وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلْبٰبِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ﴿۱۷۹﴾

ترجمۂ کنزالایمان:اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو کہ تم کہیں بچو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اوراے عقل مندو! خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے تاکہ تم بچو۔

{وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ: خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے۔} قصاص میں قوموں اور لوگوں کی حیات بیان کی گئی ہے۔ جس قوم میں ظالم کی پردہ پوشی اور حمایت کی جائے وہ تباہ و برباد ہوجاتی ہے اور جہاں ظالم اور مجرم کو سزا دی جائے وہاں جرائم خود بخود کم ہوجاتے ہیں۔ ایک محلے سے لے کر عالمی سطح تک کے مجرموں میں یہی ایک فلسفہ کار فرما ہے۔ آپ غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ جن ممالک میں جرائم پر سخت سزائیں نافذ ہیں وہاں کے جرائم کی تعداد اور جہاں مجرموں کو سزائیں نہیں دی جاتیں وہاں جرائم کی تعداد کتنی ہے۔