أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ؕ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک آپ جس کو پسند کریں اس کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے ‘ لیکن اللہ جس کو چاہے اس کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے ‘ اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے

ابو طالب کے ایمان کے متعلق آیات اور احدیث 

اس کے بعد فرمایا : بیشک آپ جس کو پسند کریں اس کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے ‘ لیکن اللہ جس کو چاہے اس کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے ‘ اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ 

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں : مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٦٦٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ٠٢٤١ ھ)

اس کے متعلق حدیث میں ہے :

سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو اس کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ‘ آپ نے ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ کو پایا۔ آپ نے فرمایا : اے چچا لا الٰہ الا اللہ کہیے ‘ میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ‘ تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا کیا تم عبدالمطلب کی ملت سے اعراض کرو گے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر مسلسل کلمہ توحید پیش کرتے رہے ‘ اور وہ دونوں اپنے بات دہراتے رہے ‘ حتیٰ کہ ابو طالب نے آکر میں یہ کہا کہ وہ عبدالمطلب کی ملت پہر ہے اور لا الٰہ الا اللہ پڑھنے سے انکار کردیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے اس سے منع نہ کردیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ماکان للنبی والذین امنوا ان بستٖفر وا للمشرکین۔ (التوبۃ : ۱۰۳) نبی کے لیے اور مومنین کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں۔

اور اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے لیے یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء ج۔ (القصص : ۵۶) بیشک آپ جس کو پسند کریں اس کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے ‘ لیکن اللہ جس کو چاہے اس کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٧٧٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٢‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٣٠٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٤٧٠٤٢ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چچا سے فرمایا آپ کہیے لا الٰہ الا اللہ قیامت کے دن اس کلمہ کی وجہ سے میں آپ کے حق میں شہادت دوں گا۔ ابوطالب نے کہا اگر قریش مجھے عار نہ دلاتے اور یہ نہ کہتے کہ موت کی گھراہٹ میں انہوں نے کلمہ توحید پڑھ لیا تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کردیتا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشائ۔ ( القصص : ۵۶ )( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٨٨١٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٤۔ ١٤٤‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٠٧٢٦‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٥٤٣‘ ٤٤٣ )

ابوطالب کے متعلق مفسرین اہل سنت کی تصریحات 

علامہ نجم الدین احمد بن محمد قمولی متوفی ٧٢٧ ھ لکھتے ہیں :

زجاج نے کہا مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ کیونکہ ابوطالب نے اپنی موت کے وقت کہا اے بنو عبدمناف کی جماعت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو ‘ اور ان کی تصدیق کرو تم کو فلاح اور رشدو ہدایت حاصل ہوگی ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے چچا ! آپ لوگوں کو نصیحت کر رہے ہیں اور خود اس نصیحت پر عمل نہیں کر رہے ! ابو طالب نے پوچھا ! اے بھیتجے ! تم کیا چاہتے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ دنیا میں آپ کا آخری دن ہے آپ کلمہ توحید پڑھیے لا الٰہ ا لا اللہ میں اللہ کے پاس قیامت کے دن آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ ابوطالب نے کہا اے بھیتجے ! میں جانتا ہوں کہ تم سچے ہو ‘ لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ یہ موت سے گھبرا گیا ‘ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میرے بعد میری مذمت کی جائے گی تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اور تم سے فراق کے وقت یہ کلمہ پڑھ لیتا ‘ کیونکہ مجھے تمہاری خیرخواہی کی شدت کا علم ہے ‘ لیکن میں عنقریب عبدالمطلب ‘ ہاشم اور عبد مناف کی ملت پر مروں گا۔ (تفسیر کبیرج ٩ ص ٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

ابوطالب نے آپ کے جن اجداد ‘ عبدالمطلب ‘ ہاشم اور عبد مناف کا ذکر کیا ہے یہ سب موحد تھے اور ملت ابراہیم پر تھے ‘ ورنہ ان کا زمانہ فترت میں فوت ہونا یقینی ہے ‘ اس کے برخلاف ابو طالب نے آپ کی شریعت کا زمانہ پایا اور ایمان نہیں لائے۔ 

علامہ عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٧٩٥ ھ لکھتے ہیں :

