أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ مَّوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوۡرِۙ وَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم نصیحت آگئی اور دلوں کی بیماریوں کی شفا آگئی اور وہ مومنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم نصیحت آگئی اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء آگئی اور وہ مومنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے آپ کہئے (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، سو اس کی وجہ سے مسلمان خوشی منائیں یہ اس (مال) سے کہیں بہتر ہے جس کو وہ (کفار) جمع کرتے ہیں (یونس : ٥٨۔ ٥٧ )

روحانی بیماریوں کے علاج کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا

اس سے پہلے یونس : ٣٨۔ ٣٧ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی دلیل قرآن مجید ہے، اور اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں چار صفات بیان فرمائی ہیں :

(١) قرآن مجید میں اللہ کی جانب سے نصیحت ہے۔

(٢) قرآن مجید دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے۔

(٣) قرآن مجید ہدایت ہے۔

(٤) قرآن مجید مومنوں کے لیے رحمت ہے۔

اور قرآن جید کی ان چاروں صفات کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منصب نبوت کے ساتھ قوی ربط ہے۔ اس کی تفصیل اور تمہید یہ ہے کہ چٹورا انسان جس طرح زبان کی لذت اور چٹخارے حاصل کرنے کے لیے لذید، چٹ پٹی اور مسالے دار اشیاء اور مرغن اور میٹھی چیزیں بکثرت کھاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور معدہ کے السر کا مریض بن جاتا ہے اور شہوانی لذتوں کے ناجائز حصول کی کثرت کی وجہ سے آتشک، سوزاک اور ایڈزکا مریض بن جاتا ہے پھر جسمانی صحت کے حصول کے لیے اسے کھانے پینے کی ان مرغوب اشیاء اور تکمیل شہوت سے پرہیز کرایا جاتا ہے اور ایسی دوائیں استعمال کرائی جاتی ہیں جن سے اس کی زائل شدہ جسمانی صحت بحال ہو سکے، اسی طرح انسان کی نفسانی اور روحانی بیماریوں کا معاملہ ہے، جب انسان کا اللہ کے نبی سے رابطہ نہ ہو اور وہ صرف اپنی عقل سے اپنے عقائد وضع کرے اور اپنی زندگی گزارنے کے لیے خود ضابطہ حیات مقرر کرے تو اس کے دل و دماغ پر شیطان کا تسلط ہوجاتا ہے اور اس کے عقائد گمراہ کن اور ملحدانہ ہوتے ہیں اور اس کے اعمال کفر، شرک اور زندیقی پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کو حلال اور حرام کی بالکل تمیز نہیں ہوتی، سو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی نفسانی روحانی اور قلبی امراض کے علاج اور اصلاح کے لیے نبی مبعوث فرمایا اور روحانی بیماریوں کے علاج اور ان کی اصلاح کے لیے قرآن مجید آپ پر نازل فرمایا۔

قرآن مجید سے قلبی اور روحانی امراض کے علاج کے چار مدارج

جو ماہر معالج ہو اس کے علاج کے حسب ذیل طریقے ہیں :

(١) وہ مریض کو مضر اور مخرب اشیاء کے استعمال سے منع کرتا ہے جن سے اصل حیات خطرہ میں پڑجاتی ہے، اس طرح قرآن مجید انسان کو شرک اور کفر سے روکتا ہے کیونکہ شرک اور کفر کے ارتکاب سے انسان سرمدی عذاب اور دائمی دوزخ کا مستحق ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید نے جگہ جگہ انسان کو کفر اور شرک سے منع کیا ہے تاکہ انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اخروی عذاب کا مستحق نہ ہوجائے اور اس کے عقائد کی اصلاح کی ہے۔

(٢) مریض کو ایسی دوائیں دی جائیں جن کی وجہ سے اس کے خون میں اعتدال پیدا ہوا اور وہ خرابی دور ہوجائے جس کی وجہ سے مرض پیدا ہوا ہے مثلاً مریض کے جسم میں جگہ جگہ زخم ہیں جو ٹھیک نہی ہو رہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں اس کی شکر کا لیول بڑھا ہوا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ خون میں اس کی شکر کو کنٹرول کیا جائے اور جب شکر اعتدال پر آجائے گی تو زخم ٹھیک ہوجائیں گے، اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) جب لوگوں کو ممنوع کاموں کے ارتکاب سے منع کرتے ہیں تو ان کا ظاہر گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے، پھر وہ ان کو باطن کی طہارت کا حکم دیتے ہیں جس کو تزکیہ نفس کہتے ہیں۔ نماز، روزے، زکوۃ اور حج کو ترک کرنے سے بچنا اور چوری، ڈاکہ، نشہ کرنے، قتل اور زنا سے بچنا، اسی طرح جھوٹ، چغلی اور غیبت سے بچنا ان کاموں سے ظاہر بدن پاک ہوتا ہے اور کینہ، حسد، بخل، حرص اور بغض سے بچنے سے بدن کا باطن اور قلب پاک ہوتا ہے اور جب تک ظاہر پاک نہ ہو باطن صاف نہیں ہوسکتا۔ قرآن مجید میں ایسے احکام بھی ہیں جن سے ظاہر بدن پاک ہوتا ہے اور ایسے احکام بھی ہیں جن سے باطن صاف ہوتا ہے۔ لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولًا من انفسہم یتلواعلیھم ایتہٖ و یزکیہم و یعلمھم الکتب والحکمۃ ج وان کانوامن قبل لفی ضللٍ مبین ( آل عمران : ١٦٤) بیشک اللہ نے مسلمانوں پر احسان فرمایا جب ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج دیا جو ان پر اس کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور انکا تزکیہ (باطن صاف) کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے خذ من اموالھم صدقۃ تطھر ھم وتزکیھم بھا۔ (التوبہ : ١٠٣) ان کے اموال سے زکوۃ لیجئے جس سے ان کو پاک کیجئے اور اس سے ان کا تزکیہ (صفائے باطن) کیجئے۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ عقائد فاسدہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق مذمومہ امراض کے قائم مقام ہیں اور جب یہ چیزیں زائل ہوجاتی ہیں تو قلب کو شفاء حاصل ہوجاتی ہے اور اس کی روح ان تمام آلودگیوں سے پاک ہوجاتی ہے جو اس کو انوار الہیہ کے مطالعہ سے مانع ہوتی ہیں اور ان ہی دو مرتبوں کی طرف قرآن مجید کی ان صفات میں اشارہ ہے : موعظۃ من ربکم و شفاء لما فی الصدور، یہ تمہارے رب کی جانب سے نصیحت ہے اور دل کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔

