أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ‌ۚ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ‌ ۖ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا ۞

ترجمہ:

مومنوں میں کچھ ایسے (ہمت والے) مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کر دکھا یا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا ‘ سو ان میں سے بعض نے (شہید ہو کر) اپنی نذر پوری کردی اور ان میں سے بعض منتظر ہیں ‘ اور انہوں نے (اپنے وعدہ میں) کوئی تبدیلی نہیں کی

تفسیر:

مجاہدین کو مردوں سے تعبیر کرنے کا سبب 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مومنوں میں کچھ ایسے (ہمت والے) مرد ہیں ‘ جنہوں نے اس وعدہ کو سچا کر دکھایا ‘ جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا ‘ سو ان میں سے بعض نے (شہید ہو کر) اپنی نذر پوری کردی اور ان میں سے بعض منتظر ہیں اور انہوں نے (اپنے وعدہ میں) کوئی تبدیلی نہیں کی (الاحزاب : ٢٣ )

ان مومنوں نے اللہ تعالیٰ س یہ عہد کیا تھا کہ وہ دین کی سربلندی کے لیے آئندہ کفار کے خلاف جہاد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ثابت قدم رہیں گے ‘ اور یہ مومنین حضرت عثمان بن عفان ‘ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ‘ حضرت سعید بن زید بن عمر و نفیل ‘ حضرت حمزہ ‘ حضرت مصعب بن عمیر ‘ حضرت انس بن نضر وغیرہ ھم (رض) تھے ‘ انہوں نے نذر مانی تھی کہ جب بھی کفار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کرنے کے لیے آئیں گے تو وہ مقابلہ میں ثابت قدم رہیں گے اور وہ مسلسل قتال کرتے رہیں گے حتی کہ وہ شہید ہوجائیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کو مردوں سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں جمادات اور نباتات کے بعد پہلا مرتبہ حیوانات کا ہے اس کے بعد انسانوں کا مرتبہ ہے اور انسانوں میں زیادہ مرتبہ مردوں کا ہے اور مردوں میں بھی زیادہ مرتبیہ ان مردوں کا ہے جو ہمت والے مرد ہوں اور مرد میدان ہوں۔

بعض مجاہدین کے نذر ماننے کی تحسین کی توجیہ جب کہ نذر ماننا مکروہ ہے 

اس آیت میں ” نحب “ کا لفظ ہے ‘ علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے الخب اس نذر کو کہتے ہیں جس کا پورا کرنا واجب ہو کہا جاتا ہے : قضی فلان نحبہ فلاں شخص نے اپنی نذر پوری کردی۔ (المفردات ج ٢ ص ٦٢٦ )

معصیت کی نذر ماننا جائز نہیں ہے ‘ نذر اس کام کی مانی جاتی ہے جو عبادات مقصودہ کی جنس سے ہو اور اس کو پورا کرنا واجب ہو قرآن مجید میں ہے ولیو فوا نذورھم (الحج : ٢٩) اور ان کو چاہیے کہ وہ اپنی نذروں کو پورا کریں۔

(ردالمتخار ج ٦ ص ٤١٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

نذر پر مفصل گفتگو ہم الحج : ٢٩ میں کرچکے ہیں اور یہ بحث تبیان القرآن کی ساتویں جلد میں ہے۔

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت میں ان مومنوں کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی نذر مان کر اس کو پورا کیا اور حدیث میں نذر ماننے کو ناپسند فرمایا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا نذر کسی چیز کو ٹال نہیں سکتی ‘ صرف بخیل شخص نذر مان کر عبادت کرتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٠٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٢٨٧‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٨٠١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢١٢٧ )

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو عبادت کی نذر ماننے سے منع فرمایا جو شخص اس نذر کی وجہ سے تکلفاً اور جبراً عبادت کرے اور دل سے اس عبادت پر خوش نہ وہ ‘ یا جو شخص بہ صورت معاوضہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کا فلاں کام کردیا تو وہ اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ کی فلاں عبات کرے گا ‘ جب کہ عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے ‘ یا آپ نے نذر سے اس شخص کو منع فرمایا جس کا عقیدہ ہو کہ نذر ماننے سے تقدیر بدل جاتی ہے ‘ اور جو شخص محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نذر مانے اس کا نذر ماننا مکروہ نہیں ہے اور اس آیت میں جن مومنین کا ذکر فرمایا ہے انہوں نے محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے نذر مانی تھی ‘ اپنے کسی دنیاوی مطلوب کے لیے نذر نہیں مانی تھی۔

