أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ‌‌ ۚ فَالَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ قُلُوۡبُهُمۡ مُّنۡكِرَةٌ وَّهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

تمہاری عبادت کا مستحق، واحد عبادت کا مستحق ہے، سو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل انکار کرنے والے ہیں اور وہ تکبر کرنے والے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہاری عبادت کا مستحق، واحد عبادت کا مستحق ہے، سو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل انکار کرنے والے ہیں اور وہ تکبر کرنے والے ہیں۔ یقینا اللہ ان چیزوں کو جانتا ہے جن کو وہ چھپاتے ہیں اور جن کو وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (النحل : ٢٢، ٢٣ )

کفار مکہ کے شرک پر اصرار کا سبب :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کا رد فرمایا، اور کافروں کے مذہب کا قوی دلائل سے رد فرمایا، اور اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ کفار مکہ کس وجہ سے توحید کا انکار کرتے تھے اور شرک پر اصرار کرتے تھے اور اس وجہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ جب نیکیوں پر ثواب کے دلائل اور برائیوں پر عذاب کے دلائل سنتے ہیں تو وہ ثواب کے حصول میں رغبت کرتے ہیں اور دائمی عذاب سے ڈرتے ہیں، اور وہ ان دلائل کو سن کر ان میں غور و فکر کرتے ہیں، اور ان دلائل سے نفع حاصل کرتے ہیں اور باطل سے حق کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ نہ دائمی عذاب کی وعید سے ڈرتے ہیں اور نہ حصول ثواب کی توقع کرتے ہیں، وہ ہر اس دلیل اور نصیحت کا انکار کرتے ہیں جو ان کے قول کے مخالف ہو اور دوسرے شخص کے قول کو ماننے اور قبول کرنے سے تکبر کرتے ہیں، سو وہ اپنی جہالت اور گمراہی کی وجہ سے اپنے قول پر ڈٹے رہتے ہیں۔

تکبر کی مذمت کے متعلق احادیث :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کا شرک پر اصرار کرنا اور اپنے باطل مذہب پر ڈٹے رہنا اس وجہ سے نہ تھا کہ اسلام کے خلاف ان کے کچھ شبہات اور اشکالات تھے بلکہ وہ محض باپ دادا کی تقلید کی وجہ سے اور حق کو قبول کرنے سے تکبر کیو جہ سے تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، تکبر کی مذمت حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، ایک شخص نے کہا انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے خوبصورت ہوں اس کی جوتی خوبصورتی ہو، آپ نے فرمایا اللہ جمیل ہے اور جمال سے محبت کرتا ہے، تکبر حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩١، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤٠٩١، سنن الترمذی رقم الحدی : ١٩٩٩، ١٩٩٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٧٣، ج ١ ص ٤١٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٢٤، المستدرک ج ١، ص ٢٦ )

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا، ان کو ہر طرف سے ذلت اور رسوائی گھیر لے گی، ان کو دوزخ کے قید خانہ کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا جس کا نام بولس ہے، جس میں ہر طرف اور اوپر تلے آگ ہوگی، ان کو دوزخیوں کے جسموں سے نکلی ہوئی پیپ اور خون کا آمیزہ پلایا جائے گا۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : ٢٤٩٢، مسند الحمیدی رقم الحدی : ٥٩٨، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٩، ص ٩٠، مسند احمد ج ٢، ص ١٧٩، الادب المفرد، رقم الحدیث : ٥٥٧، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٨٨٠٠)

متکبرین کی مغفرت نہ ہونے کی احادیث کی توجیہ :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تکبر کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ تکبر زیادہ سے زیادہ گناہ کبیرہ ہے اور مرتکب کبائر کی تو بخشش ہوجائے گی۔ علامہ خطابی نے اس کا جواب دیا ہے کہ جس شخص کا خاتمہ ایمان لانے سے تکبر پر ہوا وہ جنت میں بالکل داخل نہیں ہوگا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ وہ تکبر کے ساتھ جنت میں نہیں داخل ہوگا بلکہ جنت میں دخول سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کے س ینے سے تکبر نکال لے گا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

ونزعنا ما فی صدورھم من غل۔ (الاعراف : ٤٣) اور ہم ان کے سینوں میں سے جو کچھ بھی کھوٹ ہے اس کو نکال لیں گے۔

