سورۃ طہ (20)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

نعمد و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم 

سورۃ طہ 

سورۃ کا نام اور وجہ تسمیہ 

اس سورت کا نام طہ ہے کیونکہ اس سورت کا پہلا کلمہ طہ ہے۔ جیسا کہ سورة ص اور ق ہیں ان سورتوں کا پہلا کلمہ بھی ص اور ق ہے۔ طہ کے معنی میں کئی اقوال ہیں، ایک قول یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اسم ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی ہے اے آدمی ! اور ایک قول یہ ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسم ہے اور اس آیت میں آپ کو ندا فرمائی ہے کہ اے طہ (البحر المحیط، ج ٧ ص 309، روح المعانی جز 16 ص 217 تفسیر منیر ج 16 ص 174)

اس سورت کا نام سورة طہ رکھنے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور تکریم کو ظاہر کرنا ہے اور کفار کی طعن اور تشنیع آمیز باتوں سے آپ کو تسلی دینا ہے۔

مقاتل نے کہا جب ابوجہل، ولید بن مغیرہ، نضر بن حارث اور مطعم بن عدی نے نیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لمبی لمبی نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ جب سے آپ نے اپنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑا ہے آپ بہت سختی اور مصیبت میں مبتلا ہوگئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور اس کی پیشانی پر یہ لکھوا دی : اے طہ ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ کو سختی اور مشقت میں مبتلا کریں۔ طہ ما انزلنا علیک القرآن لتشقی (طہ :1-2)

سورة مریم اور سورة طہ کی باہمی مناسبت 

اس سورت کی اس سے پہلی سورت مریم کے ساتھ حسب ذیل وجوہ سے مناسبت ہے :

(١) سورة مریم میں دس انبیاء (علیہم السلام) کا اجمال اور اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ ، حضرت عیسیٰ حضرت ابراہیم، حضرت اسحٰق، حضرت یعقوب، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور اس سورت میں یعنی سورة طہ میں ان میں سے بعض انبیاء (علیہم السلام) کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

(٢) سورة مریم کے آخر میں فرمایا ہے کہ آسانی کے لئے قرآن مجید کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان میں نازل فرمایا ہے، اور اس سورت کے شروع میں بھی یہ مضمون ہے کہ ہم نے آپ کو مشقت میں ڈالنے کے لئے قرآن کو نازل نہیں کیا، یعنی آپ کی آسانی کے لئے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے۔

(٣) سورة مریم کی انتہا بھی قرآن مجید کے ذکر پر ہوتی ہے اور سورة طہ کی ابتدا بھی قرآن مجید کے ذکر سے ہوتی ہے۔

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طٰهٰ‌ ۞

ترجمہ:

طہ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : طاھا ہم نے یہ قران آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں (طہ :1-2)

طہ الخ کا شان نزول 

امام عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

” طہ “ کے شان نزول میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) حضرت علی (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں تھک جاتے تو کبھی ایک پیر پر وزن ڈالتے تو کبھی دوسرے پر تو یہ آیت نازل ہوئی۔

(٢) ضحاک نے کہا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن کریم نازل ہوا تو آپ نے اور آپ کے اصحاب نے نماز پڑھی اور بہت لمبا قیام کیا تو قریش نے کہا اللہ تعالیٰ نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشقت میں ڈالنے کے لئے ان پر قرآن نازل کیا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔

(٣) مقاتل نے کہا ابوجہل، نصر بن حارث اور المطم بن عدی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا آپ ہمارے دین کو ترک کر کے مشقت اور مصیبت میں پڑگئے ہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ااد المسیرج ٥ ص 268، اسباب النزول للواحدی ص 174)

طہ کے معانی 

طہ کے حسب ذیل معانی ہیں :

(١) حضرت ابن عباس، حسن بصری، سعید بن جبیر اور مجاہد وغیرھم نے کہا اس کا معنی ہے اے آدمی !

