أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ يُنۡفَخُ فِىۡ الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِىۡ السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ‌ؕ وَكُلٌّ اَتَوۡهُ دٰخِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے گھبرا جائیں گے ‘ ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے اور سب اس کے سامنے عاجزی سے حاضر ہوں گے

صور کا لغوی اور اصلاحی معنی 

صور کا لغی معنی ہے نرسنگھا ‘ بگل ‘ بوق ‘ سینگ کی وضع کی کوئی چیز جس میں پھنک مار کر پھونکا جاسکے۔

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں ؛

یہ سینگھ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں پھونک ماری جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس پھونک کو صورتوں اور روحوں کو ان کے اجسام میں منتقل ہونے کا سبب بنا دے گا ‘ ایک روایت میں ہے کہ صور میں تمام انسانوں کی صورتیں ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص ٩٧٣‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ٨١٤١ ھ)

علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

صور ایک سینگھ ہے جس میں حضرت اسرافیل (علیہ السلام) مردوں کی محشر کی طرف جمع کرنے کے لیے پھونک ماریں گے۔ (النہایۃ ج ٣ ص ٥٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٨١٤١ ھ ‘ شرح الطیبی ج ٠١ ص ٨٤١ )

ملا علی قاری نے لکھا ہے یہ تعریف دوسری بار صور پھونکنے کے اعتبار سے ہے ‘ کیونکہ پہلے بار صور پھونکنے سے تمام لوگ مرجائیں گے۔(مرقات المفاتیح ج ٠١ ص ١٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ امداد یہ ‘ ملتان : ٠٩٣١ ھ)

صور اور صور پھونکنے کے متعلق احادیث 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں زندگی سے کیسے لطف حاصل کروں ‘ جب کے صور والے فرشتے نے صور کو منہ میں رکھا ہوا ہے اور اس نے اپنے کان لگائے ہوئے ہیں ‘ اور اپنی پیشانی ٹیرھی کی ہوئی ہے ‘ اور وہ منتظر ہے کہ اس کو کب صور پھونکنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٣٤٢‘ مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٤٥٧‘ مسند احمد ج ٣ ص ٧‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٤٨٠١‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٢٨‘ المستدرک ج ٤ ص ٩٥٥ )

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صور ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٠٣٤٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٤٧٤‘ سنن الدارمی رقم الحدیث : ٨٩٧٢)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے صور والے فرشتے کا ذکر کیا گیا ‘ آپ نے فرمایا اس کے دائیں طرف جبریل ہے اور اس کے بائیں طرف میکائیل ہے۔ (مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٠٣٥٥ )

حضرت اوس بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے ایام میں سب سے افضل یوم جمعہ ہے ‘ اسی دن حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا ہوئے اسی دن ان کی روح قبض کی گئی ‘ اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سب مرجائیں گے۔ ( سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٧٤٠١‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٨٠١‘ سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٧٥١‘ المستدرک ج ١ ص ٨٧٢)

کتنی بار صور پھونکا جائے گا 

اس میں اختلاف ہے کہ صور کتنی مرتبہ پھونکا جائے گا ‘ چار مرتبہ ‘ تین مرتبہ یا دو مرتبہ ‘ زیادہ تر محققین علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ صور میں صرف دو مرتبہ پھونکا جائے گا ‘ پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو سب مرجائیں گے اور دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہوجائیں گے اور حسب ذیل احادیث میں اس پر دلیل ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہف گا ‘ لوگوں نے کہا اے ابوہریرہ چالیس دن ؟ انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا ‘ لوگوں نے کہا چالیس ماہ ! انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا ‘ لوگوں نے کہا چالیس سال ! انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا ‘ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا جس سے لوگ اس طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے ‘ حضرت ابوہریرہ نے کہا ایک ہڈی کے سوا انسان کے جسم کی ہر چیز گل جائے گی اور وہ دم کی ہڈی کا سرا ہے اور قیامت کے دان اسی سے انسان کو دوبارہ بنایا جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٨٤‘ ٥٣٩٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٥٩٢‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٩٥٤١١)

امام ابن ابی داؤد نے کتاب البعث میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صور میں پھونگا جائے گا اور صور سینگ کی شکل پر ہے تو جو لوگ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں ‘ وہ سب مرجائیں گے اور دہ مرتبہ پھونکنے کے درمیان چالیس سال ہیں ‘ پھر ان چالیس سال میں اللہ تعالیٰ برش نازل فرمائے گا ‘ تو لوگ زمین سے اس طرح اگنے لگیں گے جس طرح سبزہ اگیا ہے۔ الحدیث (کتاب البعث لابن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٤‘ البدورالسافرۃ ص ٧٨)

