أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالَ يُوۡسُفُ لِاَبِيۡهِ يٰۤاَبَتِ اِنِّىۡ رَاَيۡتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوۡكَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَيۡتُهُمۡ لِىۡ سٰجِدِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا : اے میرے ابا ! بیشک میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا میں نے دیکھا وہ مجھ کو سجدہ کر رہے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب یوسف نے اپنے والد سے کہا اے میرے ابا ! بیشک میں نے گیارہ ستاروں اور سوج اور چاند کو دیکھا میں نے دیکھا وہ مجھ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ (یوسف : ٤) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب میں ستاروں، سورج اور چاند کو دیکھنا

زمخشری نے کہا لفظ یوسف عبرانی زبان کا لفظ ہوتا تو یہ منصرف ہوتا کیونکہ یہ صرف علم ہے اور اس میں تنوین سے مانع کوئی چیز نہیں ہے سو اس پر تنوین نہ آنا اور اس کا غیر منصرف ہونا اس کے عبرانی ہونے کی دلیل ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب میں یہ دیکھا کہ گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند نے ان کو سجدہ کیا ہے اور حضرت یوسف کے گیارہ بھائی تھے اس لیے گیارہ ستاروں کی گیارہ بھائیوں کے ساتھ تعبیر کی گئی اور سورج اور چاند کی باپ اور ماں کے ساتھ تعبیر کی گئی اور سجدہ سے مراد یہ ہے کہ وہ حضرت یوسف کے سامنے تواضع سے جھک جائیں گے اور ان کے احکام کی پیروی کریں گے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو کہا تھا کہ میں نے گیارہ ستاروں کو دیکھا اس دیکھنے کو خواب میں دیکھنے پر محمول کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقت میں ستارے سجدہ نہیں کرتے اس وجہ سے اس کلام کو خواب میں محمول کرنا واجب ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا تھا : ” اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے نہ بیان کرنا۔ “ 

ان ستاروں کے اسماء

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ بستانہ نام کا ایک یہودی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ان ستاروں کے نام بتائیے جن کو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے اور آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اس وقت حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور آپ کو ان ستاروں کے نام بتائے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس یہودی کو بلوایا اور فرمایا : اگر میں تم کو ان ستاروں کے نام بتادوں تو تم مان لوگے ؟ اس نے کہا : ہاں ! پھر آپ نے یہ نام بتائے : جربان، الطارق، الذیال، ذوالکتفین، قابس، وثاب، عمودان، الفلیق، المصبح، الضروح، ودوالفرغ، الضیاء اور النور۔ اس یہودی نے کہا : اللہ کی قسم ! ان ستاروں کے یہی نام ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٤٤١، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٣٣٢، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٥١٩، دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٢٧٧، کتاب الضعفاء للعقیلی ج ١ ص ٢٥٩، الکشاف ج ٢ ص ٤١٧، تفسیر کبیرج ٦ ص ٤١٩، امام حاکم نے لکھا ہے کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور علامہ ذہبی نے اس پر سکوت کیا ہے، المستدرک ج ٤ ص ٣٩٦، امام عقیلی نے لکھا ہے کہ یہ سند صحیح کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے، ان کے نزدیک یہ ضعیف ہے، امام ابن جوزی کی نزدیک یہ حدیث موضوع ہے کتاب الموضوعات ج ١، ص ٤٤٦، حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے مروی ہے) 

خواب دیکھنے کے وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سات سال کی عمر میں خواب دیکھا کہ گیارہ لاٹھیاں ایک دائرہ کی شکل میں زمین میں مرکوز ہیں اور ایک چھوٹی لاٹھی نے ان گیارہ بڑی لاٹھویں و کو نگل لیا، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اس خواب کو بیان کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : خبردار یہ خواب اپنے بھائیوں سے ہرگز نہ بیان کرنا پھر بارہ سال کی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند حضرت یوسف وکو سجدہ کر رہے ہیں انہوں نے پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے یہ خواب بیان کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : تم اپنے بھائیوں سے یہ خواب بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی ساش کریں گے ایک قول یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب اور اس کی تعبیر مکمل ہونے میں چالیس سال کا عرصہ لگا اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں اسی سال کا عرصہ لگا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤١٩، مطبوہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

نیند کی تعریف

جب موثرات خارجیہ منقطع ہوجاتے ہیں اور حواس ظاہرہ سے اتصال نہیں رہتا انسان آنکھیں بند کرلیتا ہے اور اس کے اعضاء ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور حواس ظاہرہ کے اور اکت بتدریج منقطع ہوجاتے ہیں تو یہ وہ حالت ہے جس کو نیند سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 

