أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍ اۨلۡمُرۡسَلِيۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

لوط کی قوم نے رسولوں کی تکذیب کی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لوط کی قوم نے رسولوں کی تکذیب کی۔ جب ان سے ان کے ہم قوم لوط نے کہا : کیا تم نہیں ڈرتے ؟۔ بیشک میں تمہارے لئے امانتدار رسول ہوں۔ سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں تم سے اس (تبلیغ دین) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا ‘ میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔ کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے پاس آتے ہو !۔ اور تمہارے رب نے تمہارے لئے تمہاری بیویوں میں جو چیز پیدا کی ہے ‘ اس کو چھوڑ دیتے ہو ! بلکہ تم لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔ (الشعرائ : ١٦٦۔ ١٦٠ )

حضرت لوط (علیہ السلام) کی اہل سدوم کی طرف بعثت 

انبیاء (علیہم السلام) کے بیان کئے ہوئے قصص میں سے یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے۔

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم سے مراد اہل سدوم اور ان کے متبعین ہیں۔ انہوں نے حضرت لوط ‘ حضرت ابراہیم اور ان سے پہلے تمام نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی تھی۔

الشعراء ١٦١‘ میں حضرت لوط کو اس قوم کا بھائی فرمایا ہے۔ یہاں بھائی کا معنی ہم قبیلہ نہیں ہے ‘ جیسا کہ بعض مترجمین نے لکھا ہے کیونکہ حضرت لوط باہر سے اس علاقہ میں آئے تھے۔ ان کا تعلق ان کے نسب سے تھا نہ ان کے وطن سے تھا۔ یہاں پر بھائی کا اطلاق صرف مشفق کے معنی میں کیا گیا ہے کیونکہ بھائی ‘ بھائی پر شفیق اور مہربان ہوتا اور حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اس قوم پر مشفق اور مہربان تھے۔

امام ابوالقاسم علی بن الحسن ‘ ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ لکھتے ہیں :

حضرت لوط (علیہ السلام) کا نام ہے لوط بن ھاران بن تارخ ‘ ھاران حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بھائی تھے اور حضرت لوط ‘ حضرت ابراہمی کے بھتیجے تھے۔

حسان بن عطیہ نے بیان کیا ہے کہ نبط (عراقیوں کی ایک قوم) کے بادشاہ نے حضرت لوط اور ان کے اہل پر حملہ کرکے ان کو قید کرلیا۔ پھر حضرت ابراہیم نے حضرت لوط کو چھڑانے کے لئے اس سے جنگ کی اور حضرت لوط اور ان کے اہل کو چھڑالیا۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ دس نبیوں کے سوا تمام انبیاء حضرت یعقوب کی نسل سے ہیں : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت لوط، حضرت ھود، حضرت شعیب، حضرت صالح اور حضرت نوح علیہم السلام۔ (اس پر یہ اشکال ہوگا کہ ان میں کئی انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر نہیں ہے۔ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد جس نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کی وہ عثمان (بن عفان) ہیں۔(تاریخ دمشق الکبیر ج ٥٣‘ ص ٢٣٧‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کو رسول بنانے کے بعد حضرت سارہ کا جو واقعہ حضرت ھاجر کے ساتھ ہوا ‘ اس کے بعد حضرت سارہ کے دل میں اولاد کی خواہش ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو ارض مقدسہ کی طرف بھیجا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو الموتفکات (الٹی ہوئی بستیوں) کی طرف بھیجا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی چار بستیاں تھیں۔ سدوم ‘ امورار ‘ عاموراء اور صبویراء اور ہر بستی میں ایک لاکھ جنگجو تھے اور ان کی کل تعداد چار لاکھ تھی اور ان کا سب سے بڑا شہر سدوم تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اس بستی میں مبعوث کئے گئے تھے اور یہ شہر بھی الموتفکات میں سے تھا۔ یہ شام اور فلسطین کے شہروں سے ایک دن کی مسافت پر تھا۔ حضرت ابراہیم خلیل الرحمان ‘ حضرت لوط بن ھاران کے چچا تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت لوط کی قوم کو نصیحت کرتے تھے۔ ان کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ڈھیل دی ہوئی تھی۔ انہوں نے شرم و حیاء کے حجاب پھاڑ دئے تھے اور حرام کاری شروع کردی تھی اور بہت بڑی بےحیائی کا ارتکاب کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم دراز گوش پر سوار ہو کر قوم لوط کے پاس گئے اور ان کو نصیحت کی۔ انہوں نے اس نصیحت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد وہ سدوم کی طرف جاتے اور اس کو دیکھ کر کہتے : اے سدوم، اب اللہ کی طرف سے تیرا کونسا دن ہے ؟ میں تمہیں ان کاموں سے منع کرتا ہوں تاکہ تم اللہ کے عذاب کے مستحق نہ بنو۔ الحدیث (تاریخ دمشق الکبیر ج ٥٣ ص ٢٣٨۔ ٢٣٦‘ (ملخصا) مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

علامہ عبدالرحمان بن علی جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے عم محترم حضرت ابراہیم پر ایمان لائے تھے اور ان کی اتباع کرتے تھے اور انہوں نے حضرت ابراہیم کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی ‘ پھر وہ مصر چلے گئے اس کے بعد پھر لوٹ کر شام کی طرف آئے۔ پھر حضرت ابراہیم فلسطین میں ٹھہر گئے اور حضرت لوط اردن چلے گئے۔ اس وقت حضرت ابراہیم کی نصف عمر گزر چکی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کو اھل سدوم کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا۔ اھل سدوم کافر تھے اور مردم پرستی میں مبتلا تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو کفر اور بےحیائی کے کاموں سے روکتے تھے اور منع کرتے تھے۔ (المنتظم ج ١ ص ١٧٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 160