وَّ اَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوۡا عَنْہُ وَ اَکْلِہِمْ اَمْوٰلَ النَّاسِ بِالْبٰطِلِ ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیۡنَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶۱﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس لئے (حرام کیں ) کہ وہ سود لیتے حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور وہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھا جاتے تھے اور ان میں سے کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

{ وَ اَخْذِہِمُ الرِّبٰوا:اور ان کے سود لینے کی وجہ سے۔} یہودیوں میں اعتقادی خرابیوں کے ساتھ عملی برائیاں بھی موجود تھیں چنانچہ سود کھانا اور رشوت لینا ان میں عام تھا۔ فیصلہ کرنے میں رشوت لیتے حتّٰی کہ رشوت کی خاطر شرعی احکام بھی بدل دیتے۔

سود اور رشوت کی مذمت:

اس آیت سے سود کی حرمت اور رشوت کی قباحت و خباثت بھی معلوم ہوئی۔ سود لینا شدید حرام ہے۔

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک سود ستر گناہوں کا مجموعہ ہے ،ان میں سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔ (ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، ۳/۷۲، الحدیث: ۲۲۷۴)

سود سے متعلق مزید کلام سورۂ بقرہ آیت نمبر 275تا 276 278 اور سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 130کے تحت گزر چکا ہے،

اور رشوت کے بارے میں حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ’’سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے رشوت لینے والے، دینے والے اور اُن کے مابین لین دین میں مدد کرنے والے پر لعنت فرمائی۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، ومن حدیث ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ، ۸/۳۲۷، الحدیث: ۲۲۴۶۲)