أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ‌‌ۖ وَلۡيَـعۡفُوۡا وَلۡيَـصۡفَحُوۡا‌ ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَـكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور تم میں سے اصحاب فضل اور ارباب وسعت یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، ان کو چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کر دے اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم میں اصحاب فضل اور ارباب وسعت یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور در گزر کریں، کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کر دے اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے ۔ (النور : ٢٢ )

حضرت ابوبکر (رض) کے افضل امت ہونے پر دلائل اور نکات 

یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے، ان کے خالہ زاد بھائی مسطح نے بھی حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگانے میں حصہ لیا تھا اور جب حضرت عائشہ کی برات نازل ہوگئی اور مسطح کا جھوٹ ظاہر ہوگیا تو حضرت ابوبکر کو بہت رنج ہوا، کیونکہ مسطح یتیم تھے اور ان کی حضرت ابوبکر نے پرورش کی تھی سو انہوں نے کہا میں اب مسطح پر بالکل خرچ نہیں کروں گا۔ مسطح نے معافی مانگی اور معذرت کی لیکن حضرت ابوبکر (رض) سخت غم و غصہ میں تھے وہ دوبارہ مسطح کے اخراجات بحال کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے تب یہ آیت نازل ہوئی اور حضرت ابوبکر (رض) نے رجوع کرلیا اور فرمایا کیوں نہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرما دے اور میں اب مسطح پر پہلے سے زیادہ خرچ کروں گا۔ (جامع البیان جز ١٨ ص ١٣٧۔ ١٣٦، دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

یہ آیت حسب ذیل وجوہ سے حضرت ابوبکر (رض) کے افضل ہونے پر دلالت کرتی ہے :

(١) تواتر سے ثابت ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

(٢) اس آیت میں حضرت ابوبکر کو اولوالفضل والسعۃ (اصحاب فضل اور ارباب وسعت) فرمایا ہے۔

(٣) اولو الفضل والسعۃ جمع کا صیغہ ہے اور جب واحد شخص پر جمع کا اطلاق کیا جائے تو اس کی تعظیم کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔

(٤) اللہ تعالیٰ نے فضل کو مطلق فرمایا اور اس کو کسی قید کے ساتھ مفید نہیں فرمایا اس سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر فاضل علی الاطلاق تھے اور آپ میں ہر اعتبار اور ہر جہت سے فضیلت تھی۔

(٥) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اولوالفضل منکم یعنی جو تم سب میں سے صاحب فضیلت ہیں اس میں یہ دلیل ہے کہ یہ حضرت ابوبکر کی صفت مخصوصہ ہے۔

(٦) فضل کا معنی ہے زیادہ یعنی حضرت ابوبکر تمام مومنوں سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔

(٧) اور فرمایا جو تم سب سے زیادہ صاحب وسعت ہیں یعنی حضرت ابوبکر سب سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے والے تھے وہ عبادت بھی سب سے زیادہ کرتے تھے اور مسلمانوں پر شفقت بھی سب سے زیادہ کرتے تھے اور خالق کی تعظیم اور مخلوق پر شفقت کرنے کے سب سے زیادہ جامع تھے، اور وہ صدیقین کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے اور اس آیت کے مصداق تھے :

اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ (النحل : ١٢٨ )

بے شک اللہ متقین اور نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

(٨) صاحب وسعت اسی وقت لائق تعریف ہوتا ہے جب وہ فیاض اور جواد ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگوں میں سے اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔ (کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٤١٥٥) اس کی صراحت کے ساتھ تائید اور تقویت ان آثار میں ہے۔ حافظ بن عساکر متوفی ٥٧١ ھ اپنی اسانید کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ابو بردہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ابوالھلال العکی نے حضرت علی (رض) سے کہا اس امت میں اس کے نبی کے بعد کون سب سے افضل ہے ؟ حضرت علی نے کہا حضرت ابوبکر اس نے کہا ابوبکر فرمایا ہاں پوچھا پھر کون ہے فرمایا عمر، پھر اس نے جلدی سے کہا پھر امیر المومنین آپ ہیں فرمایا نہیں۔