خواب کی تعریف

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : اہل سنت کے نزدیک خواب کی صحیح تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوئے ہوئے شخص کے دل میں ادراکات پیدا کرتا ہے جیسا کہ بیدار شخص کے دل میں ادراکات پیدا کرتا ہے۔ خواب کی نظیریہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو بارش کی علامت بنادیا ہے لیکن کبھی بادل گھر کر آتے ہیں اور بارش نہیں ہوتی خواب میں جو ادراکات حاصل ہوتے ہیں کبھی ان میں فرشتے کا دخل ہوتا ہے اور کبھی شیطان کا، فرشتے کے دخل سے جو ادراکات حاصل ہوتے ہیں ان کے بعد انسان خوش ہوتا ہے اور شیطان کے دخل کے بعد جو ادراکات حاصل ہوتے ہیں ان کے بعد انسان غمگین ہوتا ہے۔ علامہ قرطبی نے بعض اہل علم سے یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جو اشیاء کو سونے والے کے محل ادراک (ذہن) پر پیش کرتا ہے اور ان اشیاء کو مختلف صورتوں متمثل کرتا ہے، بعض اوقات وہ صورتیں بعد میں واقع ہونے والی تعبیر کے موافق ہوتی ہیں اور بعض اوقات وہ صورتیں معانی معقولہ کی مثالیں ہوتی ہیں اور ہر دو صورتیں خوش خبری دینے والی بھی ہوتی ہیں اور ڈرانے والی بھی ہوتی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواب : خیال میں چند منضبط مثالوں کا ادراک ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مستقبل میں پیش آنے والے امور کے لیے علامت بنادیا ہے۔ (فتح الباری ج ١٢ ص ٣٥٣، مطبوعہ لاہور ١٤٠١ ھ) 

خواب کی اقسام

علماء اسلام نے خواب کی حسب ذیل اقسام بیان کی ہیں :

(١) بعض اوقات انسان کو نیند میں ایسی بےربط اور خلاف واقع چیزیں نظر آتی ہیں جو لائق توجہ نہیں ہوتیں مثلاً انسان خواب میں یہ دیکھے کہ آسمان میں ایک درخت اگا ہوا ہے یا دیکھے کہ زمین میں ستارے طلوع ہو رہے ہیں یا دیکھے کہ ہاتھ چیونٹی پر سوار ہو رہا ہے۔ ایسے خوابوں کو عربی میں اضغاث احلام کہتے ہیں اردو میں ان کو خواب پریشان کہتے ہیں۔ علماء کہتے ہیں کہ اس قسم کے خواب شیطانی عمل کی وجہ سے نظر آتے ہیں اور اطباء کہتے ہیں کہ ہاضمے کی خربای یا بلڈپریشر ہائی ہونے کی وجہ سے اس قسم کے خواب نظر آتے ہیں۔

(٢) انسان جو کچھ سوچتا رہتا ہے وہ اس کو خواب میں نظر آتا ہے بعض اوقات وہ اپنی ناتمام خواہشوں کو خواب میں پورا ہوتے ہوئے دیکھ لیتا ہے مثلاً بھوکا شخص خواب میں اپنی پسندیدہ چیزوں کو کھاتے ہوئے دیکھتا ہے اور پیاسا شخص لذیذ اور خوش ذائقہ مشروبات پیتے ہوئے خود کو دیکھتا ہے اور محبوب کے فراق میں غم زدہ عاشق خود کو محبوب کے قرب میں دیکھتا ہے، اس قسم کے خواب نفس کے وسوسے اور نفس کے خیالات کہلاتے ہیں۔

(٣) کبھی سونے والے شخص کے منہ پر لحاف کا دبائو ہوتا ہے جس سے اس کا سانس گھٹ رہا ہوتا ہے اور وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ کوئی اس کا گلا گھونٹ رہا ہے کبھی بارش کے چھینٹے کھڑکی کے شیشے سے ٹکراتے ہیں یا ہوا کے زور سے کوئی چیز کھڑکھڑاتی ہے اور وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ میدان کار زار میں ہے اور گولیاں چل رہی ہیں اور کبھی سونے والے کے چہرے پر دھوپ پڑنی سے اس کا چہرہ تمتمانے لگتا ہے اور وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ آگ میں جل رہا ہے اس قسم کے خواب دیکھ کر بعض اوقات وہ ڈر جاتا ہے اس قسم کے خوابوں کو محسوسات کا اثر کہا جاتا ہے۔

