أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوۡفُوا الۡـكَيۡلَ وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

پیمانہ پورا بھر کردو اور کم تولنے والوں میں سے نہ بن جائو

قسطاس کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

الشعراء : ١٨١ میں قسطاس کا لفظ ہے۔ اس لئے ہم قسطاس کا لغوی اور اصطلاحی معنی ‘ اس کے متعلق احادیث اس کے فوائد اور دیگر امور بیان کررہے ہیں۔ قسطاس کا معنی میزان اور ترازو ہے اور اس کو عدالت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٥٢٢) یہ لفظ رومی ہے جس کو عربی میں ڈھالا گیا ہے اور قسط کا معنی ہے عدل اور انصاف کے ساتھ کسی چیز کا حصہ ‘ قران مجید میں ہے :

ترجمہ : (یونس : ٤)… تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ اجر دے۔

جب انسان کسی کا حصہ دوسرے کو دے دے تو اس کو بھی قسط کہتے ہیں اور یہ ظلم کے معنی میں ہے اور قاسطون کا معنی ہے ظلم کرنے والے ‘ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ : (الجن : ١٥)… رہے ظلم کرنے والے تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔

(المفردات ج ٢ ص ٥٢٢۔ ٥٢١‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک اسم ہے المقسط ‘ یعنی عادل ‘ قسط بقسط ضرب یضرب کے باب سے ہو تو اس کا معنی ہے ظلم کرنا اور جب یہ باب افعال سے ہو تو اس میں ہمزہ سلب ماخذ کے لئے ہے اور اس کا معنی ظلم کو دور کرنا اور عدل کرنا ہے۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے اور نہ سونا اس کی شان کے لائق ہے۔ وہ قسط یعنی میزان کو جھکاتا ہے اور اس کو اوپر اٹھاتا ہے۔ یعنی بندوں کے جو اعمال اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں ‘ ان میں سے نیک اعمال کے پلڑے کو وہ جھکاتا ہے اور برے اعمال کے پلڑے کو وہ اوپر اٹھا دیتا ہے اور اس کی تفسیر یہ بھی ہے کہ وہ میزان میں بندوں کے رزق کو زیادہ کرکے اس کے پلڑے کو جھکا دیتا ہے اور ان کے رزق کے پلڑے کو رزق میں کمی کرکے اوپر اٹھا دیتا ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا مجھے ناکثین اور قاسطین اور مارقین سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ناکثین کا معنی ہے عہد شکنی کرنے والے اس سے مراد اہل جمل ہیں یعنی حضرت عائشہ (رض) کے لشکر والے ‘ کیونکہ انہوں نے حضرت علی (رض) کی بلیعت کی خلاف ورزی کی اور قاسطون کا معنی ظلم کرنے والے ‘ اس سے مراد اہل صفین ہیں۔ یعنی حضرت معاویہ (رض) کے لشکر والے کیونکہ انہوں نے خلیفہ برحق حضرت علی (رض) کے حکم کی خلاف ورزی کی اور ان کے خلاف بغاوت کی اور مارقون کا معنی ہے خارج ہونے والے اور اس سے مراد خوارج ہیں کیونکہ وہ دین سے اس طرح نکل گئے تھے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ‘ اقسط فی حکمہ کا معنی ہے فلاں شخص نے عدل سے فیصلہ کیا۔ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ : (الحجرات : ٩)… اور عدل کرو بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

اور قسط کا معنی ہے ظلم کرنا اور قاسطون کا معنی ہے ظلم کرنے والے اور حق سے تجاوز کرنے والے۔

(لسان العرب ج ٧ ص ٣٧٨‘ مطبوعہ نشرادب الحوزہ ‘ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ منادی متوفی ١٠٠٣ ھ نے کہا ہے کہ قسط کا معنی ہے عدل سے کسی چیز کا حصہ کرنا (التوقیف علی مہمات التعریف ص ٢٧١) اور علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ قسط کا معنی ہے معاملات میں عدل کرنا۔

قسطاس (عدل کرنے) کے متعلق احادیث 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقسطین (عدل کرنے والے) اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب بیٹھے ہوں گے اور رحمٰن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ‘ جو لوگ اپنے گھر والوں اور جن پر ان کو حاکم بنایا گیا ان میں عدل سے فیصلے کریں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٦٧ )

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بوڑھے مسلمان اور جو شخص حامل قرآن ہو اور اس میں غلونہ کرتا ہو اور اس کے ساتھ جفانہ کرتا ہو اور صاحب اقتدار کی تکریم کرنا اللہ تعالیٰ کی تعظیم بجا لانے کے حکم میں ہے۔ 

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٤٣ )

