أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَقُمۡ فِيۡهِ اَبَدًا ‌ؕ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ‌ؕ فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ اس مسجد میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے روز سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو خوب پاکیزہ ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ زیادہ پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ اس مسجد میں بھی کھڑے نہ ہوں، البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے روز سے ہی تقویٰ پ ررکھی گئی ہے، وہ اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں، اس میں ایسے مرد ہیں جو خوب پاکیزہ ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ زیادہ پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (التوبہ : ١٠٨) 

مسجد ضرار میں کھڑے ہونے کی ممانعت

اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کی بنائی ہو مسجد ضرار میں کھڑے ہونے سے منع فرمایا ہے۔ ابن جریج نے کہا ہے کہ منافقین جمعہ کے دن اس مسجد کو بنا کر فارغ ہوگئے تھے، انہوں نے جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو اس مسجد میں نمازیں پڑھیں اور پیر کے دن یہ مسجد گرا دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے کی پہلے یہ وجہ بیان فرمائی تھی کہ یہ مسجد مسلمانوں کو ضرر پہنچانے، کفر کرنے، مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتا تھا اس کی کمین گاہ بنانے کے لیے بنائی گئی ہے اور اس آیت میں دوسری وجہ بیان فرمائی ہے کہ دو مسجدوں میں سے ایک مسجد پہلے روز سے ہی تقویٰ کی بنیاد پر بنائی گئی ہو اور دوسری مسجد میں نماز پڑھنا مسجد تقویٰ میں نماز پڑھنے سے مانع ہو تو اس دوسری مسجد میں نماز پڑھنا بداہتًا ممنوع ہوگا۔ 

اس مسجد کا مصدق جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوسعید (رض) اور تابعین میں سے سعید بن مسیب اور خارجہ بن زید کا موقف یہ ہے کہ لمسجد اسس علی التقوی کا مصداق مسجد نبوی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آپ کی بعض ازواج کے حجرہ میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد پہلے روز سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ آپ نے اپنی مٹھی میں کنکریاں لیں اور ان کو زمین پر مارا، پھر فرمایا : وہ تمہاری یہ مسجد ہے۔ حضرت ابن عباس، ابن بریدہ اور ابن زید کا موقف یہ ہے کہ وہ مسجد قبا ہے۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے کہا ان مختلف روایتوں میں راجح قول یہ ہے کہ مسجد تقویٰ ، مسجد نبوی ہے کیونکہ اس سلسلہ میں احادیث صحیحہ وارد ہیں : حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دو شخصوں کا اس میں اختلاف ہوا کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد روز اول سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی تھی ؟ ایک شخص نے کہا وہ مسجد نبوی ہے، دوسرے شخص نے کہا وہ مسجد قباء ہے، پھر وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گئے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : وہ مسجد میری مسجد ہے۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ٢١٦٤۔ ٢١١٦٥)

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسجد کے متعلق سوال کیا گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی۔ آپ نے فرمایا : وہ میری مسجد ہے۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٨٦٩، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٣٧٣) (جامع البیان جز ١١ ص ٣٩۔ ٣٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرا اور بنو عمرو بن عوف کے ایک شخص کا اس میں اختلاف ہوا کہ جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پ ررکھی گئی تھی وہ کون سی ہے ؟ میں نے کہا وہ مسجد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور بنو عمرو بن عوف کے شخص نے کہا وہ مسجد قبا ہے، پھر دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گئے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : وہ یہ مسجد ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد اور فرمایا : اس میں (مسجد قبا میں) خیر کثیر ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٩٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٣، ٣٠٩٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٦٩٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٦٢٦، ١٦٠٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٣٧٢، مطبوعہ کراچی، مسند احمد ج ٣ ص ٩١، ٢٣، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٩٨٥، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٥٤٤، المستدرک ج ١ ص ٤٨٧، ج ٢ ص ٣٣٤، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤٥٥)

واضح رہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معین فرما دیا ہے کہ جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ میری مسجد ہے یعنی مسجد نبوی، اس سلسلہ میں صرف حضرت ابن عباس (رض) کی منفرد رائے ہے کہ اس سے مراد مسجد قبا ہے اور تابعین میں سے ابن بریدہ، ابن زید اور ضحاک کا بھی یہی موقف ہے، اس کے برخلاف کثیر صحابہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاف تصریح یہ ہے کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے جیسا کہ ہم احادیث صحیحہ سے بیان کرچکے ہیں اور اب ہم مسجد نبوی اور مسجد قبا کے فضائل میں احادیث کا ذکر کریں گے۔ 

