أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيۡفًاؕ وَلَمۡ يَكُ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

بیشک ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک امت تھے، اللہ کے اطاعت گزار، باطل سے مجتنب، اور مشرکین میں سے نہ تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک امت تھے، اللہ کے اطاعت گزار، باطل سے مجتنب، اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے (اللہ نے) ان کو منتخب کرلیا اور ان کو سیدھے راستہ کی ہدایت دی۔ اور ہم نے ان کو دنیا میں اچھائی عطا فرمائی اور وہ آخرت میں بھی نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔ پھر ہم نے آپ کی طرف یہ وحی کی کہ آپ ملت ابراہیم کی پیروی کریں جو باطل سے مجتنب تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ (النحل : ١٢٣۔ ١٢٠ )

حضرت ابراہیم کی صفات سے مشرکین کے خلاف استدلال :

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی بدعقیدگیوں کا رد فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے شریک مانتے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت پر اعتراض کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول بنانا ہوتا تو فرشتوں میں سے کسی کو رسول بناتا اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے انکو حلال کہتے تھے، اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے مباح قرار دیا ہے ان کو حرام کہتے تھے۔ ان کے ان باطل نظریات کا رد بلیغ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اب ایک اور طریقہ سے اپنی توحید اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو ثابت فرماتا ہے، اور اس کی تقریر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم سب سے بڑے موحد تھے اور توحید کے علمبردار تھے۔ انہوں نے تمام لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک کی جڑیں کاٹ دیں اور مکہ کے مشرکین ان پر فخر کرتے تھے اور ان کے دین کے برحق ہونے کے معترف تھے اور یہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کی اقتدا کرنا واجب ہے، تو ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا ذکر فرمایا کہ تم اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے ہو، ان کے بنائے ہوئے کعبہ کی تولیت کے دعویدار ہو تو پھر ان کے طریقہ پر عمل کر، وہ اللہ کے رسول تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو رسالت کے لیے منتخب فرمایا اور ایک بشر اور انسان کو رسول بنایا تو مان لو کہ انسانوں کے لیے انسان ہی رسول بنایا جاتا ہے، فرشتہ کو رسول نہیں بنایا جاتا، ان کی طرف اللہ وحی نازل فرماتا تھا سو اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی رسالت کے لیے منتخب فرمایا ان پر وحی نازل فرمائی اور ان کو بکثرت معجزات عطا فرمائے۔ پس ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی ایسی صفات بیان فرمائیں جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر منطبق ہوتی ہیں۔

امت کا معنی :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک ابراہیم ایک امت تھے۔

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

ہر وہ جماعت کو کسی ایک امر میں مجتمع ہو، اس کو امت کہتے ہیں۔ خواہ ان کا دین ایک ہو یا ان کا زمانہ ایک ہو یا ان کی جگہ ایک ہو، اور خواہ وہ اس چیز میں اپنے اخٹیار سے مجمتع ہوں یا بغیر اختیار کے۔ مثلا دین میں اختیار سے جمع ہوں گے اور کسی ایک زمانہ کے لوگ یا کسی ایک ملک یا شہر کے لوگ غیر اختیاری طور پر مجتمع ہوں گے کیونکہ وہ ایک زمانہ میں یا ایک ملک میں پیدا ہوئے۔

کان الناس امۃ واحدۃ۔ (البقرہ : ١٢٣) تمام لوگ ایک صنف اور ایک طریقہ پر تھے۔

یعنی سب لوگ کفر اور گمراہی میں مجتمع تھے۔

ولو شاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ۔ (ھود : ١١٨) اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک امت بنا دیتا۔

یعنی تمام لوگوں کو ایمان میں مجتمع کردیتا۔

واد کر بعد امۃ۔ (یوسف : ٤٥) اس (ساقی) کو ایک عرصہ کے بعد یوسف یاد آیا۔

امت کا معنی ہے ایک زمانہ کے لوگوں کے ختم ہونے کے بعد یا ایک عصر کے لوگوں کے گزرنے کے بعد، اور یہاں مراد ہے لمبی مدت گزرنے کے بعد۔

ان ابراھیم کان امۃ قانتا للہ۔ (النحل : ١٢٠) بیشک ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک امت تھے۔