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے ‘ جس میں قریش کی ایک جماعت تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس گھر کے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑ کر فرمایا ‘ کیا اس گھر میں صرف قرشی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ‘ اس میں فلاں شخص ہمارا بھانجا بھی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی قوم کا بھانجا بھی اسی کی قوم میں شمار ہوتا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک ان سے رحم طلب کیا جائے تو یہ رحم کرتے رہیں۔ اور جب تک یہ انصاف سے فیصلے کرتے رہیں اور یہ عدل سے تقسیم کرتے رہیں اور ان میں سے جو شخص اس طرح نہیں کرے گا ‘ اس پر اللہ کی ‘ فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ اس کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(مسند احمد ج ٤ ص ٣٩٦‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر دنیا کی بقا میں صرف ایک دن رہ جائے گا تو اللہ اس دن کو ضرور طویل کردے گا ‘ حتیٰ کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو اس دن بھیجے گا جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا اور جس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے موافق ہوگا ‘ وہ زمین کو عدل اور انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح زمین پہلے ظلم اور بےانصافی سے بھری ہوئی تھی۔(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٨٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٣١‘ مسند احمد ج ٣ ص ٢٨۔ ٢٧ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ‘ عنقریب تم میں ابن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے۔ وہ عدل و انصاف سے فیصلے کریں گے۔ صلیب کو توڑدیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال و دولت کو اتنا تقسیم کریں گے کہ پھر اس کو قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٢٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٥ )

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا ‘ آپ اس پر گواہ ہوجائیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال سے اتنی اتنی چیزیں ہبہ کردی ہیں۔ آپ نے پوچھا ‘ تم نے جتنی چیزیں نعمان کو دی ہیں ‘ کیا اپنے باقی بیٹوں کو بھی اتنی چیزیں دی ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں ! آپ نے فرمایا پھر تم اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنائو۔ پھر آپ نے فرمایا ‘ کیا تم کو اس سے خوشی نہیں ہوگی کہ تمہارے تمام بیٹے تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں برابر ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا ‘ پھر تم بھی ان کے ساتھ برابر کا سلوک کرو۔ ایک اور روایت میں ہے۔ آپ نے فرمایا ‘ مجھ کو گواہ نہ بنائو کیونکہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦٥٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٢٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٤١١)

قسطاس (عدل کرنے) کے متعلق آثار 

ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ عراق والوں میں سے کوئی شخص حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا میں آپ کے پاس ایک ایسے کام کے لئے آیا ہوں جس کا کوئی سر ہے نہ کوئی دم ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا وہ کیا ہے ‘ اس نے کہا ہمارے علاقے میں جھوٹی گواہیاں دینے کا بہت رواج ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کیا واقعی ایسا ہوا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! حضرت عمر نے کہا ‘ اللہ کی قسم ! عدل کے بغیر اسلام میں کوئی شخص خوشحال نہیں ہوسکتا۔(موطا امام مالک الشہادات : ٤‘ رقم الحدیث : ١٤٦٥‘ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مثالیں بیان کی ہیں اور تمہارے لئے ایک قول کو بار بار دہرایا ہے ‘ تاکہ دل زندہ ہوں کیونکہ دل سینوں میں مردہ ہیں۔ جب تک اللہ ان کو زندہ نہ کرے ‘ جس نے کسی چیز کا علم حاصل کیا ‘ اس کو اس سے نفع پہنچانا چاہیے ‘ بیشک عدل کی کچھ علامتیں ہیں اور عدل کی کچھ خوشخبریاں ہیں۔ عدل کی علامتیں یہ ہیں : حیائ ‘ سخاوت ‘ آسانی اور نرمی اور عدل کے لئے خوشخبری رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک دروازہ بنایا ہے اور ہر دروازے کی ایک چابی بنائی ہے ‘ پس عدل کا دروازہ اعتبار ہے اور اس کی چابی زھد ہے اور اس کا اعتبار مال بھیج کر موت کو یاد کرنا اور اس کی تیاری کرنا ہے اور زہد ہر اس شخص سے حق وصول کرتا ہے جس پر کسی کا حق ہو اور جس شخص کو بقدر ضرورت چیزیں مل جائیں ان پر قناعت کرتا ہے اور اگر اس کو بقدر ضرورت چیزیں کافی نہ ہوں تو اس کو کوئی چیز مستغنی نہیں کرسکتی۔(البدایہ والنہایہ ج ٧ ص ٣٧‘ مطبوعہ دارالریان ‘ القاہرہ ‘ ١٤٠٧ ھ)