(٢) حضرت ابن مسعود (رض) اور ابوالعالیہ نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے، طا سے طیب اور طاہر کی طرف اشارہ ہے اور ھا سے ہادی کی طرف اشارہ ہے۔

(٣) ابو سلیمان و مشقی نے کہا : طا سے مراد ہے طابہ اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مدینہ ہے اور ھا سے مراد ہے مکہ۔

(٤) ثعلبی نے کہا طا سے مراد ہے اہل جنت کی رف صخوشی) اور ھا سے مراد ہے اہل دوزخ کی ھوان (ذلت)

(٥) ثعلبی کا دوسرا قول ہے حساب جمل کے اعتبار سے طا کے نوعد ہیں اور ھا کے پانچ عدد ہیں سو یہ چودہ عدد ہوئے یعنی چودھویں کی رات کے چاند اور اس کا معنی ہے : اے بدر کامل ! ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑیں۔

(٦) علی بن ابی طلحہ نے کہا طہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اس نے اپنے نام کی قسم کھائی ہے۔ (زاد المسیرج ٥ ص 269-270، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسم ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام طہ رکھا جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام محمد رکھا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص ٨٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

ہم اس سے پہلے سورة طہ کے مقدمہ میں بات چکے ہیں کہ علامہ ابوالحیان اندلسی، علامہ آلوسی اور ڈاکٹر وھبہ زحیلی نے بھی اس قول کا ذکر کیا ہے اور قاضی عیاض مالکی، علامہ خفا جی اور ملا علی قاری نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ علامہ زبیدی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ (الشفاء ج ١ ص 178، بیروت، نسیم الریاض و شرح الشفاء ج ٢ ص 389، اتحاف السادۃ المتقین ج ٧ ص 162)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء مبارکہ 

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی 544 ھ لکھتے ہیں :

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پانچ اسماء ہیں : میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور میں ماحی ہوں، میرے سبب سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹاتا ہے اور میں حاشر ہوں اللہ تعالیٰ میرے قدموں پر حشر کرے گا اور میں عاقب (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3532 صحیح مسلم رقم الحدیث :2354، سنن الترمذی رقم الحدیث :2840 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :11590)

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کا نام محمد اور احمد ہغے، آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ کی حمد کرنے والے ہیں اور آپ کی سب سے زیادہ حمد کی گئی ہے پس آپ احمد المحمودین اور احمد الحامدین ہیں۔ آپ نے یہ جو فرمایا ہے کہ میرے پانچ اسماء ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابوں میں میرے پانچ اسماء ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ میرے دس اسماء ہیں (دلائل النبوۃ لابی نعیم و تفسیر ابن مردویہ) اور ان میں سے طہ اور یٰسین بھی ہیں اور بعض تفاسیر میں ہے کہ طہ کا معنی ہے یا طاہر یا بادی اور یٰسین کا معنی ہے یا سید اور دوسروں نے ذکر کیا ہے کہ میرے دس اسماء ہیں، پانچ اسماء تو وہ ہیں جن کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور باقی پانچ اسماء یہ ہیں : میں رسول رحمت ہوں اور رسول راحت ہوں اور رسول ملاحم ہوں اور میں مقفی ہوں نبیوں کے بعد آیا ہوں اور میں قیم ہوں۔ قیم کے معنی ہیں الجامع الکامل۔

اور نقاش نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ میرے قرآن میں سات اسماء ہیں : محمد، احمد، یٰسین، طہ، مدثر، مزمل اور عبداللہ 

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اپنے یہ اسماء بتائے : محمد محمد اور احمد اور المتقی اور نبی التوبتہ اور نبی الملمحتہ اور نبی رحمت ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2355)

نبی الملمحتہ میں یہ اشارہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتال اور سیف کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہ کثرت القاب ہیں : نور، سراج منیر، منذر، نذیر، المبشر، البشیر، الشاہد، الشہید، الحق المبین، خاتم انلبین، الروئف، الرحیم، الامین، قدم صدق، رحمتہ للعالمین، نعمتہ اللہ، العروۃ الوثقیٰ ، الصراط المستقیم، النجم الثاقب، الکریم، النبی الامی، داعی الی اللہ۔

کتب سابقہ اور احادیث مبارکہ میں آپ کے اسماء حسب ذیل ہیں :