لیکن یہ دونوں جواب بعید ہیں، پہلا جواب اس لیے بعید ہے کہ حدیث میں تکبر کا معروف معنی مراد ہے یعنی حق بات کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا، اس لیے حدیث کا صحیح محل یہ ہے کہ وہ تکبر کی سزا پائے بغیر پہلی مرتبہ یا ابتدا جنت میں داخل نہیں ہوگا، دوسرا صحیح جواب یہ ہے کہا گر اس کو سزا دی گئی تو وہ اس سزا کا مستحق ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کرم فرما کر اس کو سزا نہیں دے گا، اس نے اپنے کرم سے وعدہ فرما لیا ہے کہ وہ موحدین کو جنت میں داخل فرمائے گا خواہ ابتدا خواہ بعض ان مرتکبین کو سزا دینے کے بعد جو اس حال میں مرے کہ وہ اپنے کبیرہ گناہوں پر اصرار کر رہے تھے، اس کا ایک اور جواب یہ ہے کہ وہ پہلی بار متقین کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک اور صحیح جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے کہ جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہو وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کفار کی طرح دوام اور خلود کے لیے دوزخ میں داخل نہیں ہوگا۔

امت مسلمہ کو مطلقا عذاب نہ ہونے کی تحقیق : 

حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میری یہ امت، امت مرحومہ ہے، اس پر آخرت میں عذاب نہیں ہوگا، اس کا عذاب دنیا میں فتنوں، زلزلوں اور قتل کی صورت میں ہوگا۔ (سنن ابو داؤد، رقم الحدی : ٤٢٧٨، المعجم الصغیر ج ١، ص ٩٠، المستدرک ج ٤، ص ٤٤٤، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے، کنز العمال رقم الحدیث : ٣٤٤٥٢، صحیح الجامع الالبانی، رقم الحدی : ١٣٩٦، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ١٦٢٢ )

حافظ سیوطی نے اس حدیث کے صحیح ہونے کی رمز (اشارہ کی ہے۔

حافظ منذری متوفی ٦٥٦ ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :

اس حدیث کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے اس کا نام عبدالرحمن بن عبداللہ بن عقبہ بن مسعود الہزنی الکوفی ہے اس کی حدیث سے امام بخاری نے استدلال کیا ہے اور ایک سے زیادہ ائمہ حدیث نے اس پر کلام کیا ہے، عقیلی نے کہا ہے کہ آخر عمر میں اس کا حافظہ متغیر ہوگیا تھا اور اس کی حدیث میں اضطراب ہے، امام ابن حبان نے کہا اسکی حدیث خلط ملط ہیں اور ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہیں اس کی روایت ترک کرنے کی مستحق ہے۔ (مخصر سنن ابو داؤد، ج ٦ ص ١٥٥، مطبوعہ دار المعرفہ بیروت)

علامہ عبدالرؤف مناوی شافعی متوجی ١٠٠٣ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

آپ نے جو فرمایا ہے میری امت تو اس سے مراد آپ کی وہ امت ہے جو آپ کے دور اور آپ کے قریب میں موجود تھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد آپ کی امت اجابت ہو، یعنی سابقہ کتابوں میں اس امت پر خصوصی رحمت کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ جو فرمایا ہے کہ اس امت پر آخرت میں عذاب کی جلن محسوس نہیں ہوگی کیونکہ جب ان کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا تو ان پر موت طاری کردی جائے گی، اور بعض لوگوں نے یہ جواب دیا ہے کہ اس کے عام اعضاء کو عذاب نہیں ہوگا کیونکہ اعضاء وضو کو عذاب نہیں دیا جائے گا مگر اس جواب میں بلا وجہ تکلف ہے۔ (فیض القدیر ج ٣، ص ١٤٧١، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

امت مسلمہ کو مطلقا عذاب نہ ہونے کے متعلق حضرت مجدد الف ثانی کا نظریہ :

حضرت مجدد الف ثانی اس مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں :

فقیر کے نزدیک دوزخ کا عذاب خواہ موقت خواہ دائمی، کفر اور صفات کفر کے ساتھ مخصوص ہے، چناچہ اس کی تحقیق آگے آئے گی اور وہ اہل کبائر کہ جن کے گناہ توبہ یا شفاعت یا صرف عفو و احسان کے ساتھ مغفرت میں نہیں آئے یا جن کبیرہ گناہوں کا کفارہ دنیا کے رنج اور تکلیفوں اور موت کی سکرات اور سختیوں کے ساتھ نہیں ہوا، امید ہے کہ ان کے عذاب میں بعض کو عذاب قبر کے ساتھ کفایت کریں گے، اور بعض کو قبر کی تکلیفوں کے علاوہ قیامت کی سختیوں اور ہول کے ساتھ کفایت کریں گے، اور ان کے گناہوں میں سے کوئی ایسا گناہ باقی نہ چھوڑیں گے جس کے لیے عذاب دوزخ کی ضرورت پڑے۔ آیت کریمہ :

الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن (پ ٧، ع ١٥) وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لیے امن ہے۔

اس مضمون کی موید ہے کیونکہ ظلم سے مراد شرک ہے :

واللہ سبحانہ اعلم بحقائق الامور کلھا۔ اور تمام امور کی حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

اگر کہیں کہ کفر کے سوا بعض اور برائیوں کی جزا بھی دوزخ کا عذاب ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ومن قتل مومنا متعمدا فجزاہ جھنم خالدا فیھا۔ جس نے کسی مومن کو عمدا قتل کیا اس کی جزا جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔

اور اخبار میں بھی آیا ہے کہ جو شخص ایک نماز فریضہ کو عمدا قضا کرے گا، اس کو ایک حقبہ دوزخ میں عذاب دیں گے۔ پس دوزخ کا عذاب صرف کفار کے ساتھ مخصوص نہ رہا۔

میں کہتا ہوں کہ قتل کا یہ عذاب اس شخص کے لیے ہے جو قتل کو حلال جانے، کیونکہ قتل کو حلال جاننے والا کافر ہے، جیسے کہ بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ اور کفر کے سوا اور برائیاں جن کے لیے دوزخ کا عذاب آیا ہے، وہ بھی صفات کفر کی آمیزش سے خالی نہ ہوں گی، جیسے کہ اس برائی کو خفیف سمجھنا اور اس کے بجا لانے کے وقت لاپروائی کرنا اور شریعت کے امر و ونہی کو خواہ سمجھنا وغیرہ وغیرہ۔

اور حدیث میں آیا ہے :

شفاعتی لاھل الکبار من امتی۔ میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہوگی۔

اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ :

امتی امۃ مرحومۃ لا عذاب لکھا فی الاخرۃ۔ میری امت، امت مرحومہ ہے، اس کو عذاب آخرت نہ ہوگا۔

اور آیت کریمہ الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن، اسی مضمون کی موید ہے، جیسے کہ مذکور ہوا۔ اور مشرکوں کے اطفال اور شاہقان جبل اور پیغمبروں کے زمانہ فرت کے مشرکوں کا حال اس مکتوب میں جو فرزندی محمد سعید کے نام ہے مفصل ہوچکا ہے وہاں سے معلوم کرلیں۔ (اردو ترجمہ مکتوبات حصہ چہارم، دفتر اول متوکب : ٢٦٦، ج ٢، ص ١٧٥، ١٧٤، مطبوعہ کراچی)

امت مسلمہ کو مطلقا عذاب نہ ہونے کے متعلق اعلی حضرت کے والد کا نظریہ :

مولانا نقی علی خاں متوفی ١٢٩٧ ھ لکھتے ہیں :

مسئلہ (١٢) نظر بدلیل سابق یہ دعا کہ خدایا سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے جائز نہیں، کہ جس طرح وہاں تکذیب آیات لازم آتی ہے اس دعا سے ان احادیث کی تکذیب ہوتی ہے جن میں بعض مسلمانوں کا دوزخ میں جانا وارد ہوا، اور ان کا آحاد ہونا اس جرات کا مجوز نہیں، او قولہ عزوجل یستغفرون لمن فی الارض اور فاغفر للذین تابوا ای من الکفر فیعم المسلمین ان کے منافی اور اس دعا کے جواز کے لیے کافی نہیں، کہ افعال سیاق ثبوت میں اجماعا عموم پر دلالت نہیں کرتے، اور بر تقدیر تسلیم اس جگہ خصوصی مراد ہے، تاقواعد شرع سے خلاف لازم نہ آئے۔ ہاں اللھم اغفرلی ولجمیع المسلمین سے نیت تعمیم حقیقی جائز ہے۔ ھذا حاصل کلام القرا فی ذکرہ فی شرح المنیۃ لابن امیر الحاج۔ (احسن الوعا لاداب الدعا ص ١٠١، ١٠٠، مطبوعہ کراچی)