جہاد کی نذر پوری کرنے والے صحابہ کے مصادیق 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ آیت (الاحزاب ٢٣) حضرت انس بن النضر (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٨٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٠٣‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٠٠)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا حضرت انس بن نضر غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے اس کا ان کو بہت قلق تھا وہ کہتے تھے کہ جو کفر اور اسلام کا پہلا بڑا معرکہ ہوا ‘ میں اس میں حاضر نہ ہوسکا ‘ اگر اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مجھے کسی اور غزوہ میں حاضر ہونے کا موقع دیا تو پھر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ضرور دکھائے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ‘ پھر وہ غزوہ احد میں حاضر ہوئے اور انکی حضرت سعد بن معاذ (رض) سے ملاقات ہوئی انہوں نے پوچھا اے ابو عمر وکہاں جا رہے ہو ؟ حضرت انس بن نضر نے کہا وہ دیکھو مجھے احد پہاڑ کے پاس سے جنت کی خوشبو آرہی ہے ‘ انہوں نے قتال کیا حتی کہ وہ شہید ہوگئے ‘ ان کے جسم پر تلواروں ‘ نیزوں اور تیروں کے اسی (٨٠) س زیادہ زخم تھے اور ان کے اور ان کے اصحاب کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٠٣‘ سنن الترمذ رقم الحدیث : ٣٢٠٠‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٩٤)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد سے واپس آئے تو حضرت مصعب بن عمیر (رض) کے پاس سے گزرے وہ راستہ میں مقتول پڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پاس کھڑے ہو کر دعا کی اور پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی :

من المؤ منین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ ج فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظزر وما بدلوا تبدیلا (الاحزاب : ٢٣ )

مومنوں میں کچھ ایسے ہمت والے مرد ہیں ‘ جنہوں نے اس عہد کو سچا کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا ‘ سو ان میں سے بعض نے (شہید ہو کر) اپنی نذر پوری کردی اور ان میں سے بعض منتظر ہیں۔ اور انہوں نے (اپنے وعدہ میں) کوئی تبدیلی نہیں کی۔

پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ کے نزدیک شہداء ہیں ‘ سو تم ان کے پاس آیا کرو اور ان زیارت کیا کرو ‘ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے قیامت تک جو شخص بھی ان کو سلام کرے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٢٤٨ قدیم ‘ المستدرک رقم الحدیث : ٢٩٧٧ جدید ‘ دلائل النبوۃ ج ٣ ص ٢٨٤‘ مجمع الزوائد ج ٣ ص ٦٠‘ احوال القبور ص ١٤٢۔ ١٤١‘ الدر المثورج ٦ ص ٥١٨۔ ٥١٧‘ کنزالعمال ج ١٠ ص ٣٨١)

امام حاکم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ ج ٥ ص ٢٠٠ میں بھی روایت کیا ہے اور ذہبی نے اس سند کو صحیح لکھا ہے۔

حضرت طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے ایک ناواقف اعرابی سے کہا تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرو وہ شخص کون ہے جس کے متعلق یہ آیت ہے : فمنھم من قضی نحبہ اور آپ کے اصحاب آپ سے سوال کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے وہ آپ کا بہت ادب کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے تھے ‘ اس اعرابی نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے اعراض فرمایا اس نے پھر سوال کیا تو آپ نے پھر اعراض فرمایا ‘ پھر میں مسجد کے دروازہ سے داخل ہوا ‘ اس وقت میں نے سبز کپڑے پہنے ہوئے تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا تو فرمایا وہ سائل کہاں ہے ؟ جو فمنھم من قضی نحبہ کے متعلق سوال کررہا تھا ‘ اس اعرابی نے کہا میں یہاں ہوں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا یہ وہ شخص ہے جو ان مومنوں سے ہے جنہوں نے اپنی نذر پوری کی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٠٣‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٦٣٠)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس آدمی کو اس سے خوشی ہو کہ وہ زمین پر اس آدمی کو چلتے ہوئے دیکھے جس نے اپنی نذر پوری کردی ہے تو وہ طلحہ کو دیکھ لے۔ (مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٤٨٩٨)