(٣) جب انسان عقائد فاسدہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق/رذیلہ سے منزہ، پاک اور صاف ہوجاتا ہے تو اس کا دل روشن ہوجاتا ہے اور اس میں انوار الہیہ منعکس ہونے لگتے ہیں اور اس کی روح تجلیات قدسیہ سے فیض یاب ہونے کے قابل ہوجاتی ہے اور اسی مرتبہ کو اس آیت میں ہدایت کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے، اس ہدایت کا پہلا مرتبہ یہ ہے : یایھالنفس المطمئنۃ ارجعیٓ الی ربک (الفجر : ٢٨۔ ٢٧) اور ہدایت کا متوسط مرتبہ یہ ہے : ففر و الی اللہ۔ (الذاریات : ٥٠) سو اللہ کی طرف بھاگو۔ اور آخری مرتبہ یہ ہے : قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون۔ (الانعام : ٩١) آپ کہئے : اللہ پھر ان کو ان کی کج بحثی میں الجھا ہوا چھوڑ دیجئے۔

(٤) اور جب انسان درجات روحانیہ اور معارج ربانیہ کے اس درجہ پر پہنچ جائے کہ اس کے انوار سے دوسرے قلوب بھی روشن ہونے لگیں جس طرح چاند، سورج کے انوار سے مستفیض ہو کر ایک جہاں کو منور کرتا ہے، وہ بھی انوار رسالت سے مستیز ہو کر عام مسلمانوں کے دلوں کو منور کرنے لگے اور اس کے انوار سے بھی دوسرے ناقص مسلمان کامل ہونے لگیں تو یہی وہ مرتبہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن مومنین کے لیے رحمت ہے، اور مومنین کی تخصیص اس لیے فرمائی ہے کہ منبع فیوض تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے اور مسلمانوں کا منتہاء کمال یہ ہے کہ وہ انوار رسالت میں جذب ہوجائے تبھی وہ معارف ربانیہ سے واصل ہوتا ہے، اور کفار تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب نہیں آتے اور آپ سے دور بھاگتے ہیں اور آپ کا انکار کرتے ہیں اور جس کو معرفت محمدی حاصل نہ ہو وہ معارف ربانیہ کا کب اہل ہوسکتا ہے سو یہ مرتبہ مومنین ہی کیساتھ مختص ہے اس لیے فرمایا ورحمۃ للمؤمنین۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص قرآن مجید سے اپنے نفس کے کمالات حاصل کرنا چاہے اس کے لیے چند مراتب ہیں، اس کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ وہ نا مناسب کاموں کو چھوڑ کر اپنے ظاہر کو درست کرے اور اس کی موعظت سے اشارہ فرمایا کیونکہ موعظۃ کا معنی ہے گناہوں سے منع کرنا، اور دوسرا مرتبہ ہے عقائدہ فاسدہ اور صفات ردیہ سے اپنے باطن کو صاف کرنا اور اس کی طرف شفاء لما فی الصدور سے اشارہ فرمایا اور تیسرا مرتبہ نفس کو برحق عقائد اور عمدہ اخلاق سے مزین کرنا اور اس کی طرف ھدی سے اشارہ فرمایا اور چوتھا مرتبہ اللہ کی رحمتوں کے انوار سے قلب کا روشن ہونا اور اس کی طرف ورحمۃ للمؤمنین سے اشارہ فرمایا۔

قرآن مجید سے جسمانی شفاء حاصل کرنے کی تحقیق :

علامہ جلال الدین سیوطی نے اس آیت میں شفاء لما فی الصدور کو عام قرار دیا ہے اور قرآن مجید کو روحانی امراض کے علاوہ جسمانی امراض کے لیے بھی شفاء قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں احادیث اور آثار کو بیان کیا ہے جن کو ہم انشاء اللہ عنقریب نقل کریں گے،

اور علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : اور یہ بات بعید نہیں ہے کہ بعض دل کی بیماریاں، جسمانی بیماریوں کا سبب ہوجاتی ہیں، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ حسد اور کینہ دل کی بیماری ہے اور اس سے بعض جسمانی بیماریاں بھی ہوجاتی ہیں، اور ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی برکت سے جسمانی امراض دور فرما دیتا ہے۔ (روح المعانی ج ٧ ص ٢٠٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : درحقیقت قرآن ہر بیماری کی شفاء ہے خواہ قلبی و روحانی ہو یا بدنی اور جسمانی (الی قولہ) علماء امت نے کچھ روایات و آثار سے اور کچھ اپنے تجربوں سے آیات قرآنی کے خواص و فوائد مستقل کتابوں میں جمع بھی کردیئے ہیں، امام غزالی کی کتاب خواص قرآنی اس کے بیان میں مشہور و معروف ہے، جس کی تلخیص حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی نے اعمال قرآنی کے نام سے فرمائی ہے اور مشاہدات و تجربات اتنے ہیں کہ ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کریم کی مختلف آیتیں مختلف امراض جسمانی کے لیے بھی شفاء کلی ثابت ہوتی ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ نزول قرآن کا اصلی مقصد قلب و روح کی بیماریوں کو ہی دور کرنا ہے اور ضمنی طور پر جسمانی بیماریوں کا بھی بہترین علاج ہے۔ (معارف القرآن ج ٤، ص ٥٤٣، مطبوعہ ادارۃ المعارف القرآن ١٤١٤ ھ)

