أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ‌ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ اَكۡثَرَ شَىۡءٍ جَدَلًا ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثال ہر طرح سے بیان فرما دی ہے اور انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثال ہر طرح سے بیان کردی ہے اور انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے (الکھف :54)

جدال کا معنی اور قرآن اور حدیث میں جدال کے اطلاقات 

یعنی ہم نے قرآن مجید میں ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں اور ہر طرح کی نصیحت کی ہے اور غور و فکر کرنے کے لئے ہر طرح کے دلائل بیان کئے ہیں تاکہ یہ اپنے کفر اور شرک سے باز آجائیں اور بتوں کی عبادت کو ترک کردیں، لیکن انہوں نے ان دلائل کے مقابلہ میں کٹ حجتی سے کام لیا اور انبیاء (علیہم السلام) جب ان کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے تو وہ اس پیغام کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے خود انبیاء (علیہم السلام) کی ذوات میں شک کرتے اور ان کے نبی ہونے پر اعتراض کرتے۔

علامہ راغب اصفہانی جدل کا معنی بین کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جدل کا معنی ہے کسی بات میں دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا۔ اس کی اصل ہے، جدلت الحیل میں نے رسی کو بٹ کر مضبوط کیا، اور جدال میں ہر شخص دور سے کو اپنی رائے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ (المفردات ج ١ ص 117، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

یہاں جدل سے مراد ہے کفار کا اپنے انبیاء سے بحث کرنا اور وہ جو پیغام لے کر آئے اس کو رد کرنا اور ان کی نبوت میں شبہات پیش کرنا۔ جیسا کہ ان آیتوں سے ظاہر ہے :

ماھذا الا بشر مثلکم یا کل مما تاکلون منہ ویشرب مما تشربون (المئومنون :33) یہ تو تم جیسا ہی بشر ہے، یہ ان چیزوں کو کھاتا ہے جن کو تم کھاتے ہو اور جن چیزوں کو تم پیتے ہو یہ بھی ان ہی کو پیتا ہے۔

فقال الملا الذین کفروا من فومہ ما ھذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم ولوشآء اللہ لانزل ملائکۃ ما سمعنا بھذا فی ابآء نا الاولین (المئومنون :24) ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا یہ تو تمہاری ہی طرح بشر ہے، یہ تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو کسی فرشتے کو نازل کردیتا، ہم نے تو اس کے متعلق اپنے اگلے باپ دادا سے کچھ سنا ہی نہیں۔ ان ھوالا رجل بہ جنۃ فتربصوابہ : یہ شخص محض مجنون ہے تم ایک مقرر وقت تک ان کے متعلق انتظار کرو۔ ولوفتحنا علیھم بابا من السمآء فظلوا فیہ یعرجون، لقالوآ انما سکرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون (الحجر :14-15) اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں پس وہ اس میں سارا دن چڑھتے رہیں تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ لولونزلنا علیک کتاباً فی قرطاس فلموہ بایدیھم لقال الذین کفروا ان ھذا الاسحرمبین (الانعام : ٧) اور اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ آپ پر نازل کرتے پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھ سے چھو بھی لیتے تب بھی کفار یہی کہتے کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے۔

ہم نے جو آیات ذکر کی ہیں ان میں کفار نے جو انبیاء (علیہم السلام) سے کٹ حجتی اور خواہ مخواہ کی ضد کی تھی، اس پر جدال کا اطلاق کیا ہے۔ تاہم انبیاء (علیہم السلام) نے وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ سے اور فرشتوں سے جو سوالات کئے یا مسلمانوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے جو خدشات اور اشکالات پیش کئے، ان پر بھی جدال کا اطلاق کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

فلما ذھب عن ابراہیم الروع وجآء تہ البشریٰ یجادلنا فی قوم لوط (ھود :74) جب ابراہیم سے خوف دور ہوگیا اور ان کے پاس خوشخبری گئی تو وہ ہم سے لوط کے متعلق گزارشات پیش کرنے لگے۔ قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا (المجادلتہ : ١) بیشک اللہ اس عورت کی بات سن رہا تھا جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق کلام کر رہی تھی۔

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس اور حضرت سیدتنا فاطمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی کے پاس آئے اور فرمایا : کیا تم دونوں نماز نہیں پڑھتے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہماری جانیں اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں، وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے تو ہم اٹھ جاتے ہیں، جب ہم نے یہ کہا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس چلے گئے اور آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، آپ اپنے زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے جا رہے تھے اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : 

وکان الانسان اکثر شی جدلاً اور انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ (الکھف :54) (صحیح البخاری رقم الحدیث :1127 صحیح مسلم رقم الحدیث :775، سنن النسائی رقم الحدیث :1611)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 54