المصطفی، المجتبیٰ ، ابوالقاسم، الحبیب، رسول رب العلمین، الشفیع المشفع، المتقی، المصلح، الطاہر، المھیمن، الصادق، المصدوق، الہادی سید ولد آدم، سید المرسلین، امام المتقین، قائد الغرالمجلین، حبیب اللہ، خلیل الرحمٰن، صاحب الحوض المورود و الشفاعتہ، والمقام الحمود صاحب الوسیلۃ و الفضیلتہ، والدرجتہ الرفیعتہ، صاحب التاج و المعراج، واللواء، والقضیب، راکب البراق، والناقتہ، والنجیب، صاحب المجہ، السطان، الخاتم، العلامتہ والبرھان، صاحب الھراوۃ والنعلین۔

کتب مقدسہ میں آپ کے بعض اسماء یہ ہیں : المتوکل، المختار، مقیم النستہ، المقدس، روح الحق، انجیل میں الفار قلیط کا یہی معنی ہے، ثعلب نے کہا فارقلیط کا معنی ہے جو حق اور باطل میں فرق کرے۔

کتب سابقہ میں آپ کے بعض اسماء ہیں : ماذ ماذ اس کا معنی ہے طیب طیب، حمطایا، الخاتم، الحاتم، اس کو کعب احبار نے صاحب القضیب کا معنی ہے صاحب تلوار اور الھراوۃ کا معنی ہے عصا، اور التاج سے مراد ہے عمامہ۔ (الشفاء ج ١ ص 176-180، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

قرآن مجید میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء مبارکہ جو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنٰی بھی ہیں۔

(١) اللہ تعالیٰ کا اسم رئوف رحیم ہے اور اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی رئوف رحیم فرمایا۔

(التوبتہ :128) اور وہ مومنوں کے ساتھ رئوف رحیم ہیں۔

(٢) اللہ تعالیٰ کا نام الحق اور المبین ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الحق اور المبین فرمایا :

حتی جآء ھم الحق رسول مبین (الزخروف :29) یاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے والا رسول آگای۔ اور آپ کا نام النذیر المبین رکھا :

وقل انی انا النذیر المبین (الحجر :89) آپ کہئے بیشک میں ہی النذیر المبین (صاف صاف ڈرانے والا) ہوں۔

(٣) اللہ تعالیٰ کا اسم نور ہے یعنی خالق النوریا نور والا یا آسمانوں اور زمینوں کو منور کرنے والا یا مومنوں کے دلوں کو ہدایت سے منور کرنے والا اور اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وسلم کو بھی نور فرمایا ہے :

قد جآء کم من اللہ نور و کتاب مبین (المادۃ :15) بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آگیا اور کتاب مبین۔

(٤) اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے شہید ہے اس کا معنی عالم ہے یا وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر شاہد ہوگا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی شاہد اور شہید فرمایا :

(البقرہ :143) بیشک ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا اور رسول تمہارے حق میں شہید (گواہ) ہوں گے۔

(٥) اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے کریم ہے اس کا معنی ہے بہت خیر والا، بہت معاف کرنے والا اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی کریم فرمایا ہے :

انہ لقول رسول کریم (الحاق 40) بیشک یہ رسول کریم کا قول ہے۔

ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت جبریل ہیں۔

(٦) اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے عظیم ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی عظیم فرمایا :

انک لعلی خلق عظیم (القلم :4) بیشک آپ بہت عظیم الخاق پر ہیں۔

(٧) اللہ تعالیٰ کا اسم خبیر ہے اور اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی خبیر فرمایا ہے :

ثم استوی علی العرش الرحمٰن فسئل بم خبیراً (الفرقان :59) ۔ پھر رحمٰن عرش پر جلوہ فرما ہوا، (اے مخاطب ! ) تو کسی خبر رکھنے والے سے پوچھ لے۔

قاضی ابوبکر بن العلاء نے کہا اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غیر کو سوال کرنے کا حکم دیا ہے اور خبیر سے مراد آپ کی ذات گرامی ہے۔

(٨) اور اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے القوی اور ذی قوۃ ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اللہ تعالیٰ نے ذی قوۃ فرمایا ہے :

انہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عندذی العرش مکین (التکویر :19-20) یہ رسول کریم کا قول ہے اللہ تعالیٰ جو عرش والے کے نزدیک قوت والا بلند متربہ کا ہے۔

ایک تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں رسول کریم سے مراد حضرت جبریل ہیں اور ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

(٩) اللہ تعالیٰ کا ایک اسم ولی ہے اور اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی ولی فرمایا ہے :

انما ولئکم اللہ ورسولہ (المائدہ : ٥٥) اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول ہے۔ 