(٤) بعض اوقات انسان کے ذہن میں غیر شعوری خواہشیں ہوتی ہیں جن کو وہ کسی کے احترام یا کسی اور مانع کی وجہ سے پورا کرنا نہیں چاہتا پھر اس کو خواب میں ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جن کی تعبیر بعینہ واقع نہیں ہوسکتی لیکن ان مثالوں میں کسی اور چیز کی طرف رمز اور اشارہ ہوتا ہے مثلا باپ اپنے جوان بیٹے کو مارے تو غیر شعوری طور پر اس کے دل میں باپ سے انتقام لینے کا خیال آتا ہے لیکن باپ کا احترام اس خواہش کو پورا کرنے سے مانع ہوتا ہے پھر بیٹا خواب میں دیکھتا ہے کہ اس نے کسی شیر کو مار دیا ہے یا کسی اژد ہے کو مار دیا یا کسی ظالم بادشاہ کو قتل کردیا اور ظالم بادشاہ یا اژدہا غیر شعوری طور پر اس کے باپ سے کنایہ ہوتا ہے۔ خواب میں صرف اشارے اور رمز کی مثال سورة یوسف کی یہ آیت ہے : اذ قال یوسف لا بیہ یابت انی رایت احد عشر کو کبا والشمس والقمر رایتھم لی سجدین۔ (یوسف : ٤) جب یوسف نے اپنے والد سے کہا : اے میرے ابا ! بیشک میں نے گیارہ ستاروں اور چاند کو دیکھا وہ مجھ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ سورج اور چاند سے ان کے باپ اور ماں کی طرف اشارہ ہے اور گیارہ ستاروں سے ان کے گیارہ بھائیوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایسے خواب کو رمزی خواب کہتے ہیں۔

(٥) حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نیک شخص کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٨٣، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٥٩٣، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٢٩٧، عالم الکتب مسند احمد ج ٣ ص ١٢٦ قدیم، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٠٤٣، شرح السنہ رقم الحدیث : ٢٢٧٣، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٣٤٣٠، ٣٧٥٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٦٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٧٢) ان خوابوں میں مشکل حقائق منکشف ہوجاتے ہیں مثلاً مشہور صوفی شاعر حضرت شرف الدین بوصیری کو فالج ہوگیا اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدح میں ایک قصیدہ کہن شروع کیا اثناء قصیدہ میں انہوں نے ایک مصرع کہا : ” ومبلغ العلم فیہ انہ بشر “ اور ان میں اس کے دوسرے مصرع کو مکمل کرنے کی طاقت نہ رہی انہوں نے بہت کوشش کی لیکن دوسرا مصرع ان کی زبان پر نہیں آیا وہ بستر پر سوگئے انہوں نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو زیارت سے مشرف فرمایا ان کا حال پوچھا۔ حضرت بوصیری نے شکایت کی کہ وہ دوسرا مصرع نہیں بناسکے تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوسرا مصرع اس طرح بنادو : ” وانہ خیر خلق اللہ کلھم “ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو چادر پہنائی اور جس جگہ ان کے جسم پر فالج تھا اس جگہ پر اپنا شفا آفریں دست مبارک پھیرا۔ حضرت بوصیری خوشی سے مدہوشی کی حالت میں نیند سے بیدار ہوئے اور وہ اپنے مرض سے مکمل شفایاب ہوچکے تھے اور انہوں نے اس قصیدہ کا نام ” البردۃ “ رکھا۔ اس قسم کے خوابوں کا ابن سینا، ابن رشد اور ابن خلدون نے بھی اعتراف کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ بہت سے خواب ایسے ہوتے ہیں جن میں لایخل مسائل ہوجاتے ہیں۔ (شاہ ولی اللہ نے ” انفاس العارفین “ میں اپنے والد شاہ عبدالرحیم کا ایک ایسا ہی خواب ذکر کیا ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو شفا عطا فرمائی اور اپنے تین موہائے مبارک (بال) عطا فرمائے تے) یہ وہ خواب ہیں جن کو حدیث میں رویا المومن (مومن کا خواب) فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٨٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٦٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٧١٨٣ عالم الکتب، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٩٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٧٢)

(٦) چھٹی قسم ہے الرویاء الصادقہ (سچے خواب) قرآن مجید میں چھ سچے خوابوں کا ذکر ہے چار خوابوں کا ذکر سورة یوسف میں ہے ایک خواب حضرت یوسف رقم الحدیث : نے دیکھا تھا جس میں گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا (یوسف : ٤) دو خواب قیدخانہ میں دو قیدیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سنائے تھے۔ ایک نے کہا تھا کہ میں خواب میں شراب (انگور) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا تھا کہ میں سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جن کو پرندے کھا رہے ہیں۔ (یوسف : ٣٦) اور ایک خواب مصر کے بادشاہ نے دیکھا تھا کہ سات فربہ گائیں سات لاغر گایوں کو کھا رہی ہیں اور سات ہرے بھرے خوشے ہیں اور سات سوکھے ہوئے خوشے ہیں۔ (یوسف : ٤٣) موخر الذکر تینوں خوابوں کی تعبیر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بیان فرمائی جیسا کہ انشاء اللہ عنقریب تفسیر میں آئے گا اور ایک خواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے (حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو ذبح کر رہے ہیں۔ (الصفت : ١٠٢) اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک خواب کا ذکر ہے کہ مسلمان امن کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے۔ (الفتح : ٢٧)