ہم اس بحث میں پہلے تمیمہ اور تولہ کا معنی بیان کریں گے پھر قرآن مجید سے جسمانی شفاء کے حصول کے متعلق احادیث کا ذکر کریں گے، پھر دم اور تعویزات کی ممانعت کے متعلق بعض آثار کی توجیہ کریں گے، پھر تعویذ لٹکانے کے متعلق حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت مع حوالہ جات کے پیش کریں گے۔ اس کے بعد اس روایت کے صحیح یا حسن ہونے کی تحقیق کریں گے اور اس کے راویوں میں امام محمد بن اسھاق، اور عمرو بن شعیب کی تعدیل پر اعتراضات کا جائزہ لیں گے اور تعویزات لٹکانے کے متعلق فتاوی تابعین کا ذکر کریں گے اور تعویزات کے جواز میں فقہاء احناف اور علماء دیوبند اور علماء غیر مقلدین کی تصریحات پیش کریں گے، اور آخر میں حافظ ابن قیم جوزی کے ذکر کردہ چند تعویذات کو پیش کریں گے۔ 

تمیمہ اور تولہ وغیرہ کے معنی اور ان کا شرعی حکم۔

علامہ مبارک بن محمد المعروف بابن الاثیر الجذری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : ٹمائم کا معنی ہے تعاویذ اور خروز (ڈوری میں پروئی ہوئی سیپیاں اور کوڑیاں) اور ان کے عقد کا معنی ہے ان کو گلے میں لٹکانا۔ (جامع الاصول ج ٤ ص ٧٣٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ محمد طاہر پٹنی متوفی ٩٨٦ ھ لکھتے ہیں : عقد التمائم کا معنی ہے ڈوری میں پروئی ہوئی سیپیوں اور کوڑیوں کو اور تعویذوں کو گلے میں لٹکانا (مجمع بحار الانوار ج ١ ص ٢٧٤، مطبوعہ مکتبہ دارالایمان المدینہ المنورہ، ١٤١٥ ھ)

امام حسین بنن مسعود بغوی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں : تمائم ان سیپیوں یا کوڑیوں کو کہتے ہیں جن کو عرب اپنے بچوں کے گلوں میں لٹکاتے تھے، ان کا اعتقاد تھا کہ اس سے نظر نہیں لگتی، شریعت نے اسکو باطل کردیا۔ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل بن عباس کے گلے سے تمیمۃ کو کاٹ دیا۔ (المستدرک ج ٤ ص ٤١٧)

حضرت عائشہ نے فرمایا : مصیبت نازل ہونے کے بعد جو تعویذ گلے میں لٹکایا جائے وہ تمیمہ نہیں ہے، لیکن تمیمہ وہ ہے جو مصیبت نازل ہونے سے پہلے لٹکایا جائے، تاکہ اس سے اللہ کی تقدیر کو رد کیا جائے۔ (اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تقدیر رد کرنے کا اعتقاد نہ ہو تو مصیبت نازل ہونے سے پہلے بھی تعویز لٹکانا جائز ہے۔ )

عطاء نے کہا جو تعویذ قرآن مجید سے لکھے جائیں ان کو تمائم میں سے شمار نہیں کیا جائے گا۔

سعید بن مسیب سے سوال کیا گیا کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کے گلوں میں ایسے تعویذ لٹکائے جائیں جن میں قرآن مجید لکھا ہوا ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا جب وہ تعویذ چمڑے میں منڈھا ہوا ہو یا لوہے کی ڈبیہ میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

اور تولہ جادو کی ایک قسم ہے،

اسمعی نے کہا یہ وہ چیز ہے، جس کی وجہ سے خاوند کے دل میں عورت کی محبت ڈال دی جاتی ہے، اور حضرت جابر سے مروی ہے کہ نشرہ شیطان کا عمل ہے، (مسند احمد جج ٣ ص ٢٩٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٦٨)

نشرہ ایک قسم دم ہے، جس شخص کے متعلق یہ گمان ہو کہ اس کو جن کا آسیب ہے اس سے اس کا علاج کیا جاتا ہے، متعدد فقہاء نے اس کو مکروہ کہا ہے۔ حسن نے کہا یہ جادو ہے سعید بن مسیب نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٥٩۔ ١٥٨، ملحضًا، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٥١٦ ھ)

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں : تمیمہ ان سیپیوں اور کوڑیوں کو کہتے ہیں جن کو (زمانہ جاہلیت میں عرب) گلوں میں لٹکاتے تھے، اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اس سے مصائب دور ہوتے ہیں اور جو تعویذ لٹکائے جاتے ہیں ان کو بھی تیمیمہ کہتے ہیں (الی قولہ) ان کو لٹکانے کی اس وجہ سے ممانعت کی گئی ہے کہ اہل جاہلیت کا یہ اعتقاد تھا کہ یہ مصائب دور ہونے کی علت ہیں اور ان سے مکمل عافیت حاصل ہوتی ہے، اور اگر ان کو اللہ کے ذکر سے برکت حاصل ہوتی ہے، اور اگر ان کو اللہ کے ذکر سے برکت حاصل کرنے کے لیے لٹکایا جائے اور اعتقاد یہ ہو کہ اللہ کے سوا کوئی مصیبت کو ٹالنے والا نہیں ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (سنن کبری ج ٩ ص ٣٥٠ ملحضًا، مطبوعہ نشر السنہ ملتان)

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : حدیث میں جس تمیمہ کو شرک فرمایا ہے (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٣) یہ وہ تعویذ ہے جس کو بچے کے گلے میں ڈالا جائے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء، قرآنی آیات اور ماثورہ (منقولہ) دعائیں نہ ہوں، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ سیپیاں، کوڑیاں ہیں جن کو عرب بچوں کے گلوں میں اس لیے ڈالتے تھے کہ ان کو نظر نہ لگے اور یہ باطل ہے، اس کو شرک اس لیے فرمایا ہے کہ ان کا اعتقاد تھا کہ یہ سبب قوی ہیں یا ان کی (خود بہ خود) تاثیر ہے، یا ان میں ایسے کلمات ہوتے تھے جو شرک خفی یا شرک جلی کو متضمن ہوتے تھے۔ (مرقات ج ٨ ص ٣٥٩، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ١٣٩٠ ھ) نیز ملا علی قاری فرماتے ہیں : جو تعویذات آیات قرآنیہ، اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات اور منقولہ دعائوں پر مشتمل ہوں ان میں کوئی حرج نہیں ہے، خواہ وہ تعویذ ہوں، دم ہو یا نثرہ ہو، البتہ غیر عربی میں جائز نہیں کیونکہ ان میں شرک کا احتمال ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٣٦١۔ ٣٦٠، مطبو ٤ عہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ١٣٩٠ ھ) علامہ سید احمد طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ لکھتے ہیں : ہندیہ میں مذکور ہے کہ تعویذ لٹکانا جائز ہے لیکن بیت الخلاء جاتے وقت یا عمل زوجیت کے وقت تعویذ اتار لینا چاہیے۔ (حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار ج ٤ ص ١٨٣، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت، ١٣٩٥ ھ)

