی حسنؔ کی
اگر سر نہ ہو گا تو خنجر نہ ہو گا
❤️