(٧) بعض خواب ایسے ہوتے ہیں جن میں مستقبل میں ہونے والے کسی واقعہ کی طرف اشارے ہوتے ہیں۔ سورة یوسف میں جو چار خواب ذکر کیے گئے ہیں ان چاروں میں اس کی مثالیں ہیں اور حدیث میں بھی اس کا ذکر ہے : حضرت عائشہ ام المومنین (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی ابتداء کی گئی تو سب سے پہلے آپ کو سچے خواب دکھائے گئے آپ جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر سپیدہ سحر کی طرح آجاتی، الحدیث۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٠، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٧١٧ عالم الکتب، مسند احمد ج ٦ ص ١٥٣ قدیم، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩٧١٩، مسند ابو عوانہ ج ١ ص ١١٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٣، الشریعہ لاجری ص ٤٣٩، دلائل النبوُ لابی نعیم ج ١ ص ٢٧٥، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ١٣٥، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٧٣٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٣٢) 

اچھے اور برے خواہوں کا شرعی حکم

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اس کو پسند ہو تو وہ اللہ کی جانب سے ہے وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور وہ اس خواب کو بیان کرے اور جب وہ کوئی ناپسندیہ خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہے وہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور وہ خواب کسی کے سامنے نہ بیان کرے پھر وہ خواب اس کو ضرر نہیں دے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٨٤)

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نیک خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہیں پس جب کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دے اور شیطان سے پناہ طلب کرے تو پھر وہ خواب اس کو ضرر نہیں دے گا اور شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٩٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٧٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٠٢١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٦١، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٠٧٣٥، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٩٣٢، عالم الکتب مسند احمد ج ٥، ص ٢٩٦، قدیم، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٢٠١٣، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٤١٨، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٣٣٦، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢١٤٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٠٥٩، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٤٩٧٢، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٧٤)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواب اور بیداری میں زیارت

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جس شخص نے مجھ کو نیند میں دیکھا وہ عنقریب مجھ کو بیداری میں دیکھے گا، شیطان میری مثل نہیں بن سکتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٩٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٦٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٣٧١، ١٣٨٨٥، شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٤١٣)

