أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ فِى الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِى الۡاُكُلِ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور زمین میں ایک دوسرے کے قریب قطعات ہیں، اور انگوروں کے باغ اور کھیت ہیں اور ایک ہی جڑ سے نکلے ہوے کھجور کے درخت ہیں اور الگ الگ بھی (حالان کہ) سب کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے، اور ہم بعض پھلوں کو لذت میں بعض دوسرے پھلوں پر ترجیح دیتے ہیں، بیشک ان میں عقل والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور زمین میں ایک دوسرکے قریب قطعات ہیں، اور انگو روں کے باغ اور کھیت ہیں اور ایک جڑ سے نکلے ہوے کھجور کی درخت ہیں اور الگ الگ بھی ہیں، (حالا ن کہ) سب اس کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم بعض پھلوں کی لذت میں بعض دوسرے پھلوں پر ترجیح دیتے ہیں، بیشک ان میں عقل والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں (الرعد : 4) 

مشکل الفاظ کے معانی :

وفی الا رض قطع متجورات : یعنی مختلف قسم کی زمینیں ایک دو سرے کے ساتھ متصل اور پیوستہ ہیں، بعض زمینیں اور زرخیز زمینیں بنجر ہیں، بعض زمینیں سخت ہیں اور بعض زمینیں نرم ہیں، بعض پہاڑی زمینیں ہیں اور بعض میدانی زمینیں ہیں، بعض پتھر یلی ہیں، بعض ریگستان ہیں اور بعض نخلستان ہیں۔ بعض ایسی زمینیں جن میں صف فصلیں اور کھیت اگاے جاسکتے ہیں اور بعض ایسی زمینیں جن میں صرف باغات اور درخت اگاے جاسکتے ہیں بعض زمنیوں میں صرف اننا س، چاے، پان، پٹ سن، چاول اور بانس وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور بعض زمینوں میں صرف کھجور پیدا ہوتی ہے، بعض زمینوں میں صرف سیب، کنو، مالٹا اور آم پیدا ہوتے ہیں اور بعض زمینوں بادام، چلغوزہ، اخروٹ اور کا جو پیدا ہوتا ہے، اور بھی زمین کی اقسام ہیں جن کی پیداواری صلاحتیں الگ الگ ہے۔

صنوان : یہ صنو کی جمع ہے، اس کا معنی ہے ایک جڑ سے کھجور سے کھجور کے متعدد درخت پیدا ہوں اور غیر صنوان کا معنی ہے متعددجڑوں سے متعدد درخت پیدا ہوں۔

یسفی بماء واحد ونفصل علی بعض فی الاکل : ان سب کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم بعض پھلوں کو لذت میں بعض دوسرے پھلوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ یعنی یہ پھل خوشبو، جسامت، رنگ اور ذائقہ میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بعض پھل میٹھے اور بعض کھٹے ہیں پھر مٹھاس کا ذائقہ بھی الگ الگ ہے۔ کیلے کی مٹھاس اور ہے، کھجور کی مٹھاس اور ہے اور آم کی مٹھاس اور ہے۔ پھر آپ کی مختلف قسموں کی مٹھاس الگ الگ ہے : سرولی، دسہری، انور رٹول، فضلی اور چو نسہ، یہ سب میٹھے آم ہیں لیکن آپ الفاظ میں ان کی مٹھاس کا فرق بیان نہیں کرسکتے، کیلے اور کھجور کی مٹھاس کا فرق نہیں بیان کرسکتے انناس، آڑو اور فا لسہ یہ سب ترش لیکن آپ الفاظ میں ان کی ترشی کا فرق بیان نہیں کرسکتے۔ پس سبحان ہے وہ ذات ! جس نے ایسے متعدد اور مختلف ذائقے پیدا کیے کہ زبان ان کے اختلاف کی تعبیر کرنے سے عا جز ہے !

