اَمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰٮهُمۡؕ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيۡهِمۡ يَكۡتُبُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 80
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰٮهُمۡؕ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيۡهِمۡ يَكۡتُبُوۡنَ ۞
ترجمہ:
یا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتوں اور سرگوشیوں کو نہیں سنتے، کیوں نہیں ! (ہم سن رہے ہیں) اور ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لکھ رہے ہیں
تفسیر:
الزخرف : ٨٠ کا شان نزول
الزخرف : ٨٠ میں فرمایا : ” یا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتوں اور سازشوں کو نہیں سنتے اور جو وہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں “۔ روایت ہے کہ یہ آیت تین ان آدمیوں کے متعلق نازل ہوئی جو کعبہ کے پردوں میں چھپے ہوئے تھے، ان میں سے ایک نے کہا : تمہارا کیا عقیدہ ہے کہ اللہ ہمارا کلام سن رہا ہے ؟ دوسرے نے کہا : اگر تم زور سے بولو گے تو وہ سن لے گا اور اگر تم آہستہ بولو گے تو وہ نہیں سن سکے گا، تیسرے نے کہا : جب وہ تمہاری بہ آواز بلند باتوں کو سن سکتا ہے تو وہ تمہاری سرگوشیوں کو بھی سن سکتا ہے۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 80