(١٠) طہ کی تفسیر میں کہا گیا ہے اس کا معنی ہے یا طاہر یا ہادی اور اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔

(١١) اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے طہ اور یٰسین ہیں اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی اسماء ہیں۔ (الشفاء ج ١ ص 181-187، ملحضاً مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

جو اسماء اللہ تعالیٰ کے ہیں اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی اسماء ہیں ان میں صرف ظاہری اور صوری طور پر اشتراک ہے اور معنی کے اعتبار سے ان میں زمین اور آسمان سے زیادہ فرق ہے، مثلاً رحیم اللہ تعالیٰ کا بھی اسم ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی اسم ہے، لیکن اللہ تعالیٰ از خود رحیم ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اللہ تعالیٰ کے بنانے سے رحیم ہیں، اللہ تعالیٰ ازلی اور ابدی رحیم ہے اور آپ حادث اور فانی رحیم ہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار غیر متناہی ہیں اور آپ کی رحمت کے آثار متناہی ہیں اس کے علاوہ اور بہت وجوہ سے فرق ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لیس کمثلہ شی (الشوریٰ : ١١) کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء کی تعداد 

علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ، ابن العربی مالکی متوفی 543 لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعد اسماء رکھے اور جب کوئی چیز بہت عظیم ہوتی ہے تو اس کے اسماء بھی بہت ہوتے ہیں۔ بعض صوفیاء نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہزار اسم ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی ایک ہزار اسم ہیں، رہے اللہ تعالیٰ کے اسماء تو ایک ہزار کا عدد ان کے لئے بہت کم ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کے اسماء لکھنے کے لئے تمام سمندر بھی سیاہی بن جائیں بلکہ ان جیسے سات اور سمندر بھی سیاہی بن جائیں تب بھی اللہ تعالیٰ کے کل اسماء نہیں لکھے جاسکتے اور رہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء تو یہ وہی ہیں جو احادیث معتبرہ میں صریح اسم کے ساتھ وارد ہوچکے ہیں اور وہ تمام اسماء میں نے محفوظ کر لئے ہیں اور اس رسول ان میں سے سرٹھ (67) اس ممستحضر ہیں اور وہ یہ ہیں۔

(١) الرسول (٢) المرسل (٣) النبشی (٤) الامی (ز) الشہید (٦) المصدق (٧) النور (٨) المسلم (٩) البشیر (١٠) المبشر (١١) النذیر (١٢) المنذر (١٣) المبین (١٤) الامین (١٥) العبد (١٦) الداعی (١٧) السراج (١٨) المنیر (١٩) الامام (٢٠) الذاکر (٢١) المذکر (٢٢) الہادی (٢٣) الشاھد (٢٤) المہاجر (٢٥) العامل (٢٦) المبارک (٢٧) الرحمت (٢٨) الامر (٢٩) الناھی (٣٠) الطیب (٣١) الکریم (٣٢) المحلل (٣٣) المحرم (٣٤) الواضح (٣٥) الرافع (٣٦) المجیر (٣٧) خاتم النبین (٣٨) ثانی اثنین (٣٩) منصور (٤٠) اذن (٤١) خیر (٤٢) مصطفیٰ (٤٣) امین (٤٤) مامون (٤٥) قاسم (٤٦) نقیب (٤٧) الزمل (٤٨) المدثر (٤٩) العلی (٥٠) الحکیم (٥١) المومن (٥٢) الرئوف (٥٣) الرحیم (٥٤) الصاحب (٥٥) الشفیع (٥٦) المشفع (٥٧) المتوکل (٥٨) محمد (٥٩) احمد (٦٠) الماحی (٦١) الحاشر (٦٢) المقضی (٦٣) العاقب (٦٤) نبی التوبتہ (٦٥) نبی الرحمتہ (٦٦) نبی الملمحتہ (٦٧) عبداللہ۔ ان کے علاوہ آپ کے اور بھی اسماء ہیں۔ (عارضتہ الاحوذی ج ١٠ ص 211-212، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء کے معانی 

علامہ ابن العربی نے ان تمام اسماء کے معنی بھی باین کئے ہیں جو حسب ذیل ہیں :