امت مسلمہ کو مطلقا عذاب نہ ہونے کے متعلق اعلی حضرت امام احمد رضا کا نظریہ :

اعلی حضرت امام احمد رضا متوفی ١٣٤٠ ھ اس مسئلہ کے متعلق لکھتے ہیں :

قال الرضا : یہ دوسرا مسئلہ معرکۃ الآرا ہے، علامہ قرافی وغیرہ علما تو عدم جوز کی طرف گئے، اور علامہ کرمانی نے اس میں منازعت کی، جسے شرح منیہ میں رد کردیا، پھر محقق جلی نے اس بنا پر کہ مسلمانوں کے لیے خلف وعید، بعمنی عطا و مغفرت جائز (بلکہ قطعا واقع ہے) اور اہل دعا میں برادران دینی پر شفقت سمجھی جاتی ہے۔ اور جواز دعا جواز مغفرت پر مبنی ہے، نہ وقوع پر، تو عدم وقوع مغفرت جمیع کی حدیثیں اس دعا کے خلاف نہیں، اس کے جواز کی طرف میل کیا۔ علامہ زین نے بحر الرائق میں پھر علامہ محقق علائی نے در مختار میں ان کی تبعیت کی۔ مگر اس میں صریح خدشہ ہے کہ جواز صرف عقلی ہے نہ شرعی، کہ حدیث متواتر المعنی سے بعض مومنین کی تعذیب ثابت۔ اور نووی وابی ولقانی نے اس پر اجماع نقل کیا۔ اور جواز دعا کے لیے صرف جواز عقلی باوجود استحالہ شرعی کافی ہونا مسلم نہیں۔ اس طرف محقق شامی نے رد المختار میں اشارہ فرمایا۔ رہا اظہار شفقت سے عذر میں کہتا ہوں وہ محل تکذیب نصوص میں قابل سماعت نہیں۔ فتامل ثم اقول وباللہ التوفیق۔ یہاں تتمیمیں دو ہیں۔ ایک تعمیم مسلمین دوسری تعمیم ذنوب، اگر داعی صرف تعمیم اول پر قناعت کرے مثلا کہے : اللھم اغفرلی ولوالدی وللمومنین والمومنات یا اللھم اغفر لامۃ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو قطعا جائز ہے۔ اور اس کا امام قرانی کو بھی انکار نہیں، اور اس کے فضل میں احادیث وارد اور اس کا جوز آیات سے مستفاد اور یہ طبقہ، طبقہ مسلمین بلا نکیر شائع اور اگر صرف تعیمیم ثانی پر اکتفا کرے مثلا اپنے لیے کہے الہی میرے سب گناہ چھوٹے بڑے ظاہر چھپے اگلے پچھلے معاف فرمایا، یا کہے یا الہی میرے اور میرے والدین و مشائخ و احباب و اصول و فروغ اور تمام اہل سنت کے لیے ایسی مغفرت کر جو اصلا کسی گناہ کا نام نہ رکھے جب بھی قطعا جائز اور اس قسم کی دعا بھی حدیث میں وارد اور مسلمین میں متوارث ان دونوں صورتوں کے جوز میں تو کسی کو کلام نہیں ہوسکتا کہ اس میں اسلا کسی نص کی تکذیب نہیں، صورت ثانیہ میں تو ظاہر ہے کہ نصوص صرف اس قدر دال کہ بعض مسلمین معذب ہوں گے ممکن کہ وہ داعی اور اوس کے والدین و مشائخ و احباب و جمیع اہلسنت کے سوا اور لوگ ہوں، اسی طرح صورت اولی میں کوئی حرج نہیں کہ ہر مسلمان کے لیے فی الجملہ مغفرت اور بعض پر بعض ذنوب کی وجہ سے عذاب ہونے میں تنافی نہیں۔

اقول : بعض نصوص سے نکال سکتے ہیں کہ فی الجملہ مغفرت ہر مسلمان کے لیے ہوگی، احادیث صریحہ ناطق کے حضور اقدس کی شفاعت سے ہر وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے دوزخ سے نکال لیا جائے، تو ضرور ہے کہ یہ نکلنا قبل پوری سزا پالینے کے ہو، ورنہ شفاعت کا اثر کیا ہوا، اب رہی صورت ثالثہ یعنی داعی دونوں تعمیمیں کرے۔ مثلا کہے الہی سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے۔

