أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور تم ان لوگوں سے میل جول نہ رکھو جنہوں نے ظلم کیا ہے ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔ پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم ان لوگوں سے میل جول نہ رکھو جنہوں نے ظلم کیا ہے ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی مددگار نہیں ہوں گے پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ (ھود : ١١٣) 

رکون کا لغوی اور عرفی معنی

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے : رکن کسی چیز کی اس جانب کو کہتے ہیں جس پر ٹھہرا جاتا ہے۔ (المفردات ج ١، ص ٢٦٨)

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے : جس رکون سے منع فرمایا ہے اس کا معنی ہے ظالموں کے طریقہ اور ان کی روشن پر راضی ہونا اور ان کے طریقہ کی تحسین کرنا اور اس کو خوبصورت سمجھنا اور اس طریقہ کے کسی ایک باب میں شریک ہونا لیکن اگر کوئی شخص دفع ضرر یا وقتی منفعت کے حصول کے لیے ناپسندیدگی کے ساتھ ان کے طریقہ میں داخل ہو تو وہ رکون نہیں ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦، ص ٤٠٧) 

رکون کا شرعی معنی

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت کا معنی ہے مدابنت نہ کرو یعنی جو شخص ظالموں سے میل جول رکھے اور ان کے ظلم پر انکار نہ کرے وہ مداہن ہے یہ آیت ان ظالموں کے متعلق ہے جو اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس کی کتاب کے ساتھ کفر کرتے ہوں اور جو گنہگار مسلمان ہیں تو اللہ تعلایٰ ہی ان کے گناہوں اور ان کے عملوں کو جاننے والا ہے اور کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کسی بھی معصیت کے ساتھ صلح کرے اور نہ کسی معصیت کرنے والے کے ساتھ میل جول رکھے۔ (جامع البیان جز ١٢، ص ١٦٥، تفسیر امام ابن ابی حاتم جز ٦، ص ٢٠٨٩، ٢٠٩٠) 

کفار، بدمذہبوں اور فاستوں سے میل جول کی ممانعت کے متعلق قرآن مجید کی آیات

لا یتخد المومنون الکفرین اولیاء من دون المومنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شی الا ان تتقوا منھم تقۃ و یحذرکم اللہ نفسہ والی اللہ المصیر۔ (آل عمران : ٢٨) ایمان والے مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ اس سے کوئی تعلق نہیں البتہ اگر تم کو جان کا خطرہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عذوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بما جاء کم من الحق۔ (الممتحنہ : ١) اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو تم ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کا انکار کیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے۔ یایھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم قدیئسوا من الاخرۃ کما یئس الکفار من اصحاب القبور۔ (الممتحنہ : ١٣) اے ایمان والو ! ایسے لوگوں سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب فرمایا ہے بیشک وہ آخرت سے مایوس ہوچکے جیسے کفار قبر والوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔ 

کفار، بدمذہبوں اور فاسقوں سے میل جول کی ممانعت کے متعلق احادیث

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے آخر میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جن کو تم نے سنا ہوگا نہ تمہارے باپ دادا نے، تم ان سے دور رہنا، وہ تم سے دور رہیں گے۔ (مقدمہ صحیح مسلم ج ١، ص ٩، مطبوعہ کراچی)

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر امت کے مجوس ہیں اور اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو منکر تقدیر ہیں وہ اگر مرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جائو اور اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٩١)

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا : اے عائشہ ! جن لوگوں کے دین میں تفریق کی وہ ایک گروہ تھا وہ بدعتی اور اپنی خواہش کے پیروکار ہیں ان کی کوئی توبہ نہیں ہے میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ (المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٥٦٠، مجمع الزوائد ج ١، ص ١٨٨)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب بنو اسرائیل گناہوں میں متبال ہوگئے تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا، وہ باز نہ آئے وہ علماء ان کی مجالس میں بیٹھتے رہے اور ان کے ساتھ مل کر کھاتے پیتے رہے، تب اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے دل بعض سے مشابہ کردیئے اور ان پر (حضرت) دائود اور (حضرت) عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی کیونکہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔ (المائدہ ٧٨) اور دوسری روایت (ترمذی : ٣٠٤٨) کے آخر میں ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ پس فرمایا : نہیں، حتیٰ کہ تم ظالم کے ہاتھ پکڑ لو اور اس کو حق پر سختی کے ساتھ مجبور کرو (یعنی اس کے علاوہ کسی صورت میں معصیت کاروں کے ساتھ نہ بیٹھو) (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٤٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٣٧، ٤٣٣٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٠٦، مسند احمد ج ا، ص ٣٩١، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٥٠٣٥، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٢٦٦، ١٠٢٦٥، ١٠٢٦٤، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٥٣٣، جامع البیان رقم الحدیث : ٩٦٠٤)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تالیٰ نے مجھے منتخب فرما لیا اور میرے لیے اصحاب اور سسرال کو منتخب فرما لیا، عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو میرے اصحاب اور سسرال والوں کو برا کہیں گے اور ان کے عیب نکالیں گے، تم ان کی مجلس میں مت بیٹھنا، ان کے ساتھ پینا نہ ان کے ساتھ کھانا اور نہ ان کے ساتھ نکاح کرنا۔ (کتاب الضعفاء للعقیلی ج ١، ص ١٢٦، رقم الحدیث : ٢٦٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ) یہ حدیث صحیح ہے، امام عقیلی نے اس ہدیث کی مزید تین سندیں بیان کی ہیں۔ ہم روزانہ وتر کی دعاء قنوت میں یہ کہتے ہیں : نخلع و نترک من یفحرک۔ جو تیری نافرمانی کرتا ہے ہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس سے قطع تعلق کرلیتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢، ص ٣١٤، مطبوعہ کراچی، السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٢، ص ٢١١، علاء السنن ج ٢، ص ١٠٩) 