یعنی وہ ایک ایسے شخص تھے جو اللہ کی عبادت کرنے میں ایک جماعت کے قائم مقام تھے، پوری امت ملکر جتنی عبادت کرتی، وہ تنہا اتنی عبادت کرتے تھے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت سعید بن زید بیان کرتے ہیں کہ میں نے اور حضرت عمر بن الخطاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت زید بن عمرو بن نفیل کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا : وہ اکیلا قیامت کے دن ایک امت کے طور پر آئے گا۔ (مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٩٧٣، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے) (المفردات ج ١ ص ٢٨، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو امت فرمانے کی توجیہات :

١۔ حضرت ابراہیم پر جو امت کا اطلاق کیا گیا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ایک قوم یا ایک امت ملکر جتنے نیکی کے کام کرتی یا جتنی عبادت کرتی، حضرت ابراہیم تنہا اتنی عبادت کرتے تھے اور اتنے نیکی کے کام کرتے تھے۔

٢۔ مجاہد نے کہا حضرت ابراہیم اپنے ابتدائی دور میں صرف ایک مومن تھے اور باقی تمام لوگ کافر تھے، اس لیے وہ اپنی ذات میں امت تھے، جیسے آپ نے زید بن عمرو بن نفیل کے متعلق فرمایا وہ قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٥٠٣، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٢٦٨٢)

٣۔ شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں روئے زمین کبھی ایسے چودہ آدمیوں سے خالی نہیں رہی جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اہل زمین سے عذاب دور کرتا ہے اور ان کی برکت کو ظاہر فرماتا ہے، سوائے حضرت ابراہیم کے وہ اپنے زمانہ میں صرف ایک مومن تھے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٥٨٨)

٤۔ امت کا معنی یہاں پر یہ ہے جس کی اقتدا کی جائے اور وہ امام ہو یا مصدر مفعول کے معنی میں ہے جیسے خلق مخلوق کے معنی میں ہے سو امت ماموم کے معنی میں ہے۔ یعنی امام۔ قرآن مجید میں ہے انی جاعلک للناس امام۔ (البقرہ : ١٢٤ )

٥۔ حضرت ابراہیم کے سبب سے ان کی امت توحید اور دین حق میں دوسری امتوں سے ممتاز ہوئی اور چونکہ وہ امامت کے امتیاز کا سب تھے اس وجہ سے ان کو امت کہا گیا۔

٦۔ امت کا ایک معنی ہے نیکی اور خیر کی تعلیم دینے والا، حدیث میں ہے :

فروہ بن نوفل اشجعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے کہا کہ حضرت معاذ ایک امت تھے، اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار باطل سے مجتنب، میں نے دل میں کہا ابو عبدالرحمن نے غلط کہا، اللہ تعالیٰ نے تو حضرت ابراہیم کے لیے فرمایا ہے ان ابراہیم کان امۃ قانتا للہ، حضرت ابن مسعود نے کہا تم جانتے ہو کہ امت کا کیا معنی ہے اور قانت کا کیا معنی ہے ؟ میں نے کہا اللہ ہی زیادہ جاننے و الا ہے۔ انہوں نے کہا امت وہ شخص ہے جو نیکی اور خیر کی تعلیم دے اور قانت وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والا ہو اور حضرت معاذ نیکی اور خیر کی تعلیم دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٥٨٥، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٩٩٤٣، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٣٦٦٥، المستدرک رقم الحدیث : ٣٤١٨)

حضرت ابراہیم کی دوسری صفت یہ ذکر فرمائی کہ وہ قانت ہیں۔ قانت کے معنی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے والا ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا قانت کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ہے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری صفت یہ ذکر فرمائی کہ وہ حنیف ہیں جو دین اسلام کی طرف دوام و ثبات کے ساتھ میلان کرنے والا ہو، حضرت ابن عباس نے فرمایا حضرت ابراہیم پہلے شخص تھے جنہوں نے ختنہ کیا اور جنہوں نے مناسک حج قائم کیے اور قربانی کی اور یہ صفات حنیفیہ ہیں۔

چوتھی صفت ذکر فرمائی کہ وہ مشرکین میں سے نہیں ہیں، وہ اپنے بچپن، جوانی اور تمام عمر موحد رہے اور توحید پر دلائل قائم کرتے ہے۔ نمرود پر حجت قائم کرتے ہوئے انہوں نے کہا ربی الذی یحی ویمیت (البقرہ : ٢٥٨) میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، پھر بتوں اور ستاروں کی عبادت کو باطل فرمایا۔ بتوں کے متعلق فرمایا :

