مرزا جہلمی کی زبان ، بزرگانِ دین پر دن بہ دن دراز ہوتی جارہی ہے
sulemansubhani نے Tuesday، 7 April 2020 کو شائع کیا.
مرزا جہلمی کی زبان ، بزرگانِ دین پر دن بہ دن دراز ہوتی جارہی ہے ۔
ایک ویڈیو کلپ میں یہ خواجہ فرید الدین گنج شکر اور حضور داتا صاحب رحمہما اللہ کا نام لے کر کَہ رہا تھا:
ان بابوں کی کون سی دینی خدمات ہیں ؟
انھوں نے نہ قرآن کا ترجمہ کیا ، نہ بخاری شریف کا ۔
یہفارسی زبان جانتے تھے ، انھیں چاہیے تھا فارسی میں قران کا ترجمہ ہی کردیتے ۔
یعنی اس ” پھکی شاہ ” کے نزدیک ، دینی خدمات صرف قرآنِ پاک اور بخاری شریف کے ترجمے کا نام ہے……………….
اگر صِرف یہی چیزیں دینی خدمات ہیں ، تو پھر صحابی رسول سیدنا سلمان فارسی رضیاللہ عنہ بھی زندگی بھر ان خدمات سے محروم رہے ۔
اتنے طویل العمر ہونے کے باوجود ، اِنھوں نے فارسی میں قران پاک کا نہ ترجمہ کیا ، نہ تفسیر لکھی ۔
رہ گئی بخاری شریف ………… ، تو اس کی تصنیف کا بھی کسی ایک صحابی کے ذہن میں خیال تک نہیں آیاہوگا ، ترجمہ ، تشریح تو بہت………………. دورکی بات ہے !!
یہشخص خود کو علمی اور کتابی کہتاہے ، لیکن علما کے سامنے بیٹھ کر بات کرنے سے بھی ہچکچاتا ہے ۔
یہ کیسا علمی ہے ؟؟ !!
جاہلوں کے سامنے بیٹھ کرعلمی بننا بہت آسان ہے ، یوں تو اندھوں میں ” کانا ” راجا بھی بن جاتا ہے ؛ لیکن علما کے سامنے بیٹھ کر خود کو علمی ثابت کرنا قدرے مشکل ہے ۔
مسلمانوں کے مُسلمہ بزرگوں ( صحابہ و اولیا ) کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرنے والے اس مرزے پر مقدمہ دائر ہونا چاہیے ، اور اِسے اس بات پر مجبور کیا جانا چاہیے کہ یہ علماے اہلسنت کے سامنے بیٹھ کر بات کرے ، تاکہ دودھ کادودھ ، پانی کا پانی ہو ۔
✍️لقمان شاہد
7-4-20 ء
ٹیگز:-
لقمان شاہد