أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَعَنَتِ الۡوُجُوۡهُ لِلۡحَىِّ الۡقَيُّوۡمِ‌ؕ وَقَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

اس ہمیشہ سے زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والے کے سامنے سب ذلت سے اطاعت کر رہے ہیں اور بیشک وہ شخص ناکام اور نامراد ہوگا جو ظلم کا بوجھ لاد کر لائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس ہمیشہ سے زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والے کے سامنے سب ذلت سے اطاعت کر رہے ہیں اور بیشک وہ شخص ناکام اور نامراد ہوگا جو ظلم کا بوجھ لاد کر لائے گا۔ (طہ :111)

عنت الوجوہ اور لالقیوم کے معانی 

اس آیت میں عنت کا لفظ ہے، عنیٰ کا معنی ہے عاجزی کرنا اور ذلیل ہونا، العانی کا معنی ہے الاسیر، یعنی قیدی، الماوردی نے کہا ذلت اور خشوع میں فرق ہے۔ ذلیل اس کو کہتے ہیں جو فی نفسہ ذلیل ہو اور جو اطاعت کی وجہ سے ذلیل ہو اس کو خشوع کرنے والا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عنت الوجوہ فرمایا ہے اس کا لفظی معنی ہے اس کے لئے سب چہرے ذلیل ہیں، چہروں سے مراد، چہروں والے ہیں، اس سے مراد انسان ہیں اور چہروں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ انسان کے احوال اور اعمال کا اظہار اس کے چہرے سے ہوتا ہے۔ جو شخص کسی کے سامنے عاجزی کرے اور ذلت اختایر کرے اس کا پتا اس کے چہرے سے چل جاتا ہے اور جو کسی کے سامنے رعونت اور تکبر کرے اس کا اظہار بھی اس کے چہرے سے ہوجاتا ہے اس لئے اس آیت میں انسانوں کو چہروں سے تعبیر فرمایا ہے، اس آیت کا معنی ہے اس کو سجدہ کرتے ہیں اور اس کے لئے اپنے چہروں اور پیشانی کو زمین پر رکھتے ہیں۔

القیوم کے تین معنی ہیں۔ (١) جو مخلوق کی تدبیر کرنے کے ساتھ قائم ہو (٢) جو انسان کے ہر کسب پر قائم ہو (٣) وہ ذات جو ازلی، ابدی، سرمدی ہو، اس کو حدوث ہو نہ اس کو فنا ہو۔

اسم اعظم کے متعلق احادیث 

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم وہ ہے کہ جب اس کو پکارا جائے تو وہ جواب دے۔ وہ قرآن مجید کی تین سورتوں میں ہے : البقرہ، آل عمران اور طہ۔ (یہ حدیث صحیح ہے) (المعجم الکبیر رقم الحدیث :7758، المستدرک ج ١ ص 505، مجمع الزوائد ج 10 ص 156، جمع الجوامع رقم الحدیث 2978) اور ان تینوں سورتوں میں جو اللہ تعالیٰ کا اسم مشترک ہے وہ ہے الحی القیوم (البقرہ :255 آل عمران : ٢ طہ :111)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کا وہ اسم اعظم جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ اس کو قبول فرمائے یہ ہے : قل اللھم مالک الملک الایۃ (اس کی سند ضعیف ہے) (المعجم الکبیر رقم الحدیث :12792، جمع الجوامع رقم الدیث :2979، الجامع الصغیر رقم الحدیث :1033)

حضرت اسماء بنت زید (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمٰن الرحیم اور اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم (اس کی سند صحیح ہے) (مسند احمد ج ٦ ص 5461، سنن ابودائود رقم الحدیث :1496، سنن الترمذی رقم الحدیث :3478، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2855، المشکوۃ رقم الحدیث :22921، جمع الجوامع رقم الحدیث :2981، الجامع الصغیر رقم الحدیث، 1032)

حضرت سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کا وہ اسم اعظم جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو دعا قبول ہو اور جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو عطا کیا جائے وہ حضرت یونس بن متی کی دعا ہے۔ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین (الانبیاء :87) اس کی سند ضعیف ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج ١ ص 324، مطبع جدید، جمع الجوامع رقم الحدیث :2982، الجامع الصغیر رقم الحدیث 1034)

نیز اس آیت میں فرمایا وہ شخص ناکام اور نامراد ہوگا اس سے مراد ہے وہ شخص ثواب سے محروم رہے گا، جو ظلم کا بوجھ لاد کر لائے گا یعنی جو شخص گناہ کبیرہ کرے گا اور اس پر توبہ نہیں کریگا، لیکن اس آیت میں یہ قید ملحوظ ہے کہ اگر اللہ اس کو معاف نہ فرمائے، کیونکہ دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے گناہ کبیرہ کو بلکہ شرک کے سوا ہر گناہ کو معاف فرمانے کی بشارت بھی دی ہے، اس لئے اس آیت کا معنی اس طرح ہے، اگر کوئی شخص قیامت کے دن گناہ کا بوجھ لاد کر لایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف نہیں کیا اور وہ شفاعت سے بھی محروم رہا تو وہ ثواب سے محروم رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 111