حافظ ابو العباس احمد بن عمر المالکی القرطبی المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ انسان خواب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی حال میں بھی دیکھے آپ کو دیکھنا برحق ہے وہ کوئی پریشان خواب نہیں ہے جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے : جس نے مجھ کو دیکھا اس نے یقینا مجھ ہی کو دیکھا ہے اور آپ نے جو فرمایا ہے : جس نے مجھ کو نیند میں دیکھا وہ عنقریب مجھ کو بیداری میں دیکھے گا اس کے متعلق علامہ قرطبی لکھتے ہیں : یہ نعمت مجھ کو کئی مرتبہ مل چکی ہے ایک مرتبہ جب میں حج کے ارادہ سے تونس پہنچا تو میں نے وہاں سنا کہ دشمن مصر پر حملہ کر رہا ہے حتیٰ کہ دمیاط پر قبظ ہوگیا ہے تو میں نے ارادہ کیا کہ جب تک امن نہیں ہوجاتا تو میں تونس میں رہوں گا۔ وہاں مجھے خواب دکھایا گیا کہ میں نبی کی مسجد میں ہوں اور میں آپ کے منبر شریف کے قریب بیٹھا ہوا ہوں اور لوگ آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام عرض کر رہے ہیں پس جو لوگ سلام عرض کر رہے تھے ان میں سے کسی نے مجھ کو ڈانٹا اور کہا کھڑے ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام عرض کرو میں نے کھڑے ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام عرض کیا ابھی میں آپ کو سلام عرض کر رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی اللہ تعالیٰ نے میرے حج کے ارادہ کو پھر تازہ کردیا اور حج کی روانگی کے جو اسباب میرے لیے مشکل تھے وہ آسان کردیئے اور میرے د میں دشمن کے حملہ کا جو خوف تھا وہ زائل کردیا۔ میں نے سفر شروع کیا اور تقریباً ایک ماہ بعد اسکندریہ پہنچ گیا میں نے دیکھا کہ مصر کے لوگ بہت خوفزدہ تھے اور دشمن کا بہت غلبہ تھا ابھی مجھے اسکندریہ میں پہنچے ہوئے دس دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کی شوکت تور دی اور محض ارحم الراحمین اور اکرم الاکرمین کے رحم اور کرم سے وہاں امن اور سلامتی ہوگئی پھر اللہ نے مجھ پر اپنا احسان اور انعام مکمل کیا اور بیت اللہ کے حج کے بعد مجھے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک اور مسجد شریف میں پہنچا دیا اللہ کی قسم ! پھر میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعینہ بغیر کسی کمی اور زیادتی کے بیداری میں اسی حال میں دیکھا جس طرح میں نے آپ کو تونس میں خواب میں دیکھا تھا اور اگر کسی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دیکھا پھر بیداری میں آپ کی زیارت نہیں ہوئی تو جاننا چاہیے کہ اس صورت سے اس کا معنی مقصود ہے بعینہ صورت مقصود نہیں ہے اسی طرح خواب میں اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس صورت میں دیکھا وہ آپ کی اصل صورت کے مطابق نہیں تھی اس میں کوئی زیادتی تھی یا کوئی کمی تھی یا رنگ متغیر تھا یا اس میں کوئی عیب تھا یا کوئی عضو زیادہ تھا یا کوئی اور تغیر تھا تو اس صورت سے اس کا معنی مراد ہے اور ہوسکتا ہے اس صورت سے مراد آپ کا دین اور آپ کی شریعت ہو اور دیکھنے والے نے آپ کی صورت میں جو زیادتی یا کمی یا اچھائی یا برائی دیکھی ہے اس کو اس کے دین سے تعبیر کیا جائے گا یعنی اس کے دین میں زیادتی یا کمی یا اچھائی یا برائی ہے اسی طرح اگر کسی شخص نے آپ کو آپ کی معروف صورت کے علاوہ کسی اور شکل میں دیکھا تو وہ صورت بھی اس کے دین اور شریعت سے عبارت ہوگی۔ (المفہم ج ٦ ص ٢٦۔ ٢٤، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، ١٤١٧ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مجھ کو نیند میں دیکھا وہ عنقریب مجھ کو بیداری میں بھی دیکھے گا اس کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے لوگ ہیں اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے آپ کو نیند میں دیکھا اور اس نے ہجرت نہیں کی اللہ تعالیٰ اس کو ہجرت کی توفیق دے گا اور وہ آپ کو بیداری میں بھی دیکھ لے گا۔

(٢) جس نے آپ کو نیند میں دیکھا وہ عنقریب بیداری میں آپ کی رویت کی تصدیق اور صحت کو دیکھ لے گا۔

(٣) جس نے آپ کو نیند میں دیکھا وہ آپ کو آخرت میں خصوصیت کے ساتھ دیکھے گا اور اس کو آپ کا قرب حاصل ہوگا۔

(٤) ابن ابی جمرہ اور ایک جماعت نے اس حدیث کو اس پر محمول کیا ہے کہ جس نے آپ کو نیند میں دیکھا وہ دنیا میں آپ کا حقیقتاً دیکھ لے گا اور آپ سے کلام کرے گا اور اس کو اولیاء اللہ کی کرامات سے ایک کرامت شمار کیا گیا ہے۔

صالحین کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیند میں دیکھا، پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بیداری میں دیکھا پھر جن چیزوں میں وہ خوف زدہ تھے ان کے متعلق آپ سے سوال کیے اور آپ نے ان کا خوف دور کرنے کی طرف رہنمائی کی۔ علامہ ابن حجر نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ پھر لازم آئے گا کہ بعد کے اولیاء اللہ صحابہ ہوجائیں اور صحابی ہونے کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے (علامہ سیوطی فرماتے ہیں :) میں کہتا ہوں کہ صحابی ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس عالم دنیا میں وفات سے پہلے دیکھے اور جس نے آپ کی وفات کے بعد آپ کو عالم برزخ میں دیکھا اس دیکھنے سے اس کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہوگا علامہ ابن حجر کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ کئی لوگوں نے نیند میں آپ کو دیکھا اور پھر بیداری میں انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا اور اگر اس حدیث کا یہ معنی ہو تو ہر خواب میں آپ کی زیارت کرنے والے کو بیداری میں آپ کی زیارت ہونی چاہیے اس کا جواب یہ ہے کہ خواص کو تو زندگی میں کئی بار آپ کی زیارت ہوتی ہے اور عوام کو اس وقت آپ کی زیارت ہوگی جب ان کی روح ان کے جسم سے نکل رہی ہوگی۔ بیداری میں آپ کی زیارت کے امکان اور اس کے وقوع کی علماء کی ایک جماعت نے تصریح کی ہے ان میں سے حجتہ الاسلام امام غزالی ہیں اور قاضی ابوبکر بن العربی ہیں اور شیخ عزالدین بن عبدالسلام ہیں اور ابن ابی حمزہ ہیں اور ابن الحاج ہیں اور الیافعی ہیں اور میں نے بھی اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ (الدیباج، ج ٢، ص ٨٧٤۔ ٨٧٣، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی، ١٤١٢ ھ)

