أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَـهُ الۡحَمۡدُ فِى الۡاُوۡلٰى وَالۡاٰخِرَةِ وَلَـهُ الۡحُكۡمُ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور وہی اللہ ہے اسکے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ دنیا اور آخرت میں اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

اس کے بعد فرمایا : اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ دنیا اور آخرت میں اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں۔ (القصص : ۷۰)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے واجب ہیں اور اللہ کے سوا اور کسی کا حکم واجب الاطاعت نہیں ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں یا اس آیت کا یہ معنی ہے کہ اولاً بالذات حکم دینے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے پھر جس کو اللہ تعالیٰ حکم دینے کا منصب عطا فرمائے۔

اولیاء اللہ کو مشکل کشا کہنے کو سید مودودی کا شرک قرار دینا اور اس کا جواب 

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی ٩٩٣١ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یہ ارشاد دراصل شرک کی تردید میں ہے۔ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جو بیشمار معبود اپنے لیے بنا لیے ہیں ‘ اور ان کو اپنی طرف سے جو اوصاف ‘ مراتب اور مناصب سونپ رکھے ہیں ‘ اس پر اعتراض کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں ‘ فرشتوں ‘ جنوں اور دوسرے بندوں میں سے ہم خود جس کو جیسے چاہتے ہیں اوصاف ‘ صلاحیتیں اور طاقتیں بخشتے ہیں اور جو کام جس سے لینا چاہتے ہیں ‘ لیتے ہیں۔ یہ اختیارات آخران مشرکین کو کیسے اور کہاں سے مل گئے کہ میرے بندوں میں سے جس کو چاہیں مشکل کشا ‘ جسے چاہیں گنج بخش اور جسے چاہیں فریادرس قرار دے لیں ؟ جسے چاہیں بارش برسانے کا مختار ‘ جسے چاہیں روزگار یا اولاد بخشنے والا ‘ جسے چاہیں بیماری اور صحت کا مالک بنادیں ؟ جسے چاہیں میری خدائی کے کسی حصے کا فرماں رواٹھہرالیں ؟ اور میرے اختیار میں سے جو کچھ جس کو چاہیں سونپ دیں ؟ کوئی فرشتہ ہو یا جن یا بنی یا ولی ‘ بہرحال جو بھی ہے ہمارا پیدا کیا ہوا ہے۔ جو کمالات بھی کسی کو ملے ہیں ہماری عطاوبخشش سے ملے ہیں۔ اور جو خدمت بھی ہم نے جس سے لینی چاہی ہے لی ہے۔ اس برگزیدگی کے یہ معنی آخر کیسے ہوگئے کہ یہ بندے بندگی کے مقام سے اٹھاکر خدائی کے مرتبے پر پہنچادیے جائیں اور خدا کو چھوڑ کر ان کے آگے سرنیاز جھکا دیا جائے ‘ مان کو مدد کے لیے پکارا جانے لگے ‘ ان سے حاجتیں طلب کی جانے لگیں ‘ انہیں قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ لیا جائے ‘ اور انہیں خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دیا جائے ؟ (تفہیم القرآن ج ٣ ص ٨٥٦‘ لاہور ‘ ٣٨٩١)

اہل سنت حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) و (رض) کو غوث اعظم کہتے ہیں اور دیگر اولیاء کرام کو بھی غوث اور قطب کہتے ہیں اور غوث کے معنی ہیں فریادرس ‘ اسی طرح حضرت علی (رض) کو مشکل کشا کہتے ہیں اور حضرت علی ہجوری (رض) المعروف داتا گنج بخش کہتے ہیں ‘ سید مودودی نے اس عبارت میں ان ( اہل سنت) کو مشرکین قرار دیا ہے ‘ جبکہ اہلسنت ان اولیاء کرام کو غوث ‘ مشکل کشا یا گنج بخش حقیقتاًًاور بالذات نہیں کہتے۔ کسی شخص کو حقیقتاً اور بالذات مشکل کشا یا گنج بخش اعتقاد کرنا ‘ یہ شرک ہے اور مجازاً یعنی عقلی کے طور پر ان کی طرف ان اوصاف کی نسبت کرنا شرک نہیں ہے بلکہ قرآن مجید میں اس کی نظائر موجود ہیں۔

قال انما انا رسول ربک ق لاھب لک غلما زکیا۔ (مریم : ۱۹) (جبریل نے) کہا میں تو صرف اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ کو پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔

لڑکا یا بیٹا دینا اللہ کی صفت ہے لیکن جبریل نے اپنی طرف بیٹا دینے کی نسبت کی اور یہ اسناد مجازی ہے ‘ اسی طرح اہل سنت بھی مجازاً اولیاء کرام کی طرف بیٹا دینے کی نسبت کرتے ہیں کیونکہ ان کی دعا سے بیٹا پیدا ہوجاتا ہے ‘ اسی طرح قرآن مجید میں ہے :

وما نقمو الاان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ ج۔ (التوبہ : ۷۴) اور ان (منافقین) کو صرف یہ ناگوار ہوا کہ اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے ان کو غنی اور دولت مند کردیا۔

اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دولت مند کرنے کی نسبت کی ہے اور یہ نسبت بھی مجاز عقلی ہے ‘ اسی نہج پر اہل سنت بھی اولیاء کرام کو مشکل کشا ‘ غوث اور گنج بخش مجازاََ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ مسلمان ہیں ‘ توحید کی گواہی دیتے ہیں اور تمام اولیاء کرام اور انبیاء کرام کو اللہ کی مخلوق مانتے ہیں اور یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ ان اوصاف کی نسبت اولیاء کرام کی طرف مجازاََ کرتے ہیں ‘ وہ بت پرست نہیں ہیں کہ ان کی طرف ان اوصاف کی نسبت حقیقتاََ کریں اور ظاہر ہے کہ سید مودودی تمام کہنے والوں کے دلون کے حال پر متوجہ نہیں تھے کہ انہیں بغیر کسی قرینے کے معلوم ہوجاتا کہ یہ لوگ ان اولیاء کو حقیقتاََ مشکل کشا اور غوث وغیرہ کہتے ہیں اس لیے ان کو علی الاطلاق مشرکین صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو علیم بذات الصدور ہو اور دلوں کے حال جاننے کا دعویٰ رکھتا ہس اور حقیقت میں شرک بھی یہی ہے۔ حضرت سیدنا ابن عمر (رض) خوارج کو بدترین مخلوق شمار کرتے اور فرماتے کہ ان لوگوں نے ان آیات کو مومنوں پر چسپاں کردیا جو کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ کتاب استتابۃ المزتدین ‘ باب : ٦)

اس تفسیر میں سید مودودی نے ایسا ہی کیا ہے۔ اس کی مکمل تفسیر اور تفصیل ہم نے النحل : ١١۔ ۱۰ تبیان القرآن ‘ ج ٦ ص ٣٩٣۔ ٤٩٣ میں کی ہے۔ وہاں مطالعہ فرمائیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 70