فَجَعَلْنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَمَا خَلْفَہَا وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیۡنَ﴿۶۶﴾

ترجمۂ کنزالایمان:تو ہم نے (اس بستی کا)یہ واقعہ اس کے آگے اور پیچھے والوں کے لئے عبرت کردیا اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔

ترجمۂ کنزالعرفان:تو ہم نے یہ واقعہ اس وقت کے لوگوں اور ان کے بعد والوں کے لیے عبرت اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت بنادیا۔

{نَکَالًا: عبرت۔ }اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں عذاب کے واقعات ہماری عبرت و نصیحت کیلئے بیان کئے گئے ہیں لہٰذا قرآن پاک کے حقوق میں سے ہے کہ اس طرح کے واقعات و آیات پڑھ کر اپنی اصلاح کی طرف بھی توجہ کی جائے۔