رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُۙ ۞- سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 6
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُۙ ۞
ترجمہ:
آپ کے رب کی رحمت سے، بیشک وہی بہت سننے والا، بےحد جاننے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
آپ کے رب کی رحمت سے، بیشک وہی بہت سننے والا، بےحد جاننے والا ہے جو آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور موت طاری کرتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا بلکہ اور شک میں ہیں، کھیل رہے ہیں (الدخان : 6-9)
کفار کا اللہ کو خالق ماننا محض ان کا مشغلہ اور دل لگی ہے
نقاش نے کہا : اس آیت میں امر سے مراد قرآن ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس سے نازل کیا ہے اور ابن عیسیٰ کے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک رات میں اپنے بندوں کے متعلق جو احکام نازل کیے ہیں وہ سب احکام اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہیں اور فراء نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سبحانہ ‘ کی رحمت ہیں، زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے : آپ کی رحمت کرنے کے لیے بھیجا ہے، زمخشری نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : جو امر (حکم) ہمارے پاس سے حاصل ہوا ہے وہ ہمارے علم اور ہماری تدبیر کے موافق ہے اور وہ امر بہت عظیم ہے۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 6