أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَاُولٰٓئِكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡـئًـا ۞

ترجمہ:

سوا ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سوا ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا (مریم 60)

گناہ کبیرہ کے مرتکب کی مغفرت 

پہلے اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی صفات بیان کیں تاکہ ہم ان کے طریقہ پر چلیں، اس کے بعد انبیاء (علیہم السلام) کے بعد کے لوگوں کی صفات بیان کیں تو ان میں پہلے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت کے برعکس تھے اور ان کے اخروی انجام کو بیان کیا تاکہ ہم ان کے طریقہ سے بچیں، اور اب نیک لوگوں کا ذکر فرمایا جو توبہ کرتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں سو وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

اس آیت سے خوارج استدلال کرتے ہیں کہ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جنت میں صرف وہ لوگ داخل ہوں گے جو مومن اور صالح ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ جو مومن ہے اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی بہت آیات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ کبیرہ کے مرتکب کی بھی مغفرت فرما دے گا مثلاً یہ آیت ہے :

وان ربک لذومغفرۃ للناس علی ظلیمھم (الرعد : ٦) بیشک آپ کا رب لوگوں کے ظلم کے باوجود ان کو بخشنے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 60