حضرت طلحہ بن عبید اللہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ (رض) کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ‘ ان کو حضرت علی (رض) کے لشکر نے شہید کیا تھا حضرت علی کو ان کی لاش دیکھ کر بہت افسوس ہوا اور فرمایا کاش میں اس حادثہ سے بیس اسل پہلے مرگیا ہوتا ‘ آپ نے حضرت طلحہ کے لیے شہادت کی بشارت دی جن کو حضرت عل کے لشکر نے شہید کیا اور حضرت عمار بن یاسر کے لیے بھی شہادت کی بشارت دی جن کو حضرت معاویہ کے لشکر نے شہید کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان جنگوں میں قتل ہونے والے دونوں فریق شہید تھے اور دونوں فریق اپنے اپنے اجتہاد میں برحق تھے کسی کا مطمح نظر نفسانیت نہ تھا ‘ لیکن جمہور اسلام کے نزدیک واقع میں حضرت علی (رض) کا اجتہاد برحق تھا۔ ( مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٤٨٩٨)

امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم التعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) اس آیت ( الاحزاب : ٢٣) کی تفسیر میں فرماتی ہیں ان ان مومنین میں سے حضرت طلحہ بن عبیداللہ ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ثابت قدم رہے حتی کہ انکا ہاتھ چھلنی ہوگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا طلحہ نے جنت کو واجب کرلیا۔ (الکشف والبیان ج ٨ ص ٢٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

سورۃ الاحزاب کی ایک آیت کا حضرت خزیمہ بن ثابت کی شہادت سے ملنا 

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب ہم مصاحف (قرآن مجید کے نسخے) لکھ رہے تھے تو ایک آیت گم پائی جس کو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کرتا تھا پھر وہ آیت حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کے پاس سے ملی وہ آیت یہ تھی : من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ الی قولہ تبدیلا (الاحزاب : ٢٣) اور حضرت خزیمہ کے متلعق کہا جاتا تھا کہ وہ ذوالشہاد تین ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شہادت کو دو شہاتوں کے برابر قرار دیا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٠٧‘ مصنف عبدالرزاق ج ٨ ص ٢٨٧‘ رقم الحدیث : ١٥٦٦٤‘ مصنف ج ١٠ ص ٢٢٧‘ رقم الحدیث : ٢٠٥٨٤‘ دارالکتب العلمیہ بیروت : ١٤١١ ھ)

حضرت ابوبکر کے عہد میں صحابہ کرام کی ایک کمیٹی قرآن مجید کو ایک مصحف (مجموع مجلد) میں لکھ رہی تھی انہوں نے مصحف میں قرآن مجید کی آیات کو درج کنے کا یہ ضابطہ مقرر کیا تھا کہ جس آیت کے متعلق کم ازکم دو صحابہ یہ گواہی دیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو لکھوایا تھا وہ اس آیت کو مصحف میں درج کرتے تھے ‘ الاحزاب : ٢٣‘ کو لکھوانے کے متعلق حضرت خزیمہ بن ثابت کے علاوہ اور کوئی گواہی نہیں ملی اور چونکہ حضرت خزیمہ کی گواہی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو گواہوں کی گواہی کے قائم مقام قرار دیا تھا اس لیے صحابہ نے ان کی گواہی پر اس آیت کو سورة الاحزاب میں درج کرلیا ‘ واضح رہے کہ قرآن مجید کی ہر آیت تو اتر سے ثابت ہے یعنی اس کے قرآن ہونے کے متعلق ہر دور میں اتنے لوگوں نے خبر دی ہے کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہے ‘ لیکن یہاں پر یہ مسئلہ نہیں تھا کہ یہ آیت قرآن مجید میں ہے یا نہیں۔ اس کا قرآن مجید میں ہونا تو انہیں تو اتر سے معلوم تھا ‘ مسئلہ یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو لکھوایا ہے اور سورت الاحزاب میں درج کرایا ہے یا نہیں ‘ سو اس پر صرف حضرت خیزیمہ بن ثابت (رض) گواہ تھے ‘ الاحزاب : ٢٣ کی طرح سورة التوبہ کی آخری دو آیتیں بھی صرف حضرت خزیمہ بن ثابت کی گواہی سے مصحف میں درج کی گئیں :

