أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ الَّذِىۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا‌ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ‌ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ‌ؕ كُلٌّ يَّجۡرِىۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ ہی ہے جس نےآسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا (جیسا کہ) تم انہیں دیکھتے ہو۔ پھر اس نے عرش پر جلوہ فرمایا اور اس نے سورج اور چاند کو اپنے نظام پر کار بند فرمادیا ہر ایک اپنی مقرر مدت تک گردش کر رہا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستو نوں کے بلند کیا، جیسا کہ تم انہیں دیکھتے ہو پھر اس نے عرش پر جلوہ فرمایا اور اس نے سورج اور چاند کو اپنے نظام پر کاربند فرمادیا، ہر ایک اپنی مقرر مدت تک گردش کررہا ہے، وہی دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، وہ آیتوں کی تفصیل فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے کا یقین ہو۔ (الرعد : 2) 

سورج اور چاند کے احوال اور دنیا کے معاملات سے وجود باری اور توحید باری پر استدلال  : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو قرآن نازل فرمایا ہے وہ برحق ہے، اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے برحق ہونے اور اپنے وجود اور پنی توحید پر دلائل قا ئم فرما رہا ہے، اور اپنی قدرت پر براہین پیش فرمارہا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے آسمانوں کو بغیر ستو نوں کے بلند کی، کیونکہ یہ مشاہدہ ہے کہ کوئی چھت بغیر ستو نوں یا دیواروں کی ٹیک کے قائم نہیں ہوسکتی تو جس قادر وقیوم نے آسمانوں کو بغیر کسی ٹیک اور سہارے کے بلند کردیا تو یقینا وہ ہستی ممکنات اور مخلو قات سے ماوراء ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سو رج اور چاند اور ان کی گردش کا ذکر فرمایا، ہم دیکھتے ہیں کہ سورج اور چاند ہمیشہ ایک مخصوص جانب سے طلوع ہوتے ہیں اور ایک مخصوص جانب میں غروب ہوتے ہیں، تو کون ہے جس نے ان کو اس مخصوص نظام کے تحت گردش پر کار بند کیا اور وہ کون ہے جس نے ان کو اس مخصوص جانب سے طلوع اور غروب کا پا پند کیا ہے، اگر اللہ عز وجل کے سوا کوئی اور خدا ہے تو اس نے ان مخصوص جانبوں کے سوا کسی اور جانب سے ان کا طلوع اور غروب کرایا ہوتا، ان کی مخصو ص گردش کو سوا کوئی اور گردش کرائی ہوتی اور جب ایسا نہیں ہو اتو معلوم ہوا وہ ایک ہی خدا ہے، جس نے کا ئنات کا یہ مربوط نظام قائم کیا اس نظام کی یکسانیت اور طریق کار کی وحد کا تسلسل یہ بتایا ہے کہ اس نظام کا خا لق بھی واحد ہے۔

اسی طرح دنیا کے دیگر معاملات ہیں۔ زرعی پیداوار کا نظام ہے جس میں ایک ہی طریقہ کار کا تسلسل ہے۔ کبھی انگور کی بیلوں میں سیب نہیں لگتا اور نہ کبھی سیب کے درختوں میں انگور لگتا ہے۔ ایک نرم ونازک پودا بیج کو پھار تا ہے اور زمین کے سینہ کو چیر کر پاہر نکل آتا ہے اور اس نظام میں بھی یکسانیت اور وحدت ہے۔ حیوانوں اور انسانوں کے طریقہ جو لید اور ان کی نشونما کے نظام میں بھی وحدت ہے، پھر فصلوں اور با غوں کے لیے وقت پر با رش نازل فرمانا، پھلوں اور غلوں کے قوام کی پختگی کے لیے سورج کی حرارت مہیا کرنا اور نہایت حکمت بالغہ کے ساتھ حیوانوں اور انسانوں کے لیے خوراک مہیا کرنا یہ کس کی تدبیر ہے اور اس تدبیر کے نظام میں بھی یکسانیت اور وحدت ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام کا خالق بھی واحد ہے 

عرش پر استواء ایسی دیگر صفات کے متعلق متقدمین اور متاخرین کے نظریات :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے : پھر اس نے عرش پر جلوہ فرمایا۔ یہ آیت قرآن مجید میں چھ مرتبہ آئی ہے۔ الا عراف : 54، یو نس : 1، 3 الرعد : 2، طہ : 5، الفرقان :59، الم السجدہ :4، الحدید : 4، ہم الاعراف : 54، میں اس پر مفصل بحث کرچکے ہیں اور یہاں بھی اختصار کے ساتھ اس مسئلا کا ذکر کریں گے۔

قرآن مجید اور احا دیث صحیحہ میں اللہ تعالیٰ کی بعض ایسی صفات کا ذکر ہے جن سے بظاہر جسمیت کا شبہ یا وہم ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ جسم اور جسمیت کے عوارض سے پاک ہے اور ممکنات اور مخلوقات میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اس کو استواء (قائم ہونے) اس کی آنکھوں، اس کے چہرے، اس کے ہاتھوں، اس کی پنڈلی، اس کے رحم کرنے، اس کے غضب فرمانے، اس کے آنے، اس کے سننے، اس کے دیکھنے، اس کے کلام کرنے، اس کے خفیہ تدبیر کرنے، اس کے محبت کرنے، اس کے ناپسند کرنے، اس کے سرگوشی کرنے، اس کے ساتھ رہنے، اور اس کے نداکر نے کا ذکر ہے اور احادیث صحیحہ میں اس کو خوش ہونے، اس کے قدم رکھنے، عرش کے اوپر ہونے، آسمان میں ہونے، آسمان سے نازل ہونے اور اس کے دو ڑکر انے کا ذکر ہے۔