رسول وہ ہے جس کی خبر پے در پے اللہ کی طرف سے آئے اور وہی مرسل ہے اور وہ اس کا تقاضا نہیں کرتا کہ اس کی خبر پے در پے آئے، وہ بھیجنے والے کی بات سنتا ہے اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ کرتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا تم سنتے ہو اور تم سے سنا جائے گا اور جس نے تم سے سنا ہے اس سے بھی سنا جائے گا۔ نبی کے لفظ میں اگر ہمزہ ہو تو یہ نبا سے بنا ہے اور اس کا معنی خبر دینا ہے اور اگر اس میں ہمزہ نہ ہو تو نبوۃ سے بنا ہے اس کا معنی زمین کی بلند جگہ ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی خبر دینے والے ہیں اور اس کے نزدیک بلند مرتبہ والے ہیں سو آپ میں دو صف اور دو شرف جمع ہوگئے۔

امی کے معنی میں کئی اقوال ہیں، سب سے صحیح قول یہ ہے کہ امی وہ شخص ہے جو نہ پڑھتا ہو نہ لکھتا ہو اسی کیفیت پر ہو جس طرح اپنی ماں کے بطن سے نکلا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

واللہ اخرجکم من بطون امھالکم لاتعلمون شیئا (النحل :78) اللہ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ علم نہیں رکتھ ی تھے۔ پھر تم کو جو چاہا علم عطا فرمایا۔ اور آپ شہید ہیں کیونکہ آپ دنیا اور آخرت میں مخلوق کی شہادت دیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(البقرہ :143) ہم نے تم کو بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جائو اور رسول تم پر گواہ ہوجائیں۔

اور آپ اس وجہ سے بھی شہید ہیں کہ معجزہ آپ کے صدق کی شہادت دیتا ہے۔

آپ مصدق ہیں کیونکہ آپ اپنے سے پہلے تمام نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(البقرۃ 97) بیشک جبریل نے آپ پر اللہ کا کلام نازل کیا ہے جو اس چیز کی تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔

آپ نور ہیں، کیونکہ لوگ کفر اور جہالت کے اندھیروں میں تھے تو آپ نے لوگوں کے دلوں کو ایمان اور علم سے روشن کردیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(المائدہ :15) بیشک آگیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور کتاب مبین۔ آپ مسلم ہیں، کیونکہ آپ سب سے پہلے مسلم ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا :

وانا اول المسلمین (الانعام :163) آپ کہیے میں سب سے پہلا مسلم ہوں۔ اور آپ سب سے پہلے ہرحال میں اللہ کی اطاعت کرنے والے ہیں اور آپ جہل اور معاصی سے سلامتی میں ہیں۔

آپ بشیر ہیں کیونکہ آپ نے مخلوق کو انکی اطاعت پر ثواب کی خبر دی اور ان کی نافرمانی پر سزا کی خبر دی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

فبشر ھم یعذاب الیم (آل عمران :21 پس آپ ان کو درد ناک عذاب کی خبر دے دیجیے۔

اسی طرح مبشر کا معنی ہے اور آپ نذیر اور منذر ہیں کیونکہ آپ ان چیزوں کی خبر دیتے ہیں جن سے لوگ ڈریں اور عذاب کو دور کرنے والے کام کریں۔

آپ مبین ہیں، کیونکہ آپ نے اپنے رب کی وحی اور دین کو بیان کیا اور آیات اور معجزات کو ظاہر فرمایا۔

آپ امین ہیں کیونکہ آپ نے ان سب چیزوں کی حفاظت کی جن کی آپ کی طرف وحی کی گئی تھی اور ان کی حفاظت کی جنہوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا۔

آپ سید ہیں کیونکہ جو اللہ کے لئے عبادت کرے اور تواضح کرے اللہ اس کو سربلند کرتا ہے، سو آپ نے فرمایا : میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور مجھے اس پر فخر نہیں اور میں مخلوق کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں جو حق ہے۔

آپ سراج ہیں یعنی نور ہیں، آپ کے سبب سے مخلوق رشد اور ہدایت کو یکھتی ہے اور آپ منیر ہیں۔

آپ امام ہیں کیونکہ مخلوق آپ کی اقتداء کرتی ہے اور آپ کے اقوال اور افعال کی پیروی کرتی ہے۔

