كَمۡ تَرَكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۞- سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 25
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَمۡ تَرَكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۞
ترجمہ:
وہ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے
تفسیر:
اللہ کا تعالیٰ ارشاد ہے :
وہ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیت اور خوش رنگ عمارتیں اور وہ نعمتیں جن میں وہ عیش کررہے تھے اسی طرح ہوا اور ہم نے ان سب چیزوں کا دوسروں کو وارث بنادیا سو ان کی بربادی پر نہ آسمان رویا، نہ زمین اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی (الدخان :25-29
الدخان : ٢٨۔ ٢٥ کی تفسیر الشعراء : ٤٧ میں گزر چکی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دریائے نیل کے دونوں طرف باغات اور کھیتوں کی کثرت تھی، بلند وبالا عمارتیں اور خوش حالی کے آثار تھے، وہ یہ تمام نعمتیں یہیں دنیا میں چھوڑر کر چلے گئے اور بطور نظان عبرت کے صرف فرعون اور اس کی قوم کا نام رہ گیا۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 25
[…] تفسیر […]
[…] تفسیر […]
[…] تفسیر […]