مرزا علی جہلمی کے شہرہ آفاق جھوٹ قبر میں چار سوال ہوں گے
sulemansubhani نے Friday، 10 April 2020 کو شائع کیا.
مرزا علی جہلمی کے شہرہ آفاق جھوٹ (2)
قبر میں چار سوال ہوں گے
الحمدلله گذشتہ کل مرزا جہلمی کے ایک جھوٹ کو سامنے رکھا اور جہلمیوں کو مکمل موقع دیا گیا کہ مرزا جہلمی نے حضرت علیؓ کی جانب جس جھوٹ کی نسبت کی اس پر دلیل قائم کریں ۔لیکن ابھی تک بےچاروں کےمابین کھلبلی مچی ہوئی ھے ہوائی فائروں کے بجائے کچھ بھی سامنے نہیں آیا ۔
آج پیش خدمت مرزا جہلمی کا دوسرا شہرہ آفاق جھوٹ
مرزا جہلمی ایسا جھوٹا شخص ھے کہ بزرگوں کی جانب جھوٹ کو ایسی بےباکی سے منسوب کرتا ھے کہ انسان کی عقل دھنگ رہ جاتی ھے۔
مثال کے طور پر مرزا پلمبر شیخین کی جانب جھوٹ کی نسبت کرتے ہوے اپنے بیان میں کہتا ھے کہ متفق علیہ روایت ھے کہ قبر میں چار سوال پوچھے جائیں گے۔
میرا تمام جہلمیوں سے مودبانہ سوال ھے کہ مرزا جی کے اس دعوے پر دلیل قائم کریں ورنہ تسلیم کرلیں کے مرزا نے یہ عملی خیانت کرکے جھوٹا کا سہارا لیا ھے۔
مرزا جہلمی کے کچھ پیروکار کہہ رھے تھے کہ جن مسائل کو ہم اٹھا رھے ہیں وہ کون سا کفر و ایمان کے مسائل ہیں؟
تو ان احباب سے گذارش ھے کہ کی ایسے کذاب انسان کی مہاریں ڈھیلی چھوڑ دے کہ جسطرح آج صحابہؓ و محدثین و اولیاء عظام پر بہتان درازی کررہا ھے اسی طرح کل اللہ کی ذات پر بہتان درازی کرے۔
مرزا جہلمی ایک فتنہ ھے اور اس فتنے کو جڑ ست اکھاڑنے کی شدید حالت ھے۔
نوٹ ۔ویڈیو دیکھنے کیلئے نیچے ملاحظہ فرمائیں شکریہ
احمد رضا رضوی

ٹیگز:-
احمد رضا رضوی , مرزا علی جہلمی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت ہم نے آپ کا ایک فتوی دیکھا تھا اس میں تین سوالات کا ذکر ہے ہے حالانکہ کہ ایک صحیح حدیث موجود ہے ہے جس میں چوتھے سوال کا بھی ذکر موجود ہے إنَّ الميتَ ليسمعُ خفقَ نِعالِهم حين يُولُّونَ ، قال : ثم يجلسُ ، فيقال له : من ربُّك ؟ فيقول : اللهُ ، ثم يقال له : ما دِينُك ؟ فيقول : الإسلامُ ، ثم يقال له : ما نبيُّكَ ؟ فيقول : محمدٌ ، فيقال : وما عِلْمُك ؟ فيقول : عرفتُه ، آمنتُ به ، وصدَّقْتُه بما جاء به منَ الكتابِ ثم يُفسحُ له في قبرِه مدَّ بصرِه ، وتُجْعَلُ روحُه مع أرواحِ المؤمنينَ
الراوي : عبدالله بن عباس.
المحدث : السيوطي.
المصدر : شرح الصدور.
الصفحة أو الرقم: 176.
یا ہماری تصحیح کرے یا اس فتوی میں ترمیم عنایت فرمائے.. بے ادبی کے لیے معذرت چاہتا ہوں ہو..
نوٹ میں قطعاً مرزا کا فالور نہیں. بلکہ شدید مخالف ہو لیکن اس حدیث کا کیا جواب ہے