آپ ذکر ہیں کیونکہ آپ فی نفسہ شریف ہیں اور دوسروں کو شرف دینے والے ہیں، آپ میں ذکر اور سلامتی کی تمام وجوہ جمع ہیں آپ مذکر ہیں کیونکہ آپ کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ ذکر کو پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

فذکر انما انت مذکر لست علیھم یمصیطر (الغاشیۃ :21-22) سو آپ نصیحت کیجیے آپ نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو جبر کرنے پر قدرت عطا کی آپ کو سلطنت دی اور آپ کے دین کو روئے زمین پر غالب کردیا۔ 

آپ ہادی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان سے خیر اور شر کے دونوں راستے واضح کردیئے۔

آپ مہاجر ہیں کیونکہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی چیزوں سے ہجرت کی (ان کو ترک کردیا) اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے محبت کی وجہ سے مخلوق کو چھوڑ دیا اور اس کی اطاعت کی محبت میں ان سے الگ ہوگئے، یعنی ان سے شدید تعلق نہ رکھا۔

آپ مبارکہ ہیں کیونکہ آپ کی وجہ سے ثواب زیادہ ہوتا ہے اور آپ کے اصححاب کے اعمال کے فضائل زیادہ ہوتے ہیں اور آپ کی امت کا مرتبہ دوسری امتوں پر زیادہ ہے۔

آپ رحمت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین (الانبیاء :107) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے صرت رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کی وجہ سے مخلوق پر دنیا میں یہ رحمت کی کہ ان کو عذاب نہیں ہوگا اور آپ کی وجہ سے آٰخرت میں یہ رحمت ہوگی کہ ان کا جلد حساب ہوگا اور ان کا ثواب دگنا ہوگا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم (الانفال :33) اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ آپ کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب بھیجے۔

آپ آمر اور ناھی ہیں حقیقت میں اللہ تعالیٰ امر کرتا ہے اور نہی (منع) کرتا ہے اور آپ اس کے امر اور نہی کو پہنچاتے ہیں یا اس کی اجازت سے امر اور نہی کرتے ہیں۔ بعض چیزوں کا حکم دیتے ہیں اور بعض چیزوں سے منع فرماتے ہیں۔

آپ طیب ہیں، آپ سے بڑھ کر کوئی پاکیزہ نہیں ہے آپ کا دل زنگ کی آلوگدی سے پاک اور صاف ہے، آپ کے اقوال قول کے خبث سے پاک اور صاف ہیں اور آپ کے تمام افعال فعل کے خبث سے پاک اور صاف ہیں اور آپ کا ہر فعل اطاعت اور عبادت ہے۔

آپ کریم ہیں، کیونکہ مخلوق میں آپ سب سے بڑھ کر معاف کرنے والے اور عطا کرنے والے ہیں۔

آپ محلل اور محرم ہیں کیونکہ آپ پاک چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔ 

آپ خاتم النبین ہیں کیونکہ آپ تمام نبیوں کے آخر ہیں اور یہ کنایہ ہے کیونکہ خاتم کا معنی مہر ہے اور کسی چیز کے آخر میں مہر لگا دی جاتی ہے (اور اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ کی مہر لگا کر نبی بنائے جاتے ہیں) آپ کی شریعت اور آپ کی فضیلت قیامت تک باقی رہے گی۔

آپ ثانی اثنین ہیں کیونکہ آپ اللہ کی خبر کے ساتھ مقترن ہیں۔ آپ منصور ہیں کیونکہ اللہ کی طرف سے آپ کی مدد کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے تمام رسول منصور ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ولقد سبقت کلمتا لعبادنا المرسلین انھم لھم المنصورون (الصفت :171-172) اور بیشک اپنے ان بندوں کے لئے جو رسول ہیں ہمارا وعدہ پہلے ہی صادر ہوچکا ہے یقیناً ان ہی کی مدد کی جائے گی 

آپ اذن خیر (خیر کے کان) ہیں کیونکہ آپ اس بات کو غور سے سنتے ہیں جو خیر ہ۔

آپ مصطفیٰ ہیں کیونکہ آپ تمام مخلوق میں سے چنے ہوئے اور پسندیدہ ہیں جیسا کہ حضرت واثلہ بن الاسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ نے ابراہیم کی اولاد میں سے اسماعیل کو چن لیا اور اسماعیل کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو چن لیا اور بنو کنانہ میں سے قریش کو چن لیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چن لیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3605-3606 صحیح مسلم رقم الحدیث : 2276)