عبدالرحمان بن الاصبہانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت علی نے منبر پر چڑھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر اور عمر ہیں اور اگر میں چاہتا تو تیسرے کا نام بھی لوں۔ (الکامل لابن عدی ج ٣ ص ٣٢٠، امام بن عساکر اس حدیث کو قابل اطمینان قرار دیا، دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

ابو مخلد مازنی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو ہم نے جان لیا کہ رسول الہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر ہیں اور جب حضرت ابوبکر فوت ہوئے تو ہم نے جان لیا کہ حضرت ابوبکر کے بعد سب سے افضل عمر ہیں اور جب حضرت عمر فوت ہوئے تو ہم نے جان لیا کہ حضرت عمر کے بعد سب سے افضل ایک شخص ہیں اور ان کا نام نہیں لیا۔ حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سب سے بہتر ابوبکر اور عمر ہیں۔ (اس کی سند مرسل ہے، جمع الجوامع رقم الحدیث : ١١٧٧٩، کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٦١١٥)

مشہور شعیہ محقق عالم ابو عمرو محمد بن عبدالعزیز لکشی بیان کرتے ہیں :

ابوعبداللہ (علیہ السلام) نے کہا مجھ کو سفیان ثوری نے محمد بن المنکدر سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی کہ حضرت علی (علیہ السلام) نے کوفہ میں منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا : اگر میرے پاس ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور وہ سزا دوں گا جو مفتری (کذاب) کو سزا دی جاتی ہے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے کہا ہمیں مزید حدیث بیان کریں تو سفیان نے جعفر سے روایت کیا کہ ابوبکر اور عمر سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے۔ (رجال الکشی ص ٣٣٨، مطبوعہ موسسۃ الاعلمی اللمطبوعات، کربلا)

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر سب سے پہلے ایمان لایا اور جس نے سب سے پہلے میری تصدیق کی وہی قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کرے گا وہی صدیق اکبر ہے اور وہی فاروق ہے جو میرے بعد حق اور باطل میں فرق کرے گا۔ (رجال الکشی ص ٢٩، مطبوعہ موسسۃ الاعلمی اللمطبوعات، کربلا)

امام بخاری نے حضرت الدرداء (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے تم لوگوں کی طرف معبوث کیا، تو تم سب نے (مجھ سے) کہا تم نے جھوٹ بولا، اور ابوبکر نے کہا آپ نے سچ فرمایا اور اپنی جان اور مال کی میری غمگساری کی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٦١ )

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر ایمان لائے اور الکشی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد روایت کیا ہے کہ جو مجھ پر سب سے پہلے ایمان لایا وہی صدیق اکبر ہے تو حضرت ابوبکر ہی صدیق اکبر ہیں۔

(٩) حضرت ابوبکر کے فیاض اور جواد ہونے کی یہ دلیل بھی ہے کہ حضرت ابوبکر نے سلام لانے کے بعد حضرت عثمان بن عفان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) کو اسلام کی تبلیغ کی اور یہ سب ان کی کوشش سے مسلمان ہوئے اور ان کی یہ فیاضی اسلام کی تعلیم دینے میں دین کی ہدایت دینے میں اور اسلام کی راہ میں اپنا مال و دولت خرچ کرنے کے لیے تھی اور ان سب نے اسلام کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا اور یہ سب حضرت ابوبکر (رض) کی تبلیغ کی وجہ سے ہوا اور حدیث میں ہے :

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اسلام میں کسی نیک طریقہ کی ابتداء کی اس کو اس نیکی کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس نیکی پر عمل کرنے والوں کی نیکیوں کا بھی اجر ملے گا اور ان کی نیکیوں کے اجروں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٠١٨، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٥٥٤، سنن ابی ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٣)

سو ان تمام صحابہ کی جو دو سخا بھی اس حدیث کے اعتبار سے حضرت ابوبکر کی جو دوسخا میں داخل ہیں اور یہ بھی حضرت ابوبکر کے اولوالفضل والسعۃ ہونے کی وجہ سے ہے۔

