مرزا علی انجینئر کے شہرہ آفاق جھوٹ (3)

امام ابن کثیر پر بہتان عظیم

مرزا علی جہلمی ایسی بےباکی اور اطمنان کے ساتھ صحابہؓ اکرام اولیاء و محدثین و مؤرخین پر بہتان باندھتا ھے کہ انسان کی عقل دھنگ رہ جاتی ھے۔

الحمدلله گذشتہ دو روز سے مرزا علی انجینئر کے دو شہرہ آفاق جھوٹ

(1) حضرت علیؓ کا خوارج کا نماز جنازہ پڑھانا والا بہتان

(2) متفق علیہ حدیث کہ قبر میں چار سوال ہوں گے۔

انکو ہم نے عوام کے سامنے رکھا اور ذریت پلمبر کو پورا موقع دیا گیا کہ دلائل کی روشنی میں مرزا علی کے دعوے کو ثابت کریں ۔لیکن چونکہ جھوٹ کے سر پاؤں نہیں ہوتے اسلئے ذریت پلمبر دو دن سے مرزا علی انجینئر کے سیاہ کارناموں کو سفید کرنے میں بری طرح ناکام۔

آج دوستوں کی خدمت میں مرزا جہلمی کا تیسرا شہرہ آفاق جھوٹ

مرزا جہلمی اپنے ایک بیان میں امام ابن کثیر پر بہتان باندھتے پوے لکھتا ھے کہ امام ابن کثیر نے جھوٹے مدعی نبوت مختار ثقفی کذاب کی بہت تعریف کی ھے۔

مرزا علی کے اس دعوے میں کتنی حقیقت ھے البدایہ والنہایہ کے جلد حوالہ جات سے واضح ہوجائے گا۔

امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ

مختار ثقفی ابتداء ناصبی تھا ۔اور حضرت علیؓ سے شدید بغض رکھتا تھا۔

(البدایہ والنہایہ جلد، 8 ،ص 361 ، مترجم، نفیس اکیڈمی)

مختار ثقفی دولت و شہرت کا بھوکا انسان تھا قاتلان حسین سے بدلہ لینا درحقیقت اپنی حکومت کو مضبوط کرنا اور شیعان علی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔یہی مختار ثقفی ھے جو اس بات پر آمادہ ہو گیا تھا امام حسن کو پکڑ کر حضرت امیر معاویہ کے پاس بھیج دے ۔لیکن اپنے چچا کے کہنے پر اپنے مذموم ارادے کو ترک کردیا۔

ابن کثیر فرماتے ہیں کہ

مختار نے اپنے چچا سے کہا اگر میں امام حسن کو پکڑ کر حضرت امیر معاویہ کے پاس بھیج دوں تو ہمیشہ کیلئے اسکے نزدیک میرا یہ ایک کارنامه ہوگا۔

(بحوالہ ایضا)

اس حوالے سے میرے دعوے کی صداقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ مختار ثقفی دولت و حکومت کا بھوکا انسان تھا ۔جو شخص حضرت علیؓ و امام حسن سے اتنا بغض رکھتا تھا اچانک سے اہل بیت کیلئے اتنی ہمدردی بیدار ہوگئی؟

گل وچ ہور اے

اسی طرح امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ثقیف سے دو کذاب نکلیں ۔

پھر آگے فرماتے ہیں کہ ایک حجاج بن یوسف اور دوسرا مختار ثقفی۔

(البدایہ والنہایہ، جلد 8 ص 364 ،مترجم، نفیس اکیڈمی)

ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ امام ابن کثیر مختار ثقفی کی تعریف نہیں بلکہ اسے کذاب و دولت و شہرت کا لالچی انسان سمجتے تھے۔

نوٹ۔ مختار ثقفی پر دار الافتاء جامعه نظامیہ کا مکمل فتوی مرزا کی ویڈیو نیز البدایہ والنہایہ کے اصلی سکین کیلئے نیچے ملاحظہ فرمائیں شکریہ

