أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَزَالُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡهُ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً اَوۡ يَاۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ کافر ہیں وہ اس کے متعلق ہمیشہ شک میں ہی رہیں گے، حتیٰ کہ ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے یا ان کے پاس بےرحم دن کا عذاب آجائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ کافر ہیں وہ اس کے متعلق ہمیشہ شک میں ہی رہیں گے حتیٰ کہ ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے یا ان کے پاس بےرحم دن کا عذاب آجائے۔ (الحج : ٥٥ )

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر کفار کو قیامت تک کی طویل زندگی بھی مل جائے تو وہ پھر بھی اسلام اور قرآن مجید کے حق ہونے کے متعلق شکوک اور شبہات ہی میں مبتلا رہیں گے۔

یوم عقیم کا معنی 

اس آیت میں فرمایا ہے یا ان کے پاس یوم عقیم کا عذاب آجائے۔

علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں :

عقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو اثر قبول کرنے سے مانع ہو۔ چناچہ محاورہ ہے، عقمت مفاصلہ اس کے جوڑ خشک ہوگئے اور لا علاج مرض کو داء عقام کہتے ہیں اور عقیم اس عورت کو کہتے ہیں جو مرد کا نطفہ قبول نہیں کرتی۔ حضرت سارہ نے کہا، ہوگئے اور لاعلاج مرض کو داء عقام کہتے ہیں، اور عظیم اس عورت کو کہتے ہیں جو مرد کا نطفہ قبول نہیں کرتی۔ حضرت سارہ نے کہا : قالت عجوز عقیم (الذاریات : ٦٩) میں بوڑھی بانجھ ہوں۔ ریح عقیم اس ہوا کو کہتے ہیں جو بادل لے کر آئے نہ کسی درخت میں پھل لائے :

اذ ارسلنا علیھم الریح العقیم۔ (الذاریات : ٤١) جب ہم نے ان پر خیر و برکت سے خالی ہوا بھیجی۔ (الذاریات : ٤١ )

جو چیز کسی خیر کا اثر قبول نہ کرے اس کو بھی عقیم کہتے ہیں اس بناء پر یوم عقیم کا معنی ہے وہ دن جس میں کوئی خیر نہ ہو۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٤٥ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ بیروت، 1418 ھ)

اس دن کو یوم عقیم اس لئے فرمایا کہ کفار اس دن میں کوئی راحت اور کسی قسم کا آرام نہیں پائیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 55