ہم نے التوبۃ : ۱۱۳ میں اس آیت کا سبب نزول ذکر کردیا ہے ‘ پھر انہوں نے صحیح مسلم حدیث رقم : ٥٢ ذکر کی ہے ‘ اور لکھا ہے کہ زجاج نے کہا ہے کہ القصص : ۵۶ کے متعلق مفسرین کا اجماع ہے کہ وہ ابوطلب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (زادالمسیر ج ٦ ص ١٣٢‘ مکتب اسلامی بیروت ‘ ٧٠٤١ ھ)

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی شافی متوفی ٥٨٦ ھ لکھتے ہیں :

جمہور کے نزدیک یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا ! اے میر چچا ! لا الٰہ الا اللہ پڑھیے میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ‘ تو ابوطالب نے کہا مجھے علم ہے کہ آپ سچے ہیں لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ ابوطالب موت سے گھبرا گیا۔ (تفسیر البیضاوی علی ھامش الخنفا جی ج ٧ ص ٩٠٣] دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی غرناطی متوفی ٤٥٧ ھ لکھتے ہیں :

مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت ( القصص : ۵۶) ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اس کی موت کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو اس سے بات کی تھی ‘ وہ مشہور ہے۔ ( البحر المحیط ج ٨ ص ٥ د ١٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٢١٤١ ھ)

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی متوفی ٤٧٧ ھ لکھتے ہیں :

صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے یہ ثابت ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ ابوطالب آپ کی مدافعت کرتا تھا اور آپ کی مدد کرتا تھا ‘ اور آپ کی تعریف کرتا تھا اور آپ سے بہت زیادہ طبعی محبت کرتا تھا نہ کہ شرعی ‘ جب اس کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایمان کی اور اسلام میں دکول کی دعوت دی ‘ لیکن تقدیر غالب آگئی اور وہ اپنے کفر پر مستمر اور برقرار رہا ‘ اور اللہ ہی کے لیے حکمت ناہ ہے۔ ( تفسیر ابن کچیرج ٣ ص ٢٣٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ ٨١٤١ ھ)

علامہ اسماعیل حنفی متوفی ٧٣١١ ھ لکھتے ہیں :

بعض روایات میں آیا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع پر واپس ہوئے توہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے والدین کو اور آپ کے چچا کو زندہ کردیا اور وہ سب آپ پر ایمان لے آئے۔ (روح البیان ج ٦ ص ١٣٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :

ابوطالب کے اسلام کا مسئلہ اختلافی ہے ‘ اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ تمام مفسرین کا یا تمام مسلمین کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ شیعہ اور بہت سے مفسرین کا یہ مذہب ہے کہ ابوطالب مسلمان تھے ‘ اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس پر ائمہ اہل بیت کا اجماع ہے اور ابو طالب کے اکثر قصائد اس کی شہادت دیتے ہیں اور جو اجماع مسلمین کا دعویٰ کرتے ہیں وہ شیعہ کے اختلاف کو قابل شمار نہیں سمجھتے اور نہ ان کی روایات پر اعتماد کرتے ہیں ‘ پھر ابو طالب کے اسلام نہ لانے کو قول پر بھی ابوطالب کو برا نہیں ہے کہ اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت پہنچے ‘ کیونکہ اس آیت سے بہر حال یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ابو طالب سے محبت تھی اور صاحب عقل کو احتیاط لازم ہے۔ (روح المعانی جز ٠٢ ص ٤٤١۔ ٣٤١‘ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی حنفی متوفی ٧٦٣١ ھ لکھتے ہیں :

مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ‘ پھر انہوں نے صحیح مسلم کی حدیث : ۲۵ کا ذکر کا ے اور لکھا کہ ابو طالب نے کہا اگر مجھے قریش کے دار دینے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور ایمان لا کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کرتا پھر انہوں نے یہ شعر پڑھے : ولقد علمت بان دین محمد من خیر ادیان البریۃ دینا 

میں یقین سے جانتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین تمام جہانوں کے دینوں سے بہتر ہے۔

لولا الملامۃ اوحذارمسبۃ لوجدتنی سمحابذاک مبینا 

اگر ملامت وبد گوئی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نہایت صفائی کے ساتھ اس دین کو قبول کرتا۔

اس کے بعد ابوطالب کا انتقال ہوگیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ( ضزائن العرفان ص ٦٢٢٦‘ تاج کمپنی لاہور)

پیر محمد کرم شاہ الازہری متوفی ٩١٤١ ھ لکھتے ہیں :

اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ جب حضور کے چچا ابوطالب کا آخر وقت آپہنچا تو حضور نے جا کر کہا کہ چچا تم صرف اتنا کہ دو کہ لا الٰہ الا اللہ ‘ تاکہ میں اپنے رب سے تیری شفاعت کرسکوں ‘ لیکن انہوں نے ایس کہنے سے اندار کردیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔

حضرت عباس (رض) سے یہ بات بھی مروی ہے کہ آخری وقت میں حضرت ابوطالب کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ حضرت عباس نے کان لگا کر سنا۔ حضور نے جب پوچھا کہ کیا کہہ رہے تھے تو آپ نے جواباً عرض کیا کہ وہی کہہ رہے تھے جس کا آپ نے ان سے مطالبہ فرمایا ( سیرت ابن ہشام)

لیکن اگر کسی کے نزدیک دوسری روایتیں اس روایت سے زیادہ قابل اعتبار ہوں تب بھی اسے آپ کے حق میں کوئی ناشائستہ بات کہنے سے احتراز کرنا چاہے۔ آپ کی بےنظیر خدمات کا یہ معاوضہ ہماری طرف سے نہیں دیا جانا چاہیے کہ ہم منبروں پر کھڑے ہو کر اپنا سارا زور بیان ان کو کافر ثابت کرنے اور ان کو کافر کہنے اور کہتے چلے جانے پر ہی صرف کرے رہیں۔ اس سے بڑھ کر ناشکری اور احسان فراموشی کی کوئی مثل نہیں کی جاسکتی۔ ( ضیاء القرآن ج ٣ ص ٠٠٥‘ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ‘ ٩٩٣١ ھ) 

ابو طالب کے اسلام لانے کی روایت پر امام بیہقی اور علامہ ابی کا تبصرہ 

پیر محمد کرم شاہ (رح) نے حضرت عباس کی جو روایت نقل کی ہے اسکی سند منقطع ہے۔ امام بیہقی نے اس روایت کو مسترد کردیا ہے۔ علامہ ابوعبداللہ محمد بن خلتہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں :

احادیث میں یہ تصریح ہے کہ ابو طالب کا خاتمہ شرک پر ہوا۔ سہیلی نے کہا ہے کہ میں نے مسعودی کی بعض کتابوں میں دیکھا ہے کہ ابوطالب کی موت ایمان پر ہوئی لیکن یہ قرآن مجید کی ان آیات اور احادیث کی وجہ سے صحیح نہیں ہے۔ جو اس باب میں مذکور ہیں (الروض الانف ج ٢ ص ٦٢٢) اور بعض سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ عباس نے کہا میرے بھئی نے وہ کلمہ پڑھ لیا جس کا آپ نے خھم دیا ‘ ( السیرۃ النبویہ لابن ہشام ج ٢ ص ١٣) اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے نہیں سنا ‘ اور عباس اس وقت مسلان نہیں ہوئے تھے ‘ اس لیے ان کی شہادت معتر نہیں ہے ‘ امام نیہقی نے کہا اس کی سند منقطع ہے ‘ نیز صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ اسلام لانے کے بعد حضرت عباس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابوطالب کے متعلق سوال کیا تا آپ نے فرمایا وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے آخری طبقہ میں ہوتا ( دلائل النوۃ ج ٢ ص ٦٤٣ ) ۔ اگر یہ کہا جائے کہ ابو طالب دل سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مصدق تھا تو کیا اس وجہ سے اس کو مومن کہا جائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے ایمان کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وہ عبدلامطب کی ملت پر ہے۔ (اکمال المبعلم ج ا ص ٣٨١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

ابوطالب کے اسلام لانے کی روایت پر علامہ آلوسی کا تبصرہ 

امام ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں یہ لکھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب کو ان کی موت کے وقت کلمہ پڑحنے کی تلقین کی اور انہوں نے اس کو مسترد کردیا تو عباس نے ان کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھے انہوں نے ان کے پونٹوں کے ساتھ کان لگائے پھر کہا اے بھتیجے ! میرے بھائی نے وہ کلمہ پڑھ لیا جس کے پڑھنے کا آپ نے انہیں حکم دیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نہیں سنا ، علماء شیعہ نے اس روایت کو ایمان ابوطالب کے اسلام پر استدلال کیا ہے اور ابو طالب کے ان اشوار سے استدلال کیا ہے جن میں انہوں نے کہا کہ (سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) جو لے کر آءے ہیں وہ حق ہے اور ان کی حضور پر جو بہے زیادہ شفقت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت تک مدد کرتے رہے یہ بات ان کے گھر والوں سے مروی ہے اور ان کے متعلق ان کے گھر والے ہی زیادہ جانتے ہیں 