احمد رضا رضوی

MukhtarSaqfi00

MukhtarSaqfi

MukhtarSaqfi01MukhtarSaqfi02

مختار ثقفی قاتلینِ امامِ حسین سےبدلہ لینےکےبعد نبوت کا مدعی ہوکر مراہے،اس کےحق میں دعائیہ کلمات کہنا ناجائز و حرام ہے

الاستفتاء

اس مسئلہ کےبارےرہنمائی فرمادیں کہ مختار ثقفی کےمتعلق اہلِ سنت وجماعت کا کیا نظریہ ہے؟کیا اس نےقاتلینِ امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےبدلہ لینےکےبعد اعلانِ نبوت کیا تھا یا نہیں؟ اگر کوئی شخص اس کا نام لینےکےبعد اس کےلیےدعائیہکلمات اس طرح کہے”رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ “تودعاگو کےبارےشریعت کا کیا حکم ہے؟

برائےمہربانی علمی وتحقیقی جواب ارشاد فرمائیں۔

السائل:محمد بلال ،پیڑبرو انگلینڈ

الجواب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیمo

مختار ثقفی کےایمان و کفر کامسئلہ تاریخ سے تعلق رکھتا ہےتو محدّثین و مؤرخین اور جمہور علمائےکرام نےمختار ثقفی بن ابو عبید کےبارے کفر وارتداد پر ہی مرنےکا قول ذکر کیا ہےاگرچہ اس نےجنابِ حضرتِ امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےقاتلین سےکھلم کھلا انتقام و بدلہ بھی لیا ہے۔

حالتِ اسلام میں اس کےبعض کارنامےبہت اچھےرہےہیں لیکن زندگی کےایک حصہ میں اس نے نبی ہونے کا دعویٰ کردیا اور اسی دعویٰ پر ہی اس کی موت ہوئی جس وجہ سے علمائےاسلام نےاسےکافر ومرتد قرار دیا ہے۔

امام المحدثین امامِ ترمذی اپنی سننن میں حضرتِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےحدیثِ پاک ذکر تےہیں :”عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثقيف كذاب ومبير : يقال : الكذاب المختار بن أبي عبيد ، والمبير : الحجاج بن يوسف”۔رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا:ثقیف میں ایک بہت بڑا جھوٹا ہوگااور ایک ظالم ہوگا۔امامِ ترمذی نےکذاب و مبیر صفات کےناموں کی وضاحت فرما کر افراد کی تعیین بھی کردی :کذاب مختار بن ابو عبید ہےاور مبیر سےمراد حجاج بن یوسف ہے۔(سننِ الترمذی :رقم الحدیث: 2220)

صحیح مسلم میں حدیثِ پاک کےکلمات میں “کذّاب ومُبِیر”پر حضرتِ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رائےکو شرح النووی میں اس طرح ذکر کیا گیا ہے:” وقولها في الكذاب فرأيناه تعني به المحتار بن أبي عبيد الثقفي كان شديد الكذب ومن أقبحه ادعى أن جبريل صلى الله عليه وسلم يأتيه واتفق العلماء على أن المراد بالكذاب هنا المختار بن أبي عبيد وبالمبير الحجاج بن يوسف”۔مختار بن ابو عبید ثقفی بہت جھوٹا تھااور اس کا سب سےبڑا جھوٹ یہ تھا کہ اس نےدعویٰ کیا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آتےہیں ۔اور علمائےکرام کا اس بات پر اتفاق ہےکہ کذّاب سےمراد مختاربن ابو عبید ہیں اور مبیر سےحجاج بن یوسف مراد ہے۔(شرح صحیح مسلم للنووی :باب ذکر کذاب ثقیف )