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے پیغام بھیجا تو میں نے قرآن مجید کو جمع کرنا شروع کیا حتی کہ جب میں سورة توبہ کے آخر میں پہنچا تو لقد جآء کم رسول من انفسکم (التوبہ : ١٢٩۔ ١٢٨) مجھے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری (رض) کے پاس ملی اور ان کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ملی۔ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کی گواہی کو جو دو گواہوں کی گواہی کے قائم مقام قراردیا گیا ہے ‘ اس کی وجہ دو واقعات ہیں جن کا ذکر آرہا ہے۔

حضرت خزیمہ بن ثابت کی گواہی کو دو گواہوں کی گواہی کے قائم مقام کرنے کا سبب 

محمد بن عمارہ ‘ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے مہلت طلب کی کہ گھوڑے کی قیمت لے کر آئیں ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے کی قیمت لگانے لگے ‘ ان کو یہ ملعوم نہیں تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں ‘ پھر اس اعرابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اگر آپ اس گھوڑے کو خریدچ کے ہیں تو فبہا ورنہ میں اس گھوڑے کو بیچ رہا ہوں ‘ آپ نے اس اعرابی کی بات سن کر فرمایا کیا میں تم سے یہ گھوڑا خرید نہیں چکا ؟ اس اعرابی نے کہا نہیں خدا کی قسم ! میں نے آپ کو یہ گھوڑا نہیں فروخت کیا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیوں نہیں ! میں تم سے یہ گھوڑا خرید چکا ہوں ‘ اس اعرابی نے کا اچھا پھر آپ گواہ لائیں ‘ حضرت خزیمہ بن ثابت نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے یہ گھوڑا آپ کو فروخت کردیا ہے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ سے پوچھا تم کس بنیاد پر یہ گواہی دے رہے ہو ؟ حضرت خزیمہ نے کہا یا رسول اللہ ! کیونکہ میں آپ کی (ہر بات کی) تصدیق کرتا ہوں ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خزیمہ کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٦٠٧‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٢٢١‘ الطبقات الکبری رقم الحدیث : ٥٨٤‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٥٢٢١‘ طبع جدید ‘ مصنف عبدالرزاق ج ٨ ص ٣٦٦ طبع قدیم ‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٧٣٠‘ مجمع الزوائد ج ٩ ص ٣٢٠‘ المسدرک ج ٢ ص ١٨‘ السنن الکبری ج ١٠ ص ١٤٦‘ تاریخ دمشق الکبیر رقم الحدیث : ٤٠٤٧‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٧٠٣٨‘ الاصابہ رقم الحدیث : ٢٢٥٦‘ اسدالغابہ رقم الحدیث : ١٤٤٦ )

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرض کا تقاضا کررہا تھا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم کو قرض ادا کرچکا ہوں ‘ یہودی نے کہا آپ گواہ لائیں ‘ اتنے میں حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری آگئے ‘ انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو قرض ادا کردیا ہے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا تم کو کیسے علم ہوا ؟ انہوں نے کہا میں اس سے بہت بڑی خبروں میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں ‘ میں آسمان کی خبروں میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شہادت کو دو شہادتیں قرار دیا۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٥٦٦٨۔ ٢٠٥٨٥ طبع جدید ‘ مصنف عبدالرزاق ج ٨ ص ٣٦٦‘ ج ١١ ص ٢٣٥‘ طبع قدیم)

سورۃ توبہ کی آخری آیت آیا حضرت خزیمہ بن ثابت کی شہادت سے قرآن مجید ————-

میں مندرج ہوئی یا حضرت ابو خزیمہ کی شہادت سے ؟

سورۃ توبہ کی آخری دو آیتیں ١٢٩۔١٢٨ (لقد جآء کم رسول من انفسکم الایتین) کے متعلق امام بخاری کی روایات مضطرب ہیں ‘ جب کہ اس میں امام بخاری اور ان کے شارحین کو شرح صدر ہے کہ من المؤ منین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ (الاحزاب : ٢٣) کے متعلق صرف حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) نے شہادت دی تھی کہ اس آیت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة الاحزاب میں لکھوایا تھا اور چونکہ ان کی شہادت دو شہادتوں کے برابر ہے اس لیے حضرت زید بن ثابت (رض) نے قرآن کو جمع کرتے وقت اس آیت کو سورة الاحزاب میں درج کرلیا ‘ لیکن سورة التوبہ کی آخری دو آیتوں میں ان کی روایت میں اضطراب ہے :

حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں قرآن مجید کو تلاش کرتا رہا حتی کہ سورة توبہ کی آخری دو آیتیں مجھے حضرت ابو خزیمہ انصاری کے پاس سے ملیں اور میں نے کسی اور کے پاس ان دو آیتوں کو نہیں پایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٧٢۔ ٧٤٢٥) پھر امام بخاری حدیث : ٤٦٧٩ کے آخر میں لکھتے ہیں : ابو ثابت ابراہیم سے روایت کرتے ہیں : یہ دو آیتیں خزیمہ کے پاس سے ملیں یا ابو خزیمہ کے پاس ملیں۔

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

خارجہ بن زید بن ثابت اور عبید بن السباق کا اس میں اختلاف ہے کہ حضرت زید بن ثابت کو جو آیت حضرت خزیمہ کے پاس سے ملی تھی وہ من المؤ منین رجال صدقوا (الاحزاب : ٢٣) لقد جآء کم رسول من انفسکم (لتوبہ : ١٢٩۔ ١٢٨) تھی امام بخاری نے ان دونوں حدیثوں کو ان مذکور سندو کے ساتھ روایت کیا ہے گویا کہ ان کے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ شعیب نے زہری کی روایت سے ان دونوں حدیثوں کو روایت کیا ہے ‘ اسی طرح ابراہیم بن سعد نے بھی ان دونوں حدیثوں کو زہری سے روایت کیا ہے۔ (فتح البار یج ٦ ص ١٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٧٩ کی شرح میں لکھتے ہیں :

امام بخاری نے اس حدیث کو شک کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ کیونکہ انہوں نے کہا حضرت زید بن ثابت کو سورة توبہ کی آخری دو آیتیں حضرت خزیمہ کے پاس سے ملیں یا حضرت ابو خزیمہ کے پاس سے ملیں۔ اس طرح انہوں نے کتاب الا حکام میں بھی ان دونوں حدیثوں کو شک کے سات روایت کیا ہے ‘ دیکھئے صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٢٥‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم بن سعد کے شاگردوں میں اختلاف ہے بعض نے کہا سورة توبہ کی آخری آیتیں حضرت ابو خزیمہ کے پاس ملیں اور بعض نے کہا حضرت خزیمہ کے پاس ملیں اور بعض نے اس میں شک کیا ‘ موسیٰ بن اسماعیل نے کہا سورة توبہ کی آخری آیت ابو خزیمہ کے پاس ملی اور سورة الاحزاب کی آیت حضرت خزیمہ بن ثابت کے پاس سے ملی۔

عمدۃ القاری ج ١٨ ص ٣٨٤۔ ٣٨٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ صحیح البخاری : ٤٩٨٦ کی شرح میں لکھتے ہیں :

ابراہیم بن سعد نے روایت کیا ہے کہ سورة توبہ کی آخری آیت حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری (رض) کے پاس ملی ‘ اس حدیث کو امام احمد اور امام ترمذی نے اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور شعیب نے زہری سے روایت کیا ہے کہ حضرت خزیمہ انصاری کے پاس ملی ‘ جیسا کہ سورة توبہ کی تفسیر میں گزرا ہے ‘ اور امام ترمذی نے مسند الثامسیین میں شعیب سے روایت کیا ہے کہ سورة توبہ کی آخری آیت حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس ملی ‘ اسی طرح امام ابن ابی دوائود نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔ اور جس شخص نے یہ کہا کہ سورة توبہ کی آخری آیت حضرت ابو خزیمہ کے پاس ملی اس کا قول زیادہ صحیح ہے۔ (فتح الباری ج ١٠ ص ١٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