شیخ ابن حزم نے کہا صور چار مرتبہ پھونکا جائے گا ‘ حافظ ابن حجر عسقلانی اس کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

شیخ ابن حزم نے زعم کیا کہ چار مرتبہ صور پھونکا جائے گا ‘ پہلی مرتبہ لوگوں کو مارنے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور اس صور کی آواز سن کی زمین پر ہر زندہ شخص مرجائے گا ‘ دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو ہر مردہ زندہ ہوجائے گا ‘ لوگ اپنے قبروں سے نکل آئیں گے اور حساب کے لیے جمع ہوں گے ‘ تیسری بار صور پھونکا جائے گا تو لوگ اس کو سن کر بےہوش ہوجائیں گے ‘ مریں گے نہیں اور چوتھی بار صور پھونکا جائے گا تو لوگ اس بےہوشی سے ہوش میں آجائیں گے۔

حافظ عسقلانی فرماتے ہیں کہ ابن حزم نے جو چار مرتبہ صور پھونکنے کا ذکر کیا ہے۔ یہ واضع نہیں ہے بلکہ صور صرف دو مرتبہ پھونکا جائے گا ‘ اور ان دونوں کے درمیان سننے والوں کے اعتبار سے تغایر ہے ‘ پہلی بار جب صور پھونکا جائے گا تو اس سے ہر زندہ شخص مرجائے گا ‘ اور جن کو اللہ تعالیٰ نے موت سے مستثنیٰ کرلیا ہے وہ صرف بےہوش ہوجائیں گے اور رجب دوسری بار صور پھونا جائے گا تو جو مرگئے تھے ‘ وہ زندہ ہوجائیں گے۔ اور جو بےہوش ہوئے تھے ‘ وہ ہوش میں آجائیں گے۔ (فیح الباری ج ٧ ص ٩٠١۔ ٨٠١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٦١٤١ ھ) 

حاتم الحفاظ حافظ جلال الدین سیوطی نے بھی ابن حزم کا قول رد کرکے یہ لکھا ہے کہ صرف دو بار پھونکا جائے گا۔ (البدور السافرۃ ص ٠٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٦١٤١ ھ)

تین بار صور پھونکنے کے دلائل اور ان کے جوابات 

حافظ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی المتوفی ٣٤٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت اسرافیل (علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے تین مرتبہ صور پھونکیں گے پہلی بار صور پھونکیں گے تو لوگ گھبرا جائیں گے اس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اور دوسری بار صور پھونکیں گے تو لوگ مرجائیں گے اس کو نفخۃ البعث کہتے ہیں۔ (عارضۃ الاضوذی ج ٩ ص ١٩١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٨١٤١ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

نفخات ( صور پھونکنے) کی تعداد میں اختلاف ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ تین نفخات ہیں۔ ان میں سے ایک نفخۃ الفزع ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے : ویوم ینفخ فی الصور ففزع من فی السموت ومن فی الارض المن شاء اللہ ط وکل اتوہ دخرین۔ (النمل : ٧٨) اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو تمام آسمانوں والے اور زمین والے گھبراجائیں گے ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے۔

اور دوسرا نفخۃ الصعق ہے جس کو سن کر سب مرجائیں گے اور تیسرا نفخۃ البعث ہے جس کو سن کر سب مرے ہوئے زندہ ہوجائیں گے ‘ ان دونوں کا ذکر اس آیت میں ہے :

ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شاء اللہ ط تم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون۔ (الزمر : ٨٦) اور صور پھونک دیا جائے گا تو تمام آسمانوں اور زمینوں والے مرجائیں گے مگر جن کو اللہ چاہے ‘ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ صرف دو بار صور پھونکا جائے گا ‘ اور نفخۃ الفزع اور نفخۃ الصعقدونوں ایک ہیں ‘ اس لیے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہوگا یعنی پہلے لوگ صور کی آواز سن کر گھبرا جائیں گے پھر فوراََ مرجائیں گے ‘ اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) وغیر ہم کی احادیث سے یہی ثابت ہے کہ صور دو بار پھونکا جائے گا نہ کہ تین بار اور یہی قول صحیح ہے۔ ( التذکرہ ج ١ ص ٧٨٢۔ ٦٨٢‘ مطبوعہ دارالبخاری مدینہ منورہ ٧١٤١ ھ)