اکابر صحابہ پر شیعہ کا سب و شتم اور زیر تفسیر آیت سے اس کا جواب

غالی شیعہ اور تبرائی رافضی چھ صحابہ کو چھوڑ کر تمام صحابہ کرام کو کافر اور منافق کہتے ہیں، خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت معاویہ اور حضرت عائشہ (رض) کو بہت سب و شتم کرتے ہیں۔ ملا باقر مجلسی متوفی ١١١٠ ھ لکھتا ہے : حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ایک دروازے سے داخل ہونے والے فرعون، ہامان اور قارون ہیں یہ ابوبکر، عمر اور عثمان سے کنایہ ہے اور دوسرے دروازے سے بنو امیہ داخل ہوں گے جو ان کے ساتھ مخصوص ہے۔ (حق الیقین ص ٥٠٠، مطبوعہ کتاب فروشے ایران ١٣٥٧ ھ) برأت میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ان چار بتوں سے بیزاری طلب کرتے ہیں یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور معاویہ سے اور چار عورتوں سے یعنی عائشہ، حفصہ، ہند اور ام الحکم سے اور ان کے معتقدوں اور پیروکاروں سے اور یہ لوگ اللہ کی مخلوق میں سب سے بدتر ہیں اور للہ، رسول اور ائمہ سے کیا ہوا عہد اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار نہ کیا جائے۔ (حق الیقین ص ٥١٩، مطبوعہ تہران ایران ١٣٥٧ ھ) علل الشرائع میں حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ عائشہ کو زندہ کر کے ان پر حد جاری کریں گے اور ان سے فاطمہ کا انتقام لیں گے۔ (حق الیقین ص ٣٤٧، مطبوعہ ایران ١٣٥٧ ھ) امام مہدی ہر دو (حضرت ابوبکر اور حضرت عمر) کو قبر سے باہر نکالیں گے وہ اپنی اسی صورت پر تروتازہ قبر سے نکالے جائیں گے پھر فرمائیں گے کہ ان کا کفن اتارو، سو ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا وہ ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان کا گناہ ان دونوں پر لازم کریں گے اور وہ یہ اعتراف کریں گے کہ اگر وہ روز اول خلیفہ کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلا دے اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ اڑا کر دریا میں بہا دے۔ (حیات القلوب ج ٢ ص ٦١١۔ ٦١٠، مطبوعہ تہران) عیاش نے سند معتبر کے ساتھ حضرت امام محمد باقر سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا اور تشریف لے گئے تو چار کے سوا تمام لوگ مرتد ہوگئے : علی بن ابی طالب، مقداد، سلمان اور ابوذر۔ (حق الیقین ص ٣٦٢۔ ٣٦١، مطبوعہ تہران ١٣٥٧ ھ) اور یہ بشمول شیعہ سب مسلمانوں کو معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب صحابہ کے ساتھ میل جول رکھا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی صاحبزادیوں کو اپنے حبالہ عقد میں داخل فرمایا اور اپنی دو صاحبزادیوں کو حضرت عثمان (رض) کے عقد میں داخل کیا، حضرت معاویہ (رض) کی بہن کو اپنے نکاح میں داخل فرمایا اور اپنی وفات تک ان تمام صحابہ کے ساتھ رشتہ محبت قائم رکھا اور ان کے بہت فضائل اور مناقب بیان فرمائے اگر بالفرض بقول شیعہ یہ صحابہ کافر، ظالم اور فاسق تھے تو لازم آئے گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظالموں سے میل جول رکھا اور ظالموں سے میل جول رکھنے والے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس آیت (ھود : ١١٣) میں فرمایا ہے کہ اس کو دوزخ کی آگ جلائے گی تو سوچیے کہ عداوت صحاب کے جنون میں یہ لوگ کہاں تک پہنچ گئے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 113