علامہ عبدالوہاب بن احمد بن علی حنفی المصری الشعرانی المتوفی ٩٧٣ ھ لکھتے ہیں : ائمہ اور مجتہدین بیداری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرتے ہیں اور کتاب و سنت سے انہوں نے جو کچھ سمجھا ہوتا ہے اس کو لکھنے سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ! ہم نے فلاں حدیث کا یہ معنی سمجھا ہے آیا آپ اس پر راضی ہیں اور بہت سے اولیاء جو مجتہدین سے کم درجہ کے ہیں ان کو آپ سے بیداری میں ملاقات کا شرف حاصل ہے جیسے شیخ عبدالرحیم القناوی اور شیخ ابو مدین المغربی، شیخ ابو الحسن الشازلی، شیخ ابو العباس المرسی اور بہت ہیں اور میں نے شیخ جلال الدین سیوطی کے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط پڑھا ہے انہوں نے اس شخص کو جواب لکھا جو سلطان کے پاس ان سے سفارش کرانا چاہتا تھا انہوں نے لکھا اے میرے بھائی ! میں اس وقت تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیداری میں پچھتر مرتبہ بالمشافہ ملاقات کرچکا ہوں اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ حکام کے پاس جانے سے میں اس نعمت سے محروم ہو جائوں گا تو میں سلطان سے تمہاری شفاعت کردیتا اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کا خادم ہوں اور جن احادیث کو محدثین نے ضعیفہ قرار دیا ہے ان کی صحت معلوم کرنے کے لیے مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنے کی حاجت ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے میرے بھائی کہ یہ نفع تمہارے نفع پر مقدم ہے اور علامہ سیوطی کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ سیدی محمد بن زین جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ثنا گو تھے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیداری میں بالمشافہ زیارت کرتے تھے اور جب وہ حج کے لیے جاتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبر کے اندر سے ان سے ہم کلام ہوتے ایک مرتبہ کسی شیخ کے کہنے سے انہوں نے حاکم شہر سے ان کی سفارش کی تو پھر وہ اس نعمت سے محرم ہوگئے اور ہم کو شیخ ابوالہسن شازلی اور شیخ ابو العباس المرسی اور دوسرے اولیاء اللہ سے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ بزرگ یہ کہتے تھے کہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی ہم کو رسول اللہ کی زیارت نہ ہو تو ہم اپنے آپ کو مسلمان شمار نہیں کرتے۔ (المیزان الکبریٰ ج ١ ص ٥٥۔ ٥٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

شیخ محمد انور کشمیری متوفی ١٣٥٢ ھ لکھتے ہیں : علامہ شعرانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کی ہے اور آٹھ ساتھیوں کے ساتھ آپ کے سامنے صحیح بخاری پڑھی ہے ان میں سے ایک حنفی تھا جب صحیح البخاری ختم ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا فرمائی لہٰذا بیداری میں زیارت متحقق ہے اور اس کا انکار کرنا جہالت ہے۔ (فیض الباری ج ١ ص ٢٠٤، مطبوعہ مطبع حجازی القاہرہ، ١٣٥٧ ھ) 

چند خوابوں کی تعبیروں کے متعلق احادیث

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب میں سویا ہوا تھا تو مجھے (خواب میں) دودھ کا پیالہ دیا گیا میں نے اس سے دودھ پی لیا حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ میرے ناخنوں سے سیرابی نکل رہی ہے اور میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن الخطاب کو دے دیا آپ کے گرد بیٹھے ہوئے صحابہ نے پوچھا آپ نے اس (دودھ) سے کیا تعبیر لی ہے یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : علم۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٠٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٨٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١، ص ٧٠، مسند احمد ج ٢، ص ٨٣، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢١٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٩١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٨٧٨، سننکبریٰ للبیہقی ج ٧، ص ٤٩، سنن کبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨١٢٣، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٨٨٠)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ قمیص پہنے ہوئے میرے سامنے پیش ہو رہے ہیں بعض کی قمیص پستانوں تک تھی اور بعض کی قمیص اس سے بھی کم تھی پھر عمر بن الخطاب آئے اور ان کی قمیص پیروں کے نیچے گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ نے قمیص سے کیا تعبیر لی ہے ؟ فرمایا : دین (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٠٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٩٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٨٥، مصنف عبدالرزاق ٢٠٣٨٥، مسند احمد ج ٥، ص ٣٧٣، قدیم مسند احمد رقم الحدیث : ١١٨٣٦، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨١٢١)