نیز علامہ ابو عبداللہ قرطبی تین بار صور پھونکنے کی حدیث لکھ کر اس پر تبصرہ کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ آسمانوں کو بنانے سے فارغ ہوگیا تو اس نے صور کو پیدا کیا ‘ اور یہ صور حضرت اسرافیل کو دے دیا ‘ انہوں نے اس صور کو اپنے منہ میں رکھا ہوا ہے اور وہ اپنی آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں ‘ اور اس کے منتظر ہیں کہ اس کو کب صور پھونکنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صور کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک سینگ ( کی مثل) ہے ‘ اور اللہ کی قسم ! وہ بہت بڑا ہے اس کی گولائی آسمان اور زمین کی چوڑائی جتنی ہے ‘ وہ اس میں تین مرتبہ پھونک ماریں گے ‘ پہلی مرتبہ ( نفخۃ الفذع) پھونک ماریں گے تو لوگ گھبرا جائیں گے ‘ اور دوسری مرتبہ ( نفخۃ الصعق) پھونک ماریں گے تو لوگ بےہوش ہوجائیں گے اور تیسری مرتبہ ( نفخۃ البعث) پھونک ماریں گے تو سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ الحدیث (جامع البیان رقم الحدیث : ٨٣٦٠٢‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٧٢٦٦١ )

اس حدیث کا علی بن معبد ‘ طبری اور ثعلبی وغیر ہم نے ذکر کیا ہے ‘ اور میں نے اس کا کتاب التذکرہ (ج ١ ص ٢٠٣۔ ١٠٣‘ دارالبخاری ‘ المدینۃ المنورہ) میں ذکر کیا ہے اور وہاں میں نے اس حدیث پر کلام کیا ہے : (وہ کلام یہ ہے : امام ابومحمد عبدالحق نے کتاب العاقبۃ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث منقطع ہے اور صحیح نہیں ہے ‘ طبری نے اس کا سورة یسین کی تفسیر میں ذکر کیا ہے) اور صحیح یہ ہے کہ صور دو بار پھونکا جائے گا ‘ تین بار نہیں پھونکا جائے گا ‘ اور یہ کہ نفخۃ الفذع ‘ نفخۃ الصعق کی طرف راجع ہے ‘ کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کو لازم ہیں ‘ یعنی صور پھونکے جانے کے بعد پہلے لوگ گھبرائیں گے پھر مرجائیں گے ‘ یا نفخٰۃ الفذع ‘ نفخۃ البعث کی طرف راجع ہے یعنی دوسری بار صور پھونکے جانے کے بعد لوگ زندہ کیے جائیں گے اور گھبرا کر کہیں گے : ونفخ فی الصورفاذاھم من الاجد اث الی ربھم ینسلون۔ قالوایویلنا من بعثنا من مرقد نا حذا ما وعدالرحمن و صدق المرسلون۔ ان کا نت الاصیحۃ واحدۃ فاذا ھم جمیع الدینا محضرون۔ (یسین : ٣٥۔ ١٥) 

اور صور پھونک دیا جائے گا اسی وقت وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف بھاگنے لگیں گے۔ وہ کہیں گے ہائے ہائے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ‘ یہی وہ چیز ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔ وہ (صور کی آواز) صرف ایک چیخ ہے کہ یکایک وہ سارے ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے۔ 

یہ تفسیر امام قشیری نے کی ہے ‘ اور فزع (گھبراہٹ) کے متعلق دو قول ہیں ‘ انہیں اللہ کی طرف بلایا جائے گا اور وہ گھبراکر بہت جلد حاضر ہوں گے اور دوسرا قول یہ ہے کہ جب انکو قبر سے اٹھایا جائے گا تو وہ بہت گھبرائے ہوئے ہوں گے۔

دو بار صور پھونکنے کے دلائل 

میں کہتا ہوں کے حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر کی صحیح حدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ صور صرف دو بار پھونکا جائے گا ‘ حضرت ابوہریرہ کی حدیث یہ ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس ( سال) کا وقفہ ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٨٤‘ ٥٣٩٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٥٩٢‘ السنن الکبرٰ ی للنسائی رقم الحدیث : ٩٥٤١ )