خرشہ بن الحر بیان کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے پاس شہادت دی۔ حضرت عمر نے کہا میں تم کو نہیں پہچانتا اور اگر میں تم کو نہیں پہچانتا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ تم اس شخص کو لے کر آئو جو تم کو پہچانتا ہو ‘ قوم میں سے ایک شخص نے کہا میں اس کو پہچانتا ہوں۔ حضرت عمر نے پوچھا تم کس وجہ سے اس کو پہچانتے ہو ؟ اس نے کہا عدل اور فضل سے ‘ حضرت عمر نے پوچھا کیا وہ تمہارا قریب ترین پڑوسی ہے۔ تم جس کو دن رات دیکھتے ہو اور اس کے گھر سے نکلنے اور گھر میں داخل ہونے سے واقف ہو ؟ اس نے کہا نہیں ! حضرت عمر نے پوچھا کیا تمہارا اس سے کبھی روپے پیسے کا لین دین ہوا ہے ‘ جس سے معاملات میں اس کی خدا خوفی پر استدلال کیا جاسکے ؟ اس نے کہا نہیں ! حضرت عمر نے پوچھا کیا یہ شخص کبھی سفر میں تمہارا رفیق رہا ہے جس سے اس کے مکارم اخلاق پر استدلال کیا جاسکے ؟ اس نے کہا نہیں ! حضرت عمر نے کہا پھر تم اس شخص کو نہیں پہچانتے۔ پھر گواہی دینے والے شخص سے فرمایا تم اس شخص کو لے کر آئو ‘ جو تم کو پہچانتا ہو۔(سنن کبریٰ للبیہقی ج ١٠ ص ١٢٦۔ ١٤٥‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان)

عدل کے متعلق اقوال علماء 

امام محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ نے فرمایا :

بندہ کا عدل میں حصہ بالکل ظاہر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی خفا نہیں ہے۔ عدل کے لئے اس کے نفس کی صفات میں سے اس کے لئے جو پہلی چیز واجب ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس کی شہوت اور اس کا غضب اس کی عقل اور اس کے دین کے تابع ہوں کیونکہ اگر اس نے اپنی عقل کو اپنی شہوت اور اپنے غضب کے تابع کردیا تو اس نے اپنے اوپر ظلم کیا اور عدل کے لئے دوسری چیز یہ واجب ہے کہ وہ تمام معاملات میں حدود شرع کی رعایت کرے اور ہر عضو میں اس کا عدل یہ ہے کہ وہ اپنے ہر عضو کو شریعت کے اذن کے مطابق استعمال کرے اور اپنے اہل و عیال میں اس کا عدل یہ ہے کہ ان کے جائز حقوق کو ادا کرے اور اگر وہ حکومت کے کسی منصب پر فائز ہے تو اس کا عدل یہ ہے کہ وہ اپنے تمام فرائض کو دیانتداری سے ادا کرے۔(المقصد الاسنی ‘ فی شرح معانی اسماء اللہ الحسنیٰ ص ١٠١۔ ٩٨‘ ملخصا ‘ مطبوعہ قبرص ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن ھمام نے فرمایا ‘ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطابق فیصلہ کرنا عدل ہے نہ کہ محض اپنی رائے سے۔ 

عبدالرحمان بن ناصر الدین نے کہا ‘ حقوق واجبہ کو خرچ کرنا اور مستحقین میں برابر برابر حقوق تقسیم کرنا عدل ہے۔

ابن حزم نے کہا ‘ نفس کے حقوق ادا کرنا اور اس سے دوسروں کے حقوق حاصل کرنا عدل ہے۔

علامہ شریف جرجانی نے کہا ‘ افراط اور تفریط کے درمیان امر متوسط عدل ہے اور جو کام دین میں منع ہوں ‘ ان سے بچتے ہوئے صراط مستقیم پر قائم رہنا عدل ہے۔

عدل عقلی اور عدل شرعی 

عقلاً عدل یہ ہے کہ جو شخص تمہارے ساتھ نیکی کرے تم بھی اس کے ساتھ نیکی کرو اور جو شخص تم سے برائی اور تکلیف کو دور کرے ‘ تم بھی اس سے برائی اور تکلیف کو دور کرو اور شرعاً عدل یہ ہے کہ کسی شخص سے برابر برابر سلوک کرنا ‘ اگر وہ نیکی کرے تو اس کے ساتھ نیکی کی جائے اور اگر وہ برائی کرے تو اس کے ساتھ اتنی ہی برائی کی جائے۔ قرآن مجید میں عدل کا ذکر ہے ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کافروں سے کہا :

ترجمہ : (ھود : ٣٨)… اگر تم ہم پر ہنس رہے ہو تو ایک دن ہم بھی تم پر ہنسیں گے۔ جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو۔

ترجمہ : (الرحمٰن : ٦٠ )… نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہے۔