قرآن مجید سے جسمانی شفاء کے حصول کے متعلق احادیث اور آثار

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوتے تو اپنے اوپر قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر دم فرماتے اور اپنا ہاتھ اپنے جسم پر پھیرتے، پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوگئی تو میں قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر آپ پر دم کرتی جن کو پڑھ کر آپ دم فرماتے تھے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٣٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩١٢، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٩٠٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٢٩، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٧٥٤٤، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٧٥١)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس کے اوپر قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر دم فرماتے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٩٢، مشکوۃ رقم الحدیث : ١٥٣٢)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند اصحاب سفر میں تھے، ان کا عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ کے پاس سے گزر ہوا، صحابہ نے ان سے مہمانی طلب کی، انہوں نے صحابہ کو مہمان نہیں بنایا۔ اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے ڈنک مارا ہوا تھا، انہوں نے اس کے تمام جتن کیے لیکن کسی چیز سے اس کو فائدہ نہیں ہوا، پھر ان میں سے کسی نے کہا یہ جماعت جو یہاں ٹھہری ہوئی ہے ہوسکتا ہے ان کے پاس کوئی چیز ہو، وہ ان کے پاس گئے اور کہا اے لوگو ! ہمارے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے اور ہم ہر قسم کی کوشش کرچکے ہیں اس کو کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوا، کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہے۔ بعض صحابہ نے کہا ہاں ! اللہ کی قسم میں دم کرتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم ہم نے تم سے مہمانی طلب کی تھی، تم نے ہماری مہمانی نہیں کی، اب تم پر بالکل دم نہیں کروں گا حتی کہ تم مجھے کوئی انعام نہ دو ۔ انہوں نے بکریوں کی ایک معین تعداد (سنن ابن ماجہ میں ہے تیس بکریاں) پر صلح کرلی۔ پھر وہ گئے اور الحمد للہ رب العالمین (مسلم میں ہے سورة فاتحہ) پڑھ کر اس پر دم کیا، وہ بالکل تندرست ہوگیا اور اس طرح چلنے لگا، گویا اس کو کوئی بیماری نہیں تھی۔ سردار نے کہا ان سے جس انعام کا وعدہ کیا ہے وہ ان کو پورا پورا دو ۔ بعض صحابہ نے کہا اس انعام کو پورا پورا تقسیم کرلو بعض نے کہا نہیں یہ دم کی اجرت ہے اس کو اس وقت تک تقسیم نہ کرو حتی کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ جائیں اور ہم آپ کے سامنے یہ تمام ماجرا بیان کریں پھر دیکھیں آپ اس میں کیا حکم فرماتے ہیں۔ جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو آپ سے اس کو بیان کیا۔ آپ نے فرمایا : تمہیں کس نے بتایا یہ (زمانہ جاہلیت کا) دم ہے، پھر آپ نے فرمایا : تم نے درست کیا اس کو تقسیم کرلو اور اس میں سے میرا حصہ بھی نکالو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٧٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٩٠٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٦٤، سنن ابنماجہ رقم الحدیث : ٢١٥٦، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١٠٨٦٨، مسند احمد رقم الحدیث : ج ٣ ص ١٠، مصنف ابن اب ی شیبہ ج ٨ ص ٥٤۔ ٥٣، کراچی، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١١٢، سنن دارقطنی ج ٣ ص ٦٤۔ ٦٣)

یہ حدیث صحیح ہے جس سے معلوم ہوا کہ دم کرنے کی اجرت لینا جائز ہے اور جن احادیث میں ممانعت ہے وہ تمام احادیث ضعیف ہیں۔

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ بیان فرماتے ہیں : حضرت ابو الا حوص (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا اور کہا میرے بھائی کے پیٹ میں تکلیف ہے۔ انہوں نے اس کو خمر (شراب) پینے کا مشورہ دیا، پھر کہا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے نجس چیز میں شفا نہیں رکھی، شفا صرف دو چیزوں میں ہے : قرآن میں اور شہد میں۔ ان میں دل کی بیماریوں کے لیے شفا ہے اور لوگوں کے لیے شفا ہے۔ (العجم الکبیر رقم الحدیث : ٨٩١٠)

امام ابن المنذر اور امام ابن مردویہ نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا میرے سینہ میں تکلیف ہے۔ آپ نے فرمایا : قرآن پڑھو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : شفاء لما فی الصدور۔

امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت واثلہ بن الاسقع (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حلق میں درد کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا : تم قرآن پڑھنے کو لازم رکھو۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٥٨٠)

امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ قرآن پڑھا جائے تو وہ آرام محسوس کرتا ہے، حضرت خثیمہ جب بیمار ہوئے تو میں ان کے پاس گیا، میں نے کہا آج آپ تندرست لگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا آج میرے پاس قرآن مجید پڑھا گیا تھا۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٥٧٩، الدرالمنثور ج ٤ ص ٣٦٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ)

امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں کہ تعوذ کے کلمات پڑھ کر پانی پر دم کیا جائے پھر اس کے ساتھ مریض کا علاج کیا جائے۔ مجاہد نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ قرآن مجید کی آیات لکھ کر ان کو دھولیا جائے اور اس کا غسالہ (دھو ون) مریض کو پلا دیا جائے، اسی کی مثل ابو قلابہ سے مروی ہے اور نحعی اور ابن سیرین نے اس کو مکروہ قرار دیا، اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت وضع حمل میں مشکل پیش آرہی تھی تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن مجید کی کچھ آیتیں اور کچھ کلمات طیبات لکھ کر انہیں دھو کر اس کا غسالہ (دھو ون) اس عورت کو پلایا جائے۔ ایوب نے کہا میں نے ابو قلابہ کو دیکھا انہوں نے قرآن مجید کی کچھ آیتیں لکھیں پھر ان کو پانی سے دھویا اور اس شخص کو پلادیا جس کو جنون تھا۔ (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٦٦، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٣ ھ)

امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک رات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا، تو اس پر بچھو نے ڈنگ مارا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی جوتی سے اس بچھو کو مار دیا، پھر آپ نے واپس مڑتے ہوئے فرمایا : اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت فرمائے یہ نمازی کو چھوڑتا ہے نہ غیر نمازی کو، نبی کو چھوڑتا ہے نہ غیر نبی کو مگر اس کو ڈنک مار دیتا ہے، پھر آپ نے پانی اور نمک منگا کر اس کو ایک برتن میں ڈالا پھر جس انگلی پر بچھو نے ڈنک مارا تھا اس کو پانی میں ڈبو یا اور اس پر پانی لگایا اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٤٢، بیروت، شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٥٦٥)

امام محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٥ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت علی (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین دوا قرآن ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٠١، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ شمس الدین محمد بن ابوبکر ابن قیم جو زیہ متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : یہ بات معلوم ہے کہ بعض کلام کے خواص ہوتے ہیں اور اس کی تاثیرات ہوتی ہیں تو تمہارا رب العالمین کے کلام کے متعلق کیا گمان ہے جس کی ہر کلام پر فضیلت اس طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی فضیلت تمام مخلوق پر ہے، اس کا کلام مکمل شفاء ہے، عصمت، نافعہ، نور، ہادی اور رحمت عامہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا : و ننزل من القران ما ھو شفآء ’‘ و رحمۃ ’‘ للمؤمنین۔ (بنو اسرائیل : ٨٢) ہم قرآن مجید کی ان آیات کو نازل فرماتے ہیں جو مومنین کے لیے شفاء اور رحمت ہیں۔ اور قرآن مجید کی تمام آیات شفا ہیں اور سورة فاتحہ کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے جس کی مثل قرآن میں ہے نہ تورات میں نہ انجیل میں اور نہ زبور میں۔ ایک مرتبہ میں مکہ میں بیمار ہوگیا، مجھے دوا اور طبیب میسر نہ آسکے، تو میں سورة فاتحہ سے اپنا علاج کرتا تھا، میں ایک گھونٹ زمزم کا پانی پیتا اور اس پر کوئی سورة فاتحہ پڑھتا، پھر ایک گھونٹ زمزم کا پانی پیتا، میں نے کئی بار یہ عمل کیا حتی کہ میرے تمام درد اور تکلیفیں دور ہوگئیں اور مجھے مکمل فائدہ ہوگیا۔ (زد المعادج ٤، ص ١٤١۔ ١٤٠، ملحضًا، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)

کلمات طیبہ سے دم کرنے کے جواز کے متعلق احادیث

الشفاء بنت عبداللہ بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت حفصہ (رض) کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تم اس کو پھوڑے کا دم کیوں نہیں سکھاتیں جس طرح تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٥٧)

سہیل بن حنیف سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دم صرف بیمار شخص یا سانپ یا بچھو کے ڈسے ہوئے میں ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٨ مختصراً ) (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٣٠، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٤٠، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٦١٥، المستدرک ج ٤ ص ٤١٨۔ ٤١٧، ج ٤ ص ٢١٧۔ ٢١٦، سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٣٥٠)

امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں : اس قسم کی جھاڑ پھونک اور دم کرنے کی ممانعت ہے جس میں کلمات شرک ہوں یا اس میں سرکش شیاطین کا ذکر ہو یا اس میں عربی کے علاوہ کسی اور زبان کے کلمات ہوں یا ان کلمات کا کچھ پتا نہ ہو، ہوسکتا ہے کہ اس میں جادو کے کلمات ہوں یا کفریہ کلمات ہوں، لیکن جس میں قرآن مجید کے کلمات ہوں یا اس میں اللہ عزو جل کا ذکر ہو تو ان کلمات کے ساتھ دم کرنا جائز ہے اور مستحب ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة الفلق اور سورة الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٣٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩١٢)

اور جن صحابہ نے بکریوں کے عوض سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا، ان سے آپ نے فرمایا : تم کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ (زمانہ جاہلیت کا) دم ہے، اس کو تقسیم کرو، اور اس میں سے میرا حصہ بھی نکالو اور فرمایا : جن چیزوں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں اجرت کی سب سے زیادہ مستحق اللہ کی کتاب ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٣٧، ٢٢٧٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠١)

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حضرت حسین پر یہ کلمات پڑھ کر دم کرتے تھے : اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ و من کل عین لامۃ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٧١) ” میں ہر شیطان اور ہر زہریلے کیڑے اور ہر نظر بد کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ “ اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو حضرت جبرئیل نے یہ پڑھ کر آپ پر دم کیا : بسم اللہ ارقیک من کل شئی یؤذیک من شر کل نفس او عین حاسد اللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک۔ اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، اللہ آپ کو شفا دے ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذا دے اور ہر نفس کے شر سے اور ہر حاسد نظر سے، اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٨٥، ٢١٨٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٩٧٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٥٢٣، سنن کبری للنسائی رقم الحدیث : ١٠٨٤٣)

اور عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہم زمانہ جاہلیت میں دم کرتے تھے، یا رسول اللہ ! آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنے دم کے کلمات مجھے پڑھ کر سنائو، اس وقت تک دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب تک کہ ان میں شرکیہ کلمات نہ ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٨٦) (شرح السنہ ج ١٢ ص ١٦٠، ١٥٩، مطبوعہ دارالمکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٣ ھ)