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے قرب قیامت کے احوال بیان کرتے ہوئے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پھر دنیا میں برے لوگ باقی رہ جائیں گے ‘ جو چڑیوں کی طرح جلد باز ‘ بےعقل اور درندہ صفت ہوں گے ‘ وہ کسی نیک بات کو اچھا سمجھیں گے اور نہ بری بات کو برا ‘ ان کے پاس شیطان کسی بھیس میں آئے گا ‘ اور کہے گا کیا تم میری بات نہیں مانتے ؟ وہ کہیں گے تم کیا حکم دیتے ہو ‘ وہ ان کو بتوں کی پرستش کا حکم دے گا اور وہ اسی ( بت پرستی) میں مصروف کار ہوں گے ‘ ان کا رزق اچھا ہوگا اور ان کی زندگی عیش و عشرت سے ہوگی ‘ پھر صور پھونک دیا جائے گا جو شخص بھی اس کو سنے گا وہ ایک طرف گردن جھکا کر اس کی طرف کان لگائے گا ‘ اور دوسری طرف سے گردن اٹھالے گا ‘ جو شخص سب سے پہلے اس کی آواز کو سنے گا ‘ وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا ‘ وہ مرجائے گا اور دوسرے لوگ بھی مرجائیں گے ‘ پر اللہ تعالیٰ شبنم کی طرح بارش نازل فرمائے گا ‘ جس سے لوگوں کے جسم اگنے لگیں گے ‘ پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا پھر لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے ‘ پھر کہا جائے گا اے لوگو ! اپنے رب کے پاس آؤ۔ الحدیث (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٠٤٩٢‘ السنن الکبرٰ للنسائی رقم الحدیث : ٩٢٦١١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٦٦١‘ المستدرک ج ٤ ص ٠٥٥۔ ٣٤٥ )

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے : ویوم ینفخ فی الصور ففزع من فی السموت ومن فی الارض الا من شاء اللہ ط۔ (النمل : ٧٨) اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے گھبرا جائیں گے ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے۔ و نفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شاء اللہ ط۔ (الزمر : ٨٦) اور صور پھونک دیا جائے گا تو تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے مرجائیں گے ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح نفخۃ الفزع سے بعض افراد کا استثناء کیا ہے اسی طرح نفخۃ الصعق سے بھی بعض افراد کا استثناء کیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا ان دونوں آیتوں سے ایک ہی صور پھونکنامراد ہے اور اس کی آواز سن کر لوگ گھبراکر مرجائیں گے اور پھر بعد میں صور پھونکا جائے گا اس کی آواز سن کر لوگ قبروں سے نکل پڑیں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ صرف دو بار صور پھونکا جائے گا اور ابن المبارک نے حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان دونوں پھونکوں کے درمیان چالیس سال ہیں ‘ صور کی پہلی پھونک سے اللہ تعالیٰ ہر زندہ کو مار دے گا اور دوسری پھونک سے اللہ تعالیٰ ہر مردہ کو زندہ کر دے گا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٨٤)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

یوم ترجف الراجفۃ۔ تتبعھا الرادفۃ۔ قلوب تومئز واجفۃ۔ ابصارھا خاشعۃ۔ یقولونء انالمردودون فی لحافرۃ۔ ء اذاکنا عظاما نخرۃ۔ قالواتلک اذا کرۃ خاسرۃ۔ فانماھی زجرۃ واحدۃ۔ (النزعت : ٣١۔ ٦) جس دن کا ننپے والی کا نپے گی۔ اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔ اس دن بہت دل دھڑک رہے ہوں گے۔ انکی آنکھیں جھکی ہوں گی۔ وہ کہتے ہیں کیا ہم پہلی زندگی کی طرف لوٹادئیے جائیں گے۔ جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ پھر تو یہ نقصان والا لوٹنا ہے۔ وہ صرف ایک ڈانت ڈپٹ ہے۔ 

ان آیتوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ تین بار صور پھونکا جائے گا ‘ (بعنی الراجفۃ سے مراد پہلا صور ہے ‘ الرادفۃ سے مراد دوسرا صور ہے اور زجرۃ واحدہ سے مراد تیسرا صور ہے) لیکن اس طرح نہیں ہے ‘ زجرۃ واحدہ سے مراد دوسرا صور ہے ‘ جب لوگ اپنے قبروں سے نکلیں گے ‘ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ عطا اور ابن زید وغیر ہم کا بھی یہی قول ہے ‘ مجاہد نے کہا یہ دونوں دو چیخیں ہیں ‘ پہلی چیخ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہر چیز کو فنا کر دے گی اور دوسری چیخ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہر چیز کو زندہ کر دے گی ‘ عطا نے کہا الراجفۃ سے مراد قیامت ہے اور الرادفۃ سے مرادمرنے کے بعد زندہ ہونا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ ہی کو خوب علم ہے۔ ( الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٢٢٢۔ ١٢٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ) 

