أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰى لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَاٰبٍ ۞

ترجمہ:

جو لوگ ایمان لائے (اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے طوبی (خوش حالی) اور اچھا ٹھکانا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے طوبی ( خوش حالی) اور اچھا ٹھکانا ہے۔ (الرعد : 29) 

طوبی کا معنی اور اسکے متعلق احادیث :

طوبی طیب کا مصدر ہے اور اس معنی مومنین پاکیزہ زندگی ہے اور نعمت اور خیر اور سرور ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ طوبی جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو سال تک سفر کرتا رہے گا اور حسن مآب کا معنی ہے عزت والا ٹھکانا۔ 

عتبہ بن عبد بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! کیا جنت میں پھل ہو گے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طو بی ہے۔ الحدیث۔ (مسند احمد ج 4، ص 183، مسند احمد رقم الحدیث : 17792، عالم الکتب، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 7371، المعجم الکبیر ج 7 ص 126، رقم الحدیث :312) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ! اس شخص کے لیے طوبی (خوشی) ہو جس نے 

آپ کی دیکھا اور آپ پر ایمان لایا۔ آپ نے فرمایا اس کے لیے طوبی ہو جس نے مجھ کو دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا پھر طوبی ہو، پھر طوبی ہو، پھر طوبی ہو اس کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا حالانکہ اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ایک شخص نے پو چھا طو بی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ جنت میں ایک درخت ہے، اس کی سو سال کی مسافت ہے اور اہل جنت کا لباس اس کے سگوفوں سے نکلتا ہے۔ الحدیث، (مسند احمد ج 3 ص 71، مسند ابو یعلی رقم الحدیث :1374، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 7186) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو سال تک چلتا رہے گا اور اگر تم چاہو تو قرآن مجید کی یہ آیت بڑھو : وظل ممدود (الواقعہ : 30) مسند احمد ج 3 ص 110 صحیح مسلم رقم الحدیث 2826، سنن الترمذی رقم الحدیث :3292)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 29