أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَذَّبَ اَصۡحٰبُ لْئَيۡكَةِ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اصحاب الایکہ (سرسبز جنگل والوں) نے رسولوں کی تکذیب کی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اصحاب الایکہ (سرسبز جنگل والوں) نے رسولوں کی تکذیب کی۔ جب ان سے شعیب نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے !۔ بیشک میں تمہارے لئے امانتدار رسول ہوں۔ سو تم ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں تم سے اس (تبلیغ دین) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا ‘ میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔ (الشعراء : ١٨٠۔ ١٧٦)

حضرت شعیب (علیہ السلام) کا تذکرہ 

انبیاء (علیہم السلام) کے قصص میں سے ساتواں قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ہے۔

حافظ علی بن الحسن بن ھبۃ اللہ ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ نے حضرت شعیب کا نام اس طرح لکھا ہے شعیب بن یوبب بن عنقاء بن مدین۔ (تاریخ دمشق الکبیر ج ٢٥ ص ٤٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حافظ ابو الفرج عبدالرحمان بن علی الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

ان کا نام شعیب بن عینا بن ندیب بن مدین بن ابراہیم ہے۔ اکثر مورخین نے اسی طرح لکھا ہے اور بعض نے یہ کہا کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے نہیں ہیں بلکہ یہ ان بعض لوگوں میں سے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) کے نواسے ہیں ان کو دو امتوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔ اہل مدین اور اصحاب الایکہ ‘ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا گھر تھا اور ایکہ کا علاقہ مدین کے پیچھے تھا۔

علماء نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بیس سال کی عمر میں مدین کی طرف مبعوث کیا۔ یہ قوم ناپ اور تول میں کمی کرتی تھی۔ حضرت شعیب نے ان کو توحید کی دعوت دی اور ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو بہترین جواب دیتے تھے ‘ اس لئے ان کو خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔ جب اہل مدین کی سرکشی بہت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت گرمی کا عذاب بھیجا۔ وہ گرمی سے گھبرا کر اپنے گھروں کو چھوڑ کر جنگل کی طرف نکل گئے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر ایک بادل بھیجا جس نے سورج سے ان کے اوپر سایہ کرلیا۔ اس سے ان کو ٹھنڈک اور لذت حاصل ہوئی ‘ پھر ان میں سے بعض نے بعض کو بلایا حتیٰ کہ سب اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کے اوپر ایک آگ بھیجی جس نے ان سب کو جلا ڈالا اور یہی یوم الظلہ (سائبان کے دن) کا عذاب ہے۔

پھر حضرت شعیب نے باقی عمر اصحاب الایکہ کے ساتھ گزاری اور ان کو اللہ سبحانہ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی دعوت دیتے رہے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیتے رہے لیکن ان کی دعوت کا اثر ان پر برعکس ہوا۔ ان کی سرکشی اور گمراہی بڑھتی رہی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی گرمی مسلط کردی اور یہ ہوسکتا ہے کہ دو امتوں پر ایک جیسا عذاب آیا ہو۔

قتادہ نے یہ کہا ہے کہ اہل مدین کو ایک چنگھاڑ نے ہلاک کردیا تھا اور اصحاب الایکہ پر سات دن تک مسلسل سخت گرمی مسلط کی گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک آگ بھیجی جو ان کو کھا گئی اور یہی یوم الظلۃ کا عذاب ہے۔

(المنتظم ج ١ ص ٢١٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

امام ابوالحسن علی بن ابی الکرم الشیبانی ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٣٠ ھ لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ حضرت شعیب کا نام شعیب یژون بن ضیعون بن عنقابن نابت بن مدین بن ابراہیم ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام شعیب بن میکیل ہے اور وہ مدین کی اولاد سے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کی اولاد سے نہیں ہیں۔ وہ ان بعض لوگوں کی اولاد سے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے حضرت ابراہیم کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی لیکن وہ حضرت لوط کے نواسے ہیں اور حضرت لوط کی بیٹی حضرت شعیب کی نانی تھیں۔ حضرت شعیب نابینا تھے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے ‘ حضرت شعیب کی قوم نے ان سے کہا :

ترجمہ (ھود : ٩٢)… انہوں نے کہا اے شعیب ! ہم آپ کی اکثر باتوں کو نہیں سمجھتے اور بیشک ہم آپ کو اپنے درمیان بہت کمزور پاتے ہیں۔

(میں کہتا ہوں کہ اس آیت سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے نابینا ہونے پر استدلال کرنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کی قوم کا منشاء یہ تھا کہ آپ ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس سے ان کے نابینا ہونے پر روشنی نہیں پڑتی۔ سعیدی غفرلہ)