امام رازی نے الزمر : ٨٦ کی تفسیر میں دونوں قول ذکر کیے ہیں ‘ دو بار صور پھونکنے کے اور تین بار صور پھونکنے کے لیکن دو بار صور پھونکنے کے قول کو مقدم کیا ہے۔ ( تفسیر کبیرج ٩ ص ٦٧٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی ٤٥٧ ھ نے بھی الزمر : ٨٦ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جمہور کے نزدیک دو بار صور پھونکا جائے گا اور نفخۃ الفذع اور نفخۃ الصعق دونوں سے مراد واحد ہے۔ ( البحر المحیط ج ٩ ( علیہ السلام) ١٢٢‘ دارالفکر بیروت ‘ ٢١٤١ ھ)

حافظ ابن کثیر متوفی ٤٧٧ ھ کے نزدیک تین بار صور پھونکا جائے گا۔ پہلا نفخۃ الفذع ہے جس سے سب لوگ گھبرا جائیں گے اس کا ذکر النمل : ٧٨‘ میں ہے اور دوسرا نفخۃ الصعق ہے جس سے سب لوگ مرجائیں گے اور تیسرا نفخۃ البعث ہے جس سے سب مردے زندہ ہوجائیں گے ‘ ان دونوں نفخوں کا ذکر الزمر : ٨٦ میں ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٤١٤‘ ج ٤ ص ٩٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٩١٤١ ھ) 

قاضی بیضاوی نے الزمر : ٨٦ کی تفسیر دو بار صور پھونکا جائے گا اور نفخۃ الفذع اور نفخۃ الصعق سے مراد واحد ہے۔ (تفسیر البیضوی مع الخفاجی ج ٨ ص ٦٢٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ) 

علامہ آلوسی متوفی ٠٧٢١ ھ کا بھی یہی مختار ہے کہ دو بار صور پھونکا جائے گا۔ (روح المعانی جز ٠٢‘ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

نفخۃ الصعق سے کون کون افراد مستثنیٰ ہیں 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبریل (علیہ السلام) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا :

ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شاء اللہ ط۔ (الزمر : ٨٦) اور صور پھونکا گیا تو تمام آسمانوں اور زمینوں والے ہلاک ہوگئے ماسوا ان کے جن کو اللہ نے چاہا۔

آپ نے سوال کیا کہ اللہ نے کن کو ہلاک کرنا نہیں چاہا۔ حضرت جبریل نے کہا وہ اللہ عزوجل کے شہدا ہیں۔

امام حاکم نے یہ کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاحدیث ہے ‘ اور امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (امام ذہبی نے بھی امام حاکم کی موافقت کی ہے) (المستدرک ج ٢ ص ٣٥٢‘ قدیم ‘ المسترک رقم الحدیث : ٠٠٠٣‘ معالم التنزیل ج ٣ ص ٨١٥‘ رقم الحدیث : ٧٠٦١‘ حافظ بن کثیر نے اس حدیث کو مسند ابو یعلیٰ کے حوالے سے ذکر کیا ہے ‘ تفسیر ابن کثیرج ٤ ص ٠٧‘ کنز العمال ج ٤ ص ٠٠٤۔ ٩٩٣‘ رقم الحدیث : ١١١١١) ہرچند کہ حافظ ابن کثیر نے اس حدیث کو مسند ابو یعلیٰ کے حوالے سے ذکر کیا ہے لیکن مسند ابو یعلیٰ میں یہ حدیث نہیں ہے۔

علامہ نجم الدین قمولی متوفی ٧٢٧ ھ لکھتے ہیں ‘ اس استثناء میں پانچ قول ہیں :

(١) جب نفخۃ الصعقپھونکا جائے گا تو تم تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے مرجائیں گے ‘ ما سواحضرت جبرائیل ‘ حضرت میکائیل ‘ حضرت اسرافیل اور حضرت عزرائیل کے ‘ پھر اللہ تعالیٰ حضرت میکائیل اور حضرت اسرفیل کو بھی ہلاک کر دے گا اور حضرت جبرائیل اور حضرت عزرائیل باقی رہ جائیں گے ‘ پھر حضرت جبرائیل کو بھی ہلاک کر دے گا۔