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : بعض کھجوریں دقل ہیں بعض فارسی ہیں۔ (یہ کھجو روں کی قسموں کے نام ہیں جیسے ہم نے آم کی قسموں کے نام رکھے ہوے ہیں) بعض کھجو ریں کھٹی ہیں اور بعض کھجو ریں میٹھی ہیں۔ سنن التزمذی رقم الحدیث 1، 3118 الکا مل لا بن دعی ج 3 ص 1270، تاریخ بغدادی ج 9 ص 226، ) 

زمین کے مختلف طبقات سے وجود باری اور توحید پر استدلال :

اس سے پہلی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمینوں، پہا ڑوں، دریاوں اور درختوں کے احوال سے اپنے وجود اور اپنی توحید پر استدلال فرمایا تھا اور آیت میں پھلوں کے مختلف ذائقوں سے اپنے وجود اور اپنی توحید پر استدلال فرمایا ہے۔ اور زمینوں کے مختلف النوع اور با ہم متصل قطعات سے اپنے وجود اور توحید پر استدلال فرمایا ہے۔ 

زمین کے مختلف قطعات سے استدلال ک کی تقریر اس طرح ہے کے تمام روے زمین کی ما ہیت اور حقیقت ایک ہے، پھر اس کے قطعات مختلف ہیں۔ بعض قطعات زرخیز ہیں اور بعض قطعات بنجر ہیں، بعض زمینیں ایسی ہیں کہ ان کے نیچے سے کھا را پانی نکلتا ہے اور بعض کے نیچے سے میٹھا پانی نکلتا ہے، بعض زمینیں ایسی ہیں کہ ایک فٹ کھو دو تو پانی نکل آتا ہے اور بعض زمینوں کو سینکڑوں فٹ کھو دو تو پانی نکلتا ہے، پس اس اختلاف کا کوئی سبب اور کوئی مخصص ہونا چا ہے اور اس مرجح کا واجب، قدیم اور واحد ہونا ضر وری ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے۔ 

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 370 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حسن بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے یہ بنو آدم کے دلوں کی مثال دی ہے، تمام روے زمین اللہ کے ہاتھ میں ایک قسم کی مٹی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو پھیلا دیا تو مختلف تو یہ مختلف قطعات بن گے، پھر آسمان سے پا رش ہو ی، تو زمین کے بعض قطعات سے اس کی ترو تازگی، اس کے پھل اور اس کی درخت اور اس کا سبزہ نمو دار ہوا اور اس با رش سے مردہ زمینیں زندہ ہوگئیں اور بعض زمینیں شور والی، کھاری اور بنجر تھیں، ان پر بھی وہی بارش ہوی اور وہ خس و خاشاک کے سوا کچھ نہ اگا سکیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور آسمان سے ان پر وحی نازک کی اور مواعظ نازل کیے۔ بعض ان مواعظ کو سن کر اللہ سے ڈرے اور اس کے سامنے جھک گے اور بعض دل سخت تھے، وہ اسی طرح لہو ولعب اور عیاشیوں میں مشغول رہے اور ان میں کوئی رقت پیدا نہیں ہوی۔ حسن بصری نے کہا اللہ کی قسم ! جو شخص بھی قرآن کو سن کر اٹھتا ہے تو اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے یا اس کی برائیوں میں اللہ فرماتا ہے : 

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلا خَسَارًا (بنی اسرائیل : ٨٢) اور ہم ایسی آیتیں نازل فرماتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہیں اور ظالموں کے لیے وہ سوا نقصان کے اور کوئی اضافہ نہیں کرتیں۔ (جامع البیان رقم الحد یث 15282، مطبو عہ دارلفکر بیروت، 1415 ھ) 

مختلف ذائقوں سے وجود باری اور توحید باری پر استدلال : 

