أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرَىٰ ؕ وَاِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ اِلٰى حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَىۡءٌ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ؕ اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ وَمَنۡ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفۡسِهٖ ؕ وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ۞

ترجمہ:

اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کوئی بوجھ والا اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے کسی دوسرے کو بلائے گا تو اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا خواہ وہ اس کا رشتہ دار ہی ہو، آپ صرف ان لوگوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو پاکیزہ ہوگا تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے پاکیزہ ہوگا اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کوئی بوجھ والا، اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے کسی دوسرے کو بلایء گا تو اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا خواہ وہ اس کا رشتہ دار ہی ہو، آپ صرف ان لوگوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں، اور جو پاکیزہ ہوگا تو وہ اپنے ہی نفس کے لئے پاکیزہ ہوگا، اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے اور نہ اندھیرے اور روشنی برابر ہے اور نہ سایہ اور دھوپ برابر ہے اور نہ زندہ لوگ اور مردے برابر ہیں، اور بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں ہیں (فاطر 18-22)

فاطر :18 کی تفسیر الانعام :164 میں گزر چکی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 35 فاطر آیت نمبر 18