حضرت عبداللہ بن سلام (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے وسط میں ایک ستون ہے اور ستون کے اوپر ایک دستہ ہے مجھ سے کہا گیا اس درخت پر چڑھو۔ میں نے کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا پھر ایک لڑکا آیا۔ اس نے میرے کپڑے اوپر اٹھائے میں اس درخت پر چڑھا اور میں نے اس دستہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور میں اس حال میں بیدار ہوا کہ میں اس دستہ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ خواب بیان کیا آپ نے فرمایا : یہ باغ اسلام کا باغ ہے اور دستہ سے مراد مضبوط دستہ ہے تم تادم مرگ اسلام پر مضبوطی سے قائم ہو گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠١٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٤٨٤، مطبوعہ عالم الکتب بیروت ١٤١٩ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب زمانہ قریب ہوجائے گا تو زیادہ تر مسلمان کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا اور مومن (کامل) کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ محمد بن سیرین نے کہا میں بھی یہی کہتا ہوں انہوں نے کہا اور یہ کہا جاتا تھا کہ خواب کی تین قسمیں ہیں : انسان جو کچھ سوچتا ہے وہ خواب میں دیکھتا ہے اور شیطان ڈرائونے خواب دکھاتا ہے اور اللہ کی طرف سے خواب میں بشارتیں ملتی ہیں سو جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے وہ اس خواب کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے اور اٹھ کر نماز پڑھے اور وہ خواب میں (گلے میں) طوق دیکھنا ناپسند کرتے تھے اور خواب میں بیڑیاں دیکھنا پسند کرتے تھے اور یہ کہا جاتا تھا کہ بیڑی سے مراد دین میں ثابت قدم رہنا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠١٧، مسند احمد رقم الحدیث : ١٧٨٣، عالم الکتب، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٩٤، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٣٥٥، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١، ص ٥١۔ ٥٠)

حضرت ام العلاء انصاریہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کی جب مہاجرین کی رہائش کے انصار نے قرعہ اندازی کی تو رہائش کے لیے حضرت عثمان بن مظعون (رض) ہمارے حصہ میں آگئے۔ وہ بیمار پڑگئے ہم نے ان کی تیمارداری کی وہ فوت ہوگئے۔ ہم نے ان کو کفن میں لپیٹ دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے کہا : اے ابو السائب ! تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تمہاری تکریم فرمائے گا۔ آپ نے پوچھا : تم کو یہ کیسے پتا چلا ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں نہیں جانتی۔ آپ نے فرمایا : رہے عثمان بن مظعون تو ان پر موت آچکی ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے خیر کی توقع کرتا ہوں اور اللہ کی قسم ! میں ازخود نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ حضرت ام العلاء نے کہا : پس اللہ کی قسم ! اس کے بعد میں نے کسی کی ستائش نہیں کی۔ انہوں نے کہا : میں نے خواب دیکھا کہ حضرت عثمان کے لیے ایک چشمہ بہہ رہا ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس خواب کا ذکر کیا آپ نے فرمایا : اس سے مراد اس کا جاری رہنے والا عمل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠١٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٨٠٠٤، مطبوعہ عالم الکتب بیروت)

حضرت ابوموسیٰ شعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے درخت ہیں مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ جگہ یمامہ یا ہجر ہے لیکن وہ مدینہ یثرت تھی اور میں نے اس میں گائے کو دیکھا اور اللہ کی قسم خیر کو دیکھا۔ گائے سے سے مراد وہ ہے کہ جنگ احد میں جب مسلمانوں نے کفار کی یوریش سے بھاگنے کا ارادہ کیا تھا اور خیر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ جنگ بدر میں خیر (فتح) لایا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٣٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٦٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٢١، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٧٢، عالم الکتب)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے خواب میں ایک سیاہ فام عورت کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ مدینہ سے باہر نکلی اور جحفہ میں جا کر ٹھہر گئی میں نے اس کی یہ تعبیر نکالی کہ مدینہ کی وبا جحفہ کی طرف منتقل کردی جائے گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٣٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٩٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٢٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١، ص ٦١، مسند احمد رقم الحدیث : ٥٨٤٩، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢١٦٧، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٥٢٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٦٥١، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٣١٤٧، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢، ص ٥٦٨، شرح السنہ رقم الحدیث : ٢٣٩٣)

