أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفۡصَفًا ۞

ترجمہ:

اور زمین کو کھلے ہوئے ہموار میدان کی حالت میں چھوڑ دے گا

طہ :106 میں ہے قاعا صفصفا،

قاعا کا معنی ہے نرم ہموار نشینبی میدان، جو پہاڑوں اور ٹیلوں سے دور واقع ہو، اس کی جمع قیعان ہے قیامت یک دن پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر پھیل جائیں گے اور سب چٹیل میدان کی طرح ہوجائیں گے۔ (القاموس المحیط ج ٣ ص 109 المفردات ج ٢ ص 436)

صفصفا : چٹیل میدان ایسی ہموار زمین گویا اس کے تمام اجزاء ایک ہی صف میں ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص 370 ۔ مطبوعہ مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

زمینوں اور لوگوں کی قسمیں 

حسب ذیل حدیث میں قیعان کا لفظ ہے :

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے مجھے جو ہدایت اور علم دے کر بھیجا ہے اس کی مثال اس موسلا دھار بارش کی طرح ہے جو (مختلف قسم کی) زمینوں پر برسے، ان میں سے بعض زمینیں صاف اور زرخیز ہوتی ہیں جو پانی کو جذب کرلیتی ہیں اور بہت زیادہ سبزہ اور گھاس کو اگاتی ہیں اور ان میں سے بعض زمینیں بنجر ہوتی ہیں وہ پانی روک لیتی ہیں، اللہ ان زمینوں سے لوگوں کو نفع دیتا ہے، وہ خود بھی پانی لیتے ہیں اپنے مویشیوں کو بھی پانی پلاتے ہیں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں اور زمین کی ایک قسم پر بارش ہوتی ہے اور وہ زین محض قیعان (چٹیل میدان) ہے، پانی کو روکتی ہے نہ سبزہ اگاتی ہے اور (پہلی دو زمینیں) اس شخص کی مثال ہیں جو دین میں فہم حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت دے کر بھیجا ہے وہ اس سے نفع پہنچائے سو وہ علم دین حاصل کرے اور لوگوں کو تعلیم دے اور (تیسری زمین) اس شخص کی مثال ہے جو اس کے ساتھ بالکل سر نہ اٹھائے اور اللہ کی اس ہدایت کو بالکل قبول نہ کرے جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :79 صحیح مسلم رقم الحدیث :2282 السنن الکبریٰ رقم الحدیث :5843

زمینوں اور لوگوں کی قسموں کی وضاحت 

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی ہدایت کی بارش کے ساتھ مثال دی ہے۔ اس کا معنی ہے کہ زمین کی تین قسمیں ہیں اور اسی طرح لوگوں کی بھی تین قسمیں ہیں۔ زمین کی پہلی قسم وہ ہے جو بارش سے سیراب ہوتی ہے اور مردہ ہونے کے بعد بارش سے زندہ ہوجاتی ہے اور سبزہ اور گھاس اگاتی ہے جس سے انسان اور مویشی اور کھیتیاں نفع حاصل کرتی ہیں اسی طرح لوگوں کی پہلی قسم وہ ہے جن کے پاس ہدایت اور علم پہنچتا ہے تو وہ اس کی حفاظت کرتے ہیں اس سے ان کا قلب زندہ ہوتا ہے وہ خود بھی اس علم کے مطابق عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی تعلیم دیتے ہیں وہ خود بھی نفع حاصلک رتے ہیں اور دوسروں کو بھی نفع پہنچاتے ہیں۔

زمین کی دوسری قسم وہ ہے جو خود تو بارش سے کوئی نفع حاصل نہیں کرتی لیکن اس میں دوسروں کے لئے فائدہ ہے، وہ پانی کو دوسروں کے لئے روک لیتی ہے پھر اس پانی سے انسان اور مویشی نفع اٹھاتے ہیں، اسی طرح انسانوں کی دوسری قسم وہ ہے جس کی قوت حافظہ تیز ہوتی ہے لیکن ان میں مسائل کے استنباط کا ملکہ اور اجتہاد کی صلاحیت نہیں ہوتی اور ان کی عقل اس قدر راسخ نہیں ہوتی کہ وہ معانی اور احکام کو حاصل کرسکیں، لیکن وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث کو محفوظ رکھتے ہیں حتیٰ کہ ان کے پاس نہیں ہوتی کہ وہ معانی اور احکام کو حاصل کرسکیں، لیکن وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث کو محفوظ رکھتے ہیں حتیٰ کہ ان کے پاس جو علم کا پیاسا اور متلاشی آتا ہے اس تک وہ اس علم اور ان احادیث کو پہنچا دیتے ہیں، وہ اس علم سے فائدہ اٹھاتا ہے پس یہ لوگوں کی وہ قسم ہے جو اس علم سے نفع پہنچاتے ہیں جو ان تک پہنچایا گیا ہے۔

زمین کی تیسری قسم وہ ہے جو شور وایصنمکین اور کھاری) اور دلدلی زمین ہوتی ہے جو نہ کوئی چیز اگا سکتی ہے اور نہ اپنے اندر پانی کو جمع کرسکتی ہے تاکہ دوسرے اس پانی سے فائدہ حاصل کرلیں اس طرح لوگوں کی تیسری قسم وہ ہے جن کی قوت حافظہ ہوتی ہے نہ ان میں مسائل نکالنے اور احکام مستبط کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جب وہ کسی حدیث کو یا کسی علم کی بات کو سنتے ہیں تو وہ خود اس پر عمل کرتے ہیں اور نہ اس کو یاد رکھتے ہیں تاکہ وہ دوسروں تک اس علم کی بات کو پہنچا سکیں۔

اس حدیث میں علم حاصل کرنے اور علم پڑھنے کی فضیلت ہے اور علم سے اعراض کرنے کی مذمت 

طہ :106 میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی کئی صفات بیان کی ہیں، ایک صفت قاعاً بیان کی ہے اس کا معنی ہے نشیب والی جگہ اور ایک قول ہے جس جگہ پانی جمع ہو اور دوسری صفت الصفف باین کی ہے، اس کا معنی ہے جس زمین میں روئیدگی نہ ہو اور ابو مسلم نے کہا قاعاً اور صفصفاً دونوں کا معنی ہے ہموار زمین۔

 

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 106