ترجمہ : (الشوریٰ : ٤٠ )… برائی کا بدلہ اتنی ہی برائی ہے۔

عدل اور احسان 

عدل اور احسان میں فرق یہ ہے کہ عدل مساوات کا نام ہے۔ کسی نے جس قدر نیکی کی ہو اس کے ساتھ اسی قدر نیکی کی جائے یا جس نے جس قدر زیادتی کی ہو اس کے ساتھ اسی قدر زیادتی کی جائے تو یہ عدل اور احسان یہ ہے کہ کسی کی نیکی کا اس سے زیادہ نیکی کے ساتھ بدلہ دیا جائے یا کسی کی زیادتی کے بدلہ میں اس سے کم زیادتی کی جائے یا اس کی زیادتی کو معاف کردیا جائے یا اس کی زیادتی کے جواب میں اس کے ساتھ نیکی کی جائے۔ قرض کی رقم اتنی ہی ادا کی جائے تو عدل ہے۔ اس سے زیادہ ادا کی جائے تو احسان ہے ‘ بشرطیکہ قرض خواہ کا مطالبہ نہ ہو۔ کسی کے جرم پر اس کو سزا دینا عدل ہے اور اس کو معاف کردینا احسان ہے۔ اسی طرح مجرم کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی احسان ہے۔ قصاص لینا عدل ہے اور خون بہایا دیت لینا احسان ہے اور دیت کو ساقط کردینا یہ اس سے بھی بڑا احسان ہے۔

عدل اور احسان کے متعلق یہ آیتیں ہیں :

ترجمہ : (الشوریٰ : ٣٩)… اور جب ان پر زیادتی کی جائے تو وہ صرف بدلہ لیتے ہیں۔

ترجمہ (الشوریٰ : ٤٠) …اور برائی کا بدلہ اتنی ہی برائی ہے پس جس نے معاف کردیا اور اصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ پر ہے ‘ بیشک اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

ترجمہ : (الشوریٰ : ٤٣ )… اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو بیشک یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔ 

ترجمہ : (آل عمران : ١٣٤)… اور غصہ کو پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

احسان کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فطرتاً بدگو تھے نہ تکلفاً اور نہ بازاروں میں شور کرتے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠١٦‘ شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٨‘ مسند احمد ج ٦ ص ١٧٤‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٣٣٠‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٤٠٩‘ سنن کبریٰ للبیہقی ج ٧ ص ٤٥ )

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی۔ میں نے آگے بڑھ کر آپ سے مصافحہ کیا۔ پھر میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے افضل عمل بتایئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عقبہ جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو ‘ جو تم کو محروم کرے اس کو عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔

(مسند احمد ج ٤ ص ١٤٨‘ طبع قدیم ‘ حافظ زین نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے ‘ حاشیہ مسند احمد ج ١٣ ص ٣٤٣‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ ‘ تہذیب تاریخ دمشق ج ٣ ص ٦١‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٦٩٢٩ )

عدل اور انصاف کے فوائد 

(١)… عدل کرنے والا دنیا اور آخرت میں امن سے رہتا ہے ‘ اس کی دنیا میں تعریف و تحسین ہوتی ہے اور آخرت میں اجر وثواب ملتا ہے۔

(٢)… عدل و انصاف کرنے کی وجہ سے اس کی حکومت اور سلطنت کو استحکام حاصل ہوتا ہے اور دشمن کے حملہ کے وقت عوام اس کی پشت پر ہوتے ہیں۔

(٣)… عادل حکمران سے مخلوق راضی رہتی ہے اور ان کی رضا کی وجہ سے اس سے اللہ بھی راضی رہتا ہے۔

(٤)… عدل و انصاف کرنے والا پہلے اپنے اعضاء کے ساتھ عدل کرتا ہے اور ان کو گناہوں سے بچاتا ہے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ عدل کرتا ہے اور ان کو برائی سے اجتناب کرنے اور نیکی کی تلقین کرتا ہے اور پھر عام مسلمانوں اور معاشرہ میں نیکی کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے۔

(٥)… عدل اور انصاف سوشلزم ‘ کمیونزم اور کیپٹلزم کا راستہ روکتے ہیں اور اسلامی نظام معیشت کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

(٦)… عدل اور انصاف سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کی اتباع حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔

(٧)… عدل اور انصاف لوگوں کے حقوق اور ان کی امانتوں کی حفاظت کا ضامن ہے اور اس سے معاشرہ میں بےچینی نہیں پھیلتی۔

(٨)… عدل و انصاف قائم کرنا لا الٰہ الا اللہ کی شہادت میں اخلاص کی علامت ہے 

(٩)… عدل و انصاف کرنے والے کو قیامت کے دن نور کا لباس پہنایا جائے گا۔

(١٠)… عدل و انصاف کرنے والا قیامت کے دن اللہ کی لعنت سے ‘ فرشتوں کی لعنت سے اور لوگوں کی لعنت سے محفوظ رہے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 181