یہ تمام صفات مخلوق میں ہوتی ہیں اور ہم کو ان کے معنی معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ میں بھی یہ صفات ہیں لیکن ہم کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ میں یہ صفات کس معنی میں ہیں اور کس اعتبار سے ہیں، اس میں یہ صفات اس کے شایان شان ہیں مثلا وہ بو لتا ہے، سننا اور دیکھنا مخلوق کے بو لنے، سننے اور دیکھنے کی مثل نہیں ہے لیکن وہ کیسے ان صفات سے متصف ہے یہ ہمیں نہیں معلو م۔ جس طرح ہم کو اللہ کی ذات کی حقیقت کا علم نہیں ہے اسی طرح ہم کو اس کی صفات کی حقیت کا بھی علم نہیں ہے۔ اس کی آنکھیں ہیں، اس کا چہرہ ہے اور اس کے ہاتھ ہیں لیکن وہ مخلوق کی مثل نہیں ہیں، اگر یہ اعتراض کیا جاے کہ پھر تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ جسم ہے لیکن اس کا جسم مخلوق کی مثل نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید اور احا دیث صحیحہ میں مذ کور ہے، ہم کو ان کی کیفیت معلوم ہے مثلا اس کی آنکھیں ہیں لیکن وہ مخلوق کی انکھوں کی مثل نہیں ہیں اور ان کی کیا کفیت ہے وہ کس طرح کی ہیں یہ بھی معلوم نہیں، اس کی ایسی آنکھیں ہیں جو اس کے شایان شان ہیں۔ 

امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت متوفی 150 ھ فرماتے ہیں :

اللہ نہ جوہر ہے نہ عرض ہے نہ اس کی کوئی حد ہے، نہ اس کا کوئی منازع ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے، نہ اس کی کوئی مثال ہے۔ اور اس کا ہاتھ ہے اور اس کا چہرہ ہے اور اس کا نفس ہے، قرآن مجید میں اللہ نے جو چہرہ، ہاتھ اور نفس کا ذکر کیا ہے وہ اس صفات بلا کیف ہیں اور یہ توجیہ نہ کی جاے کے ہاتھ سے مراد اس کی قدرت یا نعمت ہے کیونکہ اس تو جیہ میں اس کی صفت کو با طل کرنا ہے اور یہ قدریہ ور معتزلا کا قول ہے لیکن اس کا ہاتھ اس کی صفت بلا کیف ہے اور اس کا غضب اور اس کی رضا اس کی صفات میں سے بلا کیف دو صفتیں ہیں۔ (الفقہ الا کبرمع شر حہ ص 37 ۔ 36 مطبو عہ مصر 1375 ھ) 

شیخ تقی الدین احمد بن تیمیہ الحرانی المتو فی 728 ھ لکھتے ہیں :

اہل السنت وا الجمات کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود کو جن صفات سے موصوف کیا ہے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی جن صفات پر ایمان رکھا ہے، ان صفات کی نفی کی جاے نہ ان صفات کی تایل کی جائے، نہ ان صفات کی کیفیت بیان کی جائے نہ ان صفات کو کوئی مثال بیان کی جائے اور یہ کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور غیر مخلوق ہے، سب کی ابتداء اسی سے ہوئی ہے اور سب نے اسی کی طرف لو ٹنا ہے (مجموع الفتاوی ج ،۔ 3 ص 107، مطبو عہ دارلجیل بیروت 1418 ھ) 

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازای متو فی 79 ھ لکھتے ہیں : 

اگر مخالف ان نصوص سے استدلال کرے جو جہت، جسمیت، صورت اور جسمانی اعضاء میں ظاہر ہیں (مثلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تعرج الملائکتہ والروح : (المعارج : 70) فرشتے اور جبریل اس کی طرف چڑھ کر جاتے ہی، ، اور فرمایا یداللہ فوق اید یہم۔ (الفتح :10) ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان اللہ خلق آدم علی صورتہ۔ (صحیح مسلم، البروالصلہ :، 1، 115 الرقم المسلسل 6533) ، ، اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانیت اور جہات سے منزہ ہونے پر دلا ئل قطعیہ قائم ہیں، اس لیے ان نصوص کے علم کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چا ہے جیسا کہ متقدمین کا سلامتی والا طریقہ ہے اور یا پھر ان کی صحیح تاویلات کی جائیں جیسا کہ متاخرین کا طریقہ ہے تاکہ جاہلوں کے اعتراض کو دور کیا جاسکے اور کم فہم لوگوں کو اپنے مسلک پر برقرار رکھا جاسکے۔ (شرح عقائد نفی ص 34، مطبو عہ سکندر علی، بہادر علی تاجران کتب کراچی) 

علامہ شمس الدین احمد بن موسیٰ خیالی متو فی 870 ھ اس کی شرح لکھتے ہیں :

اس کی طرف چڑھ کر جانے سے مراد وہ جگہ عبادت کے ساتھ اس کا قرب حاصل کی جاتا ہے، اور یداللہ (اللہ کے ہاتھ) سے مراد اس کی قدرت ہے، اور اللہ کی صورت سے مراد اس کی صفت علم یا قدرت ہے۔ (حا شیتہ الخیالی ص 74 مطبو عہ مطع یو سفی لکھنو) 

اور اس آیت میں متقد میں کے طریقہ پر یہ کہا جاے گا اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطا بق عرش پر قائم ہے یا اپنی شان کے مطا بق بیٹھا ہوا ہے لیکن اس کے قیام اور اس کے بیٹھنے کی کیفیت کا علم ہے اور متا خرین کے طریقہ پر یہ کہا جاے گا کہ اللہ تعالیٰ پر غالب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 2