اقول : اس کے پھر دو معنی متحمل ایک یہ کہ مغفرت بمعنی تجاوز فی الجملہ کے لیں تو حاصل یہ ہوگا کہ الہی کسی مسلمان کو اس کے گناہ کی پوری سزا نہ دے، اس کے جواز میں بھی کچھ کلام نہیں کہ مفاد نصوص مطلقا تعذیب بعض عصاۃ ہے نہ استیفائے جزائے بعض ذنوب۔ بلکہ کریم کبھی استقصا نہیں فرمایا۔ الا تری الی قولہ تعالیٰ عرف بعضہ واعرض عن بعض۔ جب اکرم الخلق مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی پورا مواخذہ نہیں فرمایا تو ان کا مولی عزوجل تو اکرم الاکرمین ہے۔

دوسرے یہ کہ مغفرت تامہ کاملہ مراد لی جائے، یعنی ہر مسلمان کے ہر گناہ کی پوری مغفرت کر، کہ کسی مسلمان کے کسی گناہ پر اسلام واخذہ نہ کیا جائے، یہ بیشک تکذیب نصوص کی طرف جائے گا، اور اسی کو امام قرافی ناجائز فرماتے ہیں اور بیشک یہی من حیث الدلیل راجح نظر آتا ہے اور اس طرح کی دعا کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں اور مسلمین کے حق میں خلف و عبد کا جواز ( جس سے خود حسب تصریح حلیہ و دیگر قائلان جوز عفو و مغفرت مراد اور وہ یقینا اجماعا جائز بلکہ واقع ہے) اس مسئلہ میں کیا مفید کہ بعض کے لیے اس کا عدم وقوع عذاب تواتر و اجماع سے ثابت تو یہاں کلام حلیہ محل کلام ہے، اور مسئلہ ائمہ کیا مشائخ سے بھی منقول نہیں ہے کہ دوسروں کو مجال سخن نہ رہے، پس احوط یہی ہے کہ اس صورت ثالثہ کے معنی ثانی سے احتراز کرے۔ شاید مصنف علامہ قدس سرہ نے اسی لیے کلام امام قرافی پر اقتصار فرمایا کہ رجحان و احتیاط اسی طرف ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ھذا ما ظھر لی فی النظر الحاضر فتامل لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔ (ذیل المدعا لاحسن الوعاء ص ١٠١۔ ١٠٥، مطبوعہ کراچی)

امت مسلمہ کو مطلقا عذاب نہ ہونے کے متعلق مصنف کی تحقیق :

بعض گنہگار، مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کی وجہ سے بخش سے گا اور بعض گنہگار مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ان کے نابالغ بچوں، شہدا، صلحا اور بعض خوش نصیبوں کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت کی وجہ سے بخش دے گا، اور بعض کو محض اپنے فضل سے بخش دے گا اور بعض کو کچھ سزا دینے کے بعد بخشے گا اور کچھ عرصہ کے بعد دوزخ سے نکال لے گا، جیسا کہ ان احادیث سے ظاہر ہے :

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل جنت، جنت میں داخل ہوں گے اور اہل دوزخ، دوزخ میں، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہے اس کو دوزخ سے نکال لو، پھر ان کو ودزخ سے حال میں نکالا جائے گا کہ وہ جل کر سیاہ ہوچکے ہوں گے، پھر ان کو حیا یا نہر حیات میں ڈال دیا جائے گا پھر وہ اس طرح نشو ونما پانے لگیں گے جس طرح سیلاب کی مٹی میں دانہ بہت جلد بڑھنے لگتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ زرد رنگ کا لپٹا ہوا نکلنا ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٢٢، صحیح مسلم رقم الحدیث، ١٨٤، مسند احمد رقم الحدیث ١١٥٥٤ )

امام بکاری اور امام مسلم حضرت ابو سعید سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں اس کے آخر میں ہے :

