أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعۡضَكُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ فِى الرِّزۡقِ‌ۚ فَمَا الَّذِيۡنَ فُضِّلُوۡا بِرَآدِّىۡ رِزۡقِهِمۡ عَلٰى مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَهُمۡ فِيۡهِ سَوَآءٌ‌ ؕ اَفَبِنِعۡمَةِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے سو جن کو رزق میں فضیلت دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے ان غلاموں کو دینے والے تو نہیں ہیں جو ان کی ملکیت میں ہیں تاکہ وہ رزق میں برابر ہوجائیں، پس کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کریں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے سو جن کو رزق میں فضیلت دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے ان غلاموں کو دینے والے تو نہیں ہیں جو ان کی ملکیت میں ہیں تاکہ وہ رزق میں برابر ہوجائیں، پس کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کریں گے۔ (النحل : ٧١)

شرک کے رد پر ایک دلیل :

اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بت پرستوں کے لیے بیان فرمائی ہے یعنی جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر نہیں قرار دیتے تو تم میرے بندوں کو یا میری مخلوق کو میرے برابر کیسے قرار دیتے ہو کہ ان کو بھی میری طرح عبادت کا مستحق قرار دیتے ہو، اور جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر قرار نہیں دیتے اور ان کو اپنے اموال میں شریک نہیں کرتے تو تم میرے بندوں کو میرے برابر کیوں قرار دیتے ہو اور ان کو میری عبادت میں کیوں شریک قرار دیتے ہو، جس طرح مشرکین نے بتوں کو فرشتوں اور بعض نبیوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک کرلیا حالانکہ وہ سب اللہ کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں۔

ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ حضرت عیسیٰ (نعوذ باللہ) اللہ کے بیٹے ہیں۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٧٢، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤١٢ ھ)

رزق میں ایک دوسرے پر فضیلت کا سبب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے، اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا تونگر یا سرمایہ دار ہونا اس لیے نہیں ہے کہ اس میں عقل زیادہ ہے یا اس نے محنت اور کوشش زیادہ کی ہے اور دوسرے شخص کا تنگ دست اور مفلس ہونا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ اس کے پا عقل یا علم کی کمی ہے بلکہ مال و دولت کی کثرت اور قلت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اھم یقسمون رحمۃ ربک نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا۔ (الزخرف : ٣٢) کیا وہ آپ کے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں، ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی ان کی دنیاوی زندگی میں تقسیم کردی ہے۔

ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء۔ (الشوری : ٢٧) اور اگر اللہ اپنے تمام بندوں کے لیے رزق کشادہ کردیتا تو وہ ضرور زمین میں سرکشی کرتے، لیکن وہ جتنا چاہے اندازہ کے مطابق (رزق) نازل فرماتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ فقراء مہاجرین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے مال دار لوگ تو بلند درجات اور دائمی جنت کو لے گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے کہا وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور وہ صدقہ اور خیرات بھی کرتے ہیں اور ہم صدقہ اور خیرات نہیں کرسکتے اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم غلام آزاد نہیں کرسکتے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی چیز کی تعلیم نہ دوں کہ تم ان کے درجہ کو پالو جو تم پر سبقت کر رہے ہیں اور تم اپنے بعد والوں پر سبقت حاصل کرلو اور تم سے کوئی شخص افضل نہیں ہو مگر وہ جو تمہاری مثل عمل کرے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں یار رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تم ہر نماز کے بعد ٣٣، ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمد للہ پڑھو۔ ابو صالح نے کہا فقراء مہاجرین پھر دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے ہمارے جو مال دار بھائی تھے وہ بھی ہماری طرح عمل کرنے لگے۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرمائے۔ْ (صحیح مسلم، صلاۃ : ١٤٢، رقم الحدیث بلا تکرار، ٥٩٥، رقم الحدیث المسلسل : ١٣٢٢ )

اسی مفہوم کے قریب قرآن کریم کی یہ آیت ہے :

قل اللھم ملک الملک توتی الملک من تشاء و تنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علی شیء قدیر۔ (آل عمران : ٢٦) آپ کہے، اے اللہ ! ملک کے مالک ! تو جس کو چاہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لیتا ہے اور تو جس کو چاہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہے ذلت دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں تمام بھلائی ہے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 71