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ میں نے تلوار کو لہرایا تو اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا اور اس کی تعبیر وہ تھی جو جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی پھر میں نے دوبارہ تلوار کو لہرایا وہ پہلے سے اچھی حالت میں گئی اور اس کی تعبیر وہ تھی جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا کی تھی اور مسلمان مجتمع ہوگئے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٤١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٢١، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٧٦٥٠، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧٢٩٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٢٧٥، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٩٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٧٢ عالم الکتب)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے ایک خواب بیان کیا جس کو اس نے نہیں دیکھا اس کو (قیامت کے دن) دو جو کے درمیان گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا اور وہ ان میں ہرگز گرہ نہیں لگا سکے گا اور جس شخص نے کچھ لوگوں کی باتیں کان لگا کر سننے کی کوشش کی جب کہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہوں یا اس سے بھاگتے ہوں قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جس شخص نے تصویر بنائی اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو اس بات کا مکلف کیا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں ہرگز روح نہیں پھونک سکے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٤٢، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢١٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١١٠، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٩٧٨٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٣٥٨)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں نے آج رات یہ خواب دیکھا ہے کہ ایک سائبان سے گھر اور شہد ٹپک رہا ہے میں نے دیکھا کہ لوگ اس کو ہتھیلیوں میں جمع کر رہے ہیں بعض لوگ زیادہ جمع کر رہے ہیں اور بعض کم اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی پہنچ رہی ہے۔ میں نے دیکھا کہ آپ اس رسی کو پکڑ کر اوپر چڑھنے لگے پھر ایک شخص نے اس رسی کو پکڑا اور اس کی پکڑ کر اوپر چڑھنے لگا پھر دوسرا شخص اس رسی کو پکڑ کر اوپر چڑھا، پھر تیسرے شخص نے رسی کو پکڑا تو وہ رسی ٹوٹ گئی پھر رسی جڑ گئی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا یا رسول اللہ ! آپ پر میا باپ فدا ہو اللہ کی قسم ! اس خواب کی تعبیر بتانے کی آپ مجھے اجازت دیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تعبیر بیان کرو۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : اس سائبان سے مراد اسلام ہے اور جو شہد اور گھی سائبان سے ٹپک رہا تھا وہ قرآن مجید اور اس کی حلاوت ہے پس بعض لوگ زیادہ قرآن مجید حاصل کرتے ہیں اور بعض کم اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک پہنچ رہی ہے اس سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ قائم ہیں آپ اس حق سے عمل کرتے رہیں گے پھر اللہ آپ کو اپنے پاس بلا لے گا پھر آپ کے بعد ایک اور شخص اس پر عمل کرے گا پھر وہ حق منقطع ہوجائے گا پھر اس شخص کے لیے جوڑ دیا جائے گا اور وہ اس پر عمل کرے گا یا رسول اللہ ! آپ پر میرا باپ فدا ہو مجھے یہ بتائیے کہ میں نے صحیح تعبیر کی ہے یا غلط۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری بعض تعبیر صحیح ہے اور بعض غلط۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! آپ مجھے ضرور بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی ہے، آپ نے فرمایا : قسم مت کھائو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٤٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٦٩، مسند احمد رقم الحدیث : ٢١١٣، عالم الکتب، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢١٦٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١، ص ٥٩، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٥٣٦) 

خواب کی تعبیر بنانے کی اہلیت

خواب کی تعبیر بتانا ہر شخص کا کام نہیں ہے اور نہ ہر عالم خواب کی تعبیر بتاسکتا ہے خواب کی تعبیر بتانے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں خواب کی جو تعبیریں بیان کی گئیں ہیں ان پر عبور ہو الفاظ کے معانی ان کے کنایات اور مجازات پر نظر ہو اور خواب دیکھنے والے کے احوال اور اس کے معمولات سے واقفیت ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ شخص متقی اور پرہیزگار ہو اور عبادت گزار اور شب زندہ دار ہو کیونکہ یہ وہبی علم ہے اور جب تک کسی شخص کا دل گناہوں کی کثافت کی آلودگی سے پاک اور صاف نہ ہو اس وقت تک اس کا دل محرم اسرار الٰہیہ نہیں ہوگا، اس علم کے ماہرین نے اس موضوع پر کتابیں بھی لکھی ہیں، ان میں امام ابن سیرین کی تعبیر الرویاء اور علامہ عبدالغنی نابلسی کی تعبیر المنام بہت مشہور ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ علماء کرام ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد خواب کی تعبیر بتائیں اور محض اٹکل پچو سے خواب کی تعبیر بتانے سے گریز کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 4