دو شادیاں رچانے والوں کے نام

امام عارف باللہ عبد العزیز الدرینی متوفی 694 ہجری رحمہ اللہ کا پیغام….

شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

تزوجت اثنين لفرط جهلي

عسي بزواجهن تقر عيني

میری جہالت کے دو شادیاں کر بیٹھا

دو ہوں گئیں تو دونوں آنکھوں ٹھنڈی رہیں گئیں

فقلت اعيش بينهما خروفا

لانعم بين اكرم نعجتين

میں نے سوچا دونوں کے درمیان تروتازہ رہوں گا

کیونکہ دو بڑی بڑی آنکھوں والی حسینائیے مجھے ملی ہوں گی

فجاء الحال عكس الحال دوما

عذاب دائم ببليتين

جبکہ معاملہ تو ہمشیہ کے لیے الٹا ہو گیا

کہ میں دو بلاوں کے دائمی عذاب میں مبتلا ہو گیا

رضا هذي يجرك سخط هذى

فلا اخلو من احدي السخطتين

اِس کی رضا اُس کی نافرمانی کی طرف گھسیٹتی ہے

دونوں میں سے ایک تو ناراض ہی رہتی ہے

لهذي ليلة ولتلك اخري

نقار دائم في الليلتين

اس کی رات کی باری ہو تو دوسری

پوری دو راتیں ٹھونکیں مارتی رہتی ہے

اذا ماشئت ان تحيا سعيدا

من الخيرات مملوء اليدين

اگر تم سعادت مند زندگی چاہتے ہو

جو بھلائیوں سے مالامال ہو

فعش عزبا وان لم تستطعه

فواحدة تكفي عسكرين

یا تو کنوارے رہو اگر گزارا نہیں

تو ایک تجھے دو لشکروں کے لیے کافی ہو گی

الصبر علی الزوجات صفحہ 65

اس کو تفنن سمجھیے یا مذاق، حقیقت یہی ہے دو شادیاں کرنے والے اکثر افراد کی حالت ایسی ہی رہتی ہے اولا یہ قدم اٹھانے والے مفقود ثانی دونوں کا حق ادا کرنے والے معدوم اگر آپ اس میدان کے کھلاڑی نہیں تو شیخ موصوف کے آخری شعر پر عمل کیجیے….

کنواروں کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں اگر نگران و ارکین شورائے مجلسِ کنوارگان ایک کے بغیر رہ سکتے تو……. ہم سے دعا لے لیں….اکیلا رہنے کی…… نہیں تو…. نوموا…

یک درمحکم گیر 😁

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

10/4/2021