آپ امین ہیں کیونکہ آپ نے معانی کی چابیوں کی قیامت تک کے لئے حفاظت کی ہے اور آپ ماموکن ہیں کیونک آپ سے شرکا خطرہ نہیں ہے۔ آپ قاسم ہیں کیونکہ آپ زکوۃ خمس اور دیگر اموال سے مسلمانوں کے حقوق کو تقسیم کرتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں (صحیح البخاری رقم الحدیث، 71، صحیح مسلم رقم الحدیث :1037)

آپ نقیب ہیں کیونکہ آپ کے تمام صحابہ پر انصار کا فخر ہے، آپ نے ان کے متعلق فرمایا میں ان کا نقیب ہوں، کیونکہ ہر وہ جماعت جس کا کوئی نقیب ہوتا ہے وہ اس کے معاملات کا ولی اور سرپرست ہوتا ہے اور اس کی خبروں کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی منتشر چیزوں کو جمع کرتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو شرف عطا فرمانے کے لئے ان کو یہ عزت دی۔

آپ مرسل (سین پر زیر) ہیں کیونکہ آپ نے اطراف عالم میں اپنے نمائندے بھیجے تاکہ وہ آپ کے دین کی تبلیغ کریں۔

آپ علی ہیں کیونکہ آپ شرف، مقام، مرتبہ اور اپنے دعاوی پر دلائل کے لحاظ سے تمام مخلوق پر بلند ہیں۔

آپ حکیم ہیں کیونکہ آپ نے اپنے رب کی طرف سے قوانین بنائے اور ان کے تقاضوں پر عمل کیا۔

آپ مومن (میم پر زبر) ہیں یعنی مصدق ہیں، آپ کے رب نے آپ کے اقوال اور افعال کی تصدیق کی ہے۔

آپ الرئوف الرحیم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں پر شفقت کرنے والا بنایا ہے، آپ نے فرمایا : ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے۔ ہر نبی نے اس دعا کو دنیا میں خرچ کرلیا اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کرنے کے لئے چھپا کر رکھا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :198) نیز آپ نے فرمایا اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3478، صحیح مسلم رقم الحدیث :1792، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4025، مسند احمد رقم الحدیث :3611 عالم الکتب) 

آپ صاحب ہیں کیونکہ آپ اس شخص کے ساتھ ہیں جو حسن معاملہ، نیکی، کرامت، مروت اور وفاداری میں آپ کی اتباع کرے۔

آپ الشفیع المشفع ہیں کیونکہ آپ مخلوق کے حساب میں جلدی کریں گے اور عذاب کو دور کرنے میں ان کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت کریں گے، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور آپ کی بہت تعظیم اور تکریم کی جائے گی۔

آپ متوکل ہیں یعنی آپ نے تمام معاملات کی چابیاں اللہ تعالیٰ کو سونپ دی ہیں خواہ علم کا معاملہ ہو یا عمل کا۔ مقضی کا معنی عاقب کی مثل ہے۔

آپ نبی التوبہ ہیں کیونکہ آپ نے اپنی امت کی زبانی توبہ قبول فرما لی اور ان کو قتل کرنے یا قید کرنے کا حکم نہیں دیا۔

آپ نبی الرحمتہ ہیں، اس کا معنی رحمت کی تفسیر میں گزر گیا ہے۔

آپ نبی الملمحتہ ہیں کیونکہ آپ کو اللہ کے دشمنوں کے ساتھ حرب اور جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (عارضتہ الاحوذی ج 10 ص 212-214، مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت، 1418 ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء کے متعلق دیگر علماء کی تحقیقات 

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر مالکی قرطبی متوفی 656 ھ لکھتے ہیں :

قاضی ابو الفضل نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں، کتب قدیمہ اور اطلاقات ائمہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہ کثرت اسماء اور آپ کی صفات کا تتبع کیا ہے اور یہ ان کی کتاب الشفاء میں مذکور ہیں، اور قاضی ابوبکر بن العربی نے احکام القرآن میں آپ کے سرسٹھ (67) اسماء کا ذکر کیا جو ان کو پڑھنا چاہے وہ اس کا مطالعہ کرے۔ (المفھم ج ٦ ص 149، دارابن کثیر بیروت، 1417 ھ شرح النواوی ج 10 ص 6190، مطبوعہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ )

علامہ محمد بن محمد زبیدی متوفی 1205 ھ لکھتے ہیں :

بعض علماء نے سیدنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء کی تعداد ننانوے (٩٩) تک پہنچائی ہے جو (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء حسنیٰ کی تعداد کے مافق ہے جو حدیث میں وارد ہے۔ قاضی عیاض نے کہا اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء حسنیٰ میں سے تینتیس (٣٣) اسماء کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خاص کیا ہے، ابن وحیہ نے المستوفی میں لکھا ہے کہ جب کتب متقدمہ، قرآن مجید اور سنت میں تتبع اور تلاش کی گئی تو آپ کے اسماء کی تعداد تین سو ہے اور بعض صوفیاء نے کہا آپ کے اسماء کی تعداد اللہ تعالیٰ کے اسماء کی طرح ایک ہزار ہے۔ علامہ بدرالبلقینی نے ایک ضخیم جلد میں ان اسماء کو مع کیا ہے، اسی طرح ابن وحیہ نے المستوفی میں ان اسماء سے مراد آپ کے اوصاف ہیں اور ہر وہ وصف جو آپ کے ساتھ مختص ہے اس سے آپ کا اسم بنا لیا گیا ہے یا آپ کے اوصاف غالبہ سے یا ان اوصاف سے جو آپ میں اور دوسرے انبیاء میں مشترک ہیں، قاضی عیاض، ابن العربی اور ابن سید الناس نے ان اسماء کا عدد چار سو تک پہنچایا ہے۔

نقاش نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن میں میرے سات اسماء ہیں محمد، احمد، یٰسین، طہ مزمل مدثر اور عبداللہ۔ (اتحاف السادۃ المتقین ج ٧ ص 161-163 ملحضا مطبوعہ اور احیاء التراث العربی بیرت، 1414 ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جو اسماء قرآن مجید میں بالاتفاق مذکور ہیں وہ یہ ہیں : الشاھد، المبشر، النذیر، المبین، الداعی الی اللہ السراج المنیر، المذکر، الرحمتہ النعمتہ الہادی الشہید، الامین، المزمل اور المدثر، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث میں آپ کا اسم المتوکل بھی ہے اور آپ کے مشہور اسماء یہ ہیں : المختار، المصطفیٰ ، الشفیع، المشفع، الصادق المصدوق۔ ان کے علاوہ اور بھی ہیں، علامہ ابن وحیہ نے الاسماء النبیوہ میں ایک الگ مستقل کتاب لکھی ہے۔ بعض علماء نے کہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء اللہ تعالیٰ کے اسماء کے موافق نانوے ہیں اور اگر کوئی شخص تتبع کرے تو ان کا عدد تین سو تک پہنچتا ہے۔ علامہ ابن وحیہ نے اپنی اس منضبط کیا ہے اور ان کے معانی کی شرح کی ہے اور اپنی عادت کے مطابق بہت زیادہ فوائد کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر جن اسماء کا ذکر کیا ہے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف ہیں اور ان میں سے اکثر بہ طور اسم کے وارد نہیں ہوئے مثلاً حدیث میں العربی نے ترمذی کی شرح میں بعض صوفیاء سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہزار اسم ہیں اور اس کے رسول کے بھی ایک ہزار اسم ہیں اور حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے پانچ اسم ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں الماحی ہوں میرے سبب سے اللہ کفر مٹا دیتا ہے اور میں الحاشر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کا حشر کیا جائے گا (یعنی میرے بعد قیامت آجائے گی اور درمیان میں کوئی اور نبی نہیں آئے گا) اور میں العاقب ہوں (یعنی میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں) (صحیح البخاریرقم الحدیث :3532) اس حدیث میں صرف پانچ اسماء پر اقتصار کرنے کی حکمت یہ ہے کہ آپ کے دوسرے اسماء کی یہ نسبت یہ اسماء زیادہ مشہور ہیں۔ یہ اسماء گزشتہ امتوں کے درمیان گزشتہ کتابوں میں بھی مذکور ہیں۔ (فتح الباری ج ٧ ص 250 مطبوعہ، دارالفکر بیروت، 1420 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 1