مسجد نبوی اور روضہ رسول کی زیارت کے فضائل

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی شخص کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز کا ثواب ہے اور محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کا ثواب ہے اور جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کا ثواب ہے اور اس کا مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے اور اس کا میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے اور اس کا مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٤١٣)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری اس مسجد میں چالیس نمازیں پڑھیں اور ان میں سے کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہو اس کے لیے آگ سے نجات لکھ دی جائے گی اور عذاب سے نجات لکھ دی جائے گی اور نفاق سے برأت لکھ دی جائے گی۔ (مسند احمد ج ٣ ص ١٥٥، شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے، مسند احمد رقم الحدیث : ١٥٢١، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٥٤٤٠، حافظ منذری نے کہا اس حدیث کے راوی صحیح ہیں، الترغیب و الترہیب ج ٢ ص ٢١٥، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں، مجمع الزوائد ج ٤ ص ٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بیت اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر حوض پر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٨٨٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٩١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٩١٦، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٥٢٤٣، الطبقات الکبریٰ ج ١ ص ٢٥٣، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٣٩، کراچی، مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٧٥٠، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ١١١٠، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٥ ص ٢٤٦، التمہید ج ١ ص ٥٧٨)

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے اس منبر کے پائے جنت میں نصب ہیں۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٦٩٥، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٥٢٤٢، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٢٩٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٠٣٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٢٩٦، حلیتہ الاولیاء ج ٧ ص ٢٣٨، مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٠٩، المستدرک ج ٣ ص ٥٣٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٨٠، کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٤٩٥٣)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگی۔ (سنن دار قطنی ج ٢ ص ٢٧٧، رقم الحدیث ٢٦٦٩، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٨٣٠، مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢، تلخیص الحسیر ج ٣ ص ٢۔ ٩، اتحاف السادۃ المنتقین ج ٤ ص ٤١٧، کنز العمال رقم الحدیث : ٤٢٥٨٣، کامل ابن عدی ج ٦ ص ٢٣٥٠)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری وفات کے بعد حج کر کے میری زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٣٤٩٧، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٣٤٠٠، مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢، سنن دار قطنی رقم الحدیث : ٢٦٦٧، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٥ ص ٢٤٦، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ١٢٥٤، کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٢٥٨٢)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے حج کیا اور میری زیارت نہیں کی اس نے مجھ سے بےوفائی کی۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (تلخیص الحسیر ج ٣ ص ٩٠٣، کتاب المجرد حین لا بن حبان ج ٣ ص ٧٣) 

مسجد قبا کے فضائل

حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب اہل قبا نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا کہ ان کے لیے مسجد بنائی جائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو اور اونٹنی پر سوار ہو، حضرت ابوبکر نے اس پر سوار ہو کر اس کو اٹھناا چاہا وہ نہیں اٹھی، پھر وہ آکر بیٹھ گئے، پھر حضرت عمر نے اس پر سوار ہو کر اس کو چلانا چاہا وہ نہیں چلی، وہ بھی واپس آکر بیٹھ گئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اپنے اصحاب سے فرمایا : تم میں سے بعض لوگ کھڑے ہوں اور اس اونٹنی پر سوار ہوں، حضرت علی (رض) نے کھڑے ہو کر اس کی رکاب میں پیر رکھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! اس کی مہار ڈھیلی چھوڑ دو اور اس کے گھومنے کے گرد مسجد بنائو کیونکہ یہ اونٹنی اللہ کے حکم کی مانند ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٠٣٣، مجمع الزوائد رقم الحدیث : ٥٨٩٧)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر ہفتہ کے دن مسجد قبا جاتے تھے۔ خواہ پیدل یا سوار اور حضرت عبداللہ بن عمر بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٩٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٩٩ سنن النسائی رقم الحدیث : ٦٩٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٠٤٠) حضرت اسید بن حضیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد قبا میں نماز پڑھنے کا اجر عمرہ کے برابر ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٤١١) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس (قبا) میں ایسے مرد ہیں جو خوب پاکیزہ ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ زیادہ پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ 

پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کی فضیلت

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت عویم بن ساعدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل قبا سے فرمایا : میں نے اللہ سے سنا کہ وہ تمہاری پاکیزگی حاصل کرنے کی تعریف فرماتا ہے تم کسی طرح پاکیزگی حاصل کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمیں اور کسی چیز کا پتا نہیں لیکن ہم نے دیکھا کہ ہمارے پڑوسی براز سے فارغ ہونے کے بعد اپنی سرینوں کو پانی سے دھوتے ہیں، پس ہم بھی اس طرح دھوتے ہیں جس طرح وہ دھوتے ہیں۔ (جامع البیان جز ١١ ص ٤١، مسند احمد رقم الحدیث : ١٥٤٨٥، المستدرک ج ١ ص ١٥٥)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ آیت : (التوبہ : ١٠٨) اہل قبا کے متعلق نازل ہوئی ہے، وہ پانی کے ساتھ استنجاء کرتے تھے، تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٠٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٧، سنن کبریٰ للبیہی ج ١ ص ١٠٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 108