شیعہ نے جو یہ دلیل قائم کی ہے اس پر تو رو نے والی عورتیں بھی ہنس پڑیں گی ‘ اور ابوطالب کے جو اشعار منقول ہیں اول تو ان کی سند منقطع ہے اور اس کے علاوہ ان اشعار میں توحید اور رسالت کی شہادت نہیں ہے اور ایمان کا مدار اس شہادت پر ہے ‘ باقی رہا ان کی حضور پر شفقت اور ان کی نصرت تو ان کا کوئی منکر نہیں ہے اور ابوطالب کے ایمان پر جو شیعہ روایت ہیں تو وہ تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔

ہاں مومنین پر لازم ہے کہ وہ ابوطالب کے معاملہ کو اس طرح نہ قرار دیں جس طرح ابوجہل اور اس قسم کے باقی کافروں کے معاملہ کو قرار دیتے ہیں ‘ کیونکہ ابوطالب کو ان پر فضیلت حاصل ہے ‘ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے ‘ احادیث میں ہے کہ ابوطالب کی نیکیوں کی سجہ سے ان کو آخرت میں نفع پہنچھ گا تو دنیا میں اس کو کم از کم اتنا نفع تو پہنچنا چاہیے کہ ان پر عام کافروں کی طرح لعن طعن نہ کی جائے ‘ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ جب آپ کے سامنے آپ کے چچا کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : شاید قیامت کے دن میری شفاعت سے اس کو فائدہ پہنچے گا اور اس کو تھوڑی سے آگ میں رکھا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی اس سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٨٨٣‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ عالم الکتب) ایک اور روایت میں ہے حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ نے اپنے چچا سے کس چیز کو دور کیا وہ آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضبناک ہوتے تھے ؟ آپ نے فرمایا وہ اب تھوڑی سی آگ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٠٢)

اور میرے نزدیک ابو طالب کو برا کہنا سخت مذموم ہے ‘ خصوصاً اس لیے کہ اس سے بعض علویین کو ایذاء پہنچتی ہے اور ہم کو اس سے منع کیا گیا ہے اور حدیث میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مردوں کو برا کہہ کر زندوں کو ایذاء نہ پہنچاؤ ( تاریخ دمشا الکبیرج ٣٤ ص ٥٩١‘ رقم الحدیث : ١٥٨٨‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرماے کسی انسان کو اسلام کی اچھی صفات میں سے یہ ہے کہ وہ بےمقصد باتوں کو ترک کردے۔ ( المعجم الکبیررقم الحدیث : ٧٣٧١‘ المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٠٨٠١)

(روح المعانی جز ١١ ص ٩٤۔ ٨٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

ابو طالب کے ایمان کے متعلق مفسرین کی تصریحات 

شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی ٠٦٤ ھ القصص : ٦٥ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) ‘ مجاہد ‘ حسن اور قتادہ وغیر ہم سے مروی ہے کہ یہ آیت ( القصص : ٦٥) ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اور ابو عبداللہ اور ابو جعفر سے مروی ہے کہ ابو طالب مسلمان تھے اور اسی پر امامیہ کا اجماع ہے اور ان کا اس میں اختلاف نہیں ہے اور ان کے اس پر دلائل قاطعہ ہیں ‘ یہاں ان کو ذکر کا موقی نہیں ہے۔ ( البتیان ج ٨ ص ٤٦١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت)

شیخ ابو علی الفضل بن الحسن الطبر سی (من علماء القرن السادس) الانعم : ٦٢ کی تفسیر ہیں لکھتے ہیں :

ابو طالب کے ایمان پر اہل بیت کا اجماع ہے اور ان کا اجماع حجت ہے کیونکہ وہ اس ثقلین میں سے ایک ہیں جن کے ساتھ تمسک کرنے کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے ‘ آپ نے فرمایا اگر تم ان کے ساتھ تمسک کرو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ‘ اور اس پر یہ بھی دلیل ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) فتح مکہ کے دن اپنے والد ابو قحافہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر گئے ‘ وہ اسلام لے آئے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس بوڑھے کو کیوں لے کر آئے ‘ وہ نابینا تھے ‘ میں خود ان کے پاس آجاتا ‘ حضرت ابوبکر نے کہا میرا ارادہ تھا اللہ تعالیٰ ان کو اجر عطا فرمائے گا ‘ اور اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے زیادہ خوشی ابوطالب کے اسلام لانے سے ہوئی تھی جس کے اسلام لانے سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئی تھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔ ابوطالب کے وہ اقوال اور اشعار جن سے ان کے اسلام کا پتا چلتا ہے بہت زیادہ ہیں ‘ بعض اشعار یہ ہیں :