حضرت شعیب (علیہ السلام) اس قوم کو کفر سے اور ناپ اور تول میں کمی کرنے سے ڈراتے تھے اور جب اس قوم پر کوئی اثر نہیں ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر یوم الظلۃ کا عذاب نازل کردیا۔ (اس کی تفصیل امام ابن جوزی کی عبارت میں گزر چکی ہے۔ ) اور قتادہ نے کہا ہے کہ حضرت شعیب کو دو امتوں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ اہل مدین کی طرف اور اصحاب الایکہ کی طرف ‘ اصحاب الایکہ گھنے جنگلوں میں رہنے والے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب دینے کا ارادہ کیا تو ان کو سخت گرمی میں مبتلا کردیا۔ پھر ان پر ایک بادل چھا گیا۔ وہ سب اس کے سائے میں جمع ہوگئے کیونکہ اس میں ان کو ٹھنڈک اور راحت ملی۔ پھر اچانک اس بادل سے ان پر آگ برسنی شروع ہوگئی اور وہ سب جل کر خاکستر ہوگئے اور یہی عذاب یوم الظلۃ ہے اور رہے اہل مدین تو وہ مدین بن ابراہیم الخلیل کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک زلزلہ اور اس کی چنگھاڑ سے ہلاک کردیا تھا۔

بعض علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم نے اللہ کی حد کو معطل کردیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق میں توسیع کردی۔ انہوں نے پھر حد کو معطل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر ان کے رزق میں توسیع کردی۔ پھر یونہی بار بار ہوتا رہا ‘ حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو ان پر ایسی گرمی مسلط کردی جو ان کی برداشت سے باہر تھی۔ ان کو کہیں سایہ میسر تھا نہ ٹھنڈا پانی مہیا تھا۔ پھر ان میں سے کسی نے آکر کہا کہ اس نے ایک جگہ بادل کا سایہ دیکھا ہے۔ وہ سب اس کے ساتھ جا کر وہاں جمع ہوگئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ سے بھر دیا اور ان پر آگ برسنے لگی اور یہی یوم الظلۃ (سائبان والے دن) کا عذاب ہے۔

(الکامل فی التاریخ ج ١ ص ٨٩۔ ٨٨‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ)

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

اہل مدین ‘ مدین نام کے اس شہر میں رہتے تھے جو حجاز کی اس جانب آباد تھا جہاں اس کی سرحد شام سے ملتی ہے۔ اس کے قریب بحیرہ قوم لوط تھا۔ (یہ شہر خلیج عقبہ کے شرقی اور غربی ساحلوں پر آباد تھا ‘ اور یہ سارا علاقہ مدین کہلاتا تھا اور اس علاقے کے مرکزی شہر کا نام بھی مدین تھا۔ اس شہر میں جو قبیلہ آباد تھا ‘ اس کا نام بھی مدین تھا۔ )

امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں یہ حدیث درج کی ہے :

اے ابوذر ! چار نبی عرب سے ہیں : ھود ‘ صالح ‘ شعیب اور تمہارے نبی۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٦١ )

اہل مدین کفار تھے۔ راستوں میں ڈاکے ڈالتے تھے اور گزرنے والوں کو خوفزدہ کرتے تھے اور الایکہ کی عبادت کرتے تھے اور ایکہ ایک درخت تھا ‘ اس کے گرد بہت گھنے جنگل تھے اور وہ لوگوں کے ساتھ بہت بد معاملہ تھے۔ ناپ اور تول میں کمی کرتے تھے۔ کسی سے کچھ لینا ہوتا تو زیادہ لیتے تھے اور دینا ہوتا تھا تو کم دیتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان میں حضرت شعیب کو اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت شعیب نے ان کو حکم دیا کہ تم صرف ایک اللہ کو معبود مانو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ان کو ان کے برے کاموں سے منع کیا اور ان سے فرمایا کہ لوگوں کے مالوں میں کمی کرنا چھوڑ دو ‘ راستے سے گزرنے والوں کو پریشان نہ کرو ‘ ڈاکے نہ ڈالو ‘ ان میں سے بعض حضرت شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اور اکثر نے کفر کیا ‘ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر خوف ناک عذاب بھیجا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اس قوم کو جو معجزات دکھائے تھے اور اپنی نبوت اور رسالت پر جو معجزات پیش کئے تھے ‘ وہ ہم تک نہیں پہنچے۔

(البدایہ والنہایہ ج ١ ص ٢٦٧۔ ٢٦٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