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہا گر تم میری اس بیان کردہ حدیث کی تصدیق نہیں کرتے تو قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھو : ترجمہ۔ لاریب اللہ تعالیٰ ایک ذرہ کے برابر بھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں فرمائے گا اور جس شخص نے ایک نیکی بھی کی ہو تو اس کو دگنا کردے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا فرشتے، انبیا اور تمام مسلمان شفاعت کر کے فارغ ہوگئے اب گنہگاروں کے لیے سوائے ارحم الرحمین کے کوئی باقی نہیں رہا، پھر اللہ تعالیٰ ایک مٹھی بھر کر دوزخ میں سے ان لوگوں کو نکال لے گا جنہوں نے اصلا کوئی نیکی نہیں کی ہوگی، اور وہ لوگ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے دروازہ پر آب حیات کی نہر میں ڈال دے گا اور وہ اس نہر سے اس طرح تروتازہ نکل کھڑے ہوں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں سے دانہ اگ پڑتا ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو دانہ پتھر یا درخت کے پاس آفتاب کے رخ پر ہوتا ہے وہ زرد یا سبز رنگ کا پودا بن جاتا ہے جو دانہ سائے کی جانب ہوتا ہے اس کا پودا سفید رنگ کا ہوتا ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا حضور آپ تو زرعی معاملات کو اس طرح بیان فرما رہے جیسے آپ جنگلوں میں جانور چراتے رہے ہوں، آپ نے (سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے) فرمایا وہ لوگ اس نہر سے موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے اور ان کی گردنوں میں سونے کے پٹے پڑے ہوئے ہوں گے جن کی وجہ سے اہل جنت انہیں پہچان لیں گے اور ان کے بارے میں کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی نیک عمل کے جہنم سے آزاد کردیا ہے اور جنت میں داخل کردیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جنت میں داخل ہوجاؤ، اور جس چیز کو تم دیکھو گے وہ تمہاری ہوجائے گی وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہم کو وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو جہان والوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے پاس تمہارے لیے اس سے افضل چیز ہے وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے رب وہ کیا چیز ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری رضا، اس کے بعد اب میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٣، صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٧٤٣٩، مسند احمد رقم الحدیث : ١١٥٥٤ )

نیز امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جہنمیوں سے جو لوگ کافر اور مشرک ہیں وہ نہ تو جہنم میں مریں گے اور نہ ہی زندگی کا لطف پائیں گے التبہ کچھ مسلمان ایسے ہوں گے جن کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں ڈالا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان پر موت طاری کردے گا یہاں تک کہ وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے پھر جب شفاعت کی اجازت ہوگی تو ان کو گروہ در گروہ بلایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں میں ڈال دیا جائے گا پھر اہل جنت سے کہا جائے گا ان پر پانی ڈالوجس کے سبب وہ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے پانی سے آنے والی مٹی میں دانہ سرسبز و شاداب ہو کر نکل آتا ہے، یہ سن کر صحابہ میں سے ایک شخص کہنے لگا یوں لگتا ہے جیسے رسول اللہ جنگل میں رہے ہوں۔

امام مسلم فرماتے ہیں کہ ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابو سعید کی یہی روایت منقل ہے مگر اس میں دانہ کے اگ پڑنے تک کا ذکر ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٨٤، صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦٥٦٠ )

صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی ان احادیث صحیحہ سے واضح ہوگیا کہ بعض گنہگار مسلمانوں کو کچھ عرصہ تطرہی کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے گا اور پھر دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا، اور سنن ابو داؤ کی جس حدیث میں ہے یہ امت مرحومہ ہے اس پر آخرت میں عذاب نہیں ہوگا۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٢٧٨) اس کے ساتھ اس طرح تطبیق دی جائے گی کہ عذاب کا معنی ہے درد اور اذیت کا ادراک، جب کسی شخص کو بےہوش کر کے اس کے جسم کا کوئی بڑا آپریشن کرتے ہیں تو اس کو درد اور تکلیف کا مطلقا احساس نہیں ہوتا، اس لیے ہوسکتا ہے کہ جب گنہگار مسلمانوں کو دوزخ میں ڈالا جائے تو ان کے مشاعر اور ہوش و حواس ماؤف کردیا جائے اور ان کو دوزخ میں جلنے کا مطلقا ادراک نہ ہو اس طرح صورتا عذاب میں مبتلا ہوں گے کہ ان کا جسم جل کر کوئلہ ہوگیا ہوگا اور یہی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کا محمل ہے، اور ان کو حقیقتا عذاب نہیں ہوگا اور یہی سنن ابو داؤد کی روایت کا محمل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 22