الم تعلموا اناوجد نا محمدا نبیا کموسی خط فی اول الکتب 

کیا تم کو معلوم نہیں کہ ہم نے محمد کو موسیٰ کی طرح نبی پایا ان کا ذکر پہلی کتابوں میں لکھا ہوا ہے 

الاان احمد قد جاء ھم بحق ولم یاتھم بالکذب 

سنو بیشک احمد ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور وہ جھوٹ نہیں لائے۔

(مجمع البیان جز ٤ ص ٥٤٤۔ ٤٤٤‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ٤٠٤١ ھ)

السید محمد حسین الطباطبائی القصص : ٦٥ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ابوطالب کے ایمان کے متعلق ائمہ اہل بیت کی روایات مشہور ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق اور آپ کے دین کے برحق ہونے کے متعلق ان کے اشعار بہت زیادہ ہیں ‘ اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمسن تھے توا نہوں نے ہی آپ کو پناہ دی تھی ‘ اور بعثت کے بعد ہجرت سے پہلے انہوں نے ہی آپ کی حفاظت کی تھی اور مہاجرین اور انصار نے ہجرت کے بعد دس سال تک جو آپ کی نصرت اور حفاظت کی ہے اس کے برابر ہجرت سے پہلے دس سال تک ابوطالب نے آپ کی حفاظت کی۔ ( المیزان ج ٦١ ص ٧٥‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ا ایران ‘ ٢٦٣١ ھ)

شیخ طبرسی نے جو روایت پیش کی ہے اس کا کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا ‘ اور نہ ان اشعار کی کوئی سند ہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہدایت دینے اور ہدایت نہ دینے کے محامل 

اس آیت پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہدایت دینے کی نفی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء ج۔ (القصص : ۵۶) بیشک آپ جس کو پسند کریں اس کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے ‘ لیکن اللہ جس کو چاہے اس کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔

اور دوسری آیت میں آپ کے ہدایت دینے کو ثابت فرمایا ہے : انک لتھعی الی صراط مستقیم۔ (الشوریٰ : ۵۲) بیشک آپ سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔

اور بہ ظاہر ان دونوں آیتوں میں تعارض ہے اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) ہدایت دینے کے ثبوت کا معنی یہ ہے کہ آپ لوگوں کو اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت دیتے ہیں اور اس کی نفی کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو مسلمان نہیں بناتے اور اس کو صراط مستقیم کی توفیق نہیں دیتے ‘ یہ کام صرگ اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔

(٢) نفی کا محمل یہ ہے کہ آپ کسی کے دل میں ہدایت پیدا نہیں کرتے اور ثبوت کا محمل یہ ہے کہ آپ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہدایت کو نافذ کرتے ہیں 

(٣) آپ خلقاً ہدایتے نہیں دیتے اور کسباً ہدایت دیتے ہیں۔

(٤) آپ حقیقتاً ہدایت نہیں دیتے اور ظاہراً ہدایت دیتے ہیں۔

(٥) آپ وعظ اور تھلیغ کے ذریعہ ہدایت دیتے ہیں اور اس کا اثر اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔

(٦) آپ ارائۃ الطریق کرتے ہیں ( راستہ دکھاتے ہیں) اور ایصال الی المطولب اللہ تعالیٰ کرتا ہے ‘ یعنی وہ مطلوب تک پہنچا دیتا ہے ‘ دنیا میں مومن بنا دیتا ہے اور آخرت میں جنت عطا فرماتا ہے۔

(٧) اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کو علم ہے کس کا دل ہدایت قبول کرنے کے قابل ہے اور کس کے دل پر مہر لگی ہے لٰہذا کس کو ہدایت دینی ہے اور کس کو ہدایت نہیں دینی ‘ اس کے برخلاف آپ عالم الغیب نہیں ہیں ‘ آپ ہر ایل وعظ اور تبلیغ کریں گے خواہ اس کے دل پر مہر لگی ہو یا نہ ہو۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 56