دم اور تعویذ کی ممانعت کے متعلق

حضرت ابن مسعود کا ارشاد اور امام بغوی سے اس کی توجیہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دم کرنا تمائم (تعویذ لٹکانا) اور تولہ (بیوی سے خاوند کی محبت کا جادو) شرک ہیں، حضرت عبداللہ کی بیوی نے کہا آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں، خدا کی قسم ! میری آنکھ میں کچھ پڑگیا تھا میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی وہ میری آنکھ پر دم کرتا تھا اور جب وہ مجھ پر دم کرتا تھا تو مجھے آرام آجاتا تھا۔ حضرت عبداللہ نے کہا یہ شیطان کا عمل تھا، وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ میں چبھوتا تھا اور جب وہ یہودی دم کرتا تھا تو وہ اپنے ہاتھ کو ہٹا لیتا تھا، تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ تم اس طرح پڑھو جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھتے تھے : اذھب الباس رب الناس اشف انت الشافی لا شفاء الا شفاءک لا یغادر سقما۔ اے لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور کر دے، شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کسی کی شفا نہیں ہے جو بیماری کو باقی رہنے نہیں دیتی۔ 

تعویذ اور دم کی ممانعت کے متعلق

ابن حکیم اور حضرت عقبہ بن عامر کا ارشاد اور امام بیہقی، امام ابن الاثیر اور دیگر علماء سلف کی توجیہ عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن حکیم ابو معبد الجہنی کی عیادت کرنے کے لیے گیا ان پر ورم تھا۔ ہم نے کہا آپ کوئی چیز کیوں نہیں لٹکاتے ؟ (ایک روایت میں ہے آپ تعویذ کیوں نہیں لٹکاتے، مشکوۃ رقم الحدیث : ٤٥٥٦) انہوں نے کہا موت اس سے زیادہ قریب ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی چیز کو لٹکایا وہ اسی کے سپرد کردیا جائے گا۔ امام ترمذی نے کہا عبداللہ بن عکیم کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سماع ثابت نہیں اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھا، اور اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر سے بھی روایت ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٧٢، مسند احمد ج ٤ ص ٣١٠، المستدرک ج ٤ ص ٢١٦، سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٣٥١، شرح السنہ ج ١٢ ص ١٦٠)

امام ترمذی نے حضرت عقبہ بن عامر کی جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے، جس شخص نے تمیمہ (تعویذ) لٹکایا، اللہ اس کے مقصد کو پورا نہ کرے اور جس شخص نے کوڑی (سیپی) کو لٹکایا اللہ اس کی حفاظت نہ کرے۔ (مسند احمد (ج ٤ ص ١٥٤، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٧٥٩، المعجم الکبیر ج ١٧ ص ٢٩٧، ج ٤ ص ٤١٧، مجمع الزوائد ج ٥ ص ١٠٣)

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ اس قسم کی احادیث کے متعلق لکھتے ہیں : اس قسم کی احادیث میں ان تمائم (تعویذات) کو شرک فرمایا، جن تعویذات کو لٹکانے والوں کا یہ اعتقاد ہو کہ مکمل عافیت اور بیماری کا مکمل زوال ان تعویذات کی وجہ سے ہوگا جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین کا عقیدہ تھا، لیکن جس نے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے برکت حاسل کرنے کے لیے تعویذ کو لٹکایا اور اس کا اعتقاد ہو کہ مصیبت کو ٹالنے والا اور مرض کو دور کرنے والا صرف اللہ عزو جل ہے تو پھر تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٣٥٠، مطبوعہ ملتان)

نیز امام بیہقی فرماتے ہیں حضرت ابن مسعود سے مرفوعاً روایت ہے کہ دم، تولہ، اور تمائم شرک ہیں، اس سے ان کی یہ مراد ہے کہ وہ دم اور تعویذ وغیرہ شرک ہیں جو عربی زبان میں نہ ہوں اور ان کے معنی غیر معلوم ہوں۔ (سنن صغیر ج ٢ ص ٤٢٣، مطبوعہ دارالمجید بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ مجد الدین ابو السعادات المبارک بن محمد ابن الاثیر الجذری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : تمائم (تعویذات) کو شرک اس لیے فرمایا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں وہ تمائم کے متعلق مکمل دوا اور شفاء کا اعتقاد رکھتے تھے، اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ تمائم اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر کو ٹال دیتے ہیں اور وہ اللہ کے غیر سے مصائب کو دور کرنا چاہتے تھے۔ (النہایہ ج ١ ص ١٩٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیبی متوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں : تعویذ اور کوڑی لٹکانے پر آپ نے شرک کا اطلاق اس لیے فرمایا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان کے لٹکانے کا جو طریقہ معروف اور مروج تھا وہ شرک کو متضمن تھا کیونکہ ان کے متعلق ان کا اعتقاد شرک کی طرف لے جاتا تھا، میں کہتا ہوں کہ شرک سے مراد یہ اعتقاد ہے کہ یہ تعویذات قوی سبب ہیں اور ان کی اصل تاثیر ہے اور یہ توکل کے منافی ہے۔ (شرح الطیبی ج ٨ ص ٣٠١، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی، ١٤١٣ ھ) علامہ محمد طاہر پٹی متوفی ٩٨٦ ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (مجمع بحار الانوار ج ١ ص ٢٧٤، مطبوعہ دارالایمان مدینہ منورہ، ١٤١٥ ھ)

تعویذ لٹکانے کے متعلق

عبداللہ بن عمرو کی روایت اور اس کے حوالہ جات امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : علی بن حجر، اسماعیل بن عیاش، از محمد بن اسحاق از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود روایت ہے : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں ڈر جائے تو وہ یہ دعا کرے : اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ و شرعبادہ و من ھمزات الشیطان و ان یحضرون، تو پھر شیاطین اس کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، حضرت عبداللہ بن عمرو اپنے بالغ بچوں کو اس دعا کی تلقین کرتے تھے اور جو نابالغ بچے تھے ان کے گلے میں ایک کاغذ پر یہ دعا لکھ کر لٹکا دیتے تھے۔

امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٢٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٨٩٣، مسند احمد ج ٢ ص ١٨١، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٦٦٩٦ طبع دارلحدیث قاہرہ، اس کے حاشیہ میں شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، المستدرک ج ١ ص ٥٤٨، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ذہبی نے اس پر جرح نہیں کی، بلکہ حافظ ذہبی نے خود اس حدیث سے استدلال کیا ہے، الطب النبوی ص ٢٨١، کتاب الآداب للبیہقی رقم الحدیث : ٩٩٣، شیخ البانی نے اس حدیث کو اپنی صحیح ترمذی میں درج کیا ہے، رقم الحدیث : ٢٧٩٣، مصابیح السنہ ج ٢ ص ٢١٦، مشکوۃ المصابیح رقم الحدیث : ٢٣٤٧٧، المصنف لا بن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٣٥٣٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، الترغیب والترہیب رقم الحدیث : ٢٣٨٤، دار ابن کثیر بیروت، ١٤١٤ ھ، الترغیب و الترہیب ج ٢ ص ٤٥٦، ٤٥٥، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، ١٤٠٧ ھ، حافظ منذری نے حدیث کو امام نسائی کے حوالے سے بھی ذکر کیا ہے، عمل الیوم واللیلہ رقم الحدیث : ٧٦٥، مختصر سنن ابو دائود للمنذری رقم الحدیث : ٣٧٤٤ )

حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت کے صحیح اور حسن نہ ہونے اور مدرج ہونے کے جوابات

کیپٹن ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی نے ” تعویذ گنڈا شرک ہے “ کے عنوان سے ایک رسالہ لکھا ہے، اور انہوں نے گلے میں تعویذ لٹکانے کو شرک کہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی مذکور الصدر حدیث کے اوپر انہوں نے یہ عنوان قائم کیا ہے : ” تعویذ کے بیوپاریوں کو اکلوتا سہارا “ پھر انہوں نے اس حدیث کو رد کرنے کے لیے پانچ علتیں ذکر کی ہیں، ہم نمبردار ان پانچوں علتوں کا ذکر کر کے ان پر مفصل بحث کریں گے، فتقول وباللہ التوفیق کیپٹن عثمانی لکھتے ہیں : اس ایک روایت کے اندر متعدد علتیں ہیں :

(١) یہ پورے سرمایہ روایت میں اپنے طرز کی ایک منفرد روایت ہے اور صحیح ہونا تو دور رہا یہ حسن روایت بھی نہیں ہے۔ امام ترمذی جو تصحیح روایات کے بارے میں بہت فراخ دل واقع ہوئے ہیں اس روایت کو حسن بھی شمار نہیں کرتے بلکہ حسن غریب کہتے ہیں۔ (تعویذ گنڈا شرک ہے۔ ص ٥، مطبوعہ کراچی) امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے اس کے باوجود کیپٹن مسعود کا یہ کہنا کہ امام ترمذی اس روایت کو حسن بھی شمار نہیں کرتے بہت عجیب ہے شاید انہوں نے یہ سمجھا ہو کہ غریب ہونا اس حدیث کے حسن ہونے کے منافی ہے تو اس کی وجہ اصطلاح محدثین سے نا واقفیت ہے۔ حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام ترمذی نے یہ تصریح کی ہے کہ حدیث حسن کی شرط یہ ہے کہ وہ متعدد سندوں کے ساتھ مروی ہو، پھر وہ اپنی بعض احادیث کے متعلق یہ کیسے کہتے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف اسی سند کے ذریعہ پہچانتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ امام ترمذی نے مطلقًا حدیث حسن کے لیے یہ شرط نہیں بیان کی، بلکہ یہ حدیث حسن کی ایک خاص قسم کی شرط ہے اور یہ وہ قسم ہے جس حدیث کے متعلق وہ انی کتاب میں صرف حسن لکھتے ہیں اور اس کے ساتھ صحیح یا غریب کی صفت نہیں لاتے، کیونکہ وہ بعض حدیث کے متعلق صرف حسن لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق صرف صحیح لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق صرف غریب لکھتے ہیں، اور بعض کے متعلق حسن صحیح لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق حسن غریب لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق صحیح غریب لکھتے ہیں اور بعض کے متعلق حسن صحیح غریب لکھتے ہیں اور انہوں نے جو متعدد اسانید کی شرط عائد کی ہے وہ اس حدیث کے متعلق ہے جس کو وہ صرف حسن لکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب کے آخر میں خود اس کی تصریح کی ہے اور جس حدیث کے متعلق وہ حسن غریب کہتے ہیں اس میں انہوں نے جمہور کی تعریف سے عدول نہیں کیا۔ (شرح نخبۃ الفکر ص ٣٨۔ ٣٦، مطبوعہ قرآن محل کراچی) خلاصہ یہ ہے کہ امام ترمذی کے نزدیک یہ حدیث حسن ہے اگرچہ ایک سند سے مروی ہے۔ نیز یہ حدیث امام ابو دائود کے نزدیک بھی حسن ہے کیونکہ جس حدیث پر وہ کوئی حکم نہ لگائیں وہ ان کے نزدیک حسن اور عمل کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امام ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمن الشرزوری متوفی ٦٤٣ ھ لکھتے ہیں : امام ابو دائود نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے میں نے اپنی اس کتاب میں جس حدیث کو درج کیا اس حدیث میں جو شدید ضعف ہے اس کو میں نے بیان کردیا ہے اور جس حدیث کے متعلق میں نے کوئی چیز ذکر نہی کی، وہ صالح ہے اور بعض ایسی احادیث بعض دوسری احادیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (علوم الحدیث لا بن الصلاح ص ٣٣، مطبوعہ المکتبہ العلمیہ، المدینہ المنورہ ١٣٨٦ ھ) علامہ یحییٰ بن شرف نوادی متوفی ٦٧٦ ھ امام ابو دائود کی اس عبارت کے متعلق لکھتے ہیں : امام ابو دائود کی اس تحریر کی بناء پر ہم نے امام ابو دائو د کی سنن میں جس حدیث کو مطلقًا پایا اور معتمدین میں کسی ایک نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا نہ ضعیف کہا تو وہ امام ابو دائود کے نزدیک حسن ہے۔ (تقریب النوادی مع تدریب الراوی ج ١ ص ١٦٧، مطبوعہ المکتبہ العلمیہ، المدینہ المنورۃ، ١٣٩٢ ھ) علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں : امام ابو دائود کی ایسی حدیث استدلال کی صلاحیت رکھتی ہے اور معتمدین میں سے کسی کی تصریح کے بغیر اس حدیث کو صحیح نہیں کہا جائے گا اس لیے اس حدیث کو حسن کہنے میں زیادہ احتیاط ہے اور اس سے بھی زیادہ احتیاط اس کو صالح کہنے میں ہے۔ (تدریب الراوی ج ١ ص ١٢٧، مطبوعہ المکتبہ العلمیہ، المدینہ المنورۃ، ١٣٩٢ ھ) واضح رہے کہ امام ابو دائود نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد اس پر کسی قسم کے ضعف کا حکم نہیں لگایا، پس مذکور الصدر تصریحات کے مطابق یہ حدیث امام ابو دائود کے نزدیک بھی حسن ہے۔ کیپٹن مسعود نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : ” اس حدیث کا صحیح ہونا تو در کنار رہا “ گزارش یہ ہے کہ اس سند کے ساتھ امام احمد نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور شیخ احمد شاکر جو متاخرین میں کافی شہرت رکھتے ہیں انہوں نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حاکم نے بھی اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی مخالفت نہیں کی بلکہ خود اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور شیخ البانی جو مخالفین کے نزدیک مسلم ہے انہوں نے بھی امام ترمذی کی سند کو صحیح کہا ہے۔ ان سب کے حوالے ہم نے شروع میں ذکر کردیئے ہیں۔ کیپٹن مسعود نے اس حدیث کی دوسری علت یہ بیان کی ہے :

