أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا بِكُمۡ مِّنۡ نّـِعۡمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيۡهِ تَجْئَرُوۡنَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔ پھر جب وہ تم سے اس مصیبت کو دور کردیتا ہے تو پھر تم میں سے ایک فریق اپنے رب کے ساتھ شریک بنا لیتا ہے۔ تاکہ وہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں، سو تم (عارضی) فائدہ اٹھا لو پھر تم عنقریب جان لوگے۔ (النحل : ٥٥۔ ٥٣ )

شکر کے شرعی احکام اور اس کے متعلق احادیث :

اس سے پہلی آیت میں یہ بتایا تھا کہ انسان کو اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ انسان کے سب سے زیادہ شکر کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے، کیونکہ شکر نعمت پر واجب ہوتا ہے اور انسان کو ہر نعمت اللہ تعالیٰ سے ملی ہے، اس لیے اس کے شکر کا سب سے زیادہ مستحق اللہ تعالیٰ ہے۔

نعمت یا دنیوی ہوتی ہے یا نعمت دینی ہوتی ہے، اور دنیوی نعمت یا اس کے بدن میں ہوتی ہے یا اس کے نفس میں ہوتی ہے یا کوئی خارجی نعمت ہوتی ہے، اور دینی نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندہ کو مومن بنایا اور اس کو اعمال صالحہ کی توفیق دی اس کو دین کا علم عطا فرمایا، سو بندہ پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے اور جن ذرائع اور وسائل سے اور جن لوگوں کی وساطت سے اس کو یہ نعمتیں حاصل ہوئی ہیں ان کا بھی شکر ادا کرے کیونکہ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکر گزار نہیں ہے وہ اللہ کا شکر گزار بھی نہیں ہے۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٨١١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٤ )

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ ! سارا اجر تو انصار لے گئے، آپ نے فرمایا نہیں ! جب تک تم ان کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہو گے اور ان کی نیکیوں کی تعریف کرتے رہو گے۔ (سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤٨١٢)

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو کوئی نعمت دی گئی اور اس نے اس نعمت کا ذکر کیا تو اس نے اس نعمت کا شکر ادا کردیا اور جس نے اس نعمت کو چھپالیا تو اس نے کفران نعمت کیا۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٨١٤)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل جس بندہ کو کوئی نعمت عطا فرمائے اور اس کو یہ یقین ہو کہ یہ نعمت اللہ عزوجل کی طرف سے ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا شکر لکھ لیتا ہے اور اللہ عزوجل کو جس بندہ کے متعلق یہ علم ہوگا کہ وہ گناہ پر نادم ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے استغفار کرنے سے پہلے اس کو بخش دیتا ہے اور جو شخص کسی کپڑے کو ایک دینار کا خریدے اور اس کو پہنتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد کرے تو ابھی وہ کپڑا اس کے گھٹنوں تک نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کردیتا ہے۔ (المستدرک ج ١ ص ٥١٤، کتاب الخرائلی باب الشکر رقم الحدیث : ٤٠، رسائل ابن ابی الدنیا باب الشکر رقم الحدیث : ٤٧ )

شکر کے متعلق ہم نے زیادہ احادیث اور آثار ابراہیم : ٧میں بیان کیے ہیں اور وہاں اس کی تعریف اور تحقیق کی ہے۔

مصیبت کے وقت اللہ کو پکارنا اور مصیبت ٹلنے کے بعد اللہ کو بھول جانا :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : پھر جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔

اس آیت میں فریاد کے لیے لفظ تجئرون، اس کا معنی ہے چلا کر فریاد کرنا، یعنی جب تم پر مصیبت آتی ہے تو تم رو رو کر اور چلا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہو اور اس سے فریاد کرتے ہو۔

اس کے بعد فرمایا ! پھر جب وہ تم سے اس مصیبت کو دور کردیتا ہے تو پھر تم میں سے ایک فریق اپنے رب کے ساتھ شریک بنا لیتا ہے تاکہ (انجام کار) وہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں۔

اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ تمام نعمتیں انسانوں کو اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے، پھر جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور اس سے وہ نعمت زائل ہوجاتی ہے، تو وہ اللہ سے فریاد کرتا ہے کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اس کی فریاد کو نہیں پہنچ سکتا، اور نہ اللہ کے سوا اس کی کوئی جائے پناہ ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ انسان سے اس مصیبت کو زائل کردیتا ہے، تو پھر اس صورت میں انسانوں کے احوال مختلف ہوتے ہیں، بعض انسان تو اللہ عزوجل کے ساتھ وابستگی پر قائم رہتے ہیں اور اس مصیبت کے زائل ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، اور بعض انسانوں کے عقائد میں تبدیلی آجاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے غیر کو شریک بنا لیتے ہیں، اور یہ انتہائی ناسپاسی، احسان فراموشی، جہالت اور گمراہی ہے، قرآن مجید میں اس طرح کی اور بھی آیات ہیں :

فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجھم الی البر اذا ھم یشرکون۔ (العنکبوت : ٦٥) پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں وہ اس وقت اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو اچانک وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔

واذا مسکم الضر فی البحر ضل من تدعون الا ایاہ، فلما نجھم الی البر اعرضتم، وکان الانسان کفورا۔ (بنی اسرائیل : ٦٧) اور جب سمندر میں تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے تھے وہ سب گم ہوجاتے ہیں، پھر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو تم (اس سے) منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔

قل من ینجیکم من طلمت البر والبحر تدعونہ تضرعا خفیہ، لئن انجانامن ھذہ لنکونن من الشاکرین۔ قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب ثم انتم تشرکون۔ (الانعام : ٦٣، ٦٤) آپ کہیے کہ تمہیں خشکی اور سمندروں کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے، جس کو تم گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو، کہ اگر اس نے ہم کو اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے۔ آپ کہیے تمہیں اللہ تعالیٰ ہی اس مصیبت سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے، پھر (بھی) تم شرک کرتے ہو۔

پھر جب اللہ تمہیں مصائب اور پریشانیوں سے نجات دے دیتا ہے تو تم اللہ عزوجل کے اس انعام کا انکار کرتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمیں تو ہمارے خود ساختہ معبودوں نے اور بتوں نے بچایا ہے، اسی طرح جب انسان کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو شفا عطا فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں فلاں دوا سے ٹھیک ہوگیا یا فلاں ڈاکٹر کے علاج سے میں صحت مند ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا، جو موثر حقیقی ہے، مسلمان اولیاء کرام کے توسل سے دعائیں کرتے ہیں اور اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں اور جب ان کی حاجت پوری ہوجاتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صرف ان اولیاء کا ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ نے کرم فرمایا، اور فلاں بزرگ نے میرا کام کردیا، وہ بزرگوں کا نام لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے، ہم یہ نہیں کہتے کہ بزرگوں کا نام نہ لیا جائے یا ان کو ایصال ثواب نہ کیا جائے اور ان کی تعظیم و تکریم نہ کی جائے لیکن جو موثر حقیقی ہے اور اصل کارساز ہے اس کا بھی تو نام لیں اور اس کا بھی شکر ادا کریں کیونکہ یہ بزرگ تو مجازی کارساز ہیں حقیقی کارساز تو اللہ عزوجل ہے وہ اگر نہ چاہے تو کسی کا وسیلہ کام آسکتا ہے نہ کسی کی دعا کام آسکتی ہے۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

آج یکم محرم ٦٠٢ ھ کو جب میں اس کتاب کے اوراق لکھ رہا تھا، اس وقت صبح کا وقت تھا اچانک بہت سخت زلزلہ آیا اور زبردست جھٹکے لگنے لگے، میں نے لوگوں کو دیکھا وہ چیخ چیخ کر دعا مانگ رہے تھے اور گڑ گڑا رہے تھے، پھر جب زمین پر سکون ہوگئی اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی اور حالات معمول پر آگئے تو میں نے دیکھا لوگ پھر اپنی حرکتوں کی طرف لوٹ گئے اور اسی طرح لغو اور بےہودہ کاموں میں مشغول ہوگئے اور وہ بھول گئے کہ ابھی وہ تھوڑی دیر پہلے چیخ و پکار کر رہے تھے، اللہ کے نام کی دہائی دے رہے تھے اور اس سے گڑ گڑا کر دائیں کر رہے تھے۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٢٤٣، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی نے اپنے دور کے حالات کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ اس آیت کا مصداق ہے :

واذا مس الانسان ضر دعا ربہ منیبا الیہ ثم اذا خولہ نعمۃ منہ نسی ماکان یدعوا الیہ من قبل۔ (الزمر : ٨) اور جب انسان کو کوئی مصیت پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہوا اس کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اسے کوئی نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کو پکارتا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 53