قال افتعبدون من دون اللہ ما لا ینفعکم شیا ولا یضرکم۔ اف لکم ولما تعبدون من اللہ افلا تعقلون۔ (الانبیاء : ٦٦، ٦٧) ابراہیم نے کہا کیا تم اللہ کے سوا ایسوں کی عبادت کرتے ہو جو تم کو نہ کچھ نفع پہنچا سکیں اور نہ تم کو نقصان پہنچا سکیں۔ تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

اور ستاروں کی الوہیت باطل کرتے ہیں فرمایا لا احب الافلین۔ (الانعام : ٧٦) پھر حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑ ڈالا اور انجام کار بت پرستوں نے آپ کو بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، پھر حضرت ابراہیم نے مزید طمانیت حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ آپ کو دکھائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں مردے زندہ کرکے دکھا دیا، غرض جو شخص بھی قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کی صفات کا مطالعہ کرے گا اس پر یہ منکشف ہوگا کہ حضرت ابراہیم بحر توحید میں مستغرق تھے۔

پانچویں صفت یہ ذکر فرمائی کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے ہیں۔ روایت ہے کہ حضرت ابراہیم کسی مہمان کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے، ایک دن ان کو کوئی مہمان نہیں ملا تو انہوں نے اپنا کھانا موخر کردیا پھر کچھ فرشتے انسانوں کی صورت میں آئے، حضرت ابراہیم نے انہیں کھانے کی دعوت دی، انہوں نے بتایا کہ انہیں جذاب کی بیماری ہے، حضرت ابراہیم نے فرمایا اب تو مجھ پر واجب ہے کہ میں تم کو کھانا کھلاؤں کیونکہ اگر اللہ کے نزدیک تمہاری قدرو منزلت نہ ہوتی تو وہ تم کو اس بلا میں مبتلا نہ کرتا۔ 

چھٹی صفت یہ بیان فرمائی کہ ان کو سیدھے راستے کی ہدایت دی، یعنی ان کو تبلیغ کرنے، اللہ کی طرف دعوت دینے، دین حق کی طرف راغب کرنے اور بت پرستی سے لوگوں کو متنفر کرنے میں ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ وہ لوگوں سے کہتے تھے میرا یہ طریقہ سیدھا راستہ ہے تم اس کی پیروی کرو۔ (الانعام : ١٥٣ )

آٹھویں صفت میں فرمایا ن ہم نے ان کو دنیا میں اچھائی دی، قتادہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دی، تمام مذاہب والے ان کو مانتے ہیں، یہودیوں اور عیسائیوں کا ان کو ماننا تو بالکل ظاہر ہے، باقی رہے کفار قریش اور باقی عرب تو وہ بھی حضرت ابراہیم کی اولاد ہونے پر فخر کرتے تھے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی :

واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ (الشعراء : ٨٤) اور میرے بعد آنے والوں میں میری نیک نامی جاری کردے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور تمام ادیان میں ان کا نام عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے، ہم ہر نماز میں ان پر صلوۃ بھیجتے ہیں کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم 

نویں صفت یہ ہے اور وہ آخرت میں بھی نیکو کاروں سے ہوں گے اور اس صفت کا ذکر کر کے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرما لی ہے :

رب ھب لی حکما والحقنی بالصالحین۔ (الشعراء : ٨٣) اے میرے رب مجھے حکم عطا اور مجھے صالحین کے ساتھ ملا دے۔

ملت ابراہیم کی اتباع کی توجیہ :

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی یہ صفات ذکر فرمائیں پھر یہ فرمایا کہ اور پھر ہم نے آپ کی طرف یہ وحی کی کہ آپ ملت ابراہیم کی پیروی کریں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی منفرد شریعت نہیں تھی اور آپ کی بعثت سے مقصود یہ تھا کہ آپ حضرت ابراہیم کی شریعت کو زندہ کریں اور وہ لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی صفات ذکر کرنے بعد یہ حکم دیا کہ آپ ان کی ملت کی پیروی کیجیے۔ ہم کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کی ملت کی ابتاع کرنے سے مراد یہ ہے کہ تبلیغ کے طریقہ میں ان کی پیروی کیجیے یعنی جس طرح وہ نرمی اور سہولت سے تبلیغ کرتے تھے، آپ بھی اسی طرح نرمی اور سہولت سے تبلیغ کیجیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 120