(٢) دوسری علت اس روایت میں یہ ہے کہ : عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے متعلق یہ جملہ کہ وہ اس دعا کو نابالغ بچوں کے گلے میں لکھ کر لٹکا دیا کرتے تھے۔ حدیث کے الفاظ نہیں بلکہ راوی کی طرف سے ایک ” مدرج “ جملہ ہے۔ (تعویذ گنڈا شرک ہے ص ٥، مطبوعہ کراچی) کیپٹن مسعود صاحب نے جو یہ دعوی کیا ہے کہ یہ جملہ حدیث کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ راوی کے الفاظ ہیں اور یہ حدیث مدرج ہے اس پر انہوں نے کوئی دلیل پیش نہی کی اور بلا دلیل حدیث کے کسی جملہ کو راوی کا کلام قرار دینا غیر مسموع اور غیر مقبول ہے۔ اگر وہ اس سلسلہ میں ناقدین اور ناقلین حدیث میں سے کسی کی شہادت پیش کرتے تو اس کی طرف التفات کیا جاتا محض ان کی ذہنی اختراع تو لائق جواب نہیں ہے۔ 

تعویذ کے جواز کی روایت کا ایک حدیث سے معارضہ اور اس کا جواب کیپٹن مسعود صاحب نے اس حدیث کی تیسری علت یہ بیان کی ہے :

(٣) تیسری علت : عبداللہ بن عمرو بن العاص جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے کمسن بچوں کے گلے میں دعا کا تعویذ لٹکاتے تھے خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تعویذ لٹکانے کی برائی میں صحیح حدیث کی روایت کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صحابی کسی چیز کی برائی کی حدیث بھی روایت کرے اور دوسری طرف اس چیز میں بھی مبتلا ہو۔ روایت یوں ہے : (رواہ ابو دائود ص ٥٤٠ و مشکوۃ ص ١٣٨٩ ترجمہ : عبداللہ بن عمرو بن العاص (علامہ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ یہ روایت عبداللہ بن عمر بن خطاب (رض) سے نہیں بلکہ عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے ہے اور اسی طرح ابو دائود کے نسخوں میں ہے۔ مشکوۃ میں غلطی سے عبداللہ بن عمر چھپ گیا ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں کہیں یہ تین باتیں کرو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اب مجھے حق و ناحق کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ تین باتیں یہ ہیں : (١) تریاق استعمال کروں (اس میں شراب اور سانپوں کا گوشت ہوتا ہے) ، (٢) تعویذ لٹکائوں (٣) شاعری کروں (تعویذ گنڈا شرک ہے۔ ص ٦۔ ٥ مطبوعہ کراچی)

اس اعتراض کے جواب میں اولاً گزارش یہ ہے کہ جس حدیث پر امام ابو دائود سکوت فرمائیں وہ اس وقت حسن ہوتی ہے جب معتمدین میں سے کسی نے اس کو ضعیف نہ قرار دیا ہو اور اس حدیث کو حافظ منذری اور امام بخاری نے ضعیف قرار دیا اور دو معتمدین میں سے ہے، چناچہ حافظ ذکی الدین عبدالعظیم بن عبد القوی المنذری المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن رافع التنوخی ہے جو افریقیا کا قاضی تھا، امام بخاری نے کہا اس کی حدیث میں بعض مناکیر ہیں۔ (مختصر سنن ابو دائود ج ٥ ص ٣٥٤، مطبوعہ دارالمعفتہ، بیروت) ثانیاً اس حدیث کی شرح میں ابو سلیمان حمد بن محمد الخطابی الشافعی المتوفی ٣٨٨ ھ لکھتے ہیں : اس حدیث میں تمیمہ (کوڑیاں یا تعویذ) لٹکانے کی ممانعت ہے، قرآن مجید سے تبرک حاصل کرنے یا شفا طلب کرنے کے لیے جو تعویذ لٹکائے جائیں وہ اس میں داخل نہیں ہیں، کیونکہ وہ اللہ سبحانہ کا کلام ہے اور اس سے استعاذہ کرنا (پناہ طلب کرنا) اللہ سے استعاذہ کرنے کے قائم مقام ہے اور یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ وہ تعویذ مکروہ ہیں جو غیر عربی میں ہوں اور ان کا معنی معلوم نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ جادو ہو یا اس میں اور کوئی چیز ممنوع ہو۔ (معالم السنن مع مختصر سنن ابو دائود ج ٥ ص ٣٥٤، مطبوعہ دارالمعرفتہ، بیروت) ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی ١٠١٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس حدیث میں جو تمیمہ سے ممانعت کی گئی ہے اس سے مراد زمانہ جاہلیت کا تمیمہ ہے، کیونکہ تمیمہ (تعویذ کی جو قسم اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کے کلمات کے ساتھ مختص ہے وہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہے، بلکہ وہ تعویذ مستحب ہے اور اس میں برکت کی امید ہے اور اس کی اصل سنت سے معروف ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٣٦١، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ١٣٩٠ ھ)

بقیہ

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 57