مصنف کے نزدیک حضرت خزیمہ بن ثابت کی شہادت ——-

سے اس آیت کا قرآن میں مدر ج ہونا راجح ہے 

میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی کا یہ لکھنا کہ سورة توبہ کی آخری آیت حضرت ابو خزیمہ کے پاس سے ملی اور حافظ ابن حجر عسقلانی کا اس قول کو زیادہ صحیح قرار دینا ‘ دونوں باتیں صحیح نہیں ہیں ‘ کیونکہ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں قرآن جمع کرنے والے صحابہ نے یہ اصول طے کرلیا تھا کہ جس آیت کے متعلق دو صحابی یہ گواہی دیں گے کہ اس آیت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوایا تھا اس آیت کو وہ مصحف میں درج کریں گے خواہ ان کو اس کا قرآن کی آیت ہونا تواتر سے معلوم ہو ‘ اور سورة توبہ کی آخری آیت صرف حضرت خزیمہ بن ثابت کے پاس ملی تھی اور چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شہادت کو دو شہادتوں کے برابر قرار دیا تھا اس لیے ان کی شہادت پر اس آیت کو سورة توبہ میں درجکر لیا گیا ‘ اور جس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ سورة توبہ کی یہ آیت صرف حضرت ابو خزیمہ بن اوس کے پاس سے ملی اور کسی کے پاس نہیں تھی اس لیے ان اکیلے کی شہادت پر اس کو سورة توبہ میں درج کرلیا گیا یہ روایت اس لیے مرجوح ہے کہ حضرت ابو خزیمہ کی شہادت کو دو شہادتوں کے برابر نہیں قرار دیا گیا تھا پھر اس کو قرآن مجید میں درج کنا ان کے اصول کے خلاف ہے ‘ اصول یہ تھا کہ جس آیت کے لکھوائے جانے پر دو گواہ ہوں اس کو قرآن مجید میں درج کیا جائے اور اس معیار کے مطابق حضرت خزیمہ بن ثابت کی روایت ہے کیونکہ ان کی گواہی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو گواہوں کی گواہی کے برابرقرار دیا تھا ‘ ثانیاً اگر اس اصول سے صرف نظر کرلیا جائے پھر بھی جب صحیح بخاری میں سورة توبہ کی آخری آیت کو سورة توبہ میں درج کرنے کے متعلق دور وایتیں ہیں ایک حضرت ابو خزیمہ بن اوس کی جن کی گوایہ کو دو گواہوں کے برابر نہیں قرار دیا گیا اور دوسری حضرت خزیمہ بن ثابت کی جن کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرارد یا گیا ہے اور دونوں صحیح حدیثیں ہیں تو ترجیح حضرت خزیمہ بن ثابت کی روایت کو دینا چاہیے نہ کہ حضرت ابو خزیمہ بن اوس کی روایت کو۔

ثالثا ‘ امام بخاری کو تو ان دونوں حدیثوں کی ترجیح میں تردو اور شک ہے لیکن دوسرے مصنفین صحاح کو اس میں کوئی شک تردد نہیں ہے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی گواہی سے سورة توبہ کی آخری آیات کو سورة توبہ میں درج کیا گیا ہے چناچہ امام ترمذی نے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت کی شہادت سے اس آیت کو درج کرنے کی حدیث کو روایت کیا ہے ‘ دیکھئے سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣١٠٣‘ اسی طرح امام ابن حبان متوفی ٣٥٤ ھ نے بھی صرف حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی روایت کو درج کیا ہے دیکھیے صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٥٠٧ اور ٤٥٠٦‘ اسی طرح امام ابو یعلیٰ متوفی ٣٠٧ ھ نے بھی صرف حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی حدیث کو درج کیا ہے دیکھیے مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٦٤‘ مفسرین سے علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت کی حدیث کا ذکر کیا ہے دیکھیے الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٢١٩‘ دارالفکر بیروت ‘ اور حافظ جلا الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے امام محمد بن سعد ‘ امام احمد بخاری ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ابی دائود ‘ امام ابن حبان ‘ امام ابن المنذر ‘ امام طبرانی اور امام بیھقی کے حوالوں سے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت کی حدیث کا ذکر کیا ہے دیکھیے الدر المثور ج ٤ ص ٢٩٩‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ 

دوشہادتوں سے کسی آیت کا قرآن مجید میں درج کرنا آیا تو اتر کی شرط کے خلاف یا نہیں ؟