٢) اس سے مراد شہداء ہیں کیونکہ قرآن مجید میں ہے : بل احیاء عندربہم برزقون۔ (آل عمران : ٩٦١) بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ان کو رزق دیا جاتا ہے۔

اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ شہداء ہیں جو عرش کے نیچے تلواریں لٹکائے ہوئے ہیں۔ (کتاب البعث والنشور للبیہقی رقم الحدیث : ٧٦۔ ٦٦‘ البدورالسافرۃ ص ٦‘ جامع البیان رقم الحدیث : ٠٤٦٠٢‘ الدرالمثورج ٦ ص ٣٤٣‘ داراحیاء التراث العربی بیروت)

(٣) حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس صعقہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان کو ( طور پر) بےہوش کیا گیا تھا اس لیے ان کو دوبارہ بےہوش نہیں کیا جائے گا۔

(٤) اس سے مردا بڑی آنکھوں والی حوریں ‘ اور عرش اور کرسی کے ساکنین ہیں۔

(٥) قتادہ نے کہا اللہ کو ہی علم ہے کہ اس سے کون مستثنیٰ ہیں ‘ قرآن اور حدیث میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کا اس سے مراد کون ہیں۔ ( تفسیر کبیر ج ٩ ص ٦٧٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

میں کہتا ہوں کی المستدرک ‘ البعث والنشور اور معلم النزیل وغیرھا کے حوالوں سے حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ اس سے مراد شہداء ہیں اور ایک اور حدیث ہے :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نفخ فی الصور فصعق من فی السموت و من فی الارض الامن شاء اللہ کی تفسیر میں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تین کا استثناء فرمایا ہے ‘ جبریل ‘ میکائیل اور ملک الموت۔ الحدیث (کتاب البعث والنشور للبیہقی رقم الحدیث : ٨٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٤١٤١ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں کن کن کا استثناء کیا گیا ہے ‘ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں ہے اس سے مراد شہداء ہیں جن کو اپنے رب کے پاس رزق دیا جاتا ہے ‘ وہ دوبارہ زندہ کیے جانے تک بےہوش رہیں گے ‘ اور یہ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شہداء ہیں جو عرش کے نیچے تلوارین لٹکائے ہوئے ہیں۔ امام قشیر نے کہا ان میں انبیاء (علیہم السلام) بھی داخل ہیں کیونکہ ان کے پاس نبوت بھی ہے اور شہادت بھی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں۔ مقاتل نے کہا اس سے مراد جبریل ‘ میکائیل اور ملک الموت ہیں ‘ اور ایک قول یہ ہے اس سے مراد بڑی آنکھوں والی حوریں ہیں ‘ اور قول یہ ہے کی اس سے مراد تمام مومنین ہیں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد فرمایا : ومن جاء بالحسنۃ فلہ خیر منھا ج وھم من فذع یومزا منون۔ (النمل : ٩٨) اور جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس (نیکی) سے اچھی جزا ہے اور وہ لوگ اس دن کی گھبراہٹ سے مامون ہوں گے۔

اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس استثناء کی تعیین میں کوئی حدیث صحیح وارد نہیں ہے اور ان اقوال میں سے ہر قول کی گنجائش ہے۔ ( الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٣٢٢۔ ٢٢٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

کیا حضرت موسیٰ کا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہوش میں آناان کی افضلیت کو مستلزم ہے ؟

ان اقوال میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس آیت کے استثناء سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں کیونکہ وہ اس سے پہلے پہاڑ طور پر بےہوش ہوگئے تھے ‘ قرآن مجید میں ہے : فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکاوخرموسی صعقا۔ (الاعراف : ٣٤١) سو جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گے گئے۔

