أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِنۡدَ الۡبَيۡتِ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصۡدِيَةً‌  ؕ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیت اللہ کے نزدیک ان کی نماز اس کے سوا کیا تھی کہ یہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے، سو اب عذاب کو چکھو کیوں کہ تم کفر کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور بیت اللہ کے نزدیک ان کی نماز اس کے سوا کیا تھی کہ یہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے، سو اب عذاب کو چکھو کیوں کہ تم کفر کرتے تھے “

مشکل اور اہم الفاظ کے معانی 

علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں پرندہ جو سیٹی بجانے کی آواز نکالتا ہے اس کو مکاء کہتے ہیں۔ اس میں اس پر متنبہ کرنا ہے کہ ان کا سیٹی بجانا قلت غناء میں پرندوں کی سیٹیوں کے قائم مقام ہے۔ (المفردات، ج 2، ص 610، مطبوعہ مکہ مکرمہ) صدی کا معنی ہے گونج دار آواز جو مثلاً کسی پہاڑ یا گنبد سے ٹکرا کر آتی ہے۔ (المفردات، ج 2، ص 366، مطبوعہ مکہ مکرمہ) 

علمہ محمود بن عمرو زمخشری متوفی 528 ھ لکھتے ہیں : 

المکاء ایک پرندہ ہے جو بہ کثرت سیٹیاں بجاتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو مکاء کہتے ہیں اور تصدیہ کا معنی ہے تالی بجانا۔ (الکشاف، ج 2، ص 218، مطبوعہ ایران)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا قریش بیت اللہ میں برہنہ طواف کرتے تھے اور سیٹیاں بجاتے تھے۔ مجاہد نے کہا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طواف کرتے وقت معارضہ کرتے تھے، آپ کے طواف اور آپ کی نماز میں خلل ڈالنے کے لیے سیٹیاں بجاتے تھے، مقاتل نے کہا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام میں نماز پڑھتے تو وہ آپ کے دائیں اور بائیں کھڑے ہو کر سیٹیاں بجاتے تاکہ آپ کی نماز میں التباس اور اشتباہ پیدا کریں۔ پس حضرت ابن عباس (رض) کے قول پر ان کا سیٹیاں اور تالیاں بجانا ان کی عبادت تھی۔ اور مجاہد اور مقاتل کے قول پر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچانے کے لیے ایسا کرتے تھے اور حضرت ابن عباس کا قول زیادہ قریب بہ صحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان افعال کو ان کی نماز قرار دیا ہے۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 481، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

جاہل صوفیاء کے رقص و سرور پر علامہ قرطبی کا تبصرہ 

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں : 

قرآن مجید نے سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کی جو مذمت کی ہے اس میں ان جاہل صوفیاء کا رد ہے جو رقص کرتے ہیں، تالیاں پیٹتے ہیں اور بےہوش ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 359، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

سو اب عذاب کو چکھو کیونکہ تم کفر کرتے تھے۔ اس عذاب سے مراد تلوار کا عذاب ہے جو ان کو جنگ بدر کے دن پہنچا اور یا ان سے یہ قول آخرت میں کہا جائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 35