حافظ ابن حجر عسقلانی کے نزدیک سورة توبہ کی آخری دو آیتیں حضرت ابو خزیمہ کے بتانے سے سورة توبہ میں درج کی گئیں ‘ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید تو تواتر سے ثابت ہوتا ہے تو صرف ایک شخص حضرت خزیمہ کے بتانے سے ان آیتوں کا قرآن ہونا کس طرح ثابت ہوا حتیٰ کہ ان سورة توبہ کے آخر میں درج کرلیا گیا ‘ اس کی تحقیق کرتے ہوئے حافظ ابن حجر سقلانی لکھتے ہیں :

حضرت زید بن ثابت نے کہا مجھے یہ آیتیں حضرت ابو خزیمہ کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ملیں ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابو خزیمہ کے علاوہ اور کسی کے پاس لکھی ہوئی نہیں ملیں ‘ کیونکہ یہ پہلے گزر چکا ہے کہ وہ کسی آیت کے بارے میں صرف لوگوں کے حافظہ کو کافی نہیں سمجھتے تھے جب کہ ان کے پاس وہ آیت لکھی ہوئی نہ ہو اور ان کو جو آیتیں اور کسی کے پاس لکھی ہوئی نہیں ملیں اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کو ان آیتوں کا قرآن ہونا اس سے پہلے تواتر سے ملعوم نہ ہو ‘ اور حضرت زید بن ثابت صرف یہ تلاش کررہے تھے کہ کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے بلاواسطہ اس آیت کو حاصل کیا ہو ‘ اور ہوسکتا ہے کہ جب حضرت زید بن ثابت انصاری کو یہ آیت حضرت ابو خزیمہ کے پاس لکھی ہوئی مل گئی تو باقی صحابہ کو بھی یاد آگیا ہو کہ یہ آیت لکھوائی گئی تھی جس طرح حضرت زید کو یاد آگیا تھا ‘ اور اس تلاش کا فائدہ یہ تھا کہ یہ بات زیادہ قوت کے ساتھ ثابت ہوگئی کہ یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لکھوائی گئی تھی۔ (فتح الباری ج ١٠ ص ١٨‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر نے جو یہ کہا ہے کہ حضرت زید بن ثابت اور باقی صحابہ کو یہ یاد آگیا کہ یہ آیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لکھوائی گئی یہ صرف حافظ ابن حجر کا اندازہ اور گمان ہے کسی حدیث میں یہ تصریح نہیں ہے ‘ حدیث میں تو صرف یہ ہے کہ یہ آیت حضرت ابو خزیمہ کے پاس (لکھی ہوئی) ملی ‘ اس پر یہ اشکال قائم رہے گا کہ صرف ایک شخص کے پاس یہ آیت لکھی ہوئی ہونے سے ان کو اس کے لکھے ہوئے ہونیکا کیسے یقین ہوگیا اس کے برخلاف صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ یہ آیت حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس (لکھی ہوئی) ملی اور یہ روایت اس لیے را حج ہے کہ ان کی شہادت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو گواہوں کے قائم مقام قرار دیا ہے ‘ اس لیے حضرت ابو خزیمہ کی شہادت کی بہ نسبت حضرت خزیمہ بن ثابت کی شہادت سے اس یقین کی کافی قوی وجہ ہے کہ یہ آیت آپ کے سامنے لکھوائی گئی تھی ‘ خلاصہ یہ ہے کہ کسی آیت کا قرآن ہونا تو ان کو تواتر سے معلوم تھا لیکن اس کو مصحف میں درج کرنے کے لیے انہوں نے یہ ضابطہ مقرر کیا تھا کہ دو شخص یہ گواہی دیں کہ اس آیت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوایا تھا اور اس آیت کے متعلق صرف حضرت خزیمہ بن ثابت کی گواہی تھی اور چونکہ ان کی گواہی دو گواہوں کے قائم مقام تھی اس لیے ان کی گواہی پر اس آیت کو سوۃ توبہ کے آخر میں درج کرلیا گیا۔

ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ علامہ سخاوی نے جمال القراء میں فرمایا ہے کہ دو گواہوں کا ضابطہ انہوں نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ اسی آیت کو قرآن مجید میں درج کیا جائے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لکھا گیا ہو ‘ ابوشامہ نے کہا ان کی غرض یہ تھی کہ اس آیت کو اسی طرح لکھا جائے جس طرح آپ کے سامنے وہ آیت لکھی گئی تھی ‘ میں کہتا ہوں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی غرض یہ ہو کہ دو گواہ اس پر گواہی دیں کہ جس سال آپ کی وفات ہوئی ہے اس سال بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھا جاتا تھا۔ (مرقاۃ المفاتیح ج ٤ ص ٧٢٨‘ مکتبہ حقانیہ پشاور)

اس تفصیل اور تحقیق سے یہ واضح ہوگیا زیادہ صحیح اور راحج یہ ہے کہ سورة توبہ کی آخری آیت حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) سے ملی تھی نہ کہ حضرت ابو خزیمہ بن اوس سے۔

خزیمہ اور ابو خزیمہ کے ناموں کا فرق 

ملاعلی قاری نے لکھا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے ابو خزیمہ اور خزیمہ بن ثابت دونوں س مراد ایک ہی شخص ہو۔

(مرقاۃ الفاتیح ج ٤ ص ٧٢٨‘ مکتبہ حقانیہ پشاور) 

ملاعلی قاری نے یہ صحیح نہیں لکھا حضرت خزیمہ کا نام خزیمہ بن ثابت اور اور ان کے والد کا نام ثابت ہے ‘ اور حضرت ابو خزیمہ کا نام ابو خزیمہ بن اوس بن زید بن اصرم ہے۔ (الا ستیعاب ج ٤ ص ٢٠٥‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ ‘ فتح الباری ج ١٠ ص ١٨‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢١ ذ‘ عمدۃ القاری ج ١٨ ص ٣٨٣‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

منافقوں کو عذاب نہ دینے پر ایک اشکال کا جواب 

غزوۃ الاحزاب میں جو امور واقع ہوئے مومنوں نے مخلصانہ عمل کیے اور منافقین نے اپنے روایتی نفاق کا مظاہرہ کیا ‘ یہ سب اس لیے ہا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزاء دے ‘ مومنوں کو دنیا میں دشمنان اسلا کے خلاف فتح اور نصرت عطا فرمائے اور ان کو اقتدار سے نوازے ‘ اور آخرت میں ان کو اجروثواب ‘ جنت الفردوس اپنی رضا اور اپنا دیدار عطا فرمائے ‘ اور منافقین نے غزوۃ الاحزاب میں اسلام دشمنی پر مبنی اعمال کیے تھے ‘ اگر انہوں نے اس پر توبہ نہیں کی تو اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو ان کو عذاب دے گا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو انکو توبہ کی توفیق دے کر ان کو معاف فرماے گا۔

اس آیت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو منافقوں کو عذاب دے گا اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو منافقوں کو عذاب نہیں دے گا حالانکہ منافقوں کو آخرت میں عذاب ہونا تو قطعی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار۔ (النسا : ١٤٥ )

بیشک منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ان منافقین کو آخرت میں عذاب ہونا قطعی ہے جو نفاق اور کفر پر مرے ہوں اور جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مرنے سے پہلے کفر اور نفاق سے توبہ کرنے کی توفیق دے دے گا ‘ ان کو عذاب نہیں دے گا ‘ سو جس کو اللہ تعالیٰ عذاب دینا چاہے گا اس کو دنیا میں توبہ کی توفیق نہیں دے گا اور جس کو عذاب نہیں دینا چاہے گا اس کو دنیا میں توبہ کی توفیق دے دے گا ‘ اگر یہ سوال کیا جائے کہ بعض منافقین کو توبہ کی توفیق دینا اور بعض کو توبہ کی توفیق نہ دینا اس کی کیا وجہ ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کی بناء پر ہو ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اس وجہ سے ہو کہ بعض کا نفاق کم اور خفیف ہو اور بعض کا نفاق زیادہ اور شدید ہو ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض نے اسلام کو کم نقصان پہنچایا ہو اور بعض نے زیادہ نقصان پہنچایا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض نے نفاق کے باوجود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی نہ کی ہو اور بعض نے آپ کی گستاخی کی ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ کی تمام حکمتوں کو کون جان سکتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 23