اس استثناء کا ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ دہ آمیوں نے ایک دوسرے سے جھگڑا کیا ‘ ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا ‘ مسلمان نے کہا اس ذات کی قسم جس نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ‘ یہودی نے کہا اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ‘ مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر یہودی کے چہرے پر ایک تھپڑ مارا ‘ اس نے جا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا کہ اس کے اور مسلمان کے درمیان کیا معاملہ ہوا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمان کو بلا کر اس سے واقعہ معلوم کیا ‘ اس نے آپ کو بتایا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حضرت موسیٰ پر فضیلت مت دو ‘ کیونکہ قیامت کے دان لوگ بیہوش ہونگے تو میں بھی ان کے ساتھ بےہوش ہو نگا۔ پس میں سب سے پہیلے ہوش میں آؤں گا تو اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کی ایک جانب کو پکڑے کھڑے ہونگے۔ پس میں ( از خود) نہئیں جانتا کہ وہ بھی لوگوں کے ساتھ بےہوش ہو نگے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آئیں گے یا وہ ان میں سے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے استثناء فرمالیا۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں ہے پس میں ( اس خود) نہیں جانتا کہ وہ ان میں سے تھے جو بےہوش ہوگئے تھے یا ان کا حساب پہلی بےہوشی میں کرلیا گیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٧٣٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٧٦٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٥٤ د ٢٣‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٦٧٥٧‘ عالم الکتب ‘ حضرت ابو سعید خدری کی روایت : صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢١٤٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٧٣٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٨٦٦٤‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٢٦ )

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

علامہ حلیمی نے کہا کے حضرت موسیٰ اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کو تو پہلے ہی موت آچکی ہے ‘ لٰہذا ان کو نفخۃ الصعق کے استثناء میں داکل کرنا صحیح ہے ‘ اسی طرح حاملین عرش ‘ حضرت جبریل ‘ حضرت میکا ئیل ‘ حضرت اسرافیل اور ملک الموت اور جنت کی حوروں کو استثناء میں داخل کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ مستثنیٰ منہ میں آسمانوں اور زمینوں والے ہیں اور یہ فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یا عرش کے گرد صف باندھے کھڑے ہیں اور عرش اور جنت سات آسمانوں کے اوپر ہیں ‘ پھر فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت موسیٰ کو نفخۃ البعث کے بعد دیکھا اور قرآن مجید میں جو استثناء ہے ‘ وہ نفخۃ الصعق سے ہے ‘ اس اشکال کے جواب میں ہمارے شیخ ابوالعباس احمد بن عمر مالکی قرطبی متوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں 

یہ کہنا غلط ہے کہ حضرت موسیٰ کو پہلے ہی موت آچکی تھی اس لیے ان کو نفخۃ الصعق کے استثناء میں داخل کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ موت عدم محض نہیں ہے ‘ بلکہ موت ‘ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا ہے ‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ شہداء اپنے قتل ہونے اور مرنے کے بعد بھی زندہ ہیں اور ان کو اپنے رب کے پاس رزق دیا جاتا ہے ‘ اور وہ شاداں اور فرحاں ہیں ‘ اور جب شہداء زندہ ہیں تو انبیاء (علیہم السلام) حیات کے زیادہ حق دار اور اولیٰ ہیں اور جب کہ حدیث صحیح میں ہے کہ زمین انبیاء (علیہم السلام) کے جسم کو نہیں کھاتی ‘ اور شب معراج ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد اقصیٰ میں تمام انیباء (علیہم السلام) کو نماز پڑھائی اور آسمانوں میں بھی ان سے اور خصوصاََ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کی ‘ نیز سنن ابوداؤد میں ہے کہ جب کو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کرتا ہے تو اس کو جواب دینے کے لیے آپ میں روح موجود ہوتی ہے ‘ اس طرح کے اور بہت دلائل ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی موت کے معنی یہ ہے کہ وہ ہماری نظروں سے غائب ہیں کہ ہم ان کا ادراک نہیں کرسکتے اگرچہ وہ موجود اور زندہ ہیں جیسا کہ فرشتے موجود ہیں لیکن ہم میں سے کوئی شخص عادتاََ ان کو نہیں دیکھ سکتا ‘ اور جب ثابت ہوگیا کہ انبیاء (علیہم السلام) زندہ ہیں تو جب نفخۃ الصعق ‘ صور میں پھونکا گیا تو تمام آسمانوں والوں اور زمینوں والوں پر صعق طاری ہوگیا ماسوا ان کے جن کو اللہ نے چاہا لیکن غیر انبیاء (علیہم السلام) پر صعق طاری ہونے کا معنی یہ تھا کہ وہ مرگئے اور انبیاء (علیہم السلام) پر صعق طاری ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ بےہوش ہوگئے اور جب دوسی بار نفخۃ البعث کا صور پھونکا گیا تو جو مرگئے تھے وہ زندہ ہوگئے اور جو بےہوش ہوگئے تھے وہ ہوش میں آگئے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا ‘ سو تمام نبیوں سے پہلے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوش میں آئیں گے۔ سوائے حضرت موسیٰ کے ان کے متعلق ردد ہے ‘ کیونک آ نے ہوش میں آنیکے بعد ان کو عرش کی ایک جانب دیکھا اور فرمایا وہ آپ سے پہلے ہوش میں آگئے تھے یا وہ آپ سے پہلے ہوش میں آ فئے تھے یا وہ بےہوش ہی نہیں ہوئے اور طور کی بےہوشی میں ان کو محسب کرلیا گیئا۔ اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں عظیم فضیلت ہے ‘ اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل ہوں ‘ کیونکہ اول تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہوش میں آنا امر مشکوک ہے ثانیاََ پر تقدیر تسلیم یہ فضیلت جزی ہے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تمام انبیاء (علیہم السلام) پر فضیلت کلی حاصل ہے۔ ( المفہم ج ٦ ص ٣٣٣۔ ٢٣٢‘ مطبوعہ دارابن کثیر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