حافظ ابو القاسم علی بن الحسن بن ھبۃ اللہ ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) اللہ کی محبت میں اس قدر روئے کہ نابینا ہوگئے ‘ پھر اللہ نے ان کی بینائی لوٹا دی اور ان کی طرف یہ وحی کی کہ اے شعیب ! تم کس وجہ سے روتے ہو ؟ آیا جنت کے اشتیاق میں روتے ہو یا دوزخ کے خوف سے ! لیکن میں نے اپنے دل میں تیری محبت کو باندھ لیا ہے۔ پس جب میں تیری طرف دیکھتا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ تو کیا کررہا ہے ‘ پس اللہ نے وحی کی کہ اے شعیب !ٖ اگر یہ برحق ہے تو اے شعیب تم کو میری ملاقات مبارک ہو۔ اسی لئے میں نے اپنے کلیم موسیٰ بن عمر ان کو تمہارا خادم بنایا ہے۔

(تاریخ دمشق الکبیر رقم الحدیث : ٥٢٦٢‘ ج ٢٥ ص ٥٠‘ مطبوعہ داراحیاء التر العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسجد حرام میں صرف دو قبریں ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی قبر نہیں ہے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت شعیب (علیہما السلام) کی قبریں ہیں۔ حضرت اسماعی (علیہ السلام) کی قبر حطیم میں ہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قبر حجر اسود کے بالمقابل ہے۔ وھب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے مکہ میں فوت ہوئے اور ان کی قبریں دارالندہ اور باب بنی سہم کے درمیان کعبہ کی غربی جانب میں ہیں۔

(تاریخ دمشق الکبیر ج ٢٥ ص ٥٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

حضرت شعیب کا مقام بعثت 

قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ (الحجر : ٧٩)… اور لوط کی قوم اور مدین دونوں بڑی شاہراہ پر آباد تھیں۔

جو شاہراہ حجاز کے قافلوں کو شام ‘ فلسطین ‘ یم ‘ بلکہ مصر تک لے جاتی تھی اور بحر قلزم کے مشرقی کنارے سے ہو کر گزرتی تھی۔ قرآن مجید اسی کو امام مبین فرماتا ہے۔ یہ شاہراہ قریشی قافلوں کے لئے بہت متعارف اور تجارتی سڑک تھی۔ مدین کا قبیلہ بحر قلزم کے مشرقی کنارہ اور عرب کے شمال مغرب میں شامل کے متصل حجاز کا آخر حصہ تھا۔

بعض متاخرین لکھتے ہیں :

مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا۔ مگر جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں جو تجارتی شاہراہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ اور ینبوع ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی اور ایک دوسری تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی۔ اس کے عین چورا ہے پر اس قوم کی بستیاں واقع تھیں۔ اسی بناء پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقع تھا اور اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت برقرار رہی کیونکہ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے رات دن اس کے آثار قدیمہ کے درمیان سے گزرتے تھے۔

اہل مدین اور اصحاب الایکہ 

عکرمہ نے کہا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے سوا کسی نبی کو دو مرتبہ نہیں بھیجا گیا۔ ان کو ایک مرتبہ مدین کی طرف بھیجا گیا پھر اس قوم کی نافرمانی کی بناء پر اس کو ایک زبردست گرج دار آواز سے ہلاک کردیا گیا اور دوسری دفعہ ان کو اصحاب الایکہ (سرسبز جھاڑیوں والے علاقے کے رہنے والوں) کی طرف بھیجا گیا جن کو سائبان والے عذاب نے پکڑ لیا تھا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے کہا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن فرمایا ‘ مدین اور اصحاب الایکہ دو امتیں ہیں ‘ جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا گیا۔ (ہر چند کہ اس میں مفسرین کا اخت ہے لیکن اس حدیث کی بنا پر یہی قول راجح ہے کہ یہ دو الگ الگ امتیں ہیں۔ سعیدی غفرلہ)

قتادہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے جو اصحاب الرس (اندھے کنویں والے ‘ الفرقان : ٣٨) فرمایا ہے ‘ اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ مدین اور اصحاب الایکہ ان دونوں سے مراد ایک قوم ہے۔

(مختصر تاریخ دمشق ‘ ج ١٠ ص ٣٠٩۔ ٣٠٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ کی تحقیق یہ ہے کہ اصحاب الایکہ اور مدین دونوں سے مراد ایک ہی قوم ہے۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے :

مدین اس قوم کا نام ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے مدین کی نسل سے ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی اسی نسل سے تھے اور قوم مدین جس علاقہ میں آباد تھی ‘ وہ سرسبز جھاڑیوں پر مشتمل تھا اس لئے اس کو اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس علاقہ میں ایکہ نام کا ایک درخت تھا اور مدین اس درخت کی پرستش کرتے تھے ‘ اس لئے ان کو اصحاب الایکہ کہا گیا۔ بہرحال مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ الگ الگ قومیں ہیں یا یہ دونوں ایک قوم ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 176