أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنۡ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : اگر رحمان کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوتا

تفسیر:

الزخرف : ٨١ میں فرمایا : ” آپ کہیے : اگر رحمان کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوتا “

اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرک کی مذمت اور اس پر وعید

اس آیت کی حسب ذیل تفسیریں کی گئی ہیں :

١۔ حضرت ابن عباس، حسن بصری اور سدی نے کہا : اس آیت کے معنی یہ ہے : رحمن کا بیٹا نہیں ہے اور یہاں پر یہ آیت مکمل ہوگئی، پھر فرمایا : میں رحمن کا سب سے پہلا عبادت گزار ہوں اور سب سے پہلا موحد ہوں اور اہل مکہ میں سب سے پہلے یہ کہنے والا ہوں کہ رحمن کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔

٢۔ اگر رحمان کا کوئی بیٹا ثابت ہوتا تو سب سے پہلے میں اس بیٹے کی عبادت کرنے والا ہوتا کیونکہ بیٹے کی تعظیم بات کی تعظیم ہے۔

٣۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے : اگر رحمن کا بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے میں صرف اس بیٹے کی عبادت کرتا اور جب کہ میں نے اس کی عبادت نہیں کی تو واضح ہوا کہ اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 81