اپنے شیخ ابو العباس قرطبی کی عبارت نقل کرنے کے بعد علامہ ابو عبداللہ قرطبی لکھتے ہیں ‘ طبر ‘ عکہ بن معبد اور ثعلبی وغیرہم نے یہ احدیث وارد کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ حاملین عرش “ حضرت جبریل ‘ حضرت میکا ئیل ‘ حضرت اسرافیل اور ملک الموت پر بھی موت طاری کردے گا اور ان کو پھر زندہ کر دے گا ‘ البتہ اہل جنت اور جنت پر موت طاری نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خلود کے لیے بنایا ہے اگرچہ وہ بھی موت اور ہلاگت کی صلاحیت کی حامل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاکت کی صلاحیت رکھتی ہے ‘ کلدی ع ھالک الا وجھہ۔ (القصص : ٨٨) التذکرہ ج ١ ص ٦٦٢۔ ٢٦٢‘ ملخصاََ ‘ دارالبخاری ‘ مدینہ منورہ ‘ ٧١٤١ ھ)

نفخۃ الصعق سے استثناء میں علامہ قر طبی کا آخری قول

علامہ شہاب الدین خفاجی متوفی ٨٦٠١ ھ ‘ علامہ سلیمان جمل متوفی ٤٠٢١ ھ ‘ علامہ صادی مالکی متوفی ١٤٢١ ھ ‘ تواب صدیق بن حسن ضان قنوجی وغیرہم نے لکھا ہے کہ اس استثناء میں حاملین عرش ‘ ملائکہ مقربین ‘ جنت کی حوریں ‘ شہداء اور انبیاء (علیہم السلام) داخل ہیں 

(حاشیۃ الشہاب علی البیھادی ج ٨ ص ٦٢٢‘ حاشیۃ الجمل علی الجلالین ج ٣ ص ١٣٣۔ ٠٣٣‘ حاشیۃ الصادی علی الجلالین ج ٤ ص ٣١٥١‘ فتح البیان ج ٥ ص ٠٦١ )

علامہ قرطبی نے علامہ حلیمی کے حوالے سے التذکرہ میں جو تقریر کی ہے اس کے اعتبار سے کوئی فرد بھی اس استچناء میں داخل ن ہے ہے ‘ جنت اور اہل جنت اس میں اس لیے داخل نہیں کہ وہ آسمانوں کے اوپر ہیں۔ حاملین عرش ‘ ملائکہ مقربین اور ارواحِ شہداء بھی عرش کے گرد ہیں اور وہ بھی داخل نہیں کیونکہ یہ استثناء آسمانوں اور زمینوں والوں کے اعتبار سے ہے اور جنت اور عرش آسمانوں کے اوپر ہے ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) مستثنیٰ نہیں کیونکہ نفخۃ الصعق کے قوت وہ بےہوش ہوجائیں گے اور نفخۃ البعث کے وقت وہ ہوش میں آئیں گے پھر نفخہ الصعق سے کون مستثنیٰ ہے ؟ البتہ علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن ‘ التذکرہ کے بعد لکھی ہے اور اس میں انہوں نے جمہور مفسرین کی طرح اہل جنت ‘ حاملین عرش ‘ ملائکہ مقربین ‘ شہداء اور انبیاء (علیہم السلام) کی اس استثناء میں داخل کیا ہے۔ واللہ ت عالیٰ اعلم بالصواب۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 87