(١٠) اس آیت میں حضرت ابوبکر نے فرمایا ہے : انہیں چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور در گزر کریں اور عفو کرنا تقویٰ کا قرینہ ہے اور جس شخص کا عفو جتنا قوی ہوگا اس کا تقوی اتنا قوی ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر بہت متقی تھے بلکہ سب سے زیادہ متقی تھے کیونکہ جب حضرت ابوبکر نے بہت گراں اور غیر معمولی قیمت سے حضرت بلال کو امیہ بن خلف سے خرید کر آزاد کیا اور مشرکین نے یہ طعنہ دیا کہ ضرور بلال نے ابوبکر کے ساتھ کوئی نیکی کی ہوگی جس کے صلہ میں انہوں نے اس بھاری قیمت سے بلال کو خرید کر آزاد کردیا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی :

وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ۔ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ۔ وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی ۔ اِلَّا ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی ۔ وَلَسَوْفَ یَرْضٰی (الیل : ٢١۔ ١٧)

اور عنقریب اس شخص کو جہنم سے دور رکھا جائے گا جو سب سے زیادہ متقی ہے ۔ جو پاکیزگی کے حصول کے لیے اپنا مال خرچ کرتا ہے ۔ اس پر کسی شخص کا کوئی (دنیاوی) احسان نہیں ہے جس کا صلہ دیا جائے ۔ اس کا مال خرچ کرنا صرف اپنے رب اعلیٰ کی رضا جوئی کے لیے ہے ۔ اور وہ عنقریب (اس کا رب) راضی ہوگا 0

اس آیت میں حضرت ابوبکر کو سب سے زیادہ متقی فرمایا ہے اور قرآن مجید میں ہے :

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُم (الحجرات : ١٣)

اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔

لہذا سورة نور کی اس آیت میں جو حضرت ابوبکر کو معاف کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت ابوبکر سب سے زیادہ متقی اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت اور بزرگی والے ہیں۔

(١١) اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : فاعف عنھم و اصفح (المائدہ : ١٣) ان کو معاف کردیں اور درگزر کریں اور حضرت ابوبکر کے متعلق اس آیت میں فرمایا ولیعفوا ولیصفوا یعنی وہ معاف کردیں تو اور درگزر کریں اور اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہر معاملہ میں ثانی اثنین ہیں حتیٰ کہ معاف کرنے اور در گزر کرنے میں بھی اور تمام اخلاق اور اوصاف میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مظہر ہیں۔

(١٢) نیز اس آیت میں فرمایا : ان کو چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور در گزر کریں، کہا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کر دے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کی مغفرت کو اس پر معلق فرمایا ہے اور حضرت مسطح کو معاف کردیں اور جب حضرت ابوبکر نے حضرت مسطح کو معاف کردیا تو حضرت ابوبکر کی مغفرت حاصل ہوگئی اور یہ آیت حضرت ابوبکر کی مغفرت کی قطعی دلیل ہے اور یہ اس کی متلزم ہے کہ حضرت ابوبکر کی امامت اور خلافت برحق تھی کیونکہ اگر ان کی امامت اور خلافت برحق نہ ہوتی تو وہ مغفور نہ ہوتے۔

(١٣) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الا تحبون ان یغفر اللہ لکم، کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کر دے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مغفرت کو ماضی یا مستقبل کے کسی زمانہ کے ساتھ مقید نہیں کیا اور یہ اس کو مستلزم ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) مطلق مغفور ہیں اور مطلقاً مغفور ہونے کے اس وصف میں حضرت ابوبکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرع عکس اور پرتو ہیں کیونکہ آپ بھی مطلق مفغور ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ۔ لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّر (الفتح : ٢۔ ١)

بے شک ہم نے آپ کو واضح فتح عطا فرمائی تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے بظاہر خلاف اولیٰ سب کام معاف فرما دے۔

اس آیت میں حضرت ابوبکر کی فضیلت کے جو دلائل ہیں وہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ (رض) کے لیے بھی موجب فضیلت ہیں کیونکہ باپ کی فضیلت اولاد کے لیے باعث افتخار ہوتی ہے، اور ان فضائل کا سبب بھی حضرت عائشہ (رض) کا اس تہمت سے بری ہونا ہے سو یہ آیت بھی حضرت عائشہ (رض) کے فضائل کے سلسلہ میں منسلک ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 22