فنِّ اسمائے رجال کے امام ذہبی علیہ الرحمۃ نےاپنی کتاب “میزان الاعتدال “میں مختار ثقفی کےبارےتحریر کرتےہیں :”المختار بن أبى عبيد الثققى الكذاب.لا ينبغى أن يروى عنه شئ،لانه ضال مضل.كان يزعم أن جبرائيل عليه السلام ينزل عليه.وهو شر من الحجاج أو مثله”۔مختار بن ابی عبید ثقفی بہت بڑا کذاب شخص تھا ،اس سےکوئی بھی شےروایت کرنا مناسب نہیں ہےکیوں کہ وہ گمراہ،گمراہ گرتھا،اس کا گمان یہ تھا کہ جنابِ جبرائیل علیہ السلام اس پر نازل ہوتےتھےاور یہ شخص حجاج بن یوسف سےشر میں بڑھ کر تھا یا پھر اس جیسا تھا۔ (میزان الاعتدال:ترجمۃ مختار بن ابی عبید الثقفی،حرف المیم،ج6،ص385،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حضرتِ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب “تاریخ الخلفاء”میں تحریر فرمایا:”وفي أيام ابن الزبير كان خروج المختار الكذاب الذي ادعى النبوة فجهز ابن الزبير لقتاله إلى أن ظفر به في سنة سبع وستين وقتله لعنه الله”۔یعنی حضرتِ ابنِ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےزمانہ حیات میں ہی مختار ثقفی نےخروج کیا تھا ،جس نے نبی ہونےکا دعویٰ بھی کیا تھا تو حضرتِ ابنِ زبیر نےاسےقتل کرنےکےلیے لشکر تیار کیا جو کہ سڑسٹھ (67)ہجری اسے قتل کرنےکامیاب ہوا۔اللہ تعالیٰ کی اس پر لعنت ہو۔ (تاریخ الخلفاء:عبد اللہ بن زبیر،ص252،دار صادر بیروت )

حضرتِ مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمۃ اپنےخطبات میں لکھتےہیں :”مختار نےحضرتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کےقاتلین کےبارےبڑا شاندار کارنامہ انجام دیا لیکن آخر میں وہ دعوئ نبوت کرکےمرتد ہوگیا (والعیاذ باللہ تعالیٰ)کہنےلگامیرےپاس جبریل امین آتا ہےاور مجھ پر خدائےتعالیٰ کی طرف سےوحی لاتا ہے،مَیں بطورِ نبی مبعوث ہوا ہوں،حضرتِ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب اس کےدعوئ نبوت کی خبر ملی تو آپ نےاس کی سرکوبی کےلیےلشکر روانہ فرمایا جو مختار پر غالب ہوااور ماہ رمضان 67 ھ میں اس بدبخت کو قتل کیا۔(خطباتِ محرم:ص454،مکتبہ شبیر لاہور)

(2)”رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ” دعائیہ کلمات ہیں، کافر ومرتد اپنےکفر وارتداد پرمر جائےتو اس کےحق میں کسی بھی مسلمان کو خیر کےساتھ دعائیہ کلمات کہنا شرعاً ممنوع وناجائز و حرام ہے،جس شخص کےکفر پر مرنےکا یقین ہو اس کےکفر پر اطلاع ہوتےہوئےپھر بھی کافر کے حق میں دعائےخیر وترحم وغیرہ کےکلمات کہےجائیں تو دعا کہنےوالا بھی دائرہ اسلام سےخارج ہوجاتا ہے۔

کفارو مشرکین کےحق میں اللہ تعالیٰ نےایمان والوں کو دعائےاستغفار کرنے سے منع فرمایاہے،سورۃالتوبہ میں فرمایا:” مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسْتَغْفِرُوۡا لِلْمُشْرِکِیۡنَ وَلَوْکَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرْبٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ”۔نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں ۔(سورۃ التوبۃ :113)

حلیہ میں قرافی کےحوالےسےشیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ نےکافر کےبارے دعا کرنےکےمتعلق حکمِ شرعی ذکر فرمایا:” الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر لطلبہ تکذیب اﷲ تعالٰی فیما اخبربہ”۔ کافر کے لئے دُعائے مغفرت کفر ہے کیونکہ یہ خبرِ الٰہی کی تکذیب کا طالب ہے۔(فتاوٰی رضویہ :ج9،ص172)

…..واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب…..

کتبہ وحرّرہ

مفتی محمد اکمل قادری رضوی

(شعبہ)دارالافتاء والتحقیق جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

27 صفر المظفر 1441ھ بوقت العشاء(10:37)بمطابق 26 اکتوبر2019ء