اور پھلوں کے مختلف ذائقوں سے استدلال ک کی تقریر اس طرح ہے کہ یہ تمام پھل ایک ہی زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور ایک ہی پانی انہیں سیراب کرتا ہے، تمام پھل ایک ہی سورج کی حرارت سے پک کر تیار ہوتے ہیں، ان کی پیدائش کے ظاہری اسباب زمین، پانی اور سورج کی حرارت ہیں ان میں کوئی تفاوت اور فرق نہیں ہے، پھر ان کے ذاقے مختلف کیوں ہیں ضرور اس اختلاف کا کوئی سبب اور مر جح ہے اور اس مر جح کا واجب قدیم اور واحد ہونا ضروری ہے اور ہو ذات جو واجب لوجود ہو، قدیم ہو اور وحدہ لا شریک ہو وہی اللہ بزرگ وبر تر ہے، آپ اس کائنات کو غور سے دیکھیں، پتیوں کی مختلف تراش وخراش میں، پھلوں اور پھلوں کے مختلف رنگوں میں، ان کی مختلف خوشبوؤں میں اور ان کے مختلف ذائقوں میں یہ نظر آے گا کہ ان کا پیدا کرنے والا وہی ہے جو قدیم اور واجب ہے جس کا کوئی شریک ہیں ہے اور وہی اس کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جاے۔ 

ان درختوں کا، ان کے پتوں اور پھلوں اور پھلوں کا خا لق، حضرت عیسیٰ اور عزیز نہیں ہیں کیونکہ ان کے پیدا ہونے سے پہلے بھی اسی طرح سبزپتوں سے آراستہ اور پھلوں اور پھو لوں سے لدے ہوے درخت موجود تھے، اور ان کے ٹوٹ کر بکھر جانے کے بعد بھی یہ درخت اس طرح موجود ہوتے ہیں سورج، چاند اور ستارے بھی ان کے خالق نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کے غروب ہونے کے بعد بھی یہ درخت اسی طرح بہار دکھاتے رہتے ہیں اور آگ بھی ان کی خالق نہیں ہے کیونکہ آگ جلتی اور بھجتی رہتی ہے اور یہ درخت یو نہی لہلہا تے رہتے ہیں، اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا جس جس کی پر ستی کی گئی ہے کسی کو بقاء دوام حاصل نہیں ہوئی، ان کے وجود اور عدم سے ان درختوں کے وجود اور عدم پر کوئی فرق نہیں پڑا تو کیا یہ درخت، ان کے پتے، ان کے پھول اور ان کے یہ پھل یہ گو اہی نہیں دیتے کہ ان کی پیدا ئش اور ان کے وجود میں ان ساختہ خداؤں کا کوئی دخل نہیں ہے جن کی مشرکین نے پرستش کی اور ان کا وجود اس کی ایجاد سے قائم ہے جس نے ان کو، ان کے خود ساختہ خداؤں کو اور ساری کائنات کو پیدا کیا ہے، وہ جو ممکن نہیں ہے واجب الوجود ہے، حادث نہیں ہے قدیم ہے اسر جس کا کوئی شریک نہیں ہے، جو واحد ہے اور وہی اللہ بزرگ و برتر ہے !

صنوان اور صنو کے معنی : 

اس آیت میں درختوں کے متعلق فرمایا : وہ صنو ان اور غیر صنوان ہیں۔ حضرت براء (رض) نے فرمایا : جو متعدد کھجور کے درخت ایک جڑ سے ہوں وہ صنوان ہیں اور جو متفرق جڑوں سے ہوں وہ غیر صنوان ہیں۔ (الجامع لا حکام القرآن جز 9 ص 247، مطبع عہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) 

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے حضرت عمر بن الخطا باور حضرت عباس (رض) کے درمیان منا قشہ ہوگیا۔ حضرت عباس نے حضرت عمر کو سخت کلمات کہے، حضرت عمر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گے اور کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عباس نے مجھے کیا کہا ہے۔ میں نے ان کو جواب دینے کا ارادہ کی تھا لیکن میں نے ان کے آپ سے قرب اور رشتہ کا پاس کی اور میں رک گیا۔ آپ نے فرمایا : اللہ تم پر رحم کر ان عمالر جل صنوابیہ۔ کسی شخص کا چچا اس کے پاب کی مانند ہوتا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :15277، سنن الترمذی رقم الحدیث :3758، مسند احمد ج 1 ص 1، 207 السنن الکبری للنسائی رقم الحیث :11289 المستدرک ج 3 